حاجی پورایک علمی شخصيت سےمحروم ہوگیا محمد صدرعالم ندوی 

72
حاجی پورایک علمی شخصيت سےمحروم ہوگیا
محمد صدرعالم ندوی
مہوا ویشالی 9661819412
مولانا مقصود عالم قاسمی امام وخطیب ٹاٶن تھانہ مسجد حاجی پور چلتےپھرتےدومٸ 2021 انیس رمضان ١٤٤٢ھ کو شام 5.30ایک پراٸویٹ اسپتال پٹنہ میں اللہ کو پیارےہوگۓ،اناللہ واناالیہ راجعون پڑھا ،اللہ کےفیصلہ پرصبرکیا ،ایک دوسروں کوصبرکی تلقین کی،چونکہ مولانا کی ذات ایسی تھی کہ سب لوگ صبرکےمحتاج تھے،کل ہوکرکے دن کےسوادوبجےکربلاحاجی پورمیں نماز جنازہ پڑھی گٸ،مولانا کےبھتیجےحافظ محمد ارشاد نےنمازجنازہ پڑھاٸ،کربلاکےپاس قبرستان میں سپردخاک کیےگۓ مولانا مقصود عالم قاسمی صرف عالم ہی نہیں ،بلکہ کتنوں کےمأوی وملجأتھے مولانا سےجوبھی ملتا وہ مولانا کاگرویدہ ہوجاتا ،مولانا تومیرےلیےگھرکےآدمی تھے ان کاگھرمیرااپناگھرتھا جب بھی چاہتے گھرچلےجاتے کوٸ روک ٹوک نہیں میرےوالدمحترم مولانا عبدالقیوم شمسی صاحب سےگہرےاورپرانےتعلقات تھے اوریہ تعلقات اس وقت سےتھےجب کہ میراکوٸ نہیں تھا،مولانا جس مسجد کےامام تھے ،اس مسجد کومرکزکی مسجد ہونےکابھی شرف حاصل ہے اس مسجدمیں ایک ماہ میں ایک بارتبلیغی جوڑہوتاہے والد صاحب اس ماہواری جوڑمیں بلاناغہ شرکت کرتے ،اورکہتےکہ دونوں کام ہوجاۓگا ،ایک مولانا سےملاقات اوردوسراتبلیغی اجتماع میں شرکت،ایک مرتبہ کاواقعہ ہےکہ گھرمیں شادی تھی کٸ مہینوں سےوالدصاحب کوتنخواہ نہیں ملی تھی ،آج اورکل ملنےکی خبرملتی تھی ،اوریہی کہتےکہتےشادی کاوقت قریب آتاچلاگیا ،مولانا کومعلوم ہوا ،مولانا نےوالدصاحب سےکہاآپ مت گھبراٸیے ،میرےبھاٸ کی کپڑےکی دوکان ہے ،اس کےعلاوہ جن جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ سب پوری ہوجاٸیں گی ،مولانا نےصرف کہنےپراکتفانہیں بلکہ کپڑے کاایک بنڈل یہ کہ کرکےگھرپہونچادیاکہ اس میں جوضرورت ہےاس کواستعمال کیجیے،بقیہ واپس ہوجاۓگا،مولانا کی مسجدکاحجرہ آنےجانےوالوں کےلیےسراۓخانہ تھے جوجب چاہےاورجس حال میں چاہےچلاجاۓ وہاں سےخالی ہاتھ نہیں آۓگا ،مولانا جمعہ کےدن اپنےخاص لباس میں ہوتے اوراسی خاص لباس میں جمعہ کی امامت کرتے،خطبہ سےپہلےاردومیں تقریر کرتےحالات حاضرہ کودیکھتےہوۓ عنوان منتخب ہوتا ،مولانا کی سوچ یہ تھی کہ عوام الناس کو حالات حاضرہ سےباخبرکرناعلما۶کی ذمہ داری ہے،عام طورسےیہ دیکھاجاتاہےکہ امام صاحب پرمسجدکمیٹی کاروب دبدبہ ہوتاہے لیکن مولانا اس کےبرعکس تھے مولانا کاروب دبدبہ کمیٹی کےاوپرتھا مولانا جیسےچاہتےکمیٹی ویسے ہی کرتی،مولانا تنخواہ کےتعلق سےکبھی گلہ شکوہ نہیں کرتے جوملتااسی پرقناعت کرتے حاجی پورشہرمیں مولانا کااثرورسوخ تھا حاجی پورقلب میں واقع انجمن فلاح المسلین کےکٸ سالوں تک تعلیمی نظام کوبھی سنبهالافراط اوربہت سارےطلباحافظ قرآن بن کرنکلے،کسی بات پرانتظامیہ سےنوک جھونک ہوگٸ ،مولانا جذبات میں آکرانجمن سےاپنےآپ کوایساالگ کیاکہ پھرکبھی انجمن کارخ نہیں کیا ،اورامامت کےکام میں ایسا لگے کہ وفات تک لگےہی رہے ،ایسےلوگ تواب خال خال نظرآتےہیں یہ تومولاناہی کی صفت تھی جومولاناکےساتھ ختم ہوگٸ ،مولانا اصول پسندتھے اوراصول کےپکےتھے،اصول کاسودانہیں کرتےتھے ،مولانا جب حج کرکےآۓتومولاناکواحساس ہواکہ حاجیوں کےلیے ٹریننگ کاانتظام ہوناچاہیے مولانا نےجیب خاص سےٹریننگ کاانتظام کیا اورہرسال ٹریننگ کراتے رہےاوراخیرتک یہ کام ہوتارہا اس زمانہ میں حج کمیٹی کی طرف سےٹریننگ کاانتظام نہیں ہوتا تھا ٹریننگ کےاختتام پرشاندارکھانےکاانتظام کرتے ،اورہم جیسےلوگ بھی دسترخوان سےفاٸدہ اٹھاتے ،ہم لوگوں کوکوٸ بھی اصلاحی پروگرام کرناہوتاتو مولانا کوکہتے اورمولاناپروگرام کےسارےمراحل کوآسانی سےحل کردیتے،جب ملک میں طلاق کامسٸلہ اٹھاتو ہم لوگوں نےافہام وتفہیم کےلیےحاجی پورمیں پروگرام کاارادہ کیاتو مولانا نےاس کام کابیڑااٹھالیا ،اورمقررکی حیثیت سے قاضی مجاہدالاسلام قاسمی کےتربیت یافتہ امارت شرعیہ کےمفتی سعیدالرحمان قاسمی کوبلایا ،مفتی صاحب طلاق کےموضوع پرسیرگفتگوکی اورحکومت کےمنشاسےلوگوں کوباخبرکیا ،ان کےانتقال سےپوراشہرخالی ہوگیا کتنوں کاگھرویران ہوگیا مولانا امارت شرعیہ کےدلی نماٸندہ تھےامارت کےکاموں میں دل کھول کرحصہ لیتے ،ایک زمانہ تک مدرسہ فردوس العلوم لعل گنج ویشالی کالوگوں سےتعاون بھی کیا،اخیروقت میں مدرسہ انوار العلوم دودھیلہ سونپورسےمنسلک ہوگۓ تھے اورصدرمدرس کےفراٸض انجام دےرہے تھے جب مجھے آل انڈیاملی کونسل ویشالی کاکنوینربنایاگیااورکمیٹی کوتشکیل دینےکی ذمہ داری ملی تو سرپرستی کےلیے میری نگاہ مولانا ہی کی ذات پرگٸ اورمولانامقصودعالم قاسمی آل انڈیاملی کونسل ویشالی کےسرپرست منتخب ہوۓ،مولانا کےانتقال سےقوم وملت کےعلاوہ میراذاتی نقصان ہے ،مولانا کی پیداٸش 1963میں ہوٸ مولانا کےوالدکانام امام بخش ہے والد2016میں انتقال کرگۓ ،مولانا سات بھاٸ تھے تین بھاٸ انتقال کرچکےہیں چاربھاٸ باحیات ہہیں مولانا دارالعلوم دیوبندکےفارغ التحصیل تھے 1993 میں فراغت ہوٸ تھی مولانا اب وہاں جاچکےہیں جہاں سبھوں کو جانا ہے اللہ بال بال مغفرت فرمائے اورپس ماندگان کوصبرجمیل دے آمین یارب العالمین