بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراتحضرت امیرشریعت نے مختلف شعبہ جات کالیاجائزہ!

حضرت امیرشریعت نے مختلف شعبہ جات کالیاجائزہ!

دارالقضاء، دارالافتاء، بیت المال اور دارالعلوم الاسلامیہ کی کارکردگیوں کا تفصیلی جائزہ

پٹنہ 11 اکتوبر 2021 (پریس ریلیز):

حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ العالی نے آج نائب امیر شریعت اور قائم مقام ناظم امارت شرعیہ کے ہمراہ امارت شرعیہ میں مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران وکارکنان سے تعارفی ملاقات کی اور الگ الگ شعبوں میں ہونے والے کاموں کا جائزہ لیا۔ دارالقضاءامارت شرعیہ کے ذمہ داران سے ملاقات پر قاضی انظار عالم قاسمی صاحب نے دارالقضاءکے تمام نائب اور معاون قضاة کا تعارف کرایا۔ حضرت امیر شریعت نے اِس موقع سے یہ معلوم کیا کہ ایسے کون سے امور ہیں جن کی ضرورت آپ دارالقضاءمیں آپ محسوس کرتے ہیں؟ جس کے ذریعہ دارلقضاءکے نظام کو اور بہتر بنایا جاسکے۔ قاضی انظار عالم صاحب نے فرمایا کہ چالیس پچاس سال یا اس سے پرانی جو فائلیں ہیں اُن کی اسکیننگ کا کام اور بہتر بنایا جاسکے۔ حضرت نے فرمایا کہ اسکیننگ کے ساتھ ساتھ یہ ضروری ہے کہ اِن فائلوں کو آن لائن کلاو¿ڈ پر محفوظ کیا جاسکے۔ مولانا سہیل اختر قاسمی نے کہا کہ اِس سلسلہ میں امیر شریعت سابع علیہ الرحمہ نے خدا بخش لائبریری کے ذمہ داروں سے بھی رابطہ کا حکم دیا تھا جس پر پہلے بھی کچھ کام ہوا تھا اور مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ سالانہ کتنے فیصلے ہم لوگ کرتے ہیں، قاضی صاحب نے فرمایا کہ ۳ سے چار ہزار کے قریب سالانہ فیصلے ہوتے ہیں، اِس پر حضرت امیر شریعت نے فرمایا کہ دارالقضاءکے نظام کے تحت تقریباً ڈھائی کروڑ مسلمان آباد ہیں، اُن کے درمیان ہم دارالقضا کی اہمیت کو اگر بہتر طریقے سے پہنچانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یقینا ہم اس تعداد کو پہلے مرحلے میں دوگنا ضرور کرسکتے ہیں ۔ حضرت امیر شریعت نے فرمایا کہ اگر ہم نے اپنے معاملات کو آسان نہیں بنایا تو مستقبل قریب میں خطرہ ہے کہ حکومت کے ذریعہ معاملات کو اتنا آسان کردیا جائے گا کہ لوگ دارالقضا کے بجائے دیگر جگہوں میں جاکر اپنے معاملات کا تصفیہ کرانے میں بہتری محسوس کریں گے، جس سے دارالقضا اور امارت کے وجود کو خطرہ پہنچے کا امکان ہے۔ لہٰذا ہمیں لوگوں کو دارالقضا سے مضبوط طریقے سے جوڑنے کے لیے ضروری ہے کہ اِس کا نظام بہتر سے بہتر بنایا جائے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اِسے پہنچایا جائے۔حضرت نے فرمایا کہ فیصلہ ایسے ہو کہ دونوں فریق یہ سمجھیں کہ ہم اپنے گھر میں آئے ہیں اور وہ مسکراکر امارت سے باہر نکلیں۔ اس موقع سے نائب امیر شریعت نے فرمایا کہ فیصلہ کے بعد ہر آنے والا یہ محسوس کرے کہ یہاں انصاف ہی انصاف ہے، نا انصافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ عدل وانصاف سے بھری ہوئی جگہ وہ آیا ہے۔ وہ احساس کرے کہ قضاة نے جو فیصلہ کیا ہے میرے لیے اسی میں خیر ہے اس کو محسوس ہو کہ اگرچہ بظاہر میرے خلاف فیصلہ ہے لیکن میری آخرت کے لیے یہی بہتر ہے۔ اس کے علاوہ دارالافتاءکے ذمہ داران سے بات ہوئی اور فتاوی کو آن لائن اور لائیو لانے پر بھی مشورہ ہوا۔ نائب قاضی مفتی وصی قاسمی نے بتایا کہ چوں کہ دارالقضاءآربیٹریشن ایکٹ کے تحت چلنے والا ادارہ ہے اس لیے ہماری کوشش ہوتی ہے زیادہ سے زیادہ معاملات آپسی اور باہمی رضا مندی سے طے پا جائیں اور الحمد للہ ایسے نوے فیصد معاملات ہوتے ہیں جو باہمی رضا مندی سے حل ہوجاتے ہین۔ بیت المال کے ذمہ داران سے بات کرتے ہوئے حضرت کے سوال کے جواب میں ذمہ داران بیت المال نے اِس بات کی گذارش کی کہ آن لائن سسٹم کو بہتر اور تیز تر بنانے سے ہم لوگ بآسانی زیادہ کام کرسکیں گے۔ دارالعلوم الاسلامیہ کے ذمہ داران سے گفتگو کرتے ہوئے نصاب اور عمارت کی تجدید و تعمیر سے متعلق گفتگو ہوئی۔ حضرت امیر شریعت نے فرمایا کہ فی الحال تو یہ تعارفی ملاقات ہے، لیکن ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ دارالقضائ، دارالافتائ، بیت المال ودیگر شعبہ جات کے کاموں کو عوام الناس تک زیادہ سے زیادہ پہنچایا جاسکے۔ اس موقع پر نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی ، قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی،مولانا انظار عالم قاسمی قاضی شریعت،مولانا وصی احمدقاسمی و مولانا سہیل اختر قاسمی نائبین قضاة، مفتی سعید الرحمن قاسمی مفتی امارت شرعیہ، مفتی احتکام الحق قاسمی صاحبان کے علاوہ دارالقضائ، دارالافتائ، بیت المال ودارالعلوم الاسلامیہ کے دیگر ذمہ داران وکارکنان موجود تھے۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے