جنگ بندی ۔   فلسطینیوں کی ثابت قدمی کی جیت انیس احمد جنرل سکریٹری،پاپولر فرنٹ آف انڈیا

74
جنگ بندی ۔   فلسطینیوں کی ثابت قدمی کی جیت
انیس احمد
جنرل سکریٹری،پاپولر فرنٹ آف انڈیا
@AnisPFI۔Twitter
11 دن کی شدید جنگ بالآخر جنگ بندی کے اعلان پر ختم ہوئی۔ سابقہ جنگوں کی طرح اِس 11دن کی جنگ میں بھی غازہ کی پتلی پٹّی میں کئی انسانی جانوں اور بے پناہ جائدادوں کا نقصان ہوا۔ اسرائیل کے وحشیانہ حملوں نے جن کو کئی نے ”ہوائی دہشت گردی“ سے تعبیر کیا، مقبوضہ غازہ پٹی کے انفرااسٹکرچر کو تباہ کردیا۔ اِس اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 41 کلومیٹر پر پھیلی پٹی پر جہاں 20لاکھ فلسطینی آباد ہیں، ان میں سے 52,000 لوگ بے گھر ہوگئے۔ اسرائیلی حملے عارضی طور پر تو رک گئے، لیکن اسرائیلی بربریت رکنے والی نہیں ہے۔ وہ پھر سے فلسطینیوں پر قتل و غارتگری کا سلسلہ شروع کرے گا۔ مگر سابقہ جنگوں سے اِس جنگ کا تقابل کیا جائے تو کئی اہم مشاہدات سامنے آئے۔
جنگ بندی پر اسرائیل اور حماس دونوں نے اپنی جیت کا دعویٰ کیا۔ فرق یہ تھا کہ فلسطینی جانب عوام جنگ بندی پر جشن منارہے تھے، تو دوسری طرف اسرائیل میں صرف سیاستدان ہی جنگ کی جیت کا دعویٰ کررہے تھے۔ اگر ہم جغرافیائی طور پر جنگ کا نتیجہ دیکھیں تو صورتِ حال وہی کی وہی ہے اور فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کا قبضہ ابھی قائم ہے۔ لیکن اگر ہم حکمتِ عملی یا اسٹریٹیجی کے نقطہئ نظر سے دیکھیں تو جیسے کہ حماس کے لیڈروں نے بھی اور عوام نے بھی دعویٰ کیا ہے، واقعی حماس کی کھلی جیت ہوئی ہے۔ اِس جیت کے دعوے کو سمجھنے کے لئے ہمیں چند حقائق پر غور کرنا ہوگا، جو فلسطینی کاز کے مستقبل پر اثرانداز ہوں گے۔
جب بھی کوئی جنگ ہوتی ہے، عام طور پر دونوں مخالف فریقوں کے درمیان ایک تقابلی جائزہ لیا جاتا ہے، اور دونوں کی فوجی طاقت، ڈپلومیٹک اثرات، پروپیگنڈا اور اقتصادی نقصانات کی بنیاد پر نتیجہ نکالا جاتا ہے۔ یہ امور کسی بھی جنگ کے نتیجے کی کسوٹی ہیں۔ اس کسوٹی پر اگراِس جنگ کا جائزہ لیں تو دونوں میں حیرت انگیز فرق ہے۔ اسرائیل دنیا کے سب سے زیادہ اڈوانس طاقتور ایر فورس، آرمی اور نیوی رکھنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ اسرائیل کے پاس 875لڑاکا طیارے، 3 نیوکلیر بردار آبدوز (Submarines)، 3800 ٹینک، 6390 مسلّح گاڑیاں ہیں، جب کہ حماس کے پاس نہ کوئی ایرفورس ہے نہ نیوی۔ حماس کا فوجی اثاثہ صرف راکٹس ہیں جو دیسی ہیں یعنی انہی کی بنائی ہوئی ہیں۔ اسرائیلی فوج میں 1.3 لاکھ متحرک فوجی اور 3.8 لاکھ ریزروڈ فوجی ہیں، جبکہ حماس کے پاس کل 30,000 فوجی ہیں۔ یہ اعداد وشمار خود ثابت کرتے ہیں کہ دونوں فریقوں کا دور دور تک کوئی تقابل نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ اس لڑائی کی مثال داودؑ اور جالوت کی لڑائی کی ہے۔ اسرائیل کی ہیبت ناک طاقت کو دیکھتے ہوئے، ہر کسی نے یہی سوچا ہوگا کہ فلسطینی ایک دن سے زیادہ اسرائیل کے سامنے کھڑا نہیں رہ سکیں گے، مگر حقیقت میں جو پیش آیا وہ بالکل برعکس تھا۔ مسلسل بمباری اور حماس کے ٹھکانوں کو مکمل تباہ کردینے کے مسلسل دعووں کے باوجود غازہ کی طرف سے راکٹوں کا سلسلہ جاری رہا۔ غازہ کی 41 کلومیٹر لمبی پٹّی باہر کی دنیا سے مکمل منقطع ہے۔ اس کا باہر کی دنیا سے ہر راستہ کاٹ دیا گیا ہے، باہر سے کوئی ہتہیار یا مدد کے پہنچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اِن حالات میں حماس کا اپنے خود بنائے ہوئے راکٹس کی مدد سے لڑنا کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔
خود اسرائیل بھی اور دنیا کے اہم ڈیفنس ایکسپرٹس بھی حیران ہیں کہ کس طرح حماس نے 11 دن مسلسل راکٹ برسائے۔ اور راکٹ بھی ایسے جو پچھلی جنگوں کے مقابلے میں زیادہ فاصلہ اور زیادہ صحیح نشانوں پر پہنچنے والے۔ ایک اور اہم بات جس کی طرف بہت کم لوگوں کی نظر گئی، وہ حماس کی زمینی فوجی طاقت تھی جس نے اسرائیلی کمانڈوز کا جم کر مقابلہ کیا اور ان کو پیچھے دھکیل دیا۔ اسرائیل ٹینکس اور گراؤنڈ فورسس کو استعمال کرنے سے اس لئے بھی گریز کررہا تھاکہ حماس کے پاس جو اینٹی ٹینک مزائیلس ہیں ان سے اسرائیلی اموات کا زیادہ خطرہ تھا۔ اس کے علاوہ حماس نے جو سرنگیں تیار کررکھی ہیں، ان کے ذریعے وہ کبھی بھی اسرائیل پر سرپرائز اٹیک کرسکتا تھا۔ اس لئے اسرائیلی زمینی افواج کے لئے خطرہ ہی خطرہ تھا۔ اس طرح اگر دونوں کی فوجی مقابلے کا تقابل کریں تو جس طرح حماس نے اپنے علاقوں کا دفاع کیا، وہ اسرائیل سے آگے بڑھ گیا۔
جنگ کے میدان کے باہر ایسے کئی امور تھے جن کی وجہ سے اسرائیل کو جنگ بندی کے لئے مجبور ہونا پڑا۔ ان میں سب سے اہم یہ تھا کہ پوری عالمی سطح پر فلسطین کی حمایت میں اضافہ ہورہا تھا۔ روایتی طور پر مغرب ہمیشہ اسرائیل کی تائید کرتا آیا ہے۔ اسرائیل سے مغرب کی ہمدردی کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ عالمی میڈیا بشمول ہالی ووڈ کے، ہر جگہ یہودی چھائے ہوئے ہیں۔ مغرب میں فلسطینی جدوجہدِ آزادی کو ایک دہشت گردی کا امیج دیا گیا ہے۔مگر اس بار یورپ اور امریکہ میں فلسطین کے بارے میں رائے علانیہ بدلتی ہوئی نظر آئی ہے۔اب لوگ فلسطین کے اِس حق کی تائید کرنے لگے ہیں کہ انہیں ان کی زمینوں پر جاکر رہنے کا حق ملنا چاہئے۔ مشہورِ زمانہ میگزین TIME نے حال ہی میں ایک مضمون شائع کیا: How Online Activism and the Racial Reckoning in the U.S. have helped to Drvie a Groundswell of Support to Palastinians۔ اس مضمون کے اہم نکات جب سوشیل میڈیا پر کئی فلسطینی حمایتی گروپس کی جانب سے پھیلائے گئے تو دنیا کے سامنے ایک طرف اسرائیلی بربریت بھی سامنے آئی اور دوسری طرف فلسطین کا اصل موقف بھی سامنے آیا۔ اس کے علاوہ کئی مشہور سیلیبریٹیز جیسے مارک رفالو، سوسان سازنڈن، اور بیلّا حدید نے اسرائیل پر سخت تنقید اور مذمّت کی، جس کی وجہ سے فلسطین کی حمایت میں اضافہ ہوا۔ گوگل اور ایپل کے ملازمین کی یونینوں نے ذمہ داروں کو لکھ کر توجہ دلائی کہ فلسطین کو پہنچنے والے نقصانات کو تسلیم کریں اور انہیں ریلیف فنڈ مہیا کریں۔ اِ س طرح کی حمایت پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ یہ حمایت مستقبل میں بہت کام آئے گی۔ امریکی سیاستدانوں کی طرف سے بھی اس بار جو فلسطین کی حمایت کی گئی، وہ بھی جنگ بندی پر اثر انداز ہوئی۔ امریکہ ہمیشہ سے اسرائیل کا ہمنوا رہا ہے، ہر سال اُسے 4 ملین ڈالر کی اعانت کرتا ہے۔ بالخصوص ڈیموکریٹس کو چونکہ اسرائیلی لابی کی حمایت حاصل ہے، پریسیڈنٹ جوبائیڈن اپنے سیاسی کیریئر کے آغاز سے اسرائیل کے حمایتی رہے ہیں، ان کا ایک جملہ جو بہت مشہور بھی ہوا، اس سے ان کا سیاسی نظریہ بھی واضح ہوجاتا ہے، وہ ہے ”اسرائیل کو  دیئے جانے والے 4 بلین ڈالرسالانہ امریکہ کا سب سے بہترین سرمایہ ہیں“۔ مگر پہلی بار انہیں خود اسرائیل کی حمایت کرنے میں مشکل پیش آئی ہے۔ کیونکہ خود ڈیموکریٹک پارٹی میں اندرونی طور پر اسرائیل کی مذمّت شروع ہوچکی تھی۔ وہ سیاستدان جنہیں The Squad کہاجاتا ہے جیسے الگزانڈر اوکاسیو، راشدہ طلیب، الہان عمر وغیرہ نے جوبائیڈن کی غیرمشروط تائید پر سخت تنقید کی۔ مشہور سیاستدان برنی سینڈر نے 4 بلین ڈالر کی امداد پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ”ھیومن رائٹس کی کھلی خلاف ورزی کی تائید کرنا غیرقانونی ہے“۔  سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اتنی تنقیدوں کے بیچ جوبائیڈن کو مجبور ہونا پڑا کہ وہ نتن یاہو کو جنگ بندی پر مجبور کریں۔
اگر جنگ طویل ہوتی تو خود اسرائیل کو اقتصادی طور پر مشکلات کا خطرہ تھا۔ اسرائیلی معیشت جن بڑے ذرائع پر منحصر ہے وہ  ہیں ٹکنالوجی، انڈسٹریل مصنوعات، اور سیاحت۔ اس جنگ سے اسرائیل کو 250 ملین ڈالر کا نقصان ہوا، یعنی 25 ملین ڈالر یومیہ۔ تل ابیب اسٹاک مارکٹ کو 28% کا نقصان ہوا۔ حماس کے جتنے راکٹ تل ابیب تک پہنچے، ان کی وجہ سے انڈسٹری پر بہت برا اثر پڑا۔ 26% انڈسٹریز جو غازہ پٹی کے قریب تھے، وہ مکمل بند کردیئے گئے۔ 17%کو جزوی طور پر بند کرنا پڑا۔ اسرائیلی انڈسٹریز اسوسی ایشن نے بتایا کہ انڈسٹری کا 166 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔ اور اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ GDP میں.5% کا نقصان ہوا۔ راکٹ حملوں کی وجہ سے بِنگورن اور رامون ایرپورٹس بند کردیئے گئے، جس کی وجہ سے کئی انٹرنیشنل ایرلائینس نے اسرائیل کی سرویسس کو روک دیا۔ ٹورازم چونکہ اسرائیلی معیشت کا اہم ذریعہ ہے، لاکھوں یہودی اور عیسائی مذہبی مقامات کی زیارت کے لئے آتے ہیں، یہ شعبہ بھی متاثر ہوا۔ 2019 میں 4.5 ملین ٹورسٹ آئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ طویل ہوتی تو اسرائیلی معیشت جو کرونا سے ابھی سنبھل نہیں پائی ہے، بری طرح متاثر ہوتی۔
مختصر یہ کہ جنگ بندی کی اسرائیل کو سخت ضرورت تھی۔ نتن یاہو نے آئندہ دو سالوں میں ہونے والے 5th جنرل الکشن کو جیتنے کے لئے غازہ جنگ کو ایک بہترین موقع سمجھا تھا لیکن اس کا اندازہ غلط نکلا۔ اسے یہ توقع تھی کہ دو چار روز میں حماس کے سارے ٹھکانوں کو تباہ کرکے فلسطینی مزاحمت کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ کردیں گے، لیکن الٹا ہوا۔ حماس 11 دن کی جنگ میں نہ صرف ثابت قدم رہے بلکہ ان کی مزاحمت نے ان کے نشانوں کو اور مضبوط بنادیا۔حالات یہ بتارہے ہیں کہ اگر جنگ طویل ہوجاتی تو نتائج وہ نکلتے جن کی اسرائیل نے نہ کبھی توقع کی اور نہ وہ اس کا بوجھ اٹھا سکتا تھا۔ اس کے علاوہ خود اسرائیل کی حمایت کرنے والے ممالک کی جانب سے اس بارفلسطین کی تائید میں عالمی طور پر اٹھنے والی آوازوں نے اسرائیل کے لئے اور مشکلات کھڑی کردیں۔
11دن کی جنگ اور شیخ جرّہ کی مہمات کا حاصل فلسطینیوں کی ثابت قدمی،قوتِ برداشت اور حوصلے ہیں جو ہرگز نہیں ٹوٹے۔ فلسطینیوں کے پاس ان کی زمین نہیں لیکن ان کے پاس امید، ویژن اور حوصلہ و خودداری ہے۔ ہر عظیم کام کے لئے جب وہ بربریت اور ظلم سے مقابلے کے لئے کھڑے ہوں، تو ثابت قدمی ہی ان کا سب سے بڑا ہتہیار ہے۔ کسی بھی عوامی تحریک کی کامیابی کے لئے ایک ہی راستہ ہے، وہ ہے اپنے آپ کو لڑائی کے لئے تیار کریں۔ غازہ پٹی کی جنگ کو ایک منفرد واقعہ کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ یہ فلسطینیوں کی دلیرانہ جدوجہدِ آزادی کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ جس کا سب سے زیادہ متاثر کرنے والا پہلو جو سامنے آیا وہ یہ ہے کہ جنگ کا مکمل شعور اور Clarity جو ہر عمر کے مردوں، عورتوں اور بچوں میں دیکھی گئی۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ عوام کو مقصد یا نصب العین کی اہمیت کے بارے میں ایجوکیٹ کرنا کتنا اہم ہے۔ فلسطینی تحریک سے دنیا کی دوسری عوامی تحریکات کو یہ سبق سیکھنے کا موقع ہے کہ کئی دہوں تک جنہیں دہشت گرد اور بدمعاش کے امیج سے بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، انہی کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں وہ نہ صرف میدان جیت سکے بلکہ دنیا کے دلوں کو بھی جیت گئے۔ فلسطینیوں کی جدوجہد ہر ایک کی جدوجہد ہے۔ اور جیسا کہ تحریکات کے ساتھ ماضی میں ہمیشہ ہوتا آیا ہے، فلسطینی یقینا اٹھیں گے اور اسرائیل پسپا ہوکر رہے گا۔