حضرت ابو حازم تابعی اور ان کے حکمت بھرے اقوال

91

تحریر از ابوحمزہ محمد عمران

مدنی

مختصر تعارف :حضرت سیِّدُناابو حازِم:ان کا نام سلمہ بن دینار تھا، بنوشجع  کہ آزاد کردہ تھے۔ بہت عابد وزاہد تھے فجراور عصر کی نماز کے بعد مدینہ کی مسجد میں بیان کیا کرتے تھے ،آپ ثقہ اور کثیرالحدیث راوی تھے ۔

بادشاہِ وقت سے بھی مرعوب نہ ہونا :سليمان بن ہشام بن عبد الملك جب مدینے آیا،تو لوگ اس سے ملنے کے لیے آئے۔اس نے پیغام بھجوا کر حضرت ابو حازم کو بلوایا اور ان سے ان کے معاملات اور حالات دریافت کئے ،اور پوچھا :اے ابوحازم!تمہارے پاس کیا مال ہے ؟ تو آپ نے اس سے فرمایا : میرے پاس دو مال ہیں:اس نے پوچھا : وہ دو مال  کونسے ہیں ؟  آپ نے فرمایا:اللہ پر بھروسہ کرنا ۔اور جو چیز لوگوں کے پاس ہے اس سے مایوس رہنا ۔ (الطبقات الکبری ،الطبقۃ الرابعۃ من التابعین من اھل المدینۃ ،۱۲۸۔ابوحازم ،ج:۴،ص:۱۵۵)

حضرت ابو حازِم اورسردی کی تیاری:

حضرت سیِّدُناابو حازِم کی زوجہ نے آپ سے عرض کیا:سردی کا موسم آچکا ہے اور اس موسم کے لئے کھانے،کپڑوں اور ایندھن  کی لکڑی کی ضرورت ہے؟آپ نے فرمایا:ان سب چیزوں کے بغیر تو گزارہ ممکن ہے لیکن تم ان چیزوں کی تیاری کروجنہیں بالضرور آنا ہے  موت  کی تیاری کرو کہ اس سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں،موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے اوراللہ کی بارگاہ میں پیش ہونے کا مُعامَلہ ہے اور آخرِ کار جنَّت یا جہنَّم ٹھکانا ہے۔(المجالسۃ وجواہر العلم،الجزء الثانی ،رقم:۲۷۴،ج:۲،ص:۱۴۰)

آپ کے بعض حکمت بھرے اقوال 

(1)جب بندہ گناہوں کو ترک کرنے کا عزم کرلیتا ہے ہر جانب سے اس کے پاس کامیابیاں آتی ہیں ۔

 (2)ہر وہ نعمت جو بندے کو اللہ پاک کے قریب نہ کرے وہ بلاء و مصیبت ہے اور بندۂ مومن کو چاہیے کہ وہ جتنا دھیان  اپنے دنوں پاؤں رکھنے کی جگہ کا کرتا ہے (کہ کہیں غلط جگہ پاؤں رکھ کر پھسل نہ جاؤں )اس  کے مقابلے میں کہیں زیادہ  اپنی زبان کی حفاظت میں کا خیال  کرے ۔ 

(3)آپ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : اے میرے بیٹے !اس  شخص کی پیروی مت کرنا جو تنہائی میں اللہ پاک سے نہ ڈرتا ہو ۔ جو لوگوں کی عیب پوشی نہ کرتا ہو ۔ اور بڑھاپا آجانے کے بعد اصلاح کو قبول نہ کرتا ہو ۔ 

(4)تیرا اپنی نفسانی خواہش سے جنگ کرنا تیرے لیے اپنے دشمن سے مقابلہ کرنے سے زیادہ سخت ہے ۔ 

(5)ایک شخص نے حضرت ابو حازم سے کہا : آپ بہت متشدد ہیں ۔تو آپ نے فرمایا : میں متشدد نہیں ہوں میری تاک میں چودہ دشمن ہیں ،ان میں سے چار یہ ہیں : (1)شیطان جو مجھے فتنے میں ڈالتا ہے ۔ (2)وہ مومن جو مجھ سے حسد کرتا ہے ۔(3)وہ کافر جو مجھ سے قتال کرتا ہے ۔ (4)وہ منافق جو مجھ سے بغض رکھتا ہے ۔ اور دیگر دس دشمن یہ ہیں : (1)بھوک (2)پیاس (3) برہنہ ہونے کا خوف(4)سردی (5)گرمی (6)بیماری(7)محتاجی(8)سوال کرنا (9)موت(10)جہنم۔اور میرے پاس ان سے مقابلے کے لیے ایک ہی ہتھیار ہے اور میں ان سے مقابلے کے لیے تقوی سے افضل کوئی دوسرا ہتھیار نہیں پاتا ۔

(6)ایک بار حضرت ابو حازم کا گزر ابو جعفر مداانی کے پاس سے ہوا جو سوچ و بچار میں مشغول اور غمگین تھے۔انہیں دیکھ کر آپ نے کہا :شائد تم یہ سوچ کر پریشان ہو کہ تمہارے بعد تمہاری اولاد کا کیا ہوگا ؟انہوں نے کہا : جی ہاں ! آپ نے فرمایا :تم غم نہ کرو ! اگر تمہارے بچے اللہ کے پیارے ہیں تو  تم ان کے تلف و ضائع ہونے کا خوف نہ کرو ! اور اگر وہ اللہ کے دشمن ہیں تو تم پرواہ نہ کرو کہ تمہارے بعد ان کا کیا ہوگا ؟

(7)فرمایا : مسلمان کی سب سے افضل عادت یہ ہے کہ اسے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ اپنی جان کا خوف ہوتا ہے (کہ کہیں میں اپنے اعمال کی وجہ سے اللہ پاک کی پکڑ میں نہ آجاؤں۔) اوروہ  اپنے مقابلے میں ہر مسلمان کے اللہ پاک کے عذاب سے مامون ہونے کی امید رکھتا ہے ۔

(8)آپ نے فرمایا: دوچیزیں  ہیں جن میں  دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔اگر تم ان پر عمل  کرو تو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔اور میں اس سے بڑی بات نہیں کرسکتا ۔ ان سے پوچھا گیا: وہ دوعمل کیا ہیں؟فرمایا : جو عمل تمہیں  پسندنہیں  ہے لیکن اللہ پاک کو پسند ہے تو اسے اختیار کرلو اور جوعمل تمہیں پسندہے لیکن اللہ پاک کو پسند نہیں تم اس کو چھوڑ د ! (سیر سلف الصالحین ،ص:۷۹۴۔۸۰۳ملخصاً)

وصال باکمال :آپ کی وفات ابوجعفرکے دورِ خلافت میں ا۳۵ھ۔ یا۱۴۰ھ۔ میں ہوئی ۔(الطبقات الکبری ،الطبقۃ الرابعۃ من التابعین من اھل المدینۃ ،۱۲۸۔ابوحازم ،ج:۴،ص:۱۵۵)