ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتجشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم

جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم

کیا جشنِ میلاد النبی اسلامی عمل ہے؟

افسوس ہے کہ ہر آنے والے سال میں بہتیرے مسلمان پہلے سے زیادہ جوش وخروش اور بدعات وخرافات کے ساتھ عید میلاد النبی مناتے ہوئے نظر آرہے ہیں. 30, 35 سال پہلے تک یہ صورتحال نہیں تھی. کل 12 ربیع الاول ہے جسے بہتیرے مسلمان تہوار کی شکل میں مناتے ہیں اور اس کا نام عید میلاد النبی رکھا ہے باوجودیکہ تاریخِ ولادتِ مبارکہ میں مختلف اقوال ہیں اور صحیح ترین ومحقَق قول کے مطابق تاریخِ ولادت 9 ربیع الاول ہے. جشنِ میلاد النبی کو ایک مذہبی عمل اور کارِ ثواب کے طور پر منایا جاتا ہے جبکہ عہدِ رسالت، عہدِ صحابہ، عہدِ تابعین وتبع تابعین اور ائمہِ مجتہدین، ائمہِ اربعہ, محدثین امام بخاری، امام مسلم وغیرہم کے ادوار میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے باوجودیکہ صرف حضور اور صحابہ، تابعین وتبع تابعین یعنی خیر القرون کے زمانوں میں مجموعی طور پر 200 سے زیادہ مرتبہ 12 ربیع الاول آیا. اگر یہ ثواب کا کام ہوتا تو یقیناً یہ حضرات ضرور کرتے اور تاریخِ ولادت بھی قطعی ویقینی طور پر امت کو ضرور معلوم ہوتی.

اسلام میں چونکہ اس کا ثبوت نہیں ہے لہذا اسے ثواب سمجھ کر منانا یقیناً احداث فی الدین اور بدعت ہے اور بدعت سے نبیِ ہدایت صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرمایا ہے اور ظاہر ہے کہ ہر ایسا کام قصداً ثواب سمجھ کرنا جس سے حضور نے منع فرمایا ہے حضور کی نافرمانی اور تقاضہِ محبت کے خلاف ہے اور اس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہئے. بدعت بہت خوبصورت اور خوشنما ہوتی ہے اور عقل کے لبادے میں ہوتی ہے مگر چونکہ دین نقل کا نام ہے لہذا ایسی عقل سخت مہلک ہے جو دین سے متصادم ہو. دین خواہشات کا نام بھی نہیں ہے بلکہ خواہشات کو دین کے تابع کیا جانا چاہیے.

دینِ اسلام بہت صاف وشفاف مذہب ہے. اس میں آمیزش اور adulteration یا alteration قابلِ قبول نہیں ہے. نمازِ مغرب کی تین رکعت کی بجائے اگر کوئی چار پڑھے اور کہے کہ میں اپنی مرضی سے محنت کرکے ایک رکعت اور پڑھ رہا ہوں جس میں اللہ کی حمد وثنا بھی زیادہ ہوگی، اس کی پاکی بھی زیادہ بیان کی جائے گی، قرآن بھی زیادہ پڑھاجائے گا اور درود شریف کی بھی کثرت ہوگی تو اگرچہ بظاہر یہ بہت نیک کام اور معقول ہے مگر درحقیقت یہ سخت گناہ ہے اور ایسا شخص اپنی اس زیادہ عبادت کی وجہ سے بہت بڑا مجرم ہے کیونکہ اس نے اپنی طرف سے دین میں آمیزش کردی اور خلافِ ضابطہ کام کیا. ایسا شخص اللہ اور اس کے رسول کا نافرمان ہے.

دینِ اسلام کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو خطاب کرکے فرمایا : قد تركتكم على البيضاء ليلها كنهارها لا يزيغ عنها بعدي إلا هالك، من يعش منكم فسيرى اختلافا كثيرا، فعليكم بما عرفتم من سنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين عضوا عليها بالنواجذ…

میں نے تمہیں روشن راستے پر چھوڑا ہے جس کی رات بھی دن کی طرح ہے. اس سے انحراف وہی کرے گا جسے ہلاک ہونا ہوگا. جو تم میں سے (میرے بعد) زندگی گزارے گا وہ بہت سارے اختلافات دیکھے گا. لہذا (ایسے وقت میں) تم میرے طریقے اور ہدایت یافتہ خلفاءِ راشدین کے طریقے کو جسے تم جانتے پہچانتے ہو لازم پکڑنا اور اسے خوب خوب مضبوطی سے تھام لینا…

بدعت میں عقیدے کی خرابی ہوتی ہے اور اگر عملی منکرات بھی شامل ہوجائیں تو اس کی سنگینی اور بڑھ جاتی ہے. جشنِ میلاد النبی کے ثواب کا اعتقاد کرنا عقیدے کی خرابی ہے اور اس میں فضول خرچی، ڈھول باجے, پٹاخے, آتش بازی وغیرہ اس میں مزید شدت پیدا کردیتے ہیں. لہذا اہلِ اسلام اور اہلِ سنت والجماعت کو اس سے گریز کرنا چاہئے, رسول وجماعتِ صحابہ کے طریقے پر رہنا چاہیے اور اپنے نادان مسلمان بھائیوں کو نرمی سے سمجھاکر گناہوں سے روکنا چاہئے. انہیں نبی علیہ السلام سے محبت کا صحیح طریقہ بتانا چاہئے. اور انہیں یہ بھی بتانا چاہئے کہ عیسائی حضرت عیسی علیہ السلام کا سالانہ جشنِ میلاد مناتے ہیں لہذا ان کے تشبہ سے بچیں.

اسلام پندرہ سو سالوں کے نشیب وفراز اور مختلف نرم وگرم حالات سے گزرتا ہوا ہم تک پہنچا ہے. بدعات وخرافات نے بارہا اس کے چہرے کو دھندلا کرنے کی کوشش کی ہے مگر علماءِ اسلام ہمیشہ اس کے چہرے کو ایسی گرد اور مٹی سے صاف کرتے رہے ہیں اور انہوں نے اس بارے میں ملامت کرنے والوں کی کوئی پروا نہیں کی ہے. نبی علیہ السلام نے یہ کہہ کر پیشین گوئی بھی فرمادی تھی: يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله ، ينفون عنه تحريف الغالين ، وانتحال المبطلين ، وتأويل الجاهلين” یعنی اس علمِ (دین) کو اپنے ہر پہلے والوں سے اہلِ دیانت وتقوی لینگے اور اسے غلو کرنے والوں کی تحریف, اہلِ باطل کی آمیزش اور جاہلوں کی تاویل سے بچاتے رہینگے.

لہذا مسلمانوں اور بالخصوص علماءِ دین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کو بدعات وخرافات کی آلائشوں سے بچائیں, اس امانت کو اگلی نسلوں تک بغیر آمیزش واضافے کے پہنچائیں اور دنیا میں نبی علیہ السلام کی سچی محبت اور تعلیمات کو پھیلائیں.

محمد عبید اللہ قاسمی, دہلی

مورخہ 11 ربیع الاول 1443 ہجری

 مطابق 18 اکتوبر 2021

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے