بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتجمعیت علماء بہار کے صوبائی مذاکراتی اجتماع پر ایک طائرانہ نظر۔

جمعیت علماء بہار کے صوبائی مذاکراتی اجتماع پر ایک طائرانہ نظر۔

#جمعیت علماء بہار کے صوبائی مذاکراتی اجتماع پر ایک طائرانہ نظر۔

تاثرات:#محمداطہرالقاسمی
نائب صدر جمعیت علماء بہار
10/اگست 2022
____________________________
کل گذشتہ جمعیت علماء ہند کی ریاستی شاخ جمعیت علماء بہار کے زیراہتمام منعقد ہونے والا مذاکراتی/تربیتی/مشاورتی اجتماع بےحد مفید و موثر رہا۔مذاکرے میں پورے بہار سے جمعیت سے وابستہ سینکڑوں ممتاز علماء کرام نے شرکت کرکے اس ورکشاپ سے خوب خوب استفادہ کیا۔
عین عاشورہ کے دن منعقد ہونے والے اس اجلاس میں جب کہ ہرطرف سے محرمی جلوس سے سڑکیں جگہ جگہ جام تھیں پھر بھی تقریباً بہار کے ہر ضلع سے ضلعی اراکین نے پوے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کرکے اس مذاکراتی عمل کو خوب کامیاب بنایا۔
ساتھ ہی ریاستی جمعیت کے صدر حضرت مفتی جاوید اقبال صاحب قاسمی اور ناظم اعلیٰ حضرت مولانا محمد ناظم صاحب قاسمی اور ان کے رفقاء نے مہمانوں کی ہر ممکن بہتر جمعیت علماء بہار کے صوبائی مذاکراتی اجتماع پر ایک طائرانہ نظر۔خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
اس موقع سے جمعیت علماء ہند کے صدر محترم حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی دامت برکاتہم اور ناظم عمومی حضرت مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی دامت برکاتہم کے ساتھ مرکزی جمعیت کے اہم ترین شعبوں کے متعدد ذمےداران کے ایک ساتھ اس اجتماع میں شرکت نے اجتماع کے حسن کو دوبالا کر دیا۔
پروجیکٹر کے ذریعے خوبصورت اونڈا میرج ہال میں منعقد اس مذاکرے کی خوبصورتی یہجمعیت علماء بہار کے صوبائی مذاکراتی اجتماع پر ایک طائرانہ نظر۔ رہی کہ صدر محترم سے لےکر ہر موٹیویٹر نے اپنے مذاکراتی گفتگو سے سامعین کی توجہ اپنی جانب اس طرح متوجہ رکھی کہ باہر سے اندر آکر اچانک حاضرین کو دیکھنے والا یہ تصور کئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا کہ اسٹیج پر ایک مشفق استاذ درس دے رہا ہے اور سامنے گویا طلبہ کی ایک جماعت ہمہ تن گوش ٹکٹکی باندھے اپنے دامن علم و فن کو سمیٹے جارہی ہے۔
سبھوں کے ہاتھوں میں قلم اور ڈائری تھی اور وہ ضروری باتوں کو نوٹ کررہے تھے۔خود میری ڈائری کے پانچ صفحات بھر گئے جبکہ تشنگی باقی رہ گئی۔
ورکشاپ کی خصوصیت یہ بھی تھی کہ باتوں کو سمجھانے کے لئے پروجیکٹر کے ذریعے کوئی چھوٹی سی ویڈیو/تحریر/تجزیہ/رپورٹ/ڈیٹا کا مستقل سہارا لیا گیا حن سے باتیں ذہن نشین ہوتی چلی گئیں۔
مولانا ڈاکٹر ساجد فلاحی نے تو حد کردی؛عزم و عمل اور جماعت و اجتماعیت کے ساتھ کس طرح قوم وملت کی خدمت کی جاسکتی ہے؛ انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز ہی قرآن کریم کی سورۃ النمل کی اس آیت سے کیا:حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِۙ-قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْۚ-لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗۙ-وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ(النمل/۱۸)
ترجمہ:
یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی پر آئے توایک چیونٹی نے کہا: اے چیونٹیو!اپنے گھروں میں داخل ہوجاؤ،کہیں سلیمان اور ان کے لشکر بے خبری میں تمہیں کچل نہ ڈالیں ۔
انہوں نے اسکرین پر چیونٹی 🐜 کی ایک تصویر Play کرتے ہوئے کہا کہ دیکھئے اس آیت میں چیونٹی نے کس طرح اپنی قوم کو اپنی لیڈرشپ کے ذریعے ان پر آنے والے خطرات سے آگاہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہی جمعیت علماء ہند ہے۔یہی جمعیت کا پلیٹ فارم ہے اور یہی آپ کی جمعیت کی بے لوث قیادت ہے۔
انہوں نے پرندوں کے ایک غول اور جھنڈ کی ایک ویڈیو دکھاتے ہوئے کہاکہ یہ دیکھئے ہزاروں لاکھوں پرندے کس طرح اجتماعیت کے ساتھ زمین سے اڑرہے ہیں اور آسمان کی بلندیوں پر قطار در قطار جا اور آ رہے ہیں۔پھر سامعین سے سوال کیا کہ کیا ہم اشرف المخلوقات اور اس کی ذمےدار جماعت علماء کرام آپس میں اجتماعیت کے ساتھ اپنی کوششوں اور محنتوں سے اپنی قوم کی تعمیر وترقی کے ذریعے انہیں آسمان کی بلندیوں پر نہیں لے جاسکتے؟
پھر قائد جمعیت حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی دامت برکاتہم نے اپنے معمول کے برخلاف ایک طویل مذاکراتی خطاب میں تمام خدام و کارکنان جمعیت علماء بہار کو خوب جھنجھوڑا۔ان کی خوبصورت چمکدار پیشانی پسینے سے مسلسل بھیگ رہی تھی مگر وہ چاہتے تھے کہ کس طرح لوگ سوسالہ تاریخ ساز تنظیم جمعیت علماء ہند کے پلیٹ فارم سے موجودہ ملکی حالات کے تناظر میں اپنی قوم کی خدمت اور اس کی تعمیر وترقی کے لئے ایک نئے جذبے اور عزم و ولولے لے کر اٹھ کھڑے ہوں اور جمعیت کے کام کو اپنا ذاتی کام سمجھتے ہوئے اسے اپنے چوبیس گھنٹے کے نظام الاوقات کا حصہ بنالیں۔
انہوں نے اپنے تمام ساتھیوں سے بار بار یہ بات دہرائی کہ کیا ہم قوم کی حالت کو بدل سکتے ہیں؟نہیں۔پھر ہم کیا کرسکتے ہیں؟انہون نے کہا کہ ہمارا کام رضاء الٰہی کی خاطر کوششیں کرنا ہے۔کامیابی تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ اوروں کے یہاں کامیابی،کامیابی میں ہے جبکہ ہماری کامیابی تو کوشش میں ہی ہے۔خواہ ہمیں کامیابی ملے یا نہ ملے۔خواجہ ابو طالب کا قصہ ہمارے لئے ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے۔
انہوں نے بڑے جذباتی انداز میں کہا کہ آپ رد عمل دینا بند کردیجئے،عمل کرنا شروع کر دیجیۓ،ہم یہی درخواست لے کر آج آپ کے پاس آئے ہیں۔
انہوں نے خوبصورت میرج ہال کی مثال دیکر ضلعی و مقامی جمعیت کی اہمیت کو سمجھاتے ہوئے کہاکہ کیا اگر اس بلڈنگ کی بنیاد مضبوط نہیں ہوگی تو آپ اس کے اوپر کثیر منزلہ عمارت تعمیر کرسکتے ہیں؟نہیں۔
تو جس طرح بغیر مضبوط بنیاد کے کوئی مضبوط عمارت کھڑی نہیں ہوسکتی ہے اسی طرح ملک کی ایک بڑی جماعت جمعیت علماء ہند بھی آپ یعنی ضلعی و مقامی جمعیت کی مضبوطی کے بغیر کسی بھی حال میں مضبوط نہیں ہوسکتی۔
الحاصل انہوں نے تمام باتوں کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ آپ تین کام کرلیں کامیاب ہوں گے:
(1)عزم
(2)نظم
(3)جہد مسلسل
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہار کی سرزمین بڑی زرخیز ہے۔ملکی پیمانے پر جتنے ایکٹیو لوگ پورے ملک نے پیدا کئے ہیں اکیلے اس کے آدھے بہار نے پیدا کئے ہیں۔اس لئے بہار کی سرزمین اگر تبدیلی طے کر لے گی تو پورے ملک کے لئے یہ صوبہ مثال بن جائے گا۔
خیر بات طویل ہوگئی۔
باتیں کافی ہیں۔
میں اسی پر اختتام کرتے ہوئے مرکز سے تشریف لانے والے اپنے ان دونوں اکابرین کے ساتھ مولانا ڈاکٹر ساجد فلاحی صاحب،رفیق گرامی مولانا عظیم اللہ صدیقی قاسمی صاحب،برادرم مولانا معظم عارفی صاحب،مولانا محمد خالد گیاوی صاحب وغیرہ کے ساتھ حضرت مفتی جاوید اقبال قاسمی صاحب،حضرت مولانا محمد ناظم قاسمی صاحب،تمام میزبان صاحبان اور پوری ریاست سے تشریف لانے والے تمام معزز اراکین جمعیت کو اس کامیاب مذاکراتی اجتماع کے انعقاد پر اپنی طرف سے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں،کم از کم ہر چھ ماہ پر ایسے مذاکرے کے انعقاد کی درخواست کرتا ہوں اور ساتھ ہی اپنے تمام رفقاء سے دست بستہ اور بڑی عاجزی کے ساتھ درخواست کرتا ہوں کہ پیاری بولیاں بڑی میٹھی لگتی ہیں لیکن عزم و عمل اور افعال و کردار بڑے بھاری ہوتے ہیں۔کل ہم جو کچھ سن کر/دیکھ کر/سیکھ کر/عزم لےکر اپنے مقام کو لوٹے ہیں؛اکابرین جمعیت کی امیدوں سے زیادہ ہم سب ان پر کھرے اترنے کی پوری کوشش کریں اور صدر محترم کی کلیدی ہدایت کے مطابق اپنے چوبیس گھنٹے میں سے روزانہ جمعیت کے لئے دو گھنٹے وقف کردیں قوم یاد رکھے گی انشاء اللہ۔۔۔۔

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!
1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے