ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہومبریکنگ نیوزحالات اور حاشیے کے مصنف معروف ادیب و شاعر عتیق اثر ندوی...

حالات اور حاشیے کے مصنف معروف ادیب و شاعر عتیق اثر ندوی کے اعزا ز میں کامیاب مشاعرہ

معروف ادیب وشاعر عتیق الر حمان عتیق اثر ندوی صاحب کے اعزاز میں مشاعرہ کا انعقاد ـ

ڈاکٹر عبداللہ فیصل کی خصوصی رپورٹ:

ممبرا پبلک ہائ اسکول اینڈ جونئیر کالج میں منعقدہ ۱۱ ستمبر ۲۰۲۲ کے اس مشاعرے میں ممبئ و مضافات کی علمی ، ادبی ، مذہبی ممتاز شخصیات نے شرکت کی ـ ممبئ اور بیرون ممبئ کے مدعو شعراء وادباء نے بھی شرکت کی اور اپنے کلام سے نوازا ـ پروگرام کے کنوینر اور ناظم مشاعرہ ڈاکٹر عبد اللہ فیصل نے کہا کہ اسٹیج پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہورہا ہے ـ کی علم وادب اور شعروسخن کی ایک کہکشاں ہے جو آسمان سے زمین پر اترآئ ہے ـ آج کی مجلس کے دولہا صاحب اعزاز عتیق اثر ندوی جو بیک وقت معتبر و مستند عالم دین کے ساتھ ساتھ بلند پایہ ادیب وشاعر اور ممتاز صحافی مصنف ومؤلف بھی ہیں ـ عالمی شہرت یافتہ ندوۃ العلماء لکھنؤ اور علی گڈھ مسلم یونیورسٹی سے اعلٰی تعلیم یافتہ جامعہ اسلامیہ دریاباد سنت کبیر نگر یوپی کے ناظم بھی ہیں ـ آپ کا پہلا شعری مجموعہ زمانہء طالب علمی میں ہی ” سوز و ساز ” شائع ہوکر قارئین سے داد و تحسین حاصل کر چکا ہے ـ اور آب و نوا دوسرا شعری مجموعہ بھی منظر عام پر آچکا ہے ـ

"حالات وحاشئے ” نام کی کتاب بھی چھپ چکی ہے ـ اور اہل علم عوام وخواص میں خاصی مقبول ہے ـ آپ کے لکھے یوئے مقالات کا مجمعوعہ ہے ـ آپ ایک علمی وتحقیقی دوماہی رسالہ "استدراک ” کے مدیر مسؤل بھی ہیں ـ آپ کی ممبئ آمد باالخصوص اہلیان ممبرا کے لئیے باعث خیروبرکت اور باعث اعزاز ہے ـ ڈاکٹر فیصل صاحب نے کہا کہ آج کے مشاعرے قدیم وجدید جوش وجوانی درازئی عمر کی بالغ نظری کی ایک حسین وجمیل امتزاج ہے ـ انہوں نے کہا کہ ممبرا میں ایک زمانے میں ادبی وشعری نشستوں کی دھوم رہا کرتی تھیں، جو سامعین کی صحت مند تفریح کا ذریعہ زبان اور لہجے میں سدھار نئے شعراء کی حوصلہ افزائ اور بزرگ شعراء کے اعزاز واکرام کا ذریعہ بنتی تھیں ـ دھیرے دھیرے ان کی چمک ماند پڑ گئ ـ لاک ڈاؤن کا بھی اثر رہا ـ اس طرح کی محفلوں اور مجلسوں کا وقتا فوقتا انعقاد کیا جا ئے تاکہ اردو زبان وادب اورشاعری نہ صرف موجودہ معاشرہ کے لئیے بلکہ آنے والی نسل کے لئیے رشتہ بھی بنا رہے ـ انہوں نے کہا اسلامی علوم وفنون کا عربی زبان کے بعد سب سے بڑا سرمایہ موجود ہے ـ اردو ایک زبان ہی نہیں تہذیب کا نام ہے ـ

یہاں عرفان جعفری صاحب بھی جلوہ افروز تھے ـ جعفری صاحب ایک بلند پایہ اردو شاعر قیصر الجعفری مرحوم کے صاحبزادے ہیں اور شعروادب کے معاملے میں اپنی مثال آپ بھی ہیں ـ آپ نے ممبئ وممبرا کا نام پورے ملک وبیرون ملک میں روشن کیا ـ آپ کا کلام مہارشٹرا کے نصاب میں بھی شامل ہے ـ ایک اچھے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائ خلیق وملنسار بھی ہیں ـ انہوں نے اپنے عمدہ کلام سے نوازا ، تا ثرات بھی پیش کیا ـ اور کہا کہ میں عبد اللہ فیصل کو مبارکباد دیتا ہوں کی وہ برسوں سے فروغ اردو کے لئے کوشاں ہیں ـ ممبرا اور ممبئ کے مختلف حلقوں میں سماجی وادبی کام کر رہے ہیں ـ فیصل صاحب آل انڈیا اردو کونسل کے ذریعہ اس طرح کے پروگرام کرتے رہے ہیں ـ بہت محنتی اور صلاحیت مند ہیں ـ

بلند پایہ شاعر عبید اعظم اعظمی کی شخصیت کسی بھی طرح کے تصنع سے پاک ہے ـآپ کی سادگی بے مثال ہے ـ عبید اعظم اعظمی صاحب کو دیکھ کر بزرگوں کو تسلی وتشفی ہوتی ہے ـ کہ ان کے بعد علم وادب کی مشعل روشن کرنے والا کوئ موجود ہے ـ اور نوجوان شعراء ان سے حوصلہ ورہنمائ حاصل کرتے ہیں ـ ان کے کلام بہت ہی عمدہ تھے ـ سامعین خوب محظوظ ہوءے ـ

مصطفیٰ اجمل مدنی ریاض منصوری، الیاس ماحی ، عطاء وسیم شاملی اللہ شاہ، زید اقف، سلیم ندوی، نے کلام پیش کیاـ پروگرام کے کنوینر اور ناظم ڈاکٹر عبد اللہ صاحب نے شعراء کا تعارف پیش کیا ـ اور شاندار نظامت کی جس ادبی وشعری شخصیت کے اعزا میں مجلس سجائ گئ تھی ـ (عتیق اثر ندوی صاحب)ان کا تعارف بھی پیش کیا ان کی تدریسی ادبی وشعری خدمات کا قدرے تفصیل سے ذکر بھی کیا.

ممتاز عالم عربی زبان وادب کے ماہر کئ کتابوں کے مترجم مولانا حمید اللہ سلفی صاحب نے جامعہ اسلامیہ دریا باد کی عمدہ کارکردگی کا بھی ذکر کیاـ اور عتیق اثر ندوی صاحب کے خدمات کو سراہا بھی ـ ہال کے اور ممبراپبلک اسکول کے بانی حاجی جیمل الدین رحمہ اللہ صاحب کو بہترین خراج عقیدت بھی پیش کیا اور ان کی خدمات کا ذکر بھی کیا ـ سلفی صاحب نے کہا کی علمی ادبی مشاعرہ تہذیب کی علامت ہے ـ اردو ایک تہذیب کا نام ہے ـ اردو زبان میں اسلامی علوم وفنون کا کثیر سرامایہ موجود ہے. ہمیں اس کی حفاظت کرنی چاہئیے ـ مشاعرہ ناچ گانے کانام نہیں ـ یہ خام خیالی ہے ـ مثبت فکر رکھنی چاہئے.اردو کے معروف صحافی اور افسانہ نگار ہاشم خان بھی شریک ہوئے ـ حاجی عبد المجید خان، ڈاکٹر سید کمال انظر، کمال الدین ندوی، نوید احمد خان سر، بدر عالم، شفیق الایمان، ایاز بستوی، ابو شحمہ تھانہ، ڈاکٹر شاہ، رفیع احمد کرخی کلاتھ اسٹور زبیر چو دھری ،فرحان فیصل خان وغیرہ نے شرکت کی اور پروگرام کو چا ر چاند لگایا ـ ماہنامہ المصباح رسالہ بھی مہمانوں اور دیگر شرکاء کو ہیش کیا گیا ـ ان شاء اللہ آل انڈیا کونسل کی جانب سے ہر ماہ ادبی نششت منعقد کی جاءےگی ـ جس میں قدیم وجدید شعراء وادباء کا سنگم ہوگا ـ اور فروغ اردو کے لئیے ادارہ اور ارکان کوشاں کوشاں رہیں گے ـ

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے