جمہوری حکومت میں کسی طبقہ کو نظر انداز کرنا دستور کے منافی: مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی

59

جمہوری حکومت میں کسی طبقہ کو نظر انداز کرنا دستور کے منافی: مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی

لکھنؤ، 25/نومبر
بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ افراد و سیاست داں پر پچھلے چھ برس سے اشتعال انگیزی اور فرقہ پرستی پر مبنی مواد کی تشہیر کرنے کا الزام لگاتے ہوئے آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدر مولانامحمد اعجاز عرفی قاسمی نے کہاکہ اس سے اس ملک کی قابل فخر مشترکہ گنگا جمنی تہذیب کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
تنظیم علماء حق کی اتر پردیش یونٹ کی طرف سے یہاں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے لیڈران اپنے بیانات سے معصوم اذہان میں ذات پات، رنگ و نسل اور دھرم کے نام پر نفرت کا زہر گھول رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ انتہائی افسو ناک بات ہے کہ رام مندر، طلاق ثلاثہ،حلالہ، تعدد ازدواج، گھر واپسی اورلو جہاد کا پروپگنڈہ کرکے اس ملک کی دوسری بڑی اکثریت کے مذہبی جذبات کو ایک مخصوص پارٹی کے وابستگان پامال اور مجروح کر رہے ہیں۔ اس رویہ پر موجودہ حکومت کو جلد قابو پانے کی سمت میں پیش رفت کرنا چاہیے، تاکہ ہماری جمہوریت کا چہرہ داغ دار اورہمارا سیکولر قومی ڈھانچہ کمزور نہ ہو۔
انھوں نے کہا کہ ۴۱۰۲ء کے بعد اگر ۹۱۰۲ء کے عام انتخابات میں بھی بی جے پی ملک کے جمہوری سیاسی نظام میں بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے اور بڑی ریاستوں یوپی بہار سمیت ملک کے اکثر صوبوں میں وہ بر سر اقتدار یا شریک اقتدار ہے، تو اس کو مٹھی بھر فرقہ پرست عناصر کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی نہیں بننا چاہیے، بلکہ عوام کے اس واضح فیصلے کا احترام کرتے ہوئے یہاں کی کثرت میں وحدت سے عبارت تہذیبی تاریخی روایات کی پاس داری کرنا چاہیے۔اور’سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا وشواس‘ کے فارمولے پرصدق دلی سے عمل کرکے دکھا ناچاہیے۔
انھوں نے ملک کے مجموعی حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے الزام لگایاکہ جب مرکزی حکومت روزگار کی ضمانت، صحت اور تعلیم کی فراہمی، مہنگائی، بد عنوانی پر کنٹرول کے تعلق سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے، کورونا کے عالمی وبائی بحران میں عام افراد کو تحفظ فراہم کرنے میں فیل ہوگئی ہے تو ووٹوں کے پولرائزیشن اور ہندو مسلم کا کھیل کھیل رہی ہے۔ انھوں نے موجودہ مرکزی اور ریاستی حکومت کے ذریعے اقلیتی طبقے کو روزگار اور ترقی کے مواقع سے محروم رکھنے کی درون خانہ مبینہ پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بر سر اقتدار پارٹی گرچہ مخصوص آئیڈیالوجی کی ہی پابند کیوں نہ ہو، مگروہ آئینی طور پرملک کے ہر مذہب اور ہر طبقے کی نمائندہ ہوتی ہے اور ہر طبقے کی ترقی اور خوش حالی کے لیے پالیسی وضع کرنا اس کا نصب العین ہوتا ہے۔
جمہوری طرز حکومت میں کسی طبقے کو نظر انداز کرنے کا رویہ آئینی اور دستوری تقاضوں کے صریح منافی ہے۔ انھوں نے ملک کے موجودہ دگرگوں حالات سے سبق لیتے ہوئے اقلیتوں خصوصا مسلمانوں سے یہ اپیل کی ہے کہ اگر ان کے ساتھ تعصب، ظلم و ستم اور نا انصافی کا رویہ برتا جارہا ہے، تو اس سے انھیں دل برداشتہ اور کبیدہ خاطر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اپنے فکر و عمل کا محاسبہ کرنا چاہیے اور اپنے حق رائے دہی کا صحیح استعمال کرنے کی پالیسی وضع کرنی چاہیے، تاکہ کوئی بھی منتخب نمائندہ پارلیمنٹ یا اسمبلی میں پہنچ کرمن مانی نہ کرسکے۔
انھوں نے بتایا کہ ملک کے متعدد صوبوں میں تنظیم کی یونٹ کا قیام عمل میں آچکا ہے آج کے اس پریس کانفرنس میں اترپردیش کے لئے مفتی شمشاد قاسمی کو صدر نامزد کیا جارہا ہے اور مغربی اترپردیش کے لئے ملک کے معروف خطیب مولانا سالم اشرف قاسمی (دیوبند)صدرنامزد کئے جارہے۔ان دونوں کی متحرک صلاحیتوں سے قوم وملت کو فائدے پہنچنے کے روشن امکانات ہیں۔