جیوت جاگروت کرونا-خورشید انور ندوی

72

بیماری اور شفا اللہ کے حکم سے ہے، سب اللہ کے بندے ہیں. ان کا ساتھ زندگی کا ساتھ ہے..بیماری لگ جائے تو اسباب کے تحت علاج، تکلیف پر صبر اور اللہ سے شفا طلبی اور اس کی طرف رجوع یہ مومنانہ کام ہے، دوسرے بندگان خدا کچھ نہیں کرتے تو علاج تو کرتے ہی ہیں، باقی کام ایمان کے فقدان کے باعث وہ نہیں کرتے.. اہل ایمان اور دوسروں کے درمیان کا بنیادی فرق یہی ہے.. اس کے ساتھ ساتھ مسلمان کو کچھ سماجی اخلاقیات کا پابند بھی بنایا گیا ہے.. ان میں سے ایک ہے، بلا امتیاز مذہب انسانی ہمدردی کا اظہار، اگر ممکن ہو تو مبتلائے مرض کی تیمارداری، اچھے جذبات اور اچھے کلمات انس کا برتاؤ اور خیرسگالی.

مغرب کی اخلاقی پستی کا رونا روروکر ہم یہ باور کر بیٹھے کہ ہم میں مثالی اخلاقیات موجود ہیں اور یہ کچھ پیدایشی یا جینیاتی قسم کی چیز ہے جو ہم رحم مادر سے لے کر آتے ہیں.. یہ کسبی عملی اور افزائشی نہیں ہے.. یہ تصور بڑا بودا ہے..

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سب سے برگزیدہ، پاکیزہ نفس ساتھیوں کو اخلاق فاضلہ کی مجمل نہیں مفصل تعلیم دی.. انفرادی اور اجتماعی اخلاق کی ایسی شق وار تعلیم دی اور تربیت کی، کہ دنیا کی اصلاحی تاریخ ہمارے نبی سے پہلے اور ان کے بعد، اس تفصیل سے خالی ہے.. خلق خدا کے ساتھ رحم دلی، شفقت، مخلوق کی خدمت اور اس سے انسیت کے ذریعہ اللہ کی رضاجوئی کا سبق رسول رحمت کے نصاب تعلیم کے ہر صفحے کی زینت ہے.

یہ خیال بار بار کچوتے لگاتا رہا کہ جب سے ملک کے وزیر داخلہ شری امیت شاہ جی اور بی جے پی کے کچھ سرکردہ لیڈروں کے کووڈ پازیٹو ہونے کی خبریں چلی ہیں، ہمارے کچھ دین پسند لوگ سوشل میڈیا پر ایسی باتیں درج کررہے ہیں جو دین کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں.. ہم ایک ذمہ دار قوم ہی نہیں بلکہ بااخلاق اور ہم درد قوم ہیں.. یہ لوگ غصہ میں ہیں، کچھ زیادتیوں کی وجہ سے ان کے دل دکھے ہیں، اور بے بسی میں وہ اس طرح کے جذبات کا اظہار کررہے ہیں تاہم وہ مسلمان قوم کے نمایندے نہیں ہیں..

ان دوستوں سے گزارش ہے کہ کرونا ایک جیوت جیو ضرور ہے لیکن اتنا جاگروت نہیں کہ چن چن کر بی جے پی کے لیڈروں کو ہی پکڑے.. پچھلے دنوں صالح علماء کی ایک کھیپ ہم سے رخصت ہوچلی ہے.. اس کو دوسروں سے انتقام کا خدائی انتظام نہ سمجھیں.. نہ ہم ابھی آزمائشوں کی بھٹی سے کندن بن کر نکلے لوگ ہیں کہ اللہ اب ہم پر ظلم کرنے والوں سے انتقام لینے لگے.. ہم ایک مسجد کے لئے بڑے دل گرفتہ ہیں اور بجا ہیں.. لیکن 80 لاکھ مسلمان کشمیری بھائیوں کی مظلومیت پر سانس کسی کی نہیں اٹکتی.. بہنوں اور بیٹیوں کی چادر عفت کی دریدگی خون گرم نہیں کرتی ہے؟ آخر کیوں؟ سب کو پتہ ہے کہ ہے ایک مسلمان کے خون کی حرمت بیت اللہ کی حرمت سے بڑی ہے.. 5 اگست کو جس دن رام مندر کی شیلا نیاس رکھی جائے گی کشمیر کو خون میں نہلانے کی سالگرہ ہے،،
دوسرے سمجھتے ہیں کہ انھوں نے پہلے قوم کو فتح کیا اور اب اس کی متروکات پر قبضہ کرتی جارہی ہے لیکن اس واشگاف حقیقت سے ہم بیگانے بنے بیٹھے ہیں ہیں، اور خوب بنے بیٹھے ہیں.. ہوسکتا ہے کہ کرونا جاگروت ہوگیا ہو تو خیر، ہم کب جاگروت ہوں گے.. اور مسلمان کی حیثیت سے کب سوچیں گے!

ہاں اتنا ضرور ہے کہ اعداد وشمار کے ٹیبل پر کرونا مجھے بھی جاگروت اور ادھک جاگروت لگتا ہے.. جب کیسز بڑھنے لگے تو کرونا گیارہ بارہ بزار یومیہ اضافے پر ٹکا رہا، پھر پندرہ سولہ ہزار پر اٹکا رہا.. اکتا گیا تو پیر بدل کر پچیس چھبیس پر گیا.. اب پچاس پلس پر پانچ دن سے جما ہوا ہے.. مندر شیلا نیاس کا انتظار ہے، ہوتے ہی برق رفتار ہوگا اور یومیہ لاکھ تک پہونچے گا. کیونکہ 15 اگست کی تقریر میں بولنے اور بتانے کو کچھ نہیں ہے..اس تقریب کو شاید منسوخ ہی ہونا ہو… چھپن انچ کا سینہ لداخ کی زمینوں کے ساتھ سکڑ چکا.. رافیل کی ایمرجنسی لینڈنگ نے چین کے ایک انچ نہیں 60 مربع کلومیٹر قبضے کی توثیق کردی ہے.. راجستھان میں چھچھوندر منہ میں اٹک گئی ہے اور رام مندر کا ایشو قریب الختم ہے،، دیش کے لوگوں کو روٹی روزگار مندر بننے کے بعد بھی اوشیہ چاہئے..

مجھے اتنا ضرور لگتا ہے کہ مندر گراکر جوشی جی اڈوانی جی اوما بھارتی اور کٹییار، کلیان سنگھ جی پیشیاں بھگت رہے ہیں،، بنانے کی پاداش میں آئندہ امیت شاہ کو آڑے وقتوں بچانے کے لئے تو کرونا جاگروت نہیں ہوا؟ . کیونکہ وہ گجراتی ہیں اور گجراتی پیش بین ضرور ہوتے ہیں..