بدھ, 30, نومبر, 2022
ہومبریکنگ نیوزارریا نیوزجمعیت علماء پر مصلحت پسندی کا طعنہ دینے والے جذباتی ہیں:سلمان کوثر...

جمعیت علماء پر مصلحت پسندی کا طعنہ دینے والے جذباتی ہیں:سلمان کوثر مظاہری

#جمعیت_علماء_پلاسی کے اجلاس میں مختلف تجاویز کو منظوری،مقامی علماء اب میدان عمل میں آجائیں:
#محمداطہرالقاسمی
______________________
جمعیت علماء ارریہ بہار کی نگرانی اور بلاک صدور و سکریٹری کی قیادت میں جمعیت کی مقامی یونٹوں کی تشکیل کا سلسلہ جاری ہے۔
اسی مقصد کے تحت کل بعد عصر تا عشاء مدنی جامع مسجد چمن روڈ سکھسینہ روپیل مدھیل پلاسی میں بلاک جمعیت کے زیراہتمام ایک مشاورتی،انتخابی و اصلاح معاشرہ کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس کی صدارت ماسٹر عبد الواحد استاذ مدرسہ چشمہ العلوم سکھسینہ اور نظامت بلاک سکریٹری قاری احتشام الحق امدادی نے کی جبکہ متعدد شعراء کے ساتھ مولانا فیاض احمد راہی نے بھی خوبصورت نعت رسول پیش کیا۔
بعد عصر مفتی راسخ الاسلام قاسمی استاذ حدیث و فقہ ادارہ فیض القرآن ٹھکری باڑی اتردیناج پور نے اصلاح معاشرہ کے تحت لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اور آپ سمجھ رہے ہیں کہ ہم افراد یا جماعتوں کو بدل دیں گے تو دنیا یا ملک کے حالات بدل جائیں گے،ایسا نہیں ہے بلکہ حالات اور معمولات کو بدلنے والی ذات صرف اللہ رب العزت کی ہے،جس دن ہم بدل جائیں گے اس دن اللہ رب العزت بھی ہمارے حالات بدل دیں گے۔موصوف نے بعد مغرب بھی تاریخ جمعیت پر جامع گفتگو کی اور اکابرین کی اس سوسالہ جماعت کو طائفہ منصورہ قرار دیتے ہوئے لوگوں سے اسے سینے سے لگانے کی دعوت دی۔
بعد مغرب مولانا محمد سلمان کوثر مظاہری دولت پور نے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علماء ہند کے قیام کے پس منظر،اس کی تاریخ اور اس کے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ جمعیت علماء ہند پر مصلحت پسندی کا الزام لگاتے ہیں،درحقیقت ایسے لوگ جذباتی ہیں۔انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ جمعیت ملک و ملت کے ہر اہم معاملے پر عقابی نظر رکھتی ہے اور انتہائی بصیرت و حکمت کے ساتھ برمحل اقدامات کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیا پر ایسے لکھاری جمعیت کے خیرخواہ نہیں،جمعیت کے دشمن ہیں۔
جمعیت علماء ارریہ کے آرگنائزر مولانا محمد آصف قاسمی نے کہاکہ مذہب اسلام کے پانچ شعبوں میں سے مسلمان صرف عقائد و عبادات سے بحث کرتے ہیں جبکہ انہیں معاشرت و اخلاقیات وغیرہ پر بھی بحث کرنی چاہیے۔ہم لوگ بغیر کسی منصوبہ کے کام کرتے ہیں جبکہ جمعیت منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرتی ہے اس لئے ہمیں جمعیت سے جڑ کر منصوبہ بند طریقے سے کام کرنا چاہیے۔
منتظمین میں سے مولانا محمد جاوید شمسی نے کہا کہ یہ جلسہ نہیں تحریک ہے۔جمعیت کی اس تحریک کا تعلق پہلے علماء سے تھا اب اس کی تحریک یہ ہے کہ وہ عوام سے بھی مربوط ہو اور عوامی مسائل کو مل جل کر حل کیا جائے۔
اجلاس کے مہمان خصوصی مفتی محمد اطہر القاسمی نائب صدر جمعیت علماء بہار نے انتہائی جذباتی انداز میں شرکاء اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بتائیں کہ ہمارے معاشرے میں جتنے مسائل ہیں مثلاً تعلیم سے دوری،ناخواندگی،خاندانی لڑائی،چوری،ڈکیتی،سود خوری،رشوت خوری،بےحیائی،بدکاری،مقدمہ بازی،نشہ،مہنگی شادی حتیٰ کہ ارتداد ۔۔۔۔ آخر ان معاشرتی مسائل کو حل کرنے کے لئے کون آئے گا؟مسلم پرسنل لاء بورڈ،امارت شرعیہ یا جمعیت علماء ہند؟
موصوف نے کہا کہ نہیں،کسی کے آجانے سے ہمارے یہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔
ان مسائل کا واحد حل یہی ہے کہ ہم خود کھڑے ہو جائیں۔ہم میں کا ایک ایک فرد جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہے قسم کھالے اور عہد کرلے کہ ہم صالح معاشرے کی تشکیل کے لئے ہرطرح کی قربانیوں کا نذرانہ پیش کریں گے۔
جمعیت علماء ہند مرکز سے ریاست،ریاست سے ضلع،ضلع سے بلاک اور بلاک سے پنچایت اور وارڈ تک اب اسی لئے پہنچ رہی ہے کہ ہم سب مل جل کر اپنی اصلاح کے ساتھ خاندان اور سماج و معاشرے کی فلاح و بہبود کے لئے بھی ہم کھڑے ہوجائیں۔
موصوف نے اجلاس میں موجود تمام علماء و حفاظ سے بطور خاص معاہدہ لیا کہ آپ اپنی قوم کے قائد ہیں،آپ سے ملت اسلامیہ کو بےشمار امیدیں وابستہ ہیں اس لئے اب موجودہ ملکی حالات میں آپ ایک دن بھی خواب غفلت میں نہ رہیں اور اپنے اپنے حلقۂ اثر میں قوم وملت کی تعمیر وترقی کے لئے سرگرم عمل ہوجائیں۔
تمام شرکاء نے عہد کیا کہ انشاء اللہ ہم قدم قدم پر جمعیت کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر کام کریں گے۔
ساتھ ہی موصوف نے ملت فنڈ کا مختصر تعارف کراتے ہوئے لوگوں سے ممبر سازی کی درخواست کی اور چند منٹ میں ہی 21 ممبران بن گئے جن کی کاغذی کارروائی کے لئے آرگنائزر صاحب کو حوالے کر دیا گیا۔
بعد ازاں ایک 11 رکنی ایڈہاک کمیٹی کی تشکیل دی گئی جن کی قیادت میں سکھسینہ پنچایت کے ساتھ قرب و جوار کے پنچایت کے انتخابات اور اصلاح معاشرہ کی کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی۔
اجلاس سے قاری امتیاز احمد صدر جمعیت علماء بلاک جوکی ہاٹ،ماسٹر محمد شمشاد خازن،مولانا ثمیر الدین قاسمی،مولانا مطیع الرحمن قاسمی اور ماسٹر عبد الواحد نے بھی اپنے تاثرات پیش کئے جبکہ اجلاس کو کامیاب بنانے میں بلاک سکریٹری کے ساتھ قاری علاء الدین رحیمی سکھسینہ،ماسٹر عبد الواحد،ماسٹر محمد منظر،مولانا ثمیر الدین قاسمی،مولانا مطیع الرحمن قاسمی،مولانا محمد جاوید شمسی،مولانا شکیل قاسمی،مولانا مرغوب الرحمن قاسمی،ڈیلر محبوب،مولانا نسیم الدین مظاہری،حافظ شبیر اشاعتی،ماسٹر کونین،حافظ محمد فرقان،بھائی جہانگیر وغیرہ نے کلیدی کردار ادا کیا۔

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!
1 تبصرہ
  1. زخم تو ہزار ہیں مرہم کہاں کہاں رکھیں۔
    جہاں دیکھو ں وہی عادت وہی دورنگی۔
    بات کرنے سے قبل چند کلمات اس پالنہار کے نام جس دست قدرت میں کامل و اکمل نظام تمام ہے ۔
    حضرت آدم علیہ السلام سے قبل اس کے بعد تمام انبیاء کرام اور اخیر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تک اور اسکے بعد قیامت اور تادیر حکم الہی جب تک۔۔۔۔۔
    ہو ۔۔۔واللہ اعلم۔۔۔۔۔
    ۱۹۰۱ ء میں جو ہوا تب تھی وہی اب ہے ، جو پانی تب تھا وہی اب ہے ، جو گردش ایام قبل تھا وہی اب ہیں مختصر یہ کہ وہی فکروہی سوچ وہی انسان سب ایک حالات اور نظریہ کا فرق ہے ۔۔۔۔جس کی بنیاد پر ایک طرف آرایس ایس کی تنظیم نے مکمل دسترت حاصل کرلیا اور جمعیت نے حلوا پراٹھا جماعت جلسہ جلوس چندہ فتوی میں صرف اپنا وقت گزارا ہے ۔۔۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے