جنوب بحیرہ چین میں کثیر ملکی بحری مشقوں میں بھارت کیوں شریک ہوا؟

29

47050801 853D 492B 98E1 4FD856A1374B w800 h450

بھارت کے محکمہ دفاع نے پیر کو بتایا ہے کہ بھارت جنوب بحیرہ چین میں اپنے چار جنگی بحری جہاز بھیج رہا ہے جو دو ماہ وہاں رہیں گے۔ یہ جہاز ان فوجی مشقوں کا حصّہ لیں گے جو پانچ ممالک کے اتحاد اس بحری علاقے میں کر رہے ہیں۔

بھارتی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں روانگی کی تاریخ بتائے بغیر کہا ہے کہ اس کے بحری جہاز اس ماہ کے اوائل میں روانہ ہو رہے ہیں۔

چار جہازوں پر مشتمل بھارتی ٹاسک فورس دو ماہ کے دوران مختلف بحری مشقوں میں حصّہ لی گی۔ ان مشقوں میں امریکہ، جاپان اور آسڑیلوی فورسز کے ساتھ مالا بار بحری مشق 2021 اور جنوبی بحیرہ چین کثیر فریقی بحری مشقیں شامل ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں جنوبی بحیرہ چین میں بحری سرگرمیاں تیز ہوئی ہیں۔

واضح رہے کہ چین جنوبی بحیرہ چین کے تقریباً بیشتر سمندری علاقے پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا آیا ہے اور اس نے کئی علاقوں میں مصنوعی جزیرے بھی تعمیر کر رکھے ہیں۔

ابزور ریسرچ فاؤنڈیشن کے مطابق جنوبی بحیرہ چین میں بھارت کی دلچسپی کی وجہ یہ ہے کہ پیسیفک ملکوں کے ساتھ بھارت کی 55 فی صد تجارت جنوبی بحیرہ چین کے راستے سے ہوتی ہے جس کی مالیت تقریباً 200 ارب ڈالر سالانہ ہے۔

بھارت اس سمندری راستے سے آزاد تجارت کو بلا روک ٹوک جاری رکھنے کے حق میں ہے۔ اسے خدشہ ہے کہ اس سمندر پر چین کے بڑھتے ہوئے دعووں اور مداخلت سے اس کی تجارت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دیگر ملک اس سمندری گزرگاہ کو کسی مداخلت سے آزاد رکھنے کے خواہاں ہیں کیونکہ کل عالمی تجارت کا تعلق اس آبی گزرگاہ سے ہے۔ اور ایک اندازے کے مطابق اس راستے سے سالانہ تین ٹریلین ڈالر کے سامان کی نقل و حرکت ہوتی ہے۔

صدر بائیڈن نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایشیاء کو اہمیت دینے کی پالیسی کی تجدید کی ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے اس علاقے میں اپنے جمہوری اتحادیوں اور شراکت داروں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کا خیر مقدم کیا ہے اور انہیں چین کی سرگرمیوں کا جواب دینے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔

پچھلے ماہ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے سنگاپور میں باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا تھا اور کہا تھا کہ جارحیت کا مقابلہ کرنے لیے جاری تعاون کو مزید بڑھانا ہو گا۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق بھارت کے اس اعلان سے ایک دن قبل جرمنی نے تقریباً دو عشروں میں پہلی بار جنوبی بحیرہ چین اپنا جنگی بحری جہاز روانہ کیا ہے۔

برلن میں حکام کا کہنا ہے کہ جرمنی کی بحریہ خود کو صرف تجارتی بحری راستوں تک محدود رکھے گی۔ تاہم، جرمنی نےاپنے اس اقدام سے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اس سمندری علاقے سے متعلق چینی دعووں کو تسلیم نہیں کرتا۔

برطانیہ، فرانس، جاپان، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ بھی بحر الکاحل میں چین کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے جواب میں علاقے میں اپنی موجودگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔ چین نے ان بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر تنقید کی ہے۔

(خبر کا کچھ مواد رائیٹرز، سی این این اور اخبار دی ٹری بیون سے لیا گیا ہے)