حضرت الحاج مولانا مقبول احمد صاحب جونپوری نوراللہ مرقدہ کی رحلت ملت کا عظیم خسارہ

160

حضرت الحاج مولانا مقبول احمد صاحب جونپوری نوراللہ مرقدہ کی رحلت ملت کا عظیم خسارہ،اسٹاف،اراکین مدرسہ ،رشتہ داران،متعلقین وفیض یافتگان سمیت پوراعلاقائے مہولی(سنت کبیرنگریوپی)سوگوار،
دھن گھٹا سنت کبیر نگر
مفتی حفیظ اللہ قاسمی/ عقیل احمد خان،
زمیں کھاگئی آسماں کیسے کیسے
یقین نہیں آتاکہ اہلیانِ علاقہءمہولی کی ہردلعزیز شخصیت،بلکہ اپنےاخلاقِ کریمانہ،حُسنِ صورت وسیرت اورپُرکیف تیوروآہنگ کےذریعےدل ودماغ پرچھائی رہنے والی عظیم المرتبت ہستی،محبوب العلماء والعوام حضرت مولانا مقبول احمد صاحب جونپوری نوراللہ مرقدہ مہتمم مدرسہ عربیہ مصباح العلوم روضہ مہولی سنت کبیرنگریوپی،خلیفہ مجازحضرت مولانا قمرالزماں صاحب الٰہ آبادی دامت برکاتہم العالیہ،یکایک اس علاقےکو چھوڑکرہمیشہ کےلئےرخصت ہوگئےاوراب اہلِ خطہ ان کی قبر پر حاضری دےکرفاتحہ خوانی سےیکسرتونہیں مگربڑی حدتک محروم ہوکررہ گئے۔فالی اللٰہ المشتکیٰ۔
حالات کی ستم ظریفی دیکھئے، اسےعلاقےکی بدنصیبی نہیں تواورکیاکہاجائے،محروم القسمتی کے ہچکولوں نےایسےمنجدھارمیں کشتی الجھادی کہ کشتیبانوں کےبھی تمام حربے ناکام ثابت ہوئےاوربالآخرساری تمنائیں اورآرزوئیں دلوں میں گُھٹ کررہ گئیں
محرومی کایہ احساس دلوں کو برسہابرس باربارجنجھوڑےگااوریہ علاقہ اپنی بدنصیبی پرصدیوں ماتم کرےگامگراس کی تلافی کاکوئی سامان نہ ہوسکےہوگا
غورکیجئے،انسان کواللہ تبارک وتعالیٰ نےتمام مخلوقات کی بہ نسبت عقل وشعورکی چوٹی پر بٹھایاہےاسےنفع اور ضررپہچاننےکی صلاحیت بخشی ہےوہ نفع پاکرخوش ہوتاہےاورنقصان سےدوچارہوکرکبیدہ خاطرہوتاہےاسی لئےمضرت رساں چیزوں سےوہ بچتاہے،اسی طرح نفع بخش چیزوں کو وہ دل میں بساکررکھتاہےاس کےحصول کی کوشش کرتا ہےاسےپروان چڑھاتاہےاوربسااوقات اس پرایساگرویدہ ہوجاتا ہےکہ اس برتن من دھن کی بازی لگانےمیں بھی دریغ نہیں کرتا
حضرت مولانا مقبول احمد صاحب جونپوری نوراللہ مرقدہ کی ذات گرامی علاقےکےخواص وعوام میں کس قدرمقبول،متعارف،اورنفع بخش تھی اس کااندازہ لگانےکےلئےان کی پچاس سالہ خدمات پرطائرانہ نظرڈالئےاورخودفیصلہ کیجئےکہ ہم نےکتناقیمتی انسان کھویاہے،وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے،اگروہ ایک طرف تشنگانِ علوم نبوت کوعلم وادب کےچشمہءصافی سیراب کررہےتھےتودوسری طرف گاؤں گاؤں جاکررسوم بدعات میں لت پت انسانیت کواپنےشیرین پندونصائح اورالبیلےوعظ وبیان کےذریعےانھیں خالص توحید وسنت کےنورانی ماحول میں لانے کی انتھک جدوجہدکرتے،گوکہ اس سلسلےمیں حضرت رحمۃ اللّٰہ علیہ کوبہت ہی دشوار گزار مراحل سے گزرنا پڑتا اورکئی بارتوبدقماشوں نےآپ پرطعن وتشنیع کی بوچھار کی آپ کا تعاقب تک کیا مگر
جس کواللہ رکھےاس کوکون چکھے
حضرت مولانانےبےلوث اوربےغرض ہوکرخالصۃً لوجہ اللہ بتدریج اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھاتوچشمِ فلک نےیہ منظربھی دیکھاکہ وہی لوگ جو غلط فہمیوں کا شکاہوکرآپ کےدرپئےآزارتھے،حقیقت منکشف ہونےپرآپ کےنازبرداربن گئےآپ کواپنےسروں پربٹھایااورپوری زندگی گرویدہءجلوہءجاناں بن کررہ گئے
حقیقت یہ ہےکہ حضرت نےمدت العمرکسی کواپنافریق نہیں بنایا یہ ان کی وسعت ظرفی کا اعلی نمونہ تھا انہوں نے سب سےمشفقانہ برتاؤرکھنےکوترجیح دی،یہی وجہ ہےکہ آپ سےجوبھی ملتاوہ یہی باورکرتاکہ شایدحضرت سب سےزیادہ مجھ کوہی چاہتے ہیں،بلاتفریق علاقےبھرکےلوگوں کی ہرخوشی اورغم میں آپ شریک رہتے،بیماروں کی عیادت بیماررہ کربھی کرتے،اسی لئےعلاقےکےخواص وعوام،بوڑھے،بچے،جوان،مردوعورت سب کےسب حضرت کی ذات بابرکات سے صرف واقف کار ہی نہیں بلکہ ان پرفدائی اورجاں نثارتھے
آپ نے معاشرتی اصلاح کے لئے انجمن ارشادالمسلمین کےتوسط سےعلاقےبھرکےعلماءکوایک لڑی میں پرویااورشادی بیاہ میں اسراف کےبڑھتےرجحان نیزجہیزجیسی رسمِ بدپرقدغن لگانےکی بھرپور جدوجہدکی اورسوسائٹی وسماج کواسلامی طرزِزندگی سےخوب خوب روشناس کرایا
آپ علم وادب کابحرِبیکراں،آسمانِ فکرونظرکےنیرتاباں دانش وبینش میں ممتاز،صائب الرائےبہترین معلم،بابصیرت خطیب ومقرر،قادرالکلام شاعر زبردست انشاءپردازماہرعربی داں آبروئےاردوادب،زبانِ فارسی کے مسلّم امام اورگم کردہ راہوں کےحق میں فرخندہ مصلح وپیربلکہ مرجعِ خلائق تھے،مدرسہ سراج العلوم مڑہاراجہ کوپروان چڑھایامدرسہ عربیہ مصباح العلوم روضہ کی داغ بیل ڈالی اورمدت العمرکاوشوں سےاسے شاہکارکردیا،پورےعلاقےمیں مکاتب کاجال بچھایا،مہولی جامع مسجد سمیت درجنوں مساجد کی تعمیربظاہراسباب آپ ہی کی نگرانی وسرپرستی میں ہوئی
الغرض آپ گوناگون صفات کے حامل اورمرنجاں مرنج طبیعت رکھنے والےنایاب عالمِ دین تھے، آپ علاقےکےعلماء وعوام میں یکساں محبوب ہونےکےباوصف کبھی اپنی برتری یاعظمت ثابت کرنےسےہمیشہ اجتناب کرتے،چھوٹوں کاحوصلہ بڑھاتے،ان کی خوبیوں کواجاگرکرتے،نامناسب باتوں کونظراندازکرتے،خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدارکرتے،پیاروایثارسےکام لیتے،ہرچھوٹی بڑی دینی،ملی،سیاسی وسماجی مجلس کےآپ ہی شہ نشین ہوا کرتےتھے،آپ کی بارعب شخصیت،پُروقارمتانت سےہرکوئی متاثرتھا،خوردہ نوازی میں اپنی مثال آپ تھے،آپ رشتوں کو نبھانےکےساتھ ساتھ اپنےکردارسےسلیقہ بھی سکھاتے تھےزہدوتقویٰ کی جیتی جاگتی تصویر اور اخلاص وللہیت کا اعلیٰ ترین نمونہ تھے،جس طرح مرغیاں چیل کوؤں کی آہٹ سے اپنےچوزوں کی حفاظت کےلئےتڑپ جاتی ہیں اسی طرح آپ ناسازگار حالات میں علماء حفاظ اورملت کےلئےتڑپ جایا کرتے تھےاورجوکچھ بھی مقدورمیں ہوتاکرنےمیں جٹ جایا کرتےتھےچونکہ آپ علاقہ میں استاذالاساتذہ اورشیخ الشیوخ کے منصب پرفائز تھےاس لئےتمام اصاغرواکابرآپ کےروبروہوکرنیازمندانہ بیٹھتےاورسدابہارگلشن سےخوشہ چینی کرتےتھے آپ نہایت خوبصورت،جاذبِ نظر گورےچٹےدرازقامت،گدازبدن خوش مزاج،بزرگوں کی یادگار تھے،رکھ رکھاؤ نہایت اعلیٰ،جب خوش پوش ہوکرنکلتےتودیکھنےوالےدیکھتےرہ جاتے،جس مجلس میں ہوتےنمایاں رہتےعلم وادب،فکرونظرمیں طاق حکمت وتدبیرکاپیکرتھےغرضیکہ آپ کی شخصیت خوبیوں کاایک مجموعہ تھی جوعلاقےکوتقریباًپچاس سال تک اپنی بےلوث،بارآورجہدِپیہم کےذریعے خوب سےخوب تربنانےمیں مسلسل مصروف عمل رہی
لیکن،وائےرےبدنصیبی،بڑی بڑی آزمائشوں سےہنستےکھیلتےگزرجانےوالےاس مردِآہن پرمعمولی سی بیماری کی آہٹ نےبالآخراپنےپنجےگاڑدئیےاورپھردوسےچاردن زکام بخار،تنفس وغیرہ سےآنکھ مچولی کرتے ہوئےدرویشِ داناسب کوالوداع کہہ اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے،اناللہ واناالیہ راجعون
آسماں ان کی لحدپرشبنم افشانی کرے،آمین
مدرسہ ہی میں بیماری کاشکارہوئےآپ کےبھانجوں مولاناوصی احمد قاسمی،بھائی ندیم احمد اوربھائی شکیل احمدنےراتوں رات حضرت کوجنجھوا
ہنسور ضلع امبیڈکر نگر لےجانےکافیصلہ کیاچونکہ حضرت کی چھوٹی صاحبزادی جوندیم احمدسےمنسوب ہیں ان کی بھی یہی خواہش تھی بہرکیف یہاں آکرحضرت کوبھی خوب اطمینان تھابہترین علاج ومعالجہ اوراچھی تیمارداری ہورہی تھی کہ اچانک تنفس کےمسائل پیداہوئےاورآکسیجن لگانےکی نوبت آگئی،مولاناوصی احمد قاسمی اورتمام بھائیوں نے لاک ڈاؤن کےباوجودجان توڑمحنت کی اورہرقیمت پرآکسیجن فراہم کرتےرہےاس پرآشوب ماحول میں جبکہ آکسیجن کی فراہمی جوئےشیرلانےکےمترادف سمجھی جاتی ہےان حضرات نےآکسیجن کی کوئی کمی نہیں ہونےدی غرضیکہ بیماری کےایام‌ میں حضرت کی راحت رسانی کے لئےناقابلِ فراموش خدمات انجام دی ہیں،حضرت کےتمام اہل خانہ یقیناً ان حضرات کے ممنون ہوں گے نیزمدرسہ کاپورااسٹاف اورتمام اہلیانِ علاقہءمہولی اس بابت ان حضرات کوشاباشی ضروردیں گےکہ انھوں نے دیکھ ریکھ میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرتے ہوئےخدمت کاحق اداکردیااللہ تعالٰی انہیں دونوں جہان میں اس کاصلہ وبدلہ عنایت فرمائے،آمین،لیکن مقدرات کوکون ٹال سکتا ہے
الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

بالآخردوروزآکسیجن کےتوسط سےسانسیں بھرتےبھرتےاچانک یہ سلسلہ تھم گیا اورقزاقِ اجل نےہماراسب کچھ لوٹ کرپورےروضہ اسٹاف،اراکین اوروفاشعارعلاقےکےایک ایک فرد کوحضرت کےسائےسےمحروم کردیا،آج پوراعلاقہ اس بات پر ماتم کناں ہےکہ حضرت کی قبرپرحاضری اورفاتحہ خوانی سےبھی اہلِ خطہ تقریباًمحروم سےہوگئے،لاکھ جتن کےباوجودنعشِ مبارک کی بازیابی روضہ میں نہ ہوسکی اورپچاسوں سال تک اپنی علمی ادبی،فکری،اورخوش خلقی اورفیوض وبرکات کی ضیاپاش کرنوں سے پورےعلاقےکو روشن کرنے والامردِقلندرہمیشہ کےلئےاپنےآبائی قبرستان موضع برنگی جونپور میں آسودہءخواب ہوگیا
اللہ تعالٰی بال بال مغفرت فرمائے،درجات کوبلندفرمائے،اعلٰی علیین میں جگہ عنایت فرمائےاورجملہ پسماندگان بالخصوص بیوہ اہلیہ محترمہ تمام بیٹوں حضرت مفتی منصوراحمدصاحب قاسمی،بھائی محموداحمد،بھایی ارشد،بھائی انور،بھائی مسٹراورتینوں بیٹیوں اورپورےکنبہ کونیزہم جیسی حضرت مرحوم کی ہزاروں روحانی اولادوں کواللہ تعالٰی محض اپنے فضل و کرم سےصبروسکون عطافرمائے،آمین
اورہم محروم القسمت یتیموں کوحضرت کانعم البدل عطا فرمائے،آمین
اب تو مصباح العلوم کی داغ بیل ڈال کر اسےاوجِ ثریاکی بلندیوں تک پہنچانے والی عظیم ہستی ہمارے درمیان نہیں رہی لیکن اس کایہ گلشنِ علم وعرفاں آج بھی ہمارے بیچ موجودہے،سچاخراجِ عقیدت ومحبت یہی ہےکہ اس چمن کوسرسبزوشاداب بنانے میں پورااسٹاف،اراکین،اورعلاقہ بھرکےسربرآوردہ لوگ بلکہ ہرہرفردبےغرض ہوکراپناکرداراداکرےاوراسےہرابھرارکھنےکےلئےجوبھی تدابیربارآورہوسکتی ہیں انھیں بروئےکارلانےکی کوششیں کی جائیں،توکم ازکم حضرت کی دیرینہ یادگار کودوام بخش کرہم اپنی تسلی اوراپنی ہی تعزیت کاکچھ سامان کرلیں گے،اورقیامت تک حضرت کواورآپ کی صلبی وروحانی اولادوں کونیزپورےعلاقےکو اس کافیض پہونچتارہےگا
اللہ کی رحمت کے امیدوار ہوکرکام ہوگاتوتائیدِالٰہی ضرورشاملِ حال ہوگی
جب قدم اٹھےگاتوفیقِ خداہوجائےگی
وماذالک علی اللہ بعزیز
یہ تحریر اہلِ خانہ،جملہ اسٹاف اہلیانِ علاقہ اورخوداپنی تسلی اور تعزیت نیزحضرت کےادارہ کےتئیں سب کے دلوں میں فکرمندی کا احساس جگانے کےلئےہے،لہذااگرکوئی فروگزاشت ہوتومحض درگزرسےکام لےکرکام کرنےکاکام کیاجائے،اللہ تعالٰی محض اپنے فضل وکرم سے ہم سب کو مثبت کاموں کی توفیق مرحمت فرمائےاورمنفی سوچ اورفکرسے؛جوصرف اورصرف رکاوٹ بنتی ہے؛ہم سب کی حفاظت فرمائے،آمین