ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتحضرت مولانامحمدقاسم صاحبؒ سابق صدرجمعیۃ علماء بہارکا تاریخی خطاب

حضرت مولانامحمدقاسم صاحبؒ سابق صدرجمعیۃ علماء بہارکا تاریخی خطاب

Maulana Md Quasim: October 2012

خطبہ صدارت
از:حضرت مولانامحمدقاسم صاحب ؒسابق صدر جمعیۃ علماء بہار ،بانی جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ
بموقع:تحریک شیخ الہند وآل بہار دینی تعلیمی کنونشن،بمقام:شری کرشن میموریل ہال،پٹنہ
منعقدہ:۲۹؍ جماد الثانی ۱۴۳۹ھ بمطابق ۱۸؍ مارچ ۲۰۱۸ء بروز اتوار

الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الکریم اما بعد۔
تمہید وتشکر
جمعیۃ علماء ہند کے صدر محترم ، امیر الہند حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری دامت برکاتہم و قائد جمعیۃ جناب حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب دامت برکاتہم ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند ومعزز اراکین جمعیۃعلماء ودانشوران قوم وملت و حاضرین گرامی قدر!
۴؍ ستمبر ۲۰۰۵ء کو حضرت فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی صاحب ؒ سابق امیر الہند وصدرجمعیۃ علماء ہند اور یکم جون ۲۰۰۸ء میں حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم صدر جمعیۃعلماء ہند واستاذ حدیث دارالعلوم دیوبند کی رہنمائی میں اسی وسیع وعریض ہال میں ہم سب جمع ہوئے تھے ، ہمیں بے انتہاء خوشی ہورہی ہے کہ آج امیر الہند حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصورپوری کی سر پرستی اور قائد جمعیۃ حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب کی نگرانی میں’’ تحریک شیخ الہند وآل بہار دینی تعلیمی کنونشن‘‘ منعقد ہورہاہے اور ہم سب ملک وملت کے اہم مسائل پر غور وفکر کرنے کے لئے اسی جگہ خیمہ زن ہیں۔
حضرات گرامی: بسلسلہ تقریب صد سالہ جمعیۃ علماء ہند تحریک شیخ الہند وآل بہار دینی تعلیمی کنونشن منعقد ہورہاہے ، جی چاہتاہے کہ حضرت شیخ الہندؒ اور تحریک شیخ الہندؒ کا مختصر تعارف کراؤں،آپ دعاء فرمائیں کہ میں اپنے مافی الضمیر کو آپ کے سامنے پیش کر سکوں۔
گرامی قدر:حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحبؒ۱۸۵۱ء میں بریلی شریف میں پیدا ہوئے،یہ دورپرآشوب دور تھا،روح فرساںاوردل دہلادینے والا ماحول تھا، ۱۱؍مئی۱۸۵۷ء جنگ آزادی کا نقطہ آغاز ہے ، جب انگریز ی فوج کے سپاہیوں نے حکومت کے خلاف بغاوت کی، اور انگریزی افسروں کو گولی مارکر دہلی پر قبضہ کرنے چلا، لیکن یہ تحریک کامیاب نہ ہوسکی، تحریک کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے انتقامی کارروائیوں کا آغاز کیا، اور اسکے نتیجہ میں مسلمان خاص طور پر کچل دیئے گئے، دہلی کا چاندنی چوک ہی نہیں، بلکہ شہر کے ہر چوراہے پر سولیاں نصب کردی گئیں، دہلی اور دہلی کے باہر درختوں کی شاخوں سے پھانسی کے پھندے لٹک رہے تھے، جو بھی معزز مسلمان انگریزوں کے ہاتھوں چڑھ گیا، اسے ہاتھی پر بٹھایا جاتا ،درخت کے نیچے لے جاتے ،پھندے اس کی گردن میں ڈال کر ہاتھی کو آگے بڑھا دیاجاتا، لاش پھندے میںجھول جاتی، آنکھیں ابل پڑتیں، زبان منہ سے باہر نکل آتی، یہ ایک دو واقعہ نہیں ، سیکڑوں واقعات ہیں، یہ قیامت مسلمانوں پر ایک دودن نہیں ٹوٹی ،بلکہ اس کا سلسلہ مہینوں سے گذر کر ایک سال تک چلتا رہا، ان ہولناک مناظر کو دیکھ کر پورا ہندوستان تھرا اٹھا، ایسے موڑ پر مسلم عوام اوار علماء کرام نے جنگ آزادی کیلئے اپنے سفر کا آغاز کیا ، تاریخ شاہد ہے کہ یہ سفر مسلمانوں نے تنہا شروع کیا، اس کانٹوں بھری وادی میں ان کے تلوے لہولہان ہو رہے تھے، لیکن ان کے پایۂ استقامت میں نہ جنبش ہوئی اور نہ لغزش پیداہوئی، اور نہ آگے بڑھاہوا قدم ایک اینچ پیچھے ہٹا ،ہر طرف داروگیر کا حشر بر پا تھا۔
۱۸۵۷ء کے انقلاب میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن ؒ کی عمر شریف تقریبا سات سال کی ہوگی، یہ عمر شعور کی عمر تو نہیں کہی جاسکتی ہے ، البتہ اس میں شک نہیں ہے کہ اس عمر میں ہونہار اور باشعور بچے کے ذہن میں اس زمانہ کے کچھ دھندلے سے نقوش ضرور باقی رہ جاتے ہیں، جن کو سن شعور کا زمانہ ابھارتا رہتاہے۔
حضرات !ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے اثر ونفوذ نے ہندوستان کی علمی دنیا کو نیست ونابود کردیاتھا، مسلمانوں کے دین وایمان پر شب خون مارا جارہاتھا، اسلامی تہذیب کے نقوش مٹنے لگے تھے، اسلامی تعلیمی نظام ختم ہوچکاتھا، برطانوی تعلیمی پالیسی کا نفاذ ہورہاتھا، دوسرا اسپین بنانے کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی تھیں، ایسے میں حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ اور ان کے رفقاء کارنے ۳۰؍مئی ۱۸۶۶ء کو دارالعلوم دیوبند کی بنیاد ڈالی۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحبؒ نے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی ؒاور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے مشورہ سے یہاں داخلہ لے لیا اور دارالعلوم کے سب سے پہلے فرزند اور اولین طالب ہونے کا شرف حاصل کیا۔۱۸۷۱ء میں آپ معین المدرسین بنائے گئے جبکہ آپ ابھی تعلیم حاصل کرہی رہے تھے ،اور ۱۸۷۳ء میں مولانا محمود عرف ملا محمودؒ، مولانا یعقوب ابن مولانا مملوک علیؒ ، سید احمد دہلوی سے علوم کی تکمیل کے بعد فراغت حاصل کی ، اور دارالعلوم کے مستقل استاذ مقرر ہوئے۔
حضرت شیخ الہندؒ کا حلقہ درس نہایت مہذب اور شائستہ ہوتا تھا جس میں ہر طرف سکون وقار سایہ فگن ر ہتا تھا، دور دور سے ذی استعداد طلبہ آتے اور آپ ہر ایک کو مطمئن فرما دیتے تھے، بہت سے طلبہ تو کئی کئی سال دورہ حدیث پڑھانے کے بعد شریک درس ہوتے اورآپ ان سب کے شکوک وشبہات کاازالہ فرمادیتے۔طلبہ کے ساتھ شفقت ومحبت اور تواضع کا معاملہ فرماتے تھے ،علوم دینی کے ساتھ سیاسی تعلیم وتر بیت کے لئے۱۸۷۸ میں انجمن ثمر ۃ التربیت قائم کیااور ۱۹۰۹ء میں ’’جمعیۃ الانصار‘‘ کی بنیاد ڈالی، اور اسکاناظم مولانا عبیدا للہ سندھی کو منتخب کیا۔
۱۹۱۳ء میں’’ نظارۃ المعارف القرآنیہ‘‘ دہلی میں قائم کیا، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ فرماتے ہیں: مقصد یہ تھاکہ انگریزی تعلیم سے نوجوان اسلام کے عقائد اور خیالات پر جو بے دینی اور الحاد کا زہریلا اثر پڑتاہے اس کو زائل کیاجائے ، اورقرآن کی تعلیم اس طرح دی جائے کہ ان کے شکوک وشبہات دین اسلام سے دور ہوجائیں اور وہ سچے پکے مسلمان ہوجائیں۔
۱۹۱۵ء میں مولانا عبید اللہ سندھیؒ کوکابل کیلئے روانہ کیا، اورسب کچھ صیغہ راز میں رکھا گیا، مولانا عبید اللہ سندھیؒ خود کہتے ہیں:کہ مجھے کوئی مفصل پروگرام نہیں بتایا گیا ، مگرجب میںوہاںپہنچا تو معلوم ہوا حضرت شیخ الہند جس جماعت کے نمائندہ ہیں، اس کی پچاس سال کی محنتوں کا حاصل میرے سامنے غیرمنظم شکل میں تعمیل حکم کیلئے تیار ہے ۔
مولانا عبید اللہ سندھیؒنے کابل سے ایک خط ریشمی پارچہ پرلکھ کر شیخ عبدالحق نو مسلم کے ہاتھ شیخ عبدالرحیم سندھی کے پاس بھیجا تھا اور تاکید کردی تھی کہ شیخ صاحب فورا حجاز چلے جائیں یاکسی معتمد علیہ حاجی کے ذریعہ سے خط حضرت شیخ الہند کو پہنچادیں، شیخ عبدالحق طلباء کے ساتھ ہجرت کرکے کابل پہنچے تھے، اور بیان کیاجاتا ہے کہ اللہ نواز خاں کاملازم تھا وہ شخص ہر لحاظ سے قابل اعتماد تھا، لیکن خداجانے کیاحالات پیش آئے کہ اس نے خط شیخ عبدالرحیم کے حوالہ کرنے کے بجائے اللہ نواز خان کے والد خان بہادر رب نواز خاں کو دیدیا، ان کے ذریعہ سے پنجاب کے گورنر مائیکل اوڈوائر کے پاس پہنچا، اس طرح حکومت کو حضرت شیخ الہند ، مولانا عبید اللہ اور دوسرے کارکنوں کی تحریک کے کچھ راز معلوم ہوگئے، اسی وقت سے شیخ عبدالرحیم کا تعاقب شروع ہوگیا اور حضرت شیخ الہندؒ کو بھی مکہ معظمہ میں گوناگوں حوادث سے گذرتے ہوئے بالآخر گرفتار ی ونظر بندی قبول کرنی پڑی، اصل خط کامضمون غالبا یہ تھا کہ حکومت موقتہ نے افغانستان سے عہد نامہ کرلیا ہے، باقی حکومتوںکے پاس بھی سفارش بھیجی جارہی ہیں،اس سلسلہ میںحکومت ترکیہ سے بھی ربط وضبط پیدا کرنا منظور ہے ، آخر میں حضرت موصوف سے درخواست کی گئی تھی کہ ربط وضبط پیداکرنے اور معاہدہ کرانے میں امداد دیں۔
تحریک ریشمی رومال کاپس منظر
اس تحریک کا پس منظر بیان کرتے ہوئے شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒفرماتے ہیں کہ ’’ حضرت کی گہری نظر واقعات عالم بالخصوص ہندوستان اور ترکی کی خلافت عثمانیہ کے خلاف سازشوں پر مرکوز رہتی تھی،ترکی کے خلاف طرابلس اور بلقان کی جنگوں میں برطانیہ کی چیرہ دستیوں نے انہیں اس قدر متاثرکیاکہ ان کا چین حرام ہوگیا، گویا وہ اپنے اختیار سے نکل گئے، اس دوران پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی اور انگریز خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے لیے کھل کر سامنے آگئے، چنانچہ انہوں نے انتہائی بے سروسامانی کے باوجود نتائج وعواقب کی پروہ کیے بغیر ایک انقلابی پروگرام پر کام شروع کردیا، حضرت شیخ الہندؒ ان تمام اصحاب کی طبیعتوں اور صلاحیتوں کا اندازہ لگاتے رہے جو ان کے پاس تعلیم او استفادہ کیلئے آتے تھے، ان میں سے بعض موزوں افراد کو انہوں نے اپنے کام کے لئے چن لیا تھا انہیں حکم دیا کہ وہ یاغستان (قبائلی علاقہ) پہنچ جائیں اور آزاد قبائل کو ہندوستان پر حملے کیلئے اٹھ آئیں۔
اس رومال کا حکومت کو ہاتھ لگنا تھا کہ ہندوستان بھر میں گرفتاریوں ، قید وبند اور تحقیق وتفتیش کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوگیا، تاریخ میں یہ کو شش’’ ریشمی خطوط‘‘ یا’’ریشمی رومال تحریک کے نام سے موسوم ہے ۔
شیخ الہندؒ کے منصوبے کے مطابق تمام منزلیں بحسن وخوبی طے ہوگئیں؛ مگر انگریز نے اپنی بنیادی پالیسی’’ لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ کی بنیاد پر عربوں کو ترکی کے خلاف بغاوت پر اکسایا شریف حسین کو حکومت کا لالچ دے کر ترکی کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا، غالب پاشا گرفتارکرلئے گئے اورحجاز پر انگریز کا وفادار شریف حسین کا قبضہ ہوگیا۔دسمبر ۱۹۱۶ء میں شریف حسین نے نہایت ہی فرماں برداری کے ساتھ انگریز کے حکم کی تعمیل کی او رشیخ الہند ؒاور آپ کے رفقاء شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ ،مولانا عزیز گل ،مولانا حکیم نصرت حسینؒ اور وحید احمدؒ گرفتار کر لئے گئے، فروری ۱۹۱۷ ء میں حضرت شیخ الہندؒ کوجزیرۂ مالٹا پہنچادیاگیاِ ِجہاں آپ نے بڑے مصائب برداشت کئے ، تکلیفیں اٹھائیں، لیکن آپ کے پایۂ استقامت میں لرزش نہ پیداہوئی، مارچ ۱۹۲۰ میں آپ کی رہائی کا حکم ہوا، تین برس سات مہینے کی قید وبند کے بعد ۸؍جون ۱۹۲۰ء کو ممبئی پہنچاکر رہاکر دیاگیا، قید کی رہائی کی خبر سن کر سارا ہندوستان خوشی سے جھوم اٹھا، اور نہایت ہی گرم جوشی اور احترام کے ساتھ آپ کا استقبال کیا، اور شیخ الہند زندہ باد کے فلک شگاف نعرہ سے پورا ہندوستان گونج اٹھا، ممبئی میں ان کا استقبال کرنے والوں میں ہندوستان کے مختلف رہنماؤں کے علاوہ گاندھی جی، مولانا شوکت علی، ڈاکٹر انصاری ، مولوی کفایت اللہ ، مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ بھی موجود تھے، گاندھی جی نے ان سے تبادلہ خیال کیا، اور سیاسی حالات سے انہیں آگاہ کیا۔
مالٹا سے رہائی کے بعد آپ نے دوسری جنگ عظیم کے چھیڑنے کا عزم وارادہ کیا؛ لیکن عدم تشدد کے ساتھ پر امن ، جدوجہد، اور ہندومسلم اشتراک کا اصول آپ نے بنایا ، لوگوں سے گاندھی جی اور گانگریس کی تحریک میں شمولیت اختیار کرنے کی بھی گذارش کی ، ترک موالات کا بھی فتوی جاری کیا، اور جامعہ ملیہ کی بنیاد بھی علی گڈھ میں ڈالی جو بعد میں دہلی منتقل ہوگئی۔۳۰؍نومبر ۱۹۲۰ء میں اس جہان ِفانی سے رخصت ہوگئے، اور ہندوستان اس مجاہد آزادی اور اسکی رہنمائی سے ہمیشہ محروم ہوگئی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
جمعیۃ علماء کا قیام
۲۳؍نومبر ۱۹۱۹ء کو دہلی میں خلافت کانفرنس منعقد ہوئی ، اس اجلاس میں ملک کے مقتدر علماء کرام شریک ہوئے، اجلاس کے بعد ان حضرات نے مشورہ کیا کہ علماء کو ایک متحد وپلیٹ فارم پر اکٹھا ہوکر’’ جمعیۃ علماء‘‘ کے نام سے ایک تنظیم بنانی چاہئے۔اس مشاورتی اجلاس میں عارضی طوپر حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب دہلویؒ کو صدر اور سحبان الہند حضرت مولانا احمد سید دہلویؒ کو ناظم مقرر کیاگیا، ۲۸؍ دسمبر ۱۹۱۹ کوامرتسر میں جمعیۃ علماء کا پہلا اجلاس ہوا جو درحقیقت ایک مشاورتی جلسہ تھا، اس اجلاس میں ایک مجلس منتظمہ بنائی گئی جس میں جمعیۃ کے ابتدائی دستور کا مسودہ پیش کیا گیا، انہی اکابرین ملت کی جد وجہد کا نتیجہ ہے کہ آج الحمد للہ ہندوستان میں اسلامی تاریخ کا کوئی ورق علماء ہند کی خدمت اور لازوال کارناموں کے ذکر کے بغیر نامکمل اور ادھورا ہے ، ملی خدمات کے ہر میدان میںجمعیۃ علماء ہند کے زریں کارناموں کے نقوش موجود ہیں اور ان شاء اللہ تاقیامت یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
محترم حضرات: ہندوستان اورجمعیۃ کے کارناموں کی طویل فہرست ہے ، ملک آزاد ہوا اور فرقہ وارانہ بنیاد پر اس کی تقسیم کرڈالی گئی، اس ناعاقبت اندیشی کا جو نتیجہ ہونا تھا ہوکر رہا، ملک کے دونوں حصوں میں وحشت وبربریت ، ظلم وقتل وغارت گری،مال ودولت کی بربادی، کاروبار کانقصان یاکون سی وہ آفت نہیں تھی جو ہندوستان میں مسلمانوں پر نہ آئی ہو، اس بکھری ہوئی زندگی کے شیرازہ کو یکجا کرنے اور مسلمانوںکے اکھڑے ہوئے قدم کو جمانے کیلئے جس جماعت کے ارکان پوری بے جگری سے میدان میں آئے وہ یہی’’جمعیۃ علماء ہند ‘تھی۔
دینی تعلیمی بورڈ
۱۹۴۷ء کے بعد تقسیم وطن کے نتیجہ میں مسلمانوں کو جن آزمائشوں سے گذرنا پڑا وہ یہ تھا کہ مسلمان کو اسلام سے بیگانہ کرنے کے لئے تعلیمی سطح پر ایک نہایت خوفناک سازش رچی جارہی تھی، اسکولوں اور پرائمری درسگاہوں کے لئے جو نصاب مقرر ہوااس میں اسلام، مسلمانوں اور اسلامی شعائر کے خلاف مضامین داخل کئے جارہے تھے جس کا لازمی نتیجہ یہ تھاکہ مسلمان بچوں کے ذہن ودماغ میں اسلام سے بعد اور اس مذہب سے غیر شعوری طور پر نفرت ہوجائے ۔
جمعیۃ علماء ہند نے اس صورت حال کامقابلہ کرنے کے لئے ۱۹۵۴ء میں عروس البلاد ممبئی میں ’’آل انڈیا دینی تعلیمی کنونشن‘‘ منعقد کیا اس کنونشن میں ہر ملک، ہر طبقہ اور ہر مکتبۂ فکر کے تین سو سے زائد چیدہ چیدہ نمائندہ حضرات شامل تھے، کنونشن کے نتیجہ میں ایک دینی تعلیمی بورڈ وجود میں آیا، الحمد للہ جمعیۃ علماء نے مکمل دینی تعلیمی کورس تیار کیا اور جمعیۃ کے زیر نگرانی ہندوستان کے ہر شہر، قصبہ اور دیہات میں دینی تعلیمی سینٹر اور محلہ کی مسجد میں صباحی وشبینہ مکاتب قائم کئے گئے۔ آل انڈیادینی تعلیمی بورڈ کے جنرل سکریٹری جناب مولانامفتی سلمان صاحب منصورپوری کی نگرانی میں الحمدللہ بورڈ بہت ہی فعال اورسرگرم ہوکر اہم خدمات انجام دے رہاہے۔
ریاستی دینی تعلیمی بورڈ بہار
دینی تعلیمی بورڈ ہندوستان کے دیگر صوبوں کی طرح ریاست بہار میں بھی قائم ہے اور پوری سرگرمی کے ساتھ اپنا فریضہ انجام دیتا رہاہے ، ۱۲ نومبر ۱۹۸۶ میں انجمن اسلامیہ ہال پٹنہ میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام جمہوری کنونشن منعقد ہوا جس میں ریاستی دینی تعلیمی بورڈ بہار کو از سر نو پورے طور پر فعال ومتحرک بنانے کیلئے امیر الہند فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد صاحب مدنی دامت برکاتہم صدر جمعیۃ علماء ہند نے بورڈ کی تشکیل جدید فرمائی، اور اس عظیم ذمہ داری کی انجام دہی کیلئے خاکسار کومکلف فرمایا۔ الحمد للہ حضرت امیر الہند اطال اللہ عمرہ کے ایماء واشارہ اور ان کی دعاء کے سہارے احقر نے کام شروع کردیا۔
راقم نے اپنے اکابر واسلاف کے نمومہ کے مطابق ریاست بہار کے خطے خطے میں دینی تعلیمی بورڈ کا تعارف کرایا، اسکی شاخیں قائم کیں اور بچوں کے دینی ومذہبی تعلیم کیلئے صباحی وشبینہ مکاتب قائم کئے اور اصلاح معاشرہ کیلئے مساجد میں قرآن وحدیث کے ترجمہ وتفسیر کی تربیت چلائی، جس کو بفضلہ تعالی عوام الناس نے بے حد پسند کیا نتیجۃ آج بہار کی راجدھانی شہر پٹنہ میں تقریبا تمام مساجد میں ترجمہ وتفسیر کا اہتمام ہورہاہے۔
عوام سے ہمدردانہ اپیل
ہندوستان بے شک آزاد ہوگیا اور دن بدن ترقی کررہاہے؛ مگر ساتھ ہی اس سے بھی انکار نہیں کہ ترقی اورآزادی کا حقیقی مقصود ناپید ہے ۔ بھائی چارہ، آپسی اعتماد، ایک دوسرے کی خیر خواہی، بڑوں کااحترام، چھوٹوں پر شفقت، باہمی ہمدردی، محبت ومروت ،سچائی اور امانت داری جیسے اوصاف واخلاق جو انسانیت کے جوہر اورشرافت کے طرۂ امتیاز ہیں ایک ایک کرکے دن بدن مفقود وناپید ہوتے جارہے ہیں۔
یہ اوصاف حمیدہ کہاں مل سکتے ہیں؟ اور ان کے لئے جد وجہد کرنا کن کا فرض ہے ؟ اللہ رب العزت نے ارشادفرمایاہے: وکذلک جعلناکم امۃ وسطا لتکونو ا شہداء علی الناس(ترجمہ): ہم نے تم کو امت معتدل بنایا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے شاہد حق بن سکو۔تمہاری پیدائش کی غرض ہی یہ ہے کہ نوع انسان کو تم سے فائدہ پہونچے اور لوگ تمہاری برکات سے فیض یاب ہوں۔
اسلئے آپ کا فرض ہے کہ انسا نیت کا وہ جوہر مکارم اخلاق اور وہ روحانی سکون جو کہیں دستیاب نہیں ہے اس کا پیکر بلکہ اسکا سر چشمہ ہوں ،آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعاء پر نظر ڈالئے جو مدینہ والے کے لئے آپ نے فرمائی ہے: اللہم حبب الینا المدینۃ کحبنا مکۃ او اشد، اللہم بارک لنا فی صاعنا ودنا وثمرنا ترجمہ: خداوند! جس طرح مکہ ہمیں محبوب تھا اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ ہمارے اندر مدینہ کی محبت پیدا کردے، اور جس طرح مکہ میں برکت ہے، خداوند! اس سے دوچند برکت مدینے کے اوزان ، پیمانوں اور یہاں کے پھلوں میں عطا فرما۔
آقاء کی دعاء کے ایک ایک لفظ پر نظر ڈالئے ،اہل مدینہ کے لئے جذبہ ترقی کے چشمے کس طرح ابل رہے ہیں ۔ ان کے لئے کیسی تڑپ ہے اور کیسا ذوق وولولہ ہے کہ دعاء میں لفظ مسلم نہیں فرمایا ،بلکہ اہل مدینہ فرمایاِ بظاہر یہ دعاء ہجرت سے تھوڑے ہی عرصہ بعد کی گئی ہے ،جب کہ مدینہ میں غیر مسلم بھی موجود تھے؛ لہذا ہمارے کرداروعمل میں بھی اتنی وسعت اور ہمہ گیری ہو جو پوری بنی نوع انسان کے لئے باعث خیر اور مفید ہو
شرکاء اجلاس کا شکریہ
حضرات: آخر میں شمع خراشی کے لئے معذرت خواہ ہوں اور آپ حضرات کی مساعدت کا شکر گذار ہوں، نیز شہر پٹنہ کے مخلص کارکنان ،جامعہ مدنیہ کے اساتذہ ، جمعیۃ علماء ہند اورجمعیۃ علماء بہار کے مخلص کارکنان ،د ور دراز سے آنے والے مہمانان کرام اور ان مخلصین کا جنہوں نے تشریف لانے والے مہمانوں کے کھانے پینے اور دیگر نظم ونسق کے ذریعہ اجلاس عام کو کامیاب بنایا، ان کا تہہ دل سے شکر گذار ہوں۔ اللہ تعالی ان کے حسن نیت کے مطابق انہیں اجر عظیم عطاء فرمائے ۔

 
 
 
 
 

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے