ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتحضرت امیرشریعت سابع اور مطالعہ قرآن

حضرت امیرشریعت سابع اور مطالعہ قرآن

حضرت امیر شریعت سابع اور مطالعہ قرآن ………………..دسویں قسط

عین الحق امینی قاسمی

 قرآن کریم کے تئیں حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی رحمہ اللہ کی فکری جہتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ تصحیح قرآن اور صحت زبان کو مکمل رخ دینا چاہتے تھے اور اس بارے میں وہ دیگر مدارس کے لئے بھی عمومی فضا سازی کا ارادہ رکھتے تھے ،حالاں کہ انفرادی کوش ان کی شروع سے جاری تھی ،اس حوالے سے افراد سازی اور افراد کو جوڑ کر اپنی سطح کی محنت وہ شروع سے کرتے رہے ،جس کا نتیجہ ہے کہ وہ علماء اور طلباء جو ان سے قریب تر تھے ،انہوں نے حضرت کے نقشے میں اپنی اپنی جگہ رہ کر آج تک رنگ بھر نے کا کام کررہے ہیں، حضرت کے تربیت یافتہ جوملک بھر کے ان سینکڑوں مدارس میں قرآن کریم کی خدمات انجام دے رہے ہیں ،ان کو چھوڑ کر بات کی جائے ،تب بھی قابل ذکر تعداد ایسے افراد کی موجود ہے ،جو اپنے اپنے طور پر مقامی سطح پر گھروں میں جز وقتی تصحیح قرآن اور تدریس قرآن کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں ۔

اس کی صرف ایک مثال مولانا ایوب انصاری جو ضلع جموئی کے رہنے والے ہیں ، وہ جامعہ رحمانی کے باضابطہ فیض یافتہ ہیں اور ایک لانبی مدت سےوہ حضرت رحمانی کے احساسات کے مطابق تصحیح تلفظ اور خدمت قرآن کا فریضہ انجام دے رہے ہیں ،اس سلسلے میں وہ زبانی اور عملی کوششوں کے ساتھ قلمی طور پر بھی طلباء کو قرآن سے جوڑنے کی مسلسل محنت کررہے ہیں ۔ان کی قابل قدر محنتوں سے "قرآنی قاعدہ” تیار ہوا ہے ،اس کے ذریعے وہ ایک مشن کے طور پر قرآن پڑھنے پڑھانے کی خدمت پر مامورہیں ،بہار سے باہر کولکاتا جیسے مدارس میں بھی ان کی یہ کتاب نصاب کا حصہ ہے ،اس کے علاؤہ جموئی ضلع کے تقریبا 45/پینتالیس مدارس میں اس کتاب کے ذریعے کم سے کم وقت میں طلباء وطالبات کو قرآن سیکھانے کی زمینی کوششیں چل رہی ہیں ،بلاشبہ قرآنی قاعدہ انہوں نے محنت اور جگر سوزی سے ترتیب دیا ہوا ہے ،مبتدی طلباء وطالبات کی تدریس سے جڑے اساتذہ ،اس "قاعدہ ” کو مفید تر قرار دے کر دیگر اضلاع کے مدارس و مکاتب میں بھی تدریس کے لئے اس کی سفارش کررہے ہیں ۔

بلاشبہ حضرت صاحب نے جس طرح سے اس فکر کو زمین پر اتارنے کی کوشش کی تھی ،ضرورت ہے کہان کے بعد بھی ان کی فکروں کو زمین سے جوڑ کر دیکھا جائے : مسابقہ ، ،معیاری اساتذہ کا انتخاب،انفرادی ذہن سازی کرافراد سازی اور اچھی کار کردگی پر طلباء واساتذہ کو نواز کر اس مبارک” فکر ” کو فروغ دینے کی سمت میں مضبوطی اور استقامت کے ساتھ قدم بڑھا یا جائے ۔

ہمارے مدارس کی ایک بڑی تعداد ،معیاری،مستند اور ممتاز لب و لہجے کے حامل قرآن کریم پڑھنے پڑھانے والے اساتذہ سے خالی ہے ،بعض مدارس اسلامیہ میں "قرآنی مسابقہ” کے نام پر خانہ پوری جو ہوجائے ،مگر اسے” خدمت” اور احساس ذمہ داری کے ساتھ” مشن ” کےجذبے سے خاطر خواہ بہر حال نہیں کیا جارہا ہے ،اسی طرح بہار سطح پر مدارس میں درجات حفظ ہی اصل معیار ہیں ،مگر ان درجوں کا جو معیار ہونا چاہئے ،اگر چند گنے چنے مدارس کو الگ کر کے بات کی جائے تو ان میں اصلاح اور ان کو معیاری بناکر سسٹم میں لانے کی سخت ضرورت ہے ۔تعلیم کے اس شعبے پر بھی حضرت صاحب کی خاص نگاہ رہاکرتی تھی ،اسی لئے ان کے یہاں پڑھنے کا لب ولہجہ ،حفظ کا ضابطہ ،دس پارے کے بعد ،بیس پارے کے بعد ،اور تیس پارے مکمل ہونے پر ،اسی طرح پہلا دور کا طریقہ اس میں معیار کو راہ دینے ضرورت ، دوسرا دور ،تیسرا دور اور پھر دس دن میں ایک دور ،پانچ روز میں دور ،تین روز میں دور ،مختلف نشستوں میں دور اور یک نششت میں مکمل قرآن ختم کرنے جیسے تدریسی ضابطوں پر ان کے یہاں خوب عمل ہوتا رہا ہے، وہ اس شعبے کو رنگ و آہنگ میں ممتاز دیکھنا چاہتے تھے ۔

مدارس اسلامیہ میں بعض قرآن پڑھنے پڑھانے والے طلباء و اساتذہ سے بدسلیقگی کی وجہ سے وہ بڑے نالاں رہتے ،انہیں غیر مرتب ،غیر ذمہ دارانہ زندگی جینا بہت ناگوار گزرتا ، وہ بالکل بھی نہیں چاہتے کہ قرآن کریم جو کتاب ہدایت ہے ،اس کے پڑھنے پڑھانے والے اور قرآنی ماحول وفضا میں سانس لینے والے سلیقے میں اوروں سے کم ترہوں ۔اسی لئے وہ ٹیڑھی ٹوپی پہننے،چبا چبا کر گفتگوکرنے ،لنگی میں سیرسپاٹ کے عادی بننے ،جہاں تہاں بے مقصد کھڑےہونے،دیہاتی بھیس بھوسہ اختیارکرنے اور خودکو لاچار ومجبور صورت میں پیش کرنے ،بے سلیقہ گفتگو کرنے،لا ابالی پن کو راہ دینے اورغیر معیاری تقریر و تحریر وغیرہ سے انہیں حد درجہ کوفت ہوتی تھی ۔وہ چاہتے تھے کہ قرآن کا طالب علم بے وزن ہوکر نہ رہے،مہذب وشائستگی ان کی پہچان ہونی چاہئے ،سلیقہ مندی ان کی چال ڈھال سے، رفتار و گفتار سےاور لباس وبال تک سے جھلکنی چاہئے ۔ یعنی نستعلیقیت ، طہارت و پاکیزگی ،ذہانت اورشعور مندی کو وہ دین کے ایک طالب علم کے لئے ضروری قرار دیتے تھے۔

جاری……..

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے