جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتجیل نہیں ڈگری کالج چاہیے

جیل نہیں ڈگری کالج چاہیے

جیل نہیں ڈگری کالج چاہیے

ڈاکٹر محمد شمشاد قاسمی

شمالی بہار میں واقع سمری بختیار پور کا علاقہ علمی، فکری، سماجی اور سیاسی اعتبار سے اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس سرزمین نے خاص طور پر تعلیم اور سیات کے میدان میں ملک عزیز کو ایسی شخصیات دی ہیں جو نہ صرف ملکی سطح پر کسی تعارف کے محتاج نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر مشہور اور معروف ہیں۔

لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگوں کو اس علاقے کی ترقی راس نہیں آرہی ہے اور ان کی نگاہوں میں یہ علاقہ ہمیشہ کھٹکتا رہا ہے۔ وہ ہمیشہ اس کے سماجی تانے بانے کو توڑنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ختم کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ اس طرح کی ذہنیت کے لوگوں نے بارہا یہ کوشش کی کہ یہاں دنگا فساد کروایا جائے لیکن علاقے کے باشعور لوگ ہمیشہ ان کےناپاک منصوبوں پر پانی پھیرتے رہےہیں۔

اب یار لوگوں نے ایک نیا حربہ ڈھونڈھا ہے کہ پہاڑپور بازار سے پچھم نیشنل ہائی وے (۱۰۷)کے کنارے اور آبادیوں کےبالکل قریب جیل خانہ تعمیر کردیا جائے تاکہ یہاں کے لوگ ہمیشہ پولس کیمپ والی زندگی گزارتے رہیں۔ یہ بات صحیح ہے کہ جیل خانہ وغیرہ تعمیر کرنا یہ سرکاری منصوبہ ہوتا ہےلیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جگہ کی تعیین میں سرکار میں موجود سیاست دانوں کا بڑا کردار ہوا کرتا ہے۔

جس جگہ پر یہ جیل خانہ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے اس کے قرب وجوار میں ایک انٹر کالج، ایک گرلز انٹر کالج، ایک مڈل اسکول، ایک بازار اور اچھی خاصی آبادی ہے ۔ تقریبًا پچیس بیگھا زمین کے حصے پر یہ جیل بنانے کا منصوبہ ہے حالانکہ زمین کے مالکان زمین دینے کو راضی نہیں ہیں لیکن سرکاری منصوبے کے لیے زمین کے مالکان کی مرضی کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔

علاقے کے لوگوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جس جگہ جیل خانہ ہوا کرتا ہے وہاں کے لوگ ہمیشہ ایک غیر شعوری نفسیاتی اور ذہنی دباؤمحسوس کرتے رہتے ہیں، وہاں کے سماجی ماحول میں بدلاؤ لازمی ہے اور خاص طور پر بچوں کی ذہنی اور نفسیاتی ترقی پربرے اور گہرے اثرات ہوتے ہیں جو ان کی تعلیمی اور فکری ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

اس علاقے کے لوگوں کو جیل کی نہیں بلکہ ڈگری کالج اور گرلز اسکولوں کی ضرورت ہےتاکہ سماج کا ہر طبقہ زندگی کے تمام میدانوں میں ترقی کرسکے اور وہ ایک اچھی زندگی گزار سکے ۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ سرکار کومسلم اکثریتی علاقوں میں پولس اسٹیشنوں، تھانوں اور جیل خانے کھولنے میں بڑی جلدی رہتی ہےلیکن تعلیمی ادارے کھولنے کے لیے منظوری حاصل کرنے میں سالوں سال لگ جاتے ہیں۔ اس سے مسلمانوں کی ترقی کے سلسلے میں سرکار کی نیت اور ارادے کا پتا چلتا ہے۔

اس لیے اس علاقے کے لوگوں اور خاص طور پر زمین کے مالکوں کو اس جیل خانے کی تعمیر کو کہیں اور منتقل کروانے کے لیے پوری کوشش اور ہر طرح کی قانونی چارہ جوئی کرنی چاہیے۔جس میں سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ جتنی جلد ہوسکے ایک بڑا عوامی احتجاج ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک وفد ڈی ایم کو میورنڈم بھی پیش کرے جس میں معاشرے پر پڑنے والے اس کے اثرات کا تذکرہ ہو۔اسی طرح علاقے کے دونوں ایم پی اور ایم ایل اے صاحب سے مل کر اپنی بات رکھنی چاہیے اور اپنے خدشات ان کے سامنے رکھنے چاہیے تاکہ کوئی مناسب حل نکالا جاسکے۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے