حصول علم کا مقصد اور اس کی اہمیت

154

از: سرفراز عالم ابو طلحہ ندوی بابوآن ارریہ
یقینا علم اور علماء دونوں کی اہمیت و فضیلت ہر دور میں محسوس کیا گیا ہے ،اور یہ ایسی لازوال شئی ہے کہ اس کو رہتی دنیا تک ان کی اہمیت باقی رہے گی،علم کے حصول اور اس کے بہت سارے فوائدہیں، حصول علم کا ایک اہم ترین مقصد اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرنا ہے ،اسی کے پیش نظر بہت سارے ذریعے معاش انسانی زندگی میں مضمر ہے ،ایک مقصد دین اسلام کی سربلندی اور اس کی سرمدی قانون کو پورے علم و عرفان کے ذریعے لوگوں تک پہنچانا ہے ،اسی وجہ سے متلاشیان علم و ادب کی بہت ساری فضیلتیں قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہیں،”من سلك طريقا يلتمس فيه علما سهل الله به طريقا إلى الجنة”
اس حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص علم حاصل کرنے کی غرض ایسا راستہ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے بشرط یہ کہ علم صرف اور صرف للہ فی اللہ ہوں، کسی کو اپنی بڑائی جتلانے کے لئے نہ ہوں اگر ایسا کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کو اندھے منہ جہنم رسید کر دے گا، حصول علم کا ایک اہم ترین مقصد یہ بھی ہے کہ والدین کو جنت لے جانا ہے ، اور وہ علم ہی کی بدولت اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کو تمام فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا، جس کا نقشہ قرآن نے بہترین انداز میں کھینچا ہے ،وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىٕكَةِۙ-فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۳۱)
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ  نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے فرشتوں پرافضل ہونے کا سبب’’ علم‘‘ ظاہر فرمایا: اس سے معلوم ہوا کہ علم خلوتوں اور تنہائیوں کی عبادت سے افضل ہے۔حضرت ابو ذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں : حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مجھ سے ارشاد فرمایا’’اے ابو ذر!رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتمہاراا س حال میں صبح کرنا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب سے ایک آیت سیکھی ہو،یہ تمہارے لئے 100 رکعتیں نفل پڑھنے سے بہتر ہے اورتمہاراا س حال میں صبح کرنا کہ تم نے علم کا ایک باب سیکھا ہوجس پر عمل کیا گیا ہو یا نہ کیا گیاہو،تو یہ تمہارے لئے 1000نوافل پڑھنے سے بہتر ہے۔(ابن ماجہ،کتاب السنّۃ، باب فی فضل من تعلّم القرآن وعلّمہ، ۱ / ۱۴۲، الحدیث: ۲۱۹)
حضرت حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا’’علم کی فضیلت عبادت کی فضیلت سے زیادہ ہے اور تمہارے دین کی بھلائی تقویٰ (اختیار کرنے میں ) ہے۔(معجم الاوسط، من اسمہ علی، ۳ / ۹۲، الحدیث:۳۹۶۰)
شاید یہی علم کی اہمیت تھی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری دنیا کی انسانیت پر فضیلت بخشی ہے، علم حاصل کرنے والا ساری دنیا پر اپنی بادشاہت کا سکہ جما لیتا ہے ،یہ صرف اور صرف علم ہی کی بدولت ہے ،
حصول علم باعث رحمت ہے ،
اور یہ دنیا میں سب سے زیادہ اسلام اور مسلمانوں سے جڑا ہوا بہترین اصول ہے ،دین کی سمجھ حاصل کرنے میں علم کا کردار سب سے نمایاں مقام رکھتا ہے ،علم کے بغیر ساری چیزیں بے معنی و لا یعنی ہے، علم ہی کی وجہ سے آدمی گدا سے بادشاہ بن جاتا ہے ، جس سے لوگوں کی پوزیشن مضبوط تر ہو جاتی ہے ، ان تمام چیزوں کو سامنے رکھ کر ہم اور آپ حصول علم کی ذمہ داری ہر علاقے میں پھیلائیں، تب جاکر ہم اپنے مقصد اصلی میں کامیاب ہوسکتے ہیں ،وگرنہ نہیں ۔

اللہ تعالی ہمیں حصول علم کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین