جمعہ, 30, ستمبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراتجمعیۃ علماء یوپی کے اجلاس مجلس منتظمہ میں مولانا عبدالرب اعظمی...

جمعیۃ علماء یوپی کے اجلاس مجلس منتظمہ میں مولانا عبدالرب اعظمی جمعیۃعلماء اترپردیش کے صدر منتخب

ملت کے سامنے بہت سارے چیلنچز ہیں، مگر ہم مایوس نہیں ہیں،نسل نوکو ارتداد سے بچانے کے لیے اسکول بھی بھجیں اور مکتب بھی:اجلاس میں جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا محمود مدنی کا خطاب

نئی دہلی /امروہہ 4/ستمبر

آج جمعیۃ علماء اترپردیش کا انتخابی اجلاس (اجلاس مجلس منتظمہ) مدرسہ اسلامیہ عربیہ، جامع مسجد امروہہ میں زیر صدارت مولانا عبدالرب اعظمی منعقد ہوا، بحیثیت آبزرور صدر جمعیۃ علماء مولانا محمود اسعد مدنی شریک ہوئے۔تلاوت ونعت کے بعد مولانا محمد کلیم اللہ قاسمی نے سابقہ کارروائی پڑھ کر سنائی جس کی سبھی اراکین نے توثیق کی۔ناظم اعلی جمعیۃ علماء اترپردیش مولانا سید محمد مدنی نے سکریٹری رپورٹ پیش کی۔
انتخابی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے مولانا مفتی سید محمد عفان منصورپوری صدر دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء یوپی نے معروف عالم دین مولانا عبدالرب اعظمی کا نام صدارت کے لیے پیش کیا جسے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا،ان کے علاوہ مولانا مفتی عبدالرحمن امروہہ،پروفیسر سید محمد نعمان شاہ جہاں پوری، مفتی بنیامین مظفرنگراور مولانا امین الحق اسامہ کانپور نائبین صدر اور سید محمد حسین ہاشمی خازن منتخب ہوئے۔

انتخاب کے بعد آبزرور اور صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی نے اپنے مغز خطاب میں کہا کہ تنظیم، کسی بھی قوم کی باوقار زندگی کی علامت ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ ملت اسلامیہ کے سامنے کئی طرح کے چیلنجز ہیں، لیکن ہمیں قطعا مایوس اور مشتعل ہونے کی ضرورت نہیں ہے، انھوں نے کہا کہ مسائل کا سامنا کرنا زندہ قوموں کی علامت ہے، ہم یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہم کسی بھی صورت میں گھبرانے والے نہیں ہیں اور اگر ضروری پڑی تو اس وطن کی عزت و آبرو کی بقا کے لیے ہر طرح کی قربانی دیں گے۔مولانا مدنی نے نسل نو کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی اپیل کی، انھوں نے قوم کو ارتداد سے بچانے کے لیے دینی تعلیم پر زوردیا اور کہا ہمارے بچے اسکول بھی جائیں اور مکتب بھی، اسی سے نسل نو کی مضبوط تعمیر ہو گی اور وہ ایمان کی حفاظت کا شعور حاصل کرے گی۔

جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے اپنے خطاب میں ریاستی انتخاب کے خوش اسلوبی سے انعقاد کی ستائش کی اور موجودہ حالات میں مساجد کے تحفظ کے لیے دور رس نتائج کی حامل تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا، اس سلسلے میں انھوں نے جمعیۃ علماء ہند کے سرکلر کی طرف جمعیۃ کے ارکان کو متوجہ کرایا۔ اس موقع پر مولانا قاری شوکت علی رکن مجلس عاملہ جمعیۃ علماء ہند نے بھی خطاب کیا اور مولانا مفتی عبدالرحمن کی دعاء پر اجلاس ختم ہوا، نظامت کے فرائض پروفیسر نعمان شاہ جہاں پوری نے انجام دیے۔

مولانا مفتی سید محمد عفان منصورپوری نے بحیثیت میزبان مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے فرمایا کہ گزشتہ ٹرم میں صدر یوپی مولانا متین الحق اسامہ صاحب، نائب صدر مولانا اعلم اللہ صاحب اور ناظم امارت شرعیہ ہند مولانا معزالدین احمد صاحب نے داعی اجل کو لبیک کہا، اس کے علاوہ میرے مربی و مشفق والد مرحوم حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری سابق صدر جمعیۃ علماء ہند بھی رحلت فرما گئے، انھوں نے ایک مثالی زندگی گزاری جو ہم سب کے لیے قابل قدرہے، ہم سب ان کے لیے ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کا اہتمام کریں اور موجودہ اکابر کے لیے صحت و سلامتی کے ساتھ درازی عمر کی دعاء کریں۔

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے