بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتحضرت مولاناسیدجلال الدین عمری ؒ میرےمطالعہ کی روشنی میں

حضرت مولاناسیدجلال الدین عمری ؒ میرےمطالعہ کی روشنی میں

حضرت مولاناسیدجلال الدین عمری ؒ میرےمطالعہ کی روشنی میں
حضرت کی وفات یقیناامت مسلمہ کیلئے عظیم خسارہ ہےکیوں کہ اس قحط الرجال میں ایسےکھیون ہارقائدورہبرکی اشد ضرورت تھی
اس وقت عالم اسلام ایک اضطراب کی شکل اورقلب مضطرمیں مبتلاہے ،ایک طرف فتنوں کادوردوسری طرف ہماراقومی وملی سرمایہ نوجوان اپنےمستقبل سے بہت دورلاشعوری میں مست ہیں ،اوراسی درمیان ہماری رہبرورہنماشخصیت کی اس دارفانی سے رخصت نےسکون قلب کوگروی رکھدیاہے ،حضرت ؒ سے بالمشافحہ توکبھی ملاقات نہ ہوسکی ،اورنہ ہی دیدارہوسکا یہ خواہش صرف خواہشوں کاڈھیربن گئی ،البتہ سوشل میڈیاکے ذریعے حضرت کو سننےاورپڑھنےکاموقع نصیب ہواحضرت کی تحریر مسلسل رسائل وجرائد ودیگر کتب میں مطالعہ سے گذرتی تھی ،آپ کی تحریردل کوچھونےوالی اورامت مسلمہ کی بیداری کو اجاگرکرنیوالی ہوتی تھی ،آپ برصغیر ہندو پاک کےجید عالم دین اور مایہ نازمصنف تھے،تقریبا۱۲؍سال آپ جماعت اسلامی ہند کے امیر رہے اوراپنی خدمات کے ذریعے نہ صرف جماعت اسلامی ہند کو بلندیوں پر پہنچایا بلکہ خاص طور پر ملک میں بڑھتی ہوئی نفرتوں کے درمیان ایسے پروگراموں کو عملی جامہ پہنایاجس کی ملک اورقوم کوضرورت تھی، بھائی چارے اور اتحاد کی حوصلہ افزائی کی، آپ مسلکی اختلاف سے بالاتر ہوکر اپنی بات کہتے تھے، اور اسی لئے ہر حلقہ میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے، آپ ہندوستان کی تحریک اسلامی کے چوٹی کے رہنمائوں میں سے تھے،دعوتی اور تحریکی سرگرمیوں میں انتہائی مصروف رہنے کے باوجود اسلام کے مختلف پہلوئوں پر آپ کی تقاریروتصانیف آپ کی عظمت وقابلیت کاواضح ثبوت ہیں،اور کئی عرصہ سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر بھی تھے،آپ کی شخصیت تنازع سےبالکل دورتھی ،یہ آپ کی ذہانت وفطانت اورغیرمعمولی محنتوں کادخل تھاآپ نے اپنے مقصد اور اپنی زندگی کے مشن کے لئے مکمل طورپر یکسوئی کاعملی مظاہرہ کیااس میں کوئی شک نہیں کہ اپنےعظیم مقاصدمیں اپنی عظیم کامیابی کیلئے غیرمعمولی محنت کی،یہ ہم تمام لوگوں کیلئے ایک بڑا سبق ہےکہ جب بھی ہم کوئی عظیم مقاصدکی طرف قدم بڑھائیںتوہمیں اپنےاندریہی وصف پیدا کرنے کی ضرورت ہونی چاہیے،آپ کےاندرحد درجہ تواضع اور انکساری پائی جاتی تھی،اور حالات کیسےبھی ہوان سےمقابلہ کرنےمیںآپ بالکل گھبرات نہیں تھے،مسلم پرسنل لاء بورڈ میں مدلل اور واضح بات پیش کرتے تھےجواپنی ایک اہمیت کی حامل ہوتی تھی ،آپ کے عادات و اطوارطریقۂ اصلاح مشفقانہ تھاکسی معاملےمیںنصیحت کرتے تو ہمیشہ نرم لہجہ اختیار فرماتے،آپ نے عام طور پر ایسے موضوعات پر قلم اٹھایا جو سلگتے ہوئے مسائل پرمبنی ہوتے تھے اور جن پر بہت کم لکھا گیا البتہ جس موضوع پر بھی قلم اٹھایا اس میں قرآن و حدیث، متقدمین، سلف صالحین کی کتابوں اور جدید علوم سے بھرپور استفادہ کیااوراس موضوع کےتمام حقوق ادافرمائے ،آپ کی کتاب ’’اسلام میں عورت کے حقوق‘‘ جس میں آ پ نے حقوق نسواں کے حوالے سے مغرب کے اسلام پر کئے گئے اعتراضات کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے مغرب کے دوہرے معیار کا بھانڈا پھوڑ دیا اس میں آپ نے آزادی نسواں کا مغربی تصور اور اس کے نتائج پر زبر دست بحث کی ہے،دوسری کتاب’’اسلام انسانی حقوق کا پاسبان‘‘ جس میں آپ نے بڑے عالمانہ ومحققانہ انداز میں انسانی حقوق اور اس کےتاریخی پس منظر کا معروضی مطالعہ کر کے اس کے بنیادی تصورات کو واضح کیا ہے، مزیدکتابیں عورت اسلامی معاشرے میں، مسلمان عورت کے حقوق اور ان پر اعتراضات کا جائزہ، عورت اور اسلام، مسلمان خواتین کی ذمہ داریاں اور اسلام کا عائلی نظام ، تجلیات قرآن ، اوراق سیرت ، معروف و منکر ، غیرمسلموں سے تعلقات اوران کے حقوق ، خدا اور رسول کا تصور اسلامی تعلیمات میں ، احکامِ ہجرت و جہاد ، انسان اوراس کے مسائل ، صحت و مرض اور اسلامی تعلیمات ، اسلام اور مشکلات حیات ، اسلام کی دعوت ، اسلام کا شورائی نظام ،جیسی تصانیف اس کا بہترین ثبوت پیش کرتی ہیں،اسی طرح ’’اسلام کاسیاست سےکیاتعلق ہے‘‘جس پرمسلسل اعتراض کیاجاتاہے اس پرآپ نے صاف کردیا ہے کہ سیاست کا شعبہ اسلام سے خارج نہیں ہے ،یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے قوانین میں بےشمار نقائص موجود ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات ان سب سے پاک ہے،اسلام میں شورائی نظام کو بہت اہمیت حاصل ہے،اجتماعی معاملات،سیاسی معاملات غرض یہ کہ تمام شعبوں میں اس کی اہمیت مسلم ہے،ان تمام خوبیوں اورصلاحیتوں کےعلاوہ آپ کے اندرجواہم صفات تھی وہ عہدہ ومناصب کی مکمل ذمہ داری جس عہدےپرآپ کوفائزکیاگیا اس کےتمام تر حقوق کواداکردیایہی وجہ ہےکہ آپ کو کئی ادارےنے اپنی ذمہ داری سےنوازاجس میں آپ ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ کے سکریٹری تھے،مختلف اداروں کے ذمے دارانہ مناصب پر فائز تھے ،آپ جماعت اسلامی ہند کے امیر ہونے کے باوجود تمام مکتبہ ہائے فکر میں قابل احترام وقابل قدرنگاہوں سےدیکھےجاتے تھےنیزآپ کئی اداروں جامعۃ الفلاح،سراج العلوم نسواں کالج وغیرہ کے سرپرست اور شیخ بھی تھے،آپ بولتےکم تھے،لیکن جب بولتے تو بہت قیمتی بات زبان سے نکالتے،اپنے فیصلے کے نٖفاذ کیلئے پوری یکسوئی کے ساتھ لگے رہے،مگراب وہ دلنواز وپرسوزشخصیت ہمارے درمیان نہیں رہی ،جس کی طرف امت مسلمہ نازک حالات میں اپنی ٹک ٹکی نگاہیں رکھاکرتی تھی ،اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی پوری زندگی جہد مسلسل کی تصویر اور ایک دین حق کے کاز کے لیے قربانیوں کا شاندار نمونہ تھی،یقیناقحط الرجال کے اس دور میں یہ خبر نہایت اندوہناک ہے،آپؒ کے کارہائے نمایاں تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جائیں گےیہ مختصرتحریرناکافی ہیں ،حضرتعمر کے ۸۸؍سال مکمل کرکےطویل علالت کے بعد ہمیں چھوڑ کررخصت فرماگئے ،اناللہ واناالیہ راجعون ،اللہ رب العزت ان کی قبرمبارک پررحمتیں نازل فرماکر جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرمائے،آمین۔

محمدطفیل ندوی
جنرل سکریٹری ! امام الہندفاؤنڈیشن ممبئی

 

 

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے