حضرت امیر شریعت رحلت فرما گئے ہیں مگر ملت اسلامیہ ہند کی تعمیر وترقی کے لئے ان کے کارہائے نمایاں قیامت تک زندہ جاوید رہیں گے!

60

جنازہ کے تاثرات: محمداطہرالقاسمی  جنرل سکریٹری جمعیت علماء ارریہ
جرأت و عزیمت،عظمت و جلالت اور شرافت و کرامت کے بےتاج بادشاہ حضرت اقدس مولانا سید محمد ولی رحمانی نور اللہ مرقدہ کی آخری دیدار اور جنازے میں شرکت کے لئے آج جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں ریاست و بیرون ریاست کے لاکھوں فرزندان توحید شریک ہوئے۔
سیمانچل کے ضلع ارریہ سے بھی ہزاروں افراد نے شرکت کی اور ضلع ارریہ کے کونے کونے سے جمعیت علماء ارریہ کے سینکڑوں ذمےداران بھی اپنی اپنی گاڑیوں سے جنازے میں حاضر ہوئے۔
ہمارا قافلہ صبح تین بجے نکلا اور نو بجے خانقاہ پہونچ گیا۔
علاقے کے بود و باش سے محسوس ہوا کہ جامعہ کے اردگرد برادران وطن کی تعداد زیادہ ہے۔مگر سڑک کے کنارے موجود ان سبھوں کے چہروں اور ان کی بوڑھی ماؤں اور بہنوں کی چہل پہل سے محسوس ہوا کہ آج وہ بھی اپنے گھر آنگن کے اس قیمتی ہیرے کو کھوکر افسردہ و غمگین ہیں۔
جنازے کا مقررہ وقت گیارہ بجے تھا مگر نامعلوم وجوہات کی بناء پر ایک بجے اداکی گئی۔گویا ہم نے چار گھنٹے لاکھوں عقیدت مندوں کے ساتھ اس چلچلاتی دھوپ میں گزارے جس میں دس بیس منٹ کھڑا ہونا بھی ہمارے لئے ناممکن تھا۔مگر آج ذہن و دماغ پر عقیدتوں اور محبتوں کا ایسا جوش و جنون سوار تھا کہ چہرے کے ٹپکتے پسینوں سے دل ٹھنڈا ہورہا تھا اور جب جب پیشانی سے پسینہ پوچھتا تو ضمیر آواز دیتی کہ تم چند گھنٹوں کی چلچلاتی دھوپ میں چند قطرے پسینے نہیں بہاسکتے مگر آج جس شخصیت کے جنازے میں شریک ہو آخر بتاؤ کہ تم جیسے لاکھوں بچوں،جوانوں اور بوڑھے مسلمانوں کی تعمیر وترقی کے لئے حضرت والا نے کتنے پسینے بہائے ہوں گے؟
ذرا سوچو تو سہی کہ کس طرح ان کی زندگی کے 77/سالہ قیمتی شب و روز کے ایک ایک پل ملت اسلامیہ ہند کی آبیاری میں کٹے ہیں؟
آج ایک طرف ان کے اور ان کے آباء واجداد کے تاریخی کارنامے ہیں تو دوسری طرف عظیم باپ و دادا کی قبر مبارک کے پہلو میں عظیم اولاد ہمیشہ کے لئے آرام کی نیند سونے کو تیار ہے۔۔۔
دل نے گواہی دی اور نمناک آنکھوں نے اشکوں کے پھول برساکر حضرت والا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے خود کو یہ تلقین کی کہ اس فانی دنیا میں کوئی ہمیشہ رہنے نہیں آیا،جو ولایت و سیادت والے تھے،جو دولت و ثروت والے تھے،جو عزت و شہرت والے تھے،جوحکومت و ریاست،عہدہ و منصب اور شان وشوکت والے تھے؛فرشتہ اجل نے سب کو اپنا لقمہ بنالیا اور یہ سلسہ روز اول سے شروع ہوا اور ایک ایک انسان تک جاری رہے گا۔
آج جو شخص دنیا کی اس رنگین دھرتی پر عمل کی خوبصورت کھیتی کرےگا حضرت والا کی طرح رحلت کے بعد بھی ایک دنیا ان کے نام اپنی عقیدتوں کے نذرانے پیش کرے گی اور آخرت کی ابدی سعادتیں ان کا مقدر ہوں گی۔
اس وقت ہم دوبجے دن کے نکلے ہوئے9/ کلو میٹر طویل وکرم شیلا بھاگلپور پل کے جام میں پھنسے ہوئے ہیں اور نہ جانے وطن واپسی تک رات کے کتنے بجیں گے!
جنازے کے بعد سے اب تک بس ایک بات ذہن و دماغ پر مسلط ہے اور وہ یہ کہ یہ دین اسلام ابدی و آفاقی مذہب ہے اور اسے قیامت تک اپنے مالہ وماعلیہ کے ساتھ جاری وساری رہنا ہے۔اب جب کہ ملک وملت کے موجودہ نازک ترین ماحول میں ملت اسلامیہ ہند کا عظیم قائد،مدبر و مفکر،مصلح و مربی،ترجمان و سفیر اور راہ بر و راہ نما تعمیر ملت کے لئے اپنے سینکڑوں عزائم و منصوبے اور تحریک و اہداف کو چھوڑ کر اپنے رب کے حضور چلے گئے ہیں تو ہم جیسے ہزاروں و لاکھوں ان کے عقیدت مندوں،ان کے نام لیواؤں اور ان کے گن گانے والوں پر فرض ہوگیا ہے کہ ہم ان کے ایک ایک کام کو اپنا ذاتی کام سمجھتے ہوئے اپنی جان و مال اور قیمتی وقت نکال کر انہیں آگے بڑھانے اور حضرت امیر شریعت نور اللہ مرقدہ کے ادھورے خواب اور خوبصورت نقشے کو اپنے خون جگر سے رنگین و حسین کریں اور عہد کریں کہ میں بھی مروں تو میرے کام کی بناء پر ایک دنیا عقیدت و محبت کا ایسا نام لے کہ رب العالمین خوش ہوکر اپنے دامن عفو و درگذر میں جگہ عطافرما دیں اور حضرت والا کی طرح میرے یہ کام بھی میرے لئے صدقۂ جاریہ بن جائیں!
ہمارے قافلہ کے رفقاء سفر میں رفیق گرامی مولانا محمد سفیان قاسمی،مفتی محمد طارق نعمانی قاسمی،مولانا عمر فاروق قاسمی،مولانا محمود الحسن مظاہری،مولانا محمد دانش قاسمی،حافظ نعمان اسلم،حافظ راغب نعمانی و حافظ محمد توقیر ہیں۔ان سبھوں کے لئے خصوصی دعاؤں کی درخواست ہے۔۔۔
پھر کبھی انشاءاللہ