جونیئر ہائی اسکول سمریاواں میں یوم تعلیم کے موقع پر ایک نشست کا انعقاد کیا گیا

51

جونیئر ہائی اسکول میں یوم تعلیم کے موقع پر ایک نشست کا انعقاد کیا گیا
رپورٹ
ظفیر علی کرخی
ترقیاتی مرکز سمریاواں سنت کبیر
نگر واقع جونیئر ہائی اسکول میں یوم تعلیم کے موقع پر ایک نشست کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت بزرگ شاعر مولانا مجیب بستوی نے کی، اور نظامت کے فرائض محمد سلمان عارف ندوی نے انجام دئے۔ فضیل احمد ندوی مینیجر الحرا گلوبل اکیڈمی سمریاواں کی تلاوتِ کلام پاک سے نشست کا آغاز ہوا جبکہ نعت پاک مجیب بستوی نے پڑھی۔ مہمان خصوصی محمد احمد ضلع پنچایت ممبر نے مولانا ابوالکلام آزاد کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مولانا آزاد ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے، آپ کا بچپن کتابوں سے عشق کرتے گزرا، آپ ایک بےباک قلمکار تھے۔ آپ کا قلم انگریزی حکومت کے خلاف ایک شمشیر برہنہ تھا۔ آپ متعدد بار جیل بھی گئے۔ جہاں پر آپ نے انگریزی زبان سیکھی۔ آپ کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔ آپ کی شخصیت ہم نوجوان طلبہ کے لئے آئیڈیل کا درجہ رکھتی ہے۔ جس طرح آزاد نے محنت کی اسی طرح ہم بھی تعلیمی میدان میں محنت کرتے ہوئے ترقی کے منازل طے کر سکتے ہیں، اور زندگی کی ریس میں آگے بڑھ سکتے ہیں ۔
ماسٹر ظفیر علی کرخی نے کہا کہ اکتوبر اور نومبر کے مہینے میں تین چار ایسی شخصیات کی سالگرہ پڑتی ہے جن پر مسلمانوں کو بجا طور پر فخر یے، سرسید احمد خان جن سے آج ساری دنیا فیض حاصل کر رہی ہے۔ علامہ اقبال جن کی شاعری صرف پاک و ہند ہی نہیں بلکہ بیرونِ ممالک بھی پڑھی جاتی ہے۔ ٹیپو سلطان جس نے راکٹ کی ایجاد کی اور انگریزوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ۔ ہمیں ان رہنماؤں سے سیکھ حاصل کرنا چاہئے ۔
مجیب بستوی صاحب نے اس موقع پر تعلیم کے عنوان پر ایک نظم پیش کی:
نہ ہو تعلیم تو یہ زندگی اچھی نہیں لگتی
ہمارے ملک میں ناخواندگی اچھی نہیں لگتی
بہار زندگانی علم کے دامن میں پنہاں ہے
تمھاری علم سے یہ بےحسی اچھی نہیں لگتی
تعلق علم سے رکھنا بلندی کی علامت ہے
جہالت سے تمھاری دوستی اچھی نہیں لگتی
نہیں تعلیم ہے تو پھر عبادت بےمزہ ہوگی
جہالت میں خدا کی بندگی اچھی نہیں لگتی
نہ ہو تعلیم تو پھر مال و دولت کی حقیقت کیا
نہ ہو گر علم کوئی شے کبھی اچھی نہیں لگتی
جہاں تعلیم ہوگی زندگی کی ہر خوشی ہوگی
کبھی تعلیم سے یہ برہمی اچھی نہیں لگتی
مجیب آؤ چلیں تعلیم دیں ان پڑھ گھرانوں کو
جہالت کی جہاں میں پیروی اچھی نہیں لگتی
حمود سمیع نے کہا کہ تعلیم انسانوں کی زندگی کو سنوارتی ہے، تعلیم کے ذریعہ سے ہی حیوانوں اور انسانوں میں تمیز کی جاتی ہے، جو افراد تعلیم کو اپنا مطمح نظر بناتے ہیں وہی زمانے کی آبرو بنتے ہیں۔ تعلیم سے مسلح افراد زمینی ستارہ ہوتے ہیں، اور زمانہ ایسے لوگوں پر ناز کرتا ہے۔ اگر آپ قرآن و حدیث پڑھیں تو اس کے ایک ایک صفحے پر آپ کو تعلیم سیکھنے کا درس ملے گا۔
محمد سلمان عارف ندوی نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد 11 اکتوبر سن 1888ء میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے جبکہ آپ کے والدین مکہ مکرمہ میں مقیم تھے۔ آپ کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی۔ پھر جامعہ ازہر تشریف لے گئے۔ مولانا آزاد ایک ماہر انشا پرداز، عمدہ خطیب، بےباک صحافی، بہترین مفسر، مؤرخ اور ایک تجربہ کار سیاستداں تھے۔ آپ کو آزادی کے بعد ہندوستان کا وزیر تعلیم بنایا گیا۔ آزاد کی سالگرہ کو ہندوستان میں قومی یومِ تعلیم کے طور پر منایا جاتا ہے اور ان کی خدمات کو یاد کیا جاتا ہے۔ مولانا آزاد کی کتابوں میں غبار خاطر، انڈیا ونس فریڈم، تزکیہ، ترجمان القرآن قابلِ ذکر ہیں۔ آپ کے اخبار الہلال نے خاصی شہرت حاصل کی۔ آپ نے69 سال کی عمر میں 22 فروری 1958ء میں وفات پائی ۔
اس موقع پر رضوان منیر کنوینر یوا سنگھرش سمیتی، سلمان عمر، اکرام الدین وغیرہ موجود تھے