جمہوریت نام ہے عوامی حقوق کے تحفظات کا!

63

(مگر بدقسمتی سے یہ ہمارے یہاں مفقود ہے) محمد قاسم ٹانڈوی مرکز میں حکمراں جماعت کے بلافصل اقتدار کا یہ دوسرا ٹرم ہے، اور اس کے اقتدار و حکمرانی کا یہ دوسرا والا ٹرم پہلے والے ٹرم سے زیادہ طاقتور اور پاور فل کا حامل ہے۔ اس لئے کہ پہلے دور حکمرانی میں تو اس کے ساتھ دیگر اتحادی جماعتیں بھی شریک و سہیم تھیں، مگر اس دوسرے ٹرم میں تو بی جے پی بھرپور اور مکمل اکثریت کے ساتھ اقتدار میں واپس ہوئی تھی۔ چنانچہ اسی اکثریت کا نتیجہ ہےکہ وہ خود کو آئین و دستور سے بالاتر سمجھتے ہوئے سیاہ و سفید کا خود کو مالک تصور کر بیٹھی۔ جہاں اس کو حکومت نے اسے اپنے لئے نعمت غیرمترقبہ اور سنہری موقع سمجھنے میں دیر نہیں کی اور اسے آر ایس ایس کی دیرینہ خواہش اور قدیم منشا کو بروئے کار لانے میں سب سے غنیمت و موثر موقع سے تعبیر کیا، وہیں اس نے اس اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ظلم و ناانصافی پر مبنی تاریخ اپنے ہاتھوں سے مرتب کرنا شروع کر دی، اور تمام جمہوری اقدار و روایات درکنار کرتے ہوئے بزور طاقت و اقتدار تمام آئینی حیثیتوں کو نظر انداز و کالعدم گردانا اور یکے بعد دیگر پارلیمنٹ ہاؤس میں بل پیش کرنے کے بعد ان کو یکطرفہ ایوان صدر میں منظوری دلاتی نظر آئی۔

اسے عوام کی بدقسمتی ہی کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ ستا دھاری حکومت کا 2014 سے 2019 تک کا جو دور اول رہا، وہ بھی پورے طور پر عوامی احتجاج و مظاہرہ سے بھرا رہا، جس میں نوٹ بندی، جی ایس ٹی اور طلاقہ ثلاثہ جیسے متنازعہ بلوں کی قرارداد منظور کرانے کے نتیجے اور ان کی مخالفت میں عوام کے ایک بڑے طبقے کا وقت سڑکوں پر گزرا۔ اور اب اسی جماعت کی حکومت و اقتدار کا یہ جو دوسرا دور جاری ہے، جس کو تقریبا دو سال ہونے جا رہے ہیں؛ تو اس میں بھی بلا امتیاز مذہب و ملت عوام کا اکثر وقت احتجاج و مظاہرہ میں گزرا ہے، پہلے شہریت ترمیمی بل کے خلاف پورا ملک سراپا احتجاج بنا حکومت کے ساتھ اعلان جنگ کی صورت اختیار کئے ہوئے تھا اور اب بھی پورے ملک میں انتشار و احتجاج کی جو فضا قائم ہے؛ وہ بھی اسی حکومت کی کرم فرمائی کا نتیجہ ہے۔ کیوں کہ اس حکومت کو ایک تو اپنی انانیت، خود پسندی، ہٹ دھرمی، خود بینی، مطلق العنانی اور اکثریت میں ہونے کا غرور و تکبر ہے، جس کی وجہ سے یہ اپنے اٹھائے ہوئے اقدام کو حرف آخر سمجھتی ہے اور وہاں سے اپنے قدموں کو پیچھے ہٹانے میں شاید اپنی توہین محسوس کرتی ہے۔ دوسرے اس حکومت کو جس لابی اور تخریب پسند تنظیم کی سرپرستی حاصل ہے، شاید اسے بھی ہرممکن طور پر خوش رکھنا اور اس کے طے شدہ ایجنڈہ کو آگے بڑھانا بھی مقصود ہوتا ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہےکہ ایک جمہوری اور سیکولرازم کے حامی ملک میں کسی بھی موقع پر عوام کی سنی نہیں جا رہی اور تمام تر صدائے احتجاج بلند کرنے کے بعد بھی دور دور تک کوئی شنوائی اور مسائل کا پختہ اور یقینی حل سامنے نہیں آتا۔ جبکہ جمہوریت کی خوبی اور سیکولر ازم کی شان یہی ہےکہ:
اس میں ہر کسی کو اپنی بات کا اظہار کرنے کا حق ہوتا ہے اور عوامی نہج پر منتخب ہونے والی حکومتیں اپنی رعایا اور عوام کے حقوق کے تحفظات کو یقینی بناتی ہیں۔ مگر موجودہ حکومت کی حکمرانی کا طرز ہی نرالا ہے کہ ہربار کی طرح اس بار بھی حکومت نے وہی روش اختیار کر رکھی اور جن متنازعہ بلوں کی واپسی اور اپنے حقوق کے تحفظات کو لےکر کسان طبقہ دو ماہ سے احتجاج و مظاہرہ کر رہا تھا اور قومی راجدھانی دہلی کے اطراف میں خیمہ زن ہوکر حکومت پر دباؤ یا ثالثی کی شکل ڈھونڈ رہا تھا؛ اب ان سب کو حکومت کی طرف سے نکار دیا گیا ہے، اور مسئلہ کے حل کےلئے گاہے گاہے کسانوں سے گفتگو کا جو سلسلہ لگا ہوا تھا اسے بھی منقطع کر دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا گیا ہےکہ: “بلوں کی واپسی تو نہیں ہوگی، البتہ ڈیڑھ سال کےلئے انہیں ملتوی کیا جاتا ہے”۔
کہنا کا مقصد یہ ہےکہ حکومت کا یہ انداز و اطوار اور حکمرانی کی یہ روش، جس کو باشندگان ملک گذشتہ سات سالوں سے برداشت اور جھیلتے آ رہے ہیں، دنیا کے نقشے پر موجود اس جمہوری نظام حکومت اور سلطنت میں ہو رہا ہے جس کی صاف شفاف جمہوریت اور بہترین سیکولرازم کو آئڈیل اور نمونہ کے طور پر متعارف کرایا جاتا ہے اور باہری دنیا کے سامنے اس بات کے گیت گائے جاتے ہیں کہ:
“ہمارے ملک میں آباد تمام طبقات و مذاہب کے ماننے والوں کو کھلی آزادی اور اپنے اپنے اعتبار سے رہنے کے مکمل حقوق حاصل ہیں”۔ اور یہ دراصل باہری دنیا کے ساتھ ساتھ ملک کے عوام کے ساتھ بھی ایک دھوکہ لگتا ہے، اس لئے کہ ملک کی اندرونی صورتحال بالکل برعکس اور ایک دم خلاف نظر آتی ہے۔ کیوں کہ مئی 2014 سے اب تک مسلسل بڑی تیزی اور ایک سازش کے تحت آئین و دستور میں چھیڑ چھاڑ کر نقب زنی کی جا رہی ہے، آئینی اداروں میں ایک مخصوص ذہنیت کے افراد کو ڈیوٹی پر معمور کیا جارہا ہے، اعلی مناصب پر برابر ایسے لوگوں کو کام کرنے کا موقع فراہم کیا جا رہاہے، جن کی ذہنیت ملک کو غلامی کی طرف لے جانے والوں کے بہت زیادہ مماثل ہے اور ان کی سوچ و فکر کا زاویہ ملک کی جمہوریت کو ہندوراشٹر میں تبدیل کرنا ہے۔ جس کا ثبوت وقفہ وقفہ سے ناگپور ہیڈ کوارٹر کی طرف سے جاری ہونے والے بیانات و ہدایات سے عوام کو ہوتا رہتا ہے۔ اور ابھی سنگھ سنچالک ‘موہن بھاگوت’ کا وہ حالیہ بیان جس میں انہوں نے کہا ہے کہ “ملک کا ہر ہندو پیدائشی طور پر محب وطن ہوتا ہے” اس کا بین ثبوت ہے۔
ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عام شہری بھی بخوبی اندازہ لگا سکتا ہےکہ سرکاری عہدوں پر فائز ذمہ داروں کی یہ سخت مزاجی، ناانصافی، ہٹ دھرمی اور بدنیتی پر مرتب پالیساں ہمارے حکمرانوں کے ان تمام دعووں کی نفی کر رہی ہیں کہ نہیں؟ اور حکومت کی یہ خفیہ پلانننگ اور اس کی راز دارانہ پالیساں جس سے کہ ملک کے اقلیتی طبقات کو بےگھر کیا جاسکے، ان کے جائز حقوق اور جمہوری اقدار و روایات کو کچلا جاسکے اور اندر ہی اندر ملک کی آزادی اور اس کی جمہوریت کو کھوکھلا کیا جاسکے؛ سب ایک منظم اور طے شدہ طریقے پر کیا جارہا ہے؟
انھیں سب حالات و خدشات کو دیکھتے ہوئے ہمارا دور اندیش اور حالات شناس طبقہ جو اس بات کی پیشنگوئی کر رہا ہے کہ:
“اگر 2024 کے الیکشن میں بھی یہی حکومت اقتدار سنبھالتی ہے تو ملک کے حالات اور بھی بدتر ہوں گے، جس کے بعد اس ملک (نئے بھارت) میں مسلمانوں کا رہنا مشکل ہو جائےگا، کیونکہ فسطائیت اپنے شباب پر ہوگی اور اس تک وقت آئین و دستور میں مکمل طور پر شب خون مارا جا چکا ہوگا، جس کے بعد فسطائیت زدہ معاشرہ اور زعفرانی رنگ میں رنگی سوچ کے حامل لوگ وطن عزیز ہندوستان سے دوسری سب سے بڑی اکثریت مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کا خاتمہ اور در بدر ہوتا دیکھنا چاہیں گے” اور اس پیشنگوئی میں بہت حد تک صداقت بھی نظر آتی ہے، اس لئے کہ ہماری آنکھیں آج جمہوریت کی روح اور ملک کے سیکولرازم کے فوائد و منافع کو بزور طاقت دباتے کچلتے دیکھ رہی ہیں۔