جمعیت علماء روتہٹ نیپال کی میٹنگ بحسن خوبی اختتام پذیر!

59

جمعیت علماء روتہٹ نیپال کی میٹنگ بحسن خوبی اختتام پذیر!
انوار الحق قاسمی
الحمد للہ “ملک نیپال”میں بھی مسلمانوں کی ایک اچھی خاصی” تعداد “ہے اور یہ ملک بھی اب “جمہوری ملک “ہوچکاہے،یہاں کےمسلمان بھی دیگر ممالک کےمسلمانوں کی طرح” بس تن تنہا ذات وحدہ لاشريك له” کی اطاعت وعبادت کرتےہیں اور خداوند عالم اورحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کے ہر” فرمان”کو بطبیب خاطر بجالاتے ہیں ۔
مسلمانوں کی عبادت کےلیے ہربستی میں ” مساجد” ہیں؛حتی کہ چھوٹی بستی میں بھی، جہاں مسلمانوں کی تعداد قلیل ہے،وہاں بھی مسلمانوں کی خاص عبادت “نماز” کےلیے کم از کم “دومسجدیں”توضرور ہیں ،اسی طرح ملک نیپال کے مسلمان رمضان کے مہینہ میں” روزہ” بھی رکھتے ہیں،”زکوة” بھی دیتے ہیں، مخصوص مہینہ اور مخصوص دنوں میں “فریضہ حج “بھی ادا کرتے ہیں، الغرض یہاں کے مسلمان بحسن خوبی” ایک ایک حکم خداوندی” کوبجالاتےہیں۔
اس ملک میں مسلمانوں کے بچوں میں مستقبل میں دین کاداعی اور اسلام کاسپاہی بنانے کے لیے ہرضلع میں کئی دینی “مدارس ومراکز” قائم ہیں؛ بل کہ فرحت وشادمانی کی بات تو یہ ہے کہ کسی کسی بستی میں” تین تین چار چار مدارس” قائم ہیں، جو مسلم لڑکوں اور لڑکیوں کودین کاداعی اور اسلام کاترجمان بناتے ہیں ۔
اسی طرح مسلمانوں کے مختلف مسائل کوحل کرنے لیے اور مسلمانوں کی آواز حکومت تک پہنچانےلیے ملک نیپال میں بھی “کئی تنظیمیں” قائم ہیں،مگرسب سے زیادہ مقبول و محبوب،متحرک وفعال تنظیم اگر کوئی ہے ،تو وہ صرف”جمعیت علماء نیپال “ہے ،جو بر وقت مسلمانوں پر آنے والے “مسائل، مصائب ومشکلات “کوحل کر تی ہے اور مسلمانوں کی صحیح ترجمانی ،بہتر نمائندگی کرتی ہےاور بوقت ضرورت مسلمانوں کی آواز” حکومت” تک بھی پہنچاتی ہے۔
جمعیت علماء نیپال بڑے ہی زور شور کے ساتھ اعلی پیمانہ پر مسلمانوں کی صحیح قیادت اور عمدہ ترجمانی کررہی ہے،اور تقریبا اکثر مسلمان جمعیت کی “اعلی کارکردگی” پر خوش ہیں اور اس کی “خدمات جلیلہ “کی خوب پذیرائی کررہے ہیں۔
ابھی کل پرسوں “جمعیت علماء نیپال نے”ضلع مہوتری کےغریبوں،محتاجوں میں “کمبل تقسیم” کی ہےاورآنے والے وقت قریب ہی میں تقریبا ہرضلع میں بھی “کمبل” تقسیم کرےگی -ان شاء اللہ العزیز -۔
آمدم برسرمطلب: بتاریخ ۲۱/ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ مطابق ۷/دسبمر۲۰۲۰ء بروز پیر حضرت مولانا محمد قاری طیب صاحب -حفظہ اللہ -کی صدارت میں “برائے استحکام جمعیت علماء نیپال”جمعیت کی ایک ضلعی میٹنگ معہد ام حبیبہ رضی اللہ عنہا للبنات جینگڑیا روتہٹ میں منعقد ہوئی ۔
جس میں نظامت کےفرائض حضرت مولانا محمد شفیق الرحمان صاحب قاسمی -دامت برکاتہم العالیہ-انجام دیئے اور مجلس کاآغاز حضرت مولانا قاری اسرارالحق صاحب قاسمی(ناظم تعلیمات: جامعہ عربیہ دارالعلوم /جینگڑیا ونائب ناظم:معہد ام حبیبہ للبنات)کی تلاوت قرآن سے ہوا۔
پھر متصلاہی محمد انعام الحق متعلم :دارالعلوم /دیوبند نےشان رسالت میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔
حضرت مولانا محمد عزرائیل صاحب مظاہری نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا ۔
اور پھرباضابطہ میٹنگ کاآغاز ہوگیا،جس میں جمعیت علماء نیپال کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا مفتی محمد خالد صدیقی صاحب -زیدمجدہم- نے” جمعیت علماء نیپال” کی موجودہ مختصر خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:کہ” جمعیت علماء نیپال” ابھی کافی حرکت میں ہے ،یہی وجہ ہے کہ اب تک “جمعیت علماء نیپال “کسی ایمبیسی میں اپنااحتجاج درج نہیں کرائی تھی ؛مگر اس دفعہ جمعیت علماء نیپال شان رسالت میں گستاخانہ کارٹون کولےکر فرانسیسی صدر کےخلاف نیپال میں موجود فرانس ایمبیسی میں اپنا احتجاج درج کرائی ہے ۔
اسی طرح چین میں ہورے مسلمانوں پرمظالم کولےکر” جمعیت علماء نیپال” نے حضرت مولانا محمد اصغر صاحب قاسمی ثم مدنی کی قیادت میں چین حکومت کے خلاف بیرگنج میں زبرست احتجاج کی ہے۔
نیز یہ کہ ملک نیپال میں قادیانیوں کاغلبہ ہورہاہے،جس کے خلاف جمعیت علماء نیپال بہت زور شور سے کام کررہی اور اس کے تعاقب میں لگی ہوئی ہے ،جس کانتیجہ اور ثمرہ یہ مرتب ہوا کہ اس کی تعداد میں ایک حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔
اور جمعیت قادیانیوں کے خلاف اس وقت تک کام کرتی رہےگی،جب تک کہ قادیانیوں کا” ملک نیپال “سے مکمل صفایا اورخاتمہ نہ ہوجائے۔
حضرت نے فرمایا :کہ جمعیت لاک ڈاؤن کے موقع سے ہندوستان میں پھنسے نیپالی مسلمانوں کی خوب مدد کی ہے اور جمعیت کی طرف سے ان کےنیپال آنے کاانتظام و انصرام بھی کیاگیاہے۔
نیز حضرت نے مدارس کے منتظمین سے اپیل اور درخواست کی ہے کہ خداکے واسطے ہر ایک “منتظم” اپنے سارے “اساتذہ کرام” کو لاک ڈاؤن کے ایام کی “تنخواہ “ضرور دیں؛ گرچہ اس کےلیے “قرض” لینے ہی کی ضرورت کیوں نہ پڑ جائے ،ورنہ عنداللہ ماخوذ ہوں گے ۔
پھر حضرت نے مندرجہ ذیل پانچ تجاویز پیش کی :
تجویز نمبر (۱ )جمعیت کی ممبر سازی اور ضلعی انتخاب۔
تجویز (۲ )مرکز اوراضلاع کےمالی استحکام پر عملی پیش رفت ۔
تجویز نمبر (۳ ) ۲۰۷۸ میں ہونےوالےمردم شماری کےلیے اشاعتی اورسفری تیاریاں ۔
تجویز نمبر(۴ )مدارس اسلامیہ کےنصابی ،تعلیمی، مالی اور دیگر مسائل کےحل کےلیے اہل مدارس پر مشتمل ملک گیر کانفرنس کاانعقاد۔
تجویز نمبر(۵ )اور متفرقات ۔
اور موجودشرکاء میٹنگ سے کہا:کہ آپ حضرات فقط ان ہی تجاویز کی روشنی میں اپنی اپنی قیمتی رائے پیش کریں ۔
چناں چہ اکثر شرکاء نےمثلا:حضرت مولانا قاری حنیف صاحب مدنی(سکریٹری جمعیت علماء نیپال )،حضرت مولانا شفیق الرحمان صاحب قاسمی،حضرت مولانا محمد طیب صاحب موتی پور،حضرت مولانا علی اصغرصاحب مدنی،حضرت مولانا محمد عبد الستار صاحب مدنی، حضرت مولانا محمد جواد عالم صاحب مظاہری ،حضرت مولانا مفتی محمدناصر صاحب قاسمی،حضرت مولانا محمد درخشید صاحب، حضرت مولانا محمد اسلم جمالی صاحب قاسمی،حضرت انجنئیر عبدالجبار صاحب،حضرت مولانا محمد خیرالدین صاحب مظاہری اور دیگر حضرات نے اپنے اپنےاہم مشوروں سے سامعین کو نوازا۔
واضح رہے کہ اس میٹنگ میں اوپر ذکر کردہ پانچ تجاویز میں سے صرف اور صرف ایک تجویز نمبر ایک :یعنی جمعیت کی ممبر سازی پاس ہوئی ہے۔
اور پھر یہ میٹنگ دعا پر بحسن خوبی اختتام پذیرہوئی۔