حسب استطاعت ہر کوئی فرعون بن بیٹھا ہے

37

تحریر: حافظ میر ابراھیم سلفی
یقین نہ آئے تو اک بار پوچھ کر دیکھو
جو ہنس رہا ہے ، وہ زخموں سے چور نکلے گا

میرے ہم سخن کا یہ حکم تھا كے كلام اس سے میں کم کروں
میرے ہونٹ ایسے سلے كے پِھر میری چُپ نے اس کو رلا دیا

اہل شعور اس بات سے باخبر ہیں کہ جب بھی روئے ارض پر فرد واحد ظلم و بربریت کی داستان رقم کرتا ہے تو ہم اسے فرعون کے ساتھ ایک ہی ترازو میں کھڑا کرتے ہیں۔ فرعون ظلم و جبر کا امام تھا۔ اہل ایمان پر فرعون کی طرف سے دی جانے والی اذیتیں لاثانی ہیں۔ موسی کی تلاش میں اولا اس نے معصوم گلابوں کو موت کے حوالے کردیا پھر ثانیا اپنی کنیز کو اولادوں سمیت ابھلتے تیل میں ڈال کر انہیں اللہ سے ملاقی کروایا۔ سیدنا موسی اور ان کے حواریوں کے ساتھ ظلم و بربریت کی انوکھی داستان فرعون نے رقم کی ہے۔ ابو جہل جو کہ تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی و دینی عدو تھا کو بھی یہ خطاب دیا جاتا ہے۔ فرعون کے نام سے ہی قلوب میں کراہت پیدا ہوتی ہے۔فرعون کے متبعین جیسے ابو لہب، ابو جہل، عتبہ، شیبہ، عبیداللہ بن زیاد، حجاج بن یوسف وغیرھم کو پوری کائنات نفرت بھری نگاہوں سے ہی دیکھتی اور پڑھتی ہے۔ رحم و کرم، محبت و الفت، سخاوت و اخوت فطری امور ہیں جنکی طرف دل کا میلان تخلیق آدم سے ہی رکھی جاچکی ہے۔ وحشی درندے بھی اپنے معصوم اور شیر خوار بچوں پر رحم و کرم کرتے ہیں، انہیں عزیز و شفیق رکھتے ہیں۔ ان پر لین اور رفق کے موتی بھرساتے ہیں۔کیونکہ پیار وہ عظیم اور اعلی صفت ہے جس سے کاینات کے رنگ نکھر کر اپنی چمک بکھیرتے ہیں۔

صاحب عقل و دانش اس بات کا بھی ادراک رکھتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے اپنی ذات مبارکہ و مقدسہ پر بھی ظلم کو حرام قرار دیا ہے اور اہل ارض کو بھی ظلم سے اجتناب کا امر دیا ہے۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری سیرت طیبہ رحمت و الفت کے ہیروں سے پر ہے۔ مخبر صادق نے ہمیں یہ خبر دی ہے کہ ظلم میدان محشر میں ظلمات کا باعث ہوگا۔ ظالم کے نصیب میں اخروی تاریکیاں ہیں۔ظلم و جبر آخرت میں مفلسی کا سبب ہوگا۔ ظلم ایک مکروہ اور ملعون فعل ہے جس کے کاینات کا نظام درھم برھم ہوجاتا ہے۔ سیرت طیبہ نے ہمیں رہنمائی فرمائی ہے کہ ظالم کا ہاتھ روک کر اس کی مدد کرو اور مظلوم کی نصرت ظلم سے آزاد کرکے کرو۔ یمن کے گورنر سیدنا معاذ بن جبل رضہ اللہ عنہ کو یہ وصیت کی گئی تھی کہ “اتق دعوة المظلوم” یعنی مظلوم کی بددعا سے بچو کیونکہ مظلوم کی فریاد اور شہنشاہ کائنات کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا۔بعض روایات میں آیا ہے کہ مظلوم کی بددعا “کأنھا شرار” مثل شعلہ سموات کی طرف جاتی ہے۔ اور صحیح سند سے یہ بھی وارد ہوا کہ مظلوم کی دعا سن کر خالق کائنات اپنی عزت اور جلال کی قسم کھا کر اس کی استجابت کرتا ہے۔جید اسناد سے یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ “ثلاث دعوات مستجابات ” تین دعا ایسے ہیں جو ہر حالت میں قبول ہوتے ہیں “لا شک فیھن” جنکی قبولیت میں کوئی شک نہیں۔

اہل معرفت جانتے ہیں کہ اگر غور و تدبر سے کام لیا جائے تو فرد واحد اپنی استطاعت کے مطابق فرعون بن بیٹھا ہے۔ انفرادی و اجتماعی زندگی میں ہم کسی نہ کسی شعبہ میں فرعون بن بیٹھا ہے۔اپنے گھر سے لیکر سرکاری دفتر تک، ادنی شعبہ سے لیکر اعلی عہدے تک ہم فرعونی کردار کے مالک ہیں۔ اپنے گھر میں ہم اپنے اہل خانہ کے ساتھ حق تلفی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔حقوق نسواں کی لوٹ مار کے ہم علمبردار بن چکے ہیں۔ شرعی و معاشرتی نظام میں ہم نسوانیت سے اعلی درجے پر کھلواڑ کررہے ہیں۔حقوق والدین اب ہمارے نصاب سے ہی اوجھل ہوچکا ہے۔ حقوق الطفل و صبیان کے نام پر ہم انہیں معصومیت و شرافت سے محروم کررہے ہیں۔ گھر سے باہر نکل کر ہمارے ہمسایہ ہمارے ہاتھ اور لسان سے محفوظ نہیں۔ ہمارا گفتار و کردار جاہلیت کے نزر ہوچکا ہے۔نہ آداب سخن نہ کردار یوسف۔ نصبی رشتوں سے دوری اور اجنبیت سے قربت کا دور دورا ہے۔ ہم ماتحتوں کو پیر کی جوتی سمجھ کر ان کا برملا استحصال کرتے ہیں۔جنسی تفریق، ذات پات کی تفریق کے ہم پجاری ہیں۔ جسے دیکھو اپنا لوہا منوانے میں لگا ہوا ہے۔

گھر سے نکل کر ہمارا سامنا معاشرے کے افراد سے ہوتا ہے۔ عصر حاضر میں کوئی کسی کی مدح کرنے والا نہیں جبکہ ہجو کے انجمن سجھے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ فریب، لوٹ مار، دھوکہ، خیانت، افشائے راز انسانیت کی پہچان بن چکی ہے۔حقوق العباد کا تصور ہمارے دل و دماغ سے نکل چکا ہے۔ جس کو دیکھو کمزور کی کمزوری، بے بس کی بے بسی، محتاج کی فقیری کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ مذہبی حلقے بھی اس قباحت سے محفوظ نہیں۔ علماء سے لیکر عام قاری تک بحث و مباحثے کی نحوست پھیل چکی ہے۔ انسانیت کو درس محبت دینے والے نفرتوں اور عداوت کے سوداگر بن گئے ہیں۔ باطل طریقے سے غریب عوام کا مال لوٹا جا رہا ہے۔ یہ تنقید نہیں بلکہ حقائق ہیں۔ اپنی صلاحیت کا استعمال کرکے ہر کوئی طاغوت بنا ہوا ہے۔

سیاسی پارٹیوں نے تو ظلم و بربریت کی حد ہی پار کردی۔ نہتے غریبوں اور بے بسوں کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ووٹ بینک جمع کرنے کی خاطر ہر چھوٹی بڑی غلط راہ اپنائی۔ جمہوریت کے کھوکھلے نعرے دے کر عوام الناس کی جذبات کو وقت وقت پر مجروح کیا گیا۔اقتدار میں آتے ہی ہر چھوٹی بڑی سیاسی پارٹی نے غریبوں کا خون چوسنے میں کوئی قصر نہ چھوڑی۔دینی تنظیموں کا بھی قریب قریب یہی حال ہے۔ الا من رحم ربی۔ بیت المال، زکات فاونڈیشن کی سنگ بنیاد ڈاک کر بھی مستحقین کے پاس دو وقت کی روٹی نہیں پینچتی۔غیر سرکاری اسکولوں میں بھی اعلی تعلیم یافتہ ہنر مند نوجوانوں کا استحصال اپنے عروج پر ہے۔بے چینی، بے سکونی کا عالم ہر طرف چھایا ہوا ہے۔خون کی ہولیاں ہر جانب کھیلی جارہی ہیں۔ ظلم کے خلاف اپنی صدا بلند کرنے والوں کی آواز کو ہی درگور کیا جاتا ہے۔

اصحاب درد تڑپ رہے ہیں کہ کائنات کی یہ بگڑتی فضا کس طرح خوشبو بکھیرے۔ یہ اجڑا چمن کب پہھر سے آباد ہوگا۔ قلم کار، شعراء، واعظ، خطیب اپنی تحریرات و تقاریر میں یہ درد بیان کرتے پھرتے ہیں لیکن شاید طلب شہرت و طلب مال کی چاہ یہاں بھی حائل ہوکر رہ گئی ہے۔ حرص و ہوس کی بدبو نے ہمارے علوم و فنون کو متاثر کردیا ہے۔ بے حیائی و بدکاری کے بازار گرم اور مساجد ویران ہیں۔ حرام خوری کے انجمن سجائے جارہے ہیں اور مذدور طبقہ فاقہ کشی کے شکار ہیں۔نہ شرم و حیا کا گفتار اور نہ پاکدامنی کا کردار ہے۔ لہو لعب کی محفلوں، مے خانوں کو زینت بخشنے والوں کی حوصلہ افزائی جبکہ سماجی بحران کا حل تلاش کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔بہ ماں کی عظمت محفوظ ہے اور نہ بیٹی کی عزت۔ نہ بہن کی عصمت محفوظ ہے اور نہ باپ کا سرمایہ۔ ہر طرف سے ہمارا چمن جل رہا ہے۔

اصحاب دل!! ذرا قدم بڑھاؤ کہ یہ کائنات تمہارے قدموں کی منتظر ہے، قول و فعل کے تضاد کو مٹانے کا وقت آگیا ہے۔ اب دلوں میں رقت پیدا کرنے کی ضرورت اپنے انتہا پر پہنچ چکی ہے۔ اللہ سے دعا، کرتا ہوں کہ ہمیں اس درد سے آشنا کردے جس کے حصول سے ہمارے دل مخموم ہوجائیں اور جوارح اعمال پر کھڑے ہو جائیں۔۔۔۔۔۔ آمین یا رب العالمین