جوانوں کو پیروں کا استاد کر:ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ سکریٹری، جمعیت علمائے ہند ضلع ارریہ

88

جوانوں کو پیروں کا استاد کر
شہر ارریہ سے متصل گاؤں مرزابھاگ ہے, مورخہ ۲۸/فروری ۲۰۲۱/بروز یکشنبہ یہاں ایک انعامی مسابقتی پروگرام میں شرکت کا موقع مجھے نصیب ہواہے۔ قراتِ قرآن، نعتیہ کلام، اور خطابت کے عنوان سے تین نشستوں میں یہ انعامی پروگرام ایک ہی دن منعقد ہواہے، تین بزرگ شخصیات: جناب مفتی علیم الدین صاحب قاسمی، ماسٹر الحاج بختیار احمد ہاشمی، ومولانا زبیر عالم صاحب مظاہری کی باری باری صدارت ہوتی رہی ہے، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ تینوں زمروں کی سرپرستی ایک نوجوان عالم دین نے ہی کی ہے،اس میں از اول تا آخرکوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے، اس جوان عالم دین کا نام مفتی حسین احمد ہمدم ہے، آپ ارریہ سے نکلنے والے رسالہ “چشمۂ رحمت” کےایڈیٹر ہیں۔پہلی بارناچیز نے کسی نوجوان کو سرپرستِ اجلاس کی حیثیت سے یہاں دیکھا ہے،اور وہ بھی اتنی استقامت اور تسلسل کے ساتھ، جو ہمارے ضلع ارریہ کے تناظر میں باعث حیرت ہے، شوق ہوا کہ اس کا پس منظربھی معلوم کیاجائے، ایک صاحب سے تحقیق چاہی تو وہ مجھ پر بھڑک گئے، اور خفا ہوگئے، اور گویا ہوئے کہ مولوی صاحب آپ کو دقّت کیوں ہورہی ہے ؟جب اس پورے انعامی مسابقہ کےمنتظمین طلبہ ہی ہیں، اور سبھی نوجوان ہیں توکیا اس کی سرپرستی کوئی نوجوان عالم دین نہیں کرسکتے ہیں؟ مجھےمعلومات چاہئے تھی، مگرڈانٹ ملی ہے،اپنا سا منھ لیکر چپ سا ہوگیا ہوں، پھرمزاجِ ھمایوں نے چین سے رہنے نہ دیا، دوسرے صاحبِ خیر کی تلاش شروع ہوگئی ہے ، مناسب آدمی جناب عبدالباری زخمی ہاتھ آگئے ہیں ، انہوں شرح وبسط کے ساتھ اس پروگرام کا مکمل پس منظر اور مالہ وماعلیہ بیان کر دیاہے ، جو آپ جملہ احباب وحضرات کی نذر ہے: مختلف مدارس میں زیر تعلیم طلبہ جو اسی گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے دلوں میں یہ خیال آیا کہ مدارس بند ہیں، کیوں نہ کچھ مفید کام کرلیں،یہ سبھی مفتی حسین احمد ہمدم صاحب سے ملے ،اور اپنے عزائم کا اظہارکیا، تو مفتی صاحب نے زبردست سرپرستی کردی ہے، مذکورہ تینوں عناوین پر ضلعی پیمانے کا انعامی مسابقہ رکھ دیا،جو آپ اپنی دونوں آنکھوں سے یہاں دیکھ رہے ہیں، صبح سے قراتِ قرآن کا مقابلہ ہوا ہے، اول انعام پچیس سوروپے، دوم اٹھارہ سو روپے، اور سوم پوزیشن پر بارہ سو روپے کا انعام ہے، ہر زمرہ کے پوزیشن لانے والوں کے لئے تقریبا انعام کی نقدی رقم کم و بیش یہی رکھی گئی ہے،مزید ہر مساہم کو انعام تشجیعی بھی ہے، قرات قرآن اور نعتیہ کلام کا مسابقہ ہوچکا ہے، اور آپ نماز ظہر کے بعد تشریف لائے ہیں، خطابت کا انعامی پروگرام میں آپ کو بحیثیت حکم یہاں مدعو کیا گیا ہے، جو صرف آپ ہی کو معلوم ہے، سامنے بینر موجود ہے، آپ کانام شائع نہیں کیا گیا ہے، رازداری کا مفتی صاحب نے بھر پورخیال کیا ہے، اور کم سے کم خرچ پر اس پروگرام کو مفید سے مفید تر بنادیا ہے، یہی وجہ ہے کہ گاؤں کی جامع مسجد صدیقیہ میں اسٹیج سجادیا ہے، یہاں نہ ٹینٹ کا مسئلہ ہے، اورنہ پینٹ کا، نہ جرنیٹر کی ضرورت ہے،نہ ویٹر کی، جو پیسے ان جوانوں نے جمع کئے ہیں ، اس کاجم کر استعمال مساہمین کی حوصلہ افزائی پر ہے۔
بے ساختہ میری زبان سے یہ نکلا کہ: یہ پروگرام واقعی تاریخی ہے، اس کی کڑی سنت نبوی سے جڑی ہے، سامنے منبر دیکھ منبرِرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تازہ ہوگئی ہے، پھر خطابت کا سلسلہ شروع ہوا، تو بہت قریب سے ناچیز نے دیکھا کہ…. بھئی یہ توعطاءاللہ شاہ بخاری ہیں،کوئی آزاد ہیں تو کوئی سحبان الہند ہیں، یہ حضرت علی میاں رح ہیں وہ سید سلیمان ندوی ہیں، کوئی محمد علی جوہر ہیں تو کوئی علامہ انورشاہ کشمیری ہیں. اتنی ساری شخصیات ان مساہمین کے اندر چھپی ہوئی ہیں، جو ارریہ ضلع کے حصہ میں آگئیں ہیں۔
ادھرجامع مسجد صدیقیہ پر عش عش کرنے لگا کہ یہ صرف مسجد نہیں ہے،جامع نام اس کا واقعی ہے، مساجد کی حیثیت اسلام میں جامع رہی ہے،یہ اسلامی تاریخ کہتی ہے، آج ہمارے یہاں مسجد جامع کی کمی نہیں ہے، مگر وہ حیثیت جو مسجد نبوی کی ہے، ہماری مساجد کو عموماً حاصل نہیں ہے، پھر علامہ اقبال کا یہ شعر یاد آگیا کہ، یہ سب کچھ تو نوجوان سرپرستِ اجلاس مفتی حسین احمد ہمدم اور مرزا بھاگ کے باہمت طلبہ کی وجہ کر ہے، کیا اقبال علیہ الرحمہ نے اپنا یہ شعر ایسے ہی باہمت وباحوصلہ افراد کے لئے کشید کیا ہے کہ:

خردکوغلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر

  آج بھی تحریر وتقریر اور شعر وشاعری کے ذریعے اسلام اور پیغمبرِ اسلام کو نشانہ بنایا جارہا ہے، اور رکیک حملے کئے جارہے ہیں، مدارس بند ہیں، کیوں نہ اس طرح کے مفید پروگرامز کے لئے مساجد کے منبر ومحراب کا استعمال ہم کریں، اورنوجوانانِ اسلام کی خفتہ ونہفتہ صلاحیتوں کو بیدار کریں، اس راستے سے ایک بڑا انقلاب پیدا کرسکتے ہیں ، سنت رسول کی احیاء بھی!!!---- اس کام کے لئے سرپرستی مگر نوجوانوں کو کرنی پڑے گی،وہ اس لئے بھی کہ ناچیز نے ایک مسجد میں مکتب جاری کرنے کی بات کی، تو ایک بزرگ گویا ہوئے، کہ اس سے مسجد کی حرمت پامال ہوگی،الامان والحفیظ-

آو مل کر انقلاب تازہ تر پیدا کریں
دہر پر اس طرح چھاجائیں سبھی دیکھا کریں۔

ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
سکریٹری، جمعیت علمائے ہند ضلع ارریہ
رابطہ، 9973722710