ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوماسلامیاتحضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل و مناقب

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل و مناقب

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ۵ شعبان ۴ھ میں مدینہ منورہ میں ہوئی آپ کا اسم مبارک حسین رکھا گیا آپ کی کنیت ابو عبداللہ اور القاب سبط رسول ریحانۃ الرسول ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت ہارون علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کا نام شبیر و شبر رکھا اور میں نے اپنے بیٹوں کا نام انہیں کے نام پر حسن اور حسین رکھا اس لیے انہیں شبیر و شبر کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بہت سارے فضائل و مناقب بیان‌ کیے گئے ہیں حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں(ترمذی شریف) یعنی حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے انتہائی قرب ہے گویا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دوستی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دوستی ہے اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دشمنی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے دشمنی ہے اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جنگ کرنا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے جنگ کرنا ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں جس نے حسین سے محبت کی اس نے اللہ تعالیٰ سے محبت کی (مشکوٰۃ شریف) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے شمار خصلتوں اور خوبیوں کے مالک تھے بچپن سے ہی بہادر نڈر جانباز اور اعلیٰ دماغ کے حامل تھے ۔ ایک روز حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو داہنے اور اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے بائیں بیٹھاۓ ہوۓ تھے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خداۓ تعالیٰ آپ کے پاس ان دونوں کو جمع رہنے نہ دے گا اور ان میں سے ایک کو واپس بلا لے گا اب ان دونوں میں سے جسے چاہے آپ پسند فرما لیں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا اگر حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ رخصت ہو جائے تو ان کی جدائی میں فاطمہ علی کو تکلیف ہوگی اور میری بھی جان سوزی ہوگی اور اگر حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ وفات پا جائیں تو زیادہ غم مجھ کو ہی ہوگا اس لیے مجھے اپنا غم پسند ہے اس واقعہ کے تین روز بعد حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ وفات پا گئے اس کے بعد جب بھی حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں آتے تو حضور مرحبا فرماتے پھر ان کی پیشانی کو بوسہ دیتے  اور لوگوں سے مخاطب ہو کر فرماتے کہ میں نے حسین پر اپنے بیٹے ابراہیم کو قربان کر دیا ۔
جب آپ ایام طفولیت میں تھے اسی وقت آپ کے شہادت کی خبر دے دی گئی تھی چناں چہ حضرت ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ایک روز حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی گود میں دے دیا پھر میں کیا دیکھتی ہوں کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مبارک آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یہ کیا حال ہے ؟ فرمایا میرے پاس حضرت جبرئیل علیہ السلام آۓ اور انہوں نے یہ خبر پہنچائی کہ میری امت میرے اس فرزند کو شہید کر دے گی حضرت ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیا اس فرزند کو شہید کر دے گی؟ فرمایا ہاں پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام میرے پاس ان کی شہادت کی سرخ مٹی بھی لاۓ۔ (مشکوٰۃ شریف)  ابن سعد حضرت شعبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنگ صفین کے موقع پر کربلا سے گزر رہے تھے کہ ٹھر گئے اور اس زمین کا نام دریافت کیا لوگوں نے کہا اس زمین کا نام کربلا ہے کربلا کا نام سنتے ہی آپ اس قدر روۓ کہ زمین آنسوؤں سے تر ہو گئی پھر فرمایا کہ میں ایک روز حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ رو رہے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ فرمایا ابھی میرے پاس حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے تھے انہوں نے مجھے خبر دی کہ میرا بیٹا حسین دریائے فرات کے کنارے اس جگہ پر شہید کر دیا جائے گا جس کو کربلا کہتے ہیں۔ (صواعق محرقہ)
سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کربلا میں شہید ہونا ازل میں مقدر ہو چکا تھا اس لیے ایسے حالات ہوۓ کہ انہیں کربلا جانا پڑا جب آپ نے کربلا جانے کا ارادہ کیا تو جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے آپ کو کوفہ جانے سے روکا اور کہا کہ کوفہ والے درہم و دینار کے بندے ہیں انہوں نے آپ کے والد حضرت علی اور آپ کے بھائی حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ پہلے ہی غداری کی ہے اس لیے آپ کوفہ کی طرف نہ جائیں تو ان سب کے جواب میں آپ نے فرمایا میں خدا سے خیر کا طالب ہوں دیکھیے کیا ہوتا ہے آپ نے کوفہ کے حالات دریافت کرنے کے لیے پہلے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا پھر جب انہوں نے حالات سے آگہی فرمائی اور انہوں نے کہا کہ بہت سارے لوگ ان کے ہاتھ بیعت کر چکے ہیں تو آپ روانہ ہوئے ادھر یزید پلید کو حضرت مسلم بن عقیل کے متعلق کچھ خبر نہ تھی جب اسے اس بات کی خبر ہوئی تو اس نے حضرت مسلم بن عقیل اور ان کے بچوں کا قتل کروادیا راستے میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس بات کی خبر ہوئی مگر آپ نے سفر جاری رکھا اور کربلا پہنچے ۔ ایک طرف محض بہتر اور ایک طرف ۲۲ ہزار کا لشکر تھا یزید پلید اپنی جھوٹی شان و شوکت اور بادشاہت کو قائم رکھنے کے لیے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیعت کا‌ مطالبہ کر رہا تھا جب کہ یزید پلید شرابی کبابی جھوٹا مکار بدکار اور عیش پرست تھا اس لیے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یزید کی بیعت سے انکار کر دیا اس بات پر یزید پلید نے اپنی فوج بھیج کر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے اہل و عیال اور جاں نثاروں کو کربلا کے میدان میں روک لیا اور پانی وغیرہ بند کر کے طرح طرح کے ظلم و ستم کے بعد ۱۰ محرم الحرام ۶۱ھ کو کربلا میں سجدے کی حالت میں شہید کر دیا ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
یزید مر کے مٹ گیا مگر جہاں میں آج بھی
زباں پہ ہر کسی کے بس حسین ہی حسین ہے
محمد اظہر شمشاد
جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی
8436658850
توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے