جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراتجنت سے آئے تھے جنت کو لوٹ گئے

جنت سے آئے تھے جنت کو لوٹ گئے

 

یہ دنیا چند روزہ ہے،اس حقیقت کو میرے نومولودبھانجہ نے ثابت کردیا، ابھی 12 اگست کے سہ پہر کی بات ہے بچے کی ممانی نے یہ خوشخبری دی کہ بھانجہ مبارک ہو،چھوٹی بہن شاہین دوسرے بیٹے کی ماں بن گئی۔

چاروں طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی، دادیہال اور نانہیال میں مبارکبادیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا،ابھی ڈھائی دن نہیں گزرے تھے کہ خوشخبری سنانے والی ا سی خاتون نے 15اگست کی صبح یہ منحوس خبر سنائی کہ رات ڈھائی بجے شاہین کے بابو کا انتقال ہو گیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون،زمین پیر کے نیچے سے سرک گئی۔ایک ایک کرکے خوشی کی ساری دیوار منہدم ہوگئی۔ غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ میری تو ہمت نہیں پڑی کہ مرحوم بابو کی ماں اور باپ سے اظہار تعزیت کے لیے فون کروں۔

آخر بابو تم کو اتنی جلدی کیا تھی ”تیرا کیا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی اور دن ”۔ابھی تو تیری آمد کی خبر بھی عام نہیں ہوئی تھی دادیہال اور نانیہال کے بہت سارے چاہنے والے بھی نہیں جان سکے تھے، تمہاری صورت تو ہم میں سے بہتوں نے دیکھی ہی نہیں، تیرے باپ اور ماں نے بھی دل بھر کے تجھے نہیں دیکھا، وہاٹس ایپ اور فون پر رشتہ داروں کے درمیان تمہارا نام تجویز کیا جا رہا تھا تھا کہ شمشیر کے بیٹے اور مستقیم کے بھائی کا کیا نام رکھاجائے۔ معتصم رکھا جائے کہ محتشم،مزمل رکھا جائے کہ مبشر،وغیرہ وغیرہ۔تمہارا ماموں تو منتظر تھا کہ منظوری کے لئے آخر میں اس منعم کا نام میرے پاس آئے گا۔ سب کو ساتویں دن کا انتظار تھاکہ نام کا اعلان ہوگا، عقیقہ کیا جائے گا۔ لیکن تمہیں یہ دنیا راس نہیں آئی، تم نے ہمیں مایوس کیا،نام تک رکھنے کا موقع نہیں دیا، عقیقہ سے محروم کیا۔مجھے افسوس ہے کہ تمہیں اللہ کی بنائی ہوئی یہ کائنات پسند نہیں آئی،تم نے دنیا سے حدرجہ بے رغبتی کا مظاہرہ کیا، الٹے پاؤں لوٹ گئے، یقینا تم جنت سے آئے تھے جنت کو لوٹ گئے۔ کہاں جنت کی آسائش اور کہا ں دنیا کی تکالیف۔ عقلمندی کا تقاضا یہی تھا کہ روزی،روٹی،کپڑا اور مکان کے جھمیلا سے بچتے ہوئے،دنیا کی

شہریت،آدھار،سند میلاد کے بجائے آرام سے جنت کی شہریت اختیار کرلی جائے۔ وہ تم نے کیا۔ لیکن ہم دنیاداروں کو تو تم سے یہ شکایت ہے کہ تم نے دنیا دیکھی ہی نہیں۔ یہاں پریشانی ضرور ہے تاہم مشکلات کے ساتھ آسانیاں بھی ہیں۔تمہیں زحمت ضرور ہوتی تاہم عزت بھی کم نہیں ملتی۔ ابھی تیرے چاہنے والے اتنے نئے جوڑے لاتے کہ کتنے جوڑے بغیر استعمال کیے چھوٹے ہوجاتے۔بس تم ذرا مہلت دیتے تو اتنے کھلونے آتے کہ تم کھیلتے کھیلتے تھک جاتے۔ تمہارے تایا،چچا،ماموں تم سے بہت دور رہتے ہیں وہ نہ جانے کیا کیاتحائف اپنے ساتھ لاتے۔ لیکن سب سے بے نیاز ہوکر جہاں سے آئے تھے وہاں چلے گئے۔

اصل بات یہ ہے کہ تمہارے بھائیوں کو خواہ معروف ہوکہ معاذ، معصوم ہو کہ مستقیم —سب کو دادا جان سے بے پناہ محبت تھی۔ دادا کو بھی آغوش سے ہی تمہارے ان بھائیوں سے بے حد پیار تھا، جس پر ہم جیسے لوگوں کو رشک آتا ہے۔ آتے ہی تم نے دادا تلاشنا شروع کیا ہوگا کہ دو دن ہوگئے پیار کرنے والے ہردل عزیز دادا کہاں ہیں۔؟ ضرور دادی نے بھی،امی اور ابو نے بھی خود تمہارے ان بھائیوں نے چغلی کھائی ہوگی کہ بابو کے دادا پانچ ماہ قبل مارچ میں ہی چل بسے۔اب کیا تھا تم بھی دادا کی محبت کی تلاش میں اسی قبرستان میں دادا کے بغل گیر ہو گئے۔ واہ رے دادا،پوتا کی محبت۔

لیکن تم نے ذرا پرواہ نہیں کی اپنی اس والدہ ماجدہ کی جنہو ں نے تمہیں نو مہینے پیٹ میں رکھا۔خون جگر پلاکر گوشت کے لوتھڑے سے انسان بنانے کی خدائی اسکیم میں کوئی کسر نہیں چھوڑا۔ تمہاری پیدائش سے قبل ہزاروں خواہشات اور،آرزوئیں تم سے وابستہ کر رکھی تھیں۔ ایسے بڑا ہوگا،یہ پڑھے گا،یہ کرے گا،وغیرہ وغیرہ۔ الغرض تم اپنی امی کے ڈھیر سارے خوابوں کی تعبیر تھے۔ روشن مستقبل کاذریعہ تھے۔ تم کیسے اپنی ماں کواداس چھوڑ کر ملک عدم کے سفر پر روانہ ہوگئے؟

تم نے ذرا اپنے والد کا خیال نہیں کیاجس سے آج غم کا اظہار نہیں ہو رہا ہے۔ تم نے اپنے والد کے آرزوؤں اور ارمانوں کا خون کردیا،تم نے داغ مفارقت کا ایسازخم لگایا کہ اسے بھلایا نہیں جاسکتا ہے۔ بیچارے والد نے تو اپنی آنکھوں میں تیری تصویر بھی ٹھیک سے نہیں اتاری۔ ابھی تمہارے ناز ونخرے برداشت کرنے کا موقع بھی نہیں ملا بلکہ دوا اور علاج تک کی خدمت کا موقع تم نے نہیں دیا۔ تمہارے نئے جوڑے ایک دن قبل لے کر آئے دوسرے دن تم نے کفن کے لیے بازار بھیج دیا،کفن خریدنے کے لیے تمہارے والد کیسے گئے ہوں گے، ہرقدم کیسے اٹھایا ہوگا،کفن فروش کو کیا کہا ہوگا؟ میں تو سوچ کر کانپ جاتا ہوں لیکن”لایکلف اللہ نفسا الا وسعہا” اللہ کسی کو اس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کابوجھ نہیں ڈالتا۔
تم نے باپ کی محبت پر رب کی محبت کوترجیح دی۔ڈھائی دن کے مختصر وقفے کے بعد رب حقیقی سے جاملے۔یاایتھا النفس المطمنہ،ارجعی الی ربک راضیة مرضیة۔۔۔۔۔۔۔

تمہارا اکلوتا بھائی مستقیم جو تم سے عمر میں صرف ڈھائی سال بڑا ہے۔ اس کی ذہانت اور ہمت و حوصلہ کا تذکرہ تم نے سنا ہی نہیں،دیکھنا تو دور کی بات ہے۔ وہ تمہارے تحفظ کے لئے محلوں کے لڑکوں اور بچوں سے ہر لڑائی مول لینے کے لئے تیار تھا وہ تمہارا مضبوط سہارا بنتا، تمہاری شخصیت کے ارتقاء کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوتا لیکن تم نے اپنے بھائی کو مایوس کیا۔ وہ اپنی عادت کے مطابق کسی بچے کواپنے آنگن میں اوردروازے پرپھٹکنے نہیں دیتا ہے لیکن تمہیں ڈھونڈ رہاہے۔ وہ پوچھ رہا ہے کہ امی اپنا بابو کہاں چلا گیا جس کو کسی کا بابو پسند نہیں ہے۔تم نے ایسے محبت کرنے والے معصوم بھائی کو سوگوار چھوڑ کرجنت سے آئے تھے اور جنت کولوٹ گئے۔

سلامتی ہو تم پر جب کہ تم پیدا ہوئے،جب تم وفات پائے اور جب تم دوبارہ اٹھائے جاؤگئے۔ جیسا کہ ابن مریم علیہ السلام نے اپنے لیے دعا کی تھی۔
”والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا” (سورہ مریم33 )
اللہ تعالی تمہارے ہم جیسے تمام لواحقین بالخصوص تمہارے والدین کوصبرجمیل عطاء فرمائے آمین۔

غمگسار
تمہارا ماموں
رضوان احمد اصلاحی
17-08-2021

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے