ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتجھوٹی قسمیں!

جھوٹی قسمیں!

جناب مولانامرغوب الرحمن صاحب،

معاون مہتمم وصدرالمدرسین جامعہ مدنیہ سبل پورپٹنہ

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ مَاقَالُوْاط وَلَقَدْقَالُوْاکَلِمَۃَ الْکُفْرِوَکَفَرُ وْا بَعْدَاِسْلَامِھِمْ وَھَمُّوْابِمَالَمْ یَنَالُوْاج وَمَانَقَمُوْآاِلآَّاَنْ اَغْنٰھُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ مِنْ فَضْلِہٖ فَاِنْ یَّتُوْبُوْایَکُ خَیْرًالَّھُمْ ج وَاِنْ یَّتَوَلَّوْایُعَذِّبْھُمُ اللّٰہُ عَذَابًااَلِیْمًافِیْ الدُّنْیَاوَالْاٰخِرَۃِ ج وَمَالَھُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَانَصِیْرٍo

وہ لوگ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ ہم نے فلانی بات نہیں کہی حالانکہانہوں نے کفرکی بات کہی تھی،اورمنکرہوگئے مسلمان ہوکر، اور قصدکیاتھااس چیزکاجوان کو نہ ملی، اور یہ سب کچھ اسی کابدلہ تھاکہ دولت مندکردیاان کو اللہ نے اوراس کے رسول ﷺ نے اپنے فضل سے سو اگرتوبہ کر لیں تو بھلاہے ان کے حق میں اور اگرنہ مانیںگے تو عذاب دیگا ان کواللہ عذاب دردناک د نیا اورآخرت میں، اور نہیں ان کا روئے زمین پرکوئی حمایتی اورمددگار۔

تشریح: آیات مذکورہ میں سے پہلی آیت’’یَحْلِفُوْن‘‘میں پھرمنافقین کاتذکرہ ہے کہ وہ اپنی مجلسوں میں کلمات کفرکہتے رہتے ہیں،پھراگرمسلمانوں کواطلاع ہوگئی توجھوٹی قسمیں کھاکراپنی براء ت ثابت کرتے ہیں،اس آیت کے شان نزول میں بغویؒ نے یہ واقعہ نقل کیاہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک کے موقع پرایک خطبہ دیا،جس میں منافقین کی بدحالی اورانجام بدکاذکرفرمایا،حاضرین میں ایک منافق جُلاَّسبھی موجودتھا،اس نے اپنی مجلس میں جاکرکہا:محمدﷺ جوکچھ کہتے ہیں اگروہ سچ ہے ،توہم گدھوں سے بھی زیادہ بدترہیں،اس کایہ کلمہ ایک صحابی عامربن قیس ص نے سن لیاتو کہابے شک رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ فرمایاوہ سچ ہے اورتم واقعی گدھوں سے زیادہ بدترہو۔
جب رسول اللہﷺ سفرتبوک سے واپس مدینہ طیبہ پہونچے تو عامربن قیس صنے یہ واقعہ رسول اللہﷺ کو سنایااورجلاس اپنے کہے سے مکرگیااورکہنے لگاکہ عامربن قیس صنے مجھ پر تہمت باندھی ہے ، رسول اللہﷺ نے دونوں کو حکم دیاکہ منبرنبوی ﷺکے پاس کھڑے ہوکرقسم کھائیں ،جلاس نے بے دھڑک جھوٹی قسم کھالی کہ میں نے ایسانہیں کہا،عامرجھوٹ بول رہے ہیں،حضرت عامرصکانمبرآیاتوانہوں نے بھی قسم کھائی،اورپھردعاء کیلئے ہاتھ اٹھائے کہ یااللہ آپ اپنے رسول پر بذریعہ وحی اس معاملہ کی حقیقت روشن فرمادیں۔ان کی د عاء پررسول اللہﷺ اورسب مسلمانوں نے آمین کہی،ابھی یہ لوگ اس جگہ سے ہٹے بھی نہیں تھے کہ حضرت جبرئیل امینں وحی لیکرحاضرہوگئے،جس میں آیت مذکورہ تھی۔

جلاس نے جب آیت سنی تو فوراًکھڑے ہوکرکہنے لگے کہ یارسول اللہﷺ اب میں اقرارکرتاہوں کہ یہ غلطی مجھ سے ہوئی تھی،اورعامربن قیسص نے جوکچھ کہاوہ سچ تھا،مگراسی آیت میں حق تعالیٰ نے مجھے توبہ کابھی حق دے دیاہے،میں اب اللہ سے مغفرت مانگتاہوں اورتوبہ کرتاہوں،رسول اللہ ﷺنے ان کی توبہ قبول فرمالی،اوربعدمیں یہ اپنی توبہ پرقائم رہے،ان کے حالات درست ہوگئے۔(مظہری)

بعض حضرات مفسرین نے اسی طرح کے دوسرے واقعات اس کی شان نزول میں بیان فرمائے ہیں،خصوصاًاس لئے کہ اس آیت کاایک جملہ یہ بھی ہے’’وَھَمُّوْابِمَالَمْ یَنَالُوْا‘‘یعنی انہوں نے ارادہ کیاایک ایسے کام کاجس میں وہ کامیاب نہیں ہوسکے،اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ آیت کسی ایسے واقعہ سے متعلق ہے جس میں منافقین نے آنحضرت اورمسلمانوں کے خلاف کوئی سازش کی تھی،جس میں وہ کامیاب نہیں ہوسکے،جیسے اسی غزوہ تبوک سے واپسی کاواقعہ معروف ہے کہ بارہ آدمی منافقین میں سے پاڑکی ایک گھاٹی میں اس غرض سے چھپ کر بیٹھے تھے کہ جب آپ ﷺ یہاں پہونچیں تو یکبارگی حملہ کرکے آپﷺ کوقتل کردیں،حضرت جبرئیل امینں نے آب ﷺ کوخبردے دی تو آپ ﷺ اس راستہ سے ہٹ گئے،اوران کی سازش خاک میں مل گئی۔

’’وَاِنْ یَتُوْبُوْایُعَذِّبُہُمْ‘‘یعنی اگروہ برائی کریں اوربرائی کے بعدتوبہ کرلیں تو دونوں جہان میں ہی ان کیلئے بہتراورنافع ہوگا،اوراگرتوبہ سے ناگردانی کی،کفرونفاق پرجمے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کو دردناک سزادیگا۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو کفرونفاق سے بچائے،اورتوبہ نصوح کی توفیق دے۔آمین

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے