جد و جہد و مسلسل ” از : شیبا کوثر ،( آرہ ،بہار )انڈیا ۔

107

اماں نے جانے کیا دیکھ کر عمران سے میرا رشتہ طئے کر دیا تھا۔ شاید اب وہ اچّھے رشتے کی تلاش میں تھک چکی تھیں ۔گو کہ میری عمر بہت زیادہ نہیں ہوئی تھی یہی انیس بیس بہار یں پار کی تھیں ۔ کھینچتے کھینچتے انٹر تک پڑھا۔ابّا سے بہت ضد کی تھی تب جا کر ابّا راضی ہوئے تھے ۔مگر فائنل امتحان نہیں دے سکی ۔میری سہیلیاں ابھی یو نیو ر سٹی کے مزے لے رہی تھیں اور میں چو لہے چو کے میں جھونک دی گئی تھی۔مجھ جیسی متو سط طبقے کی لڑکیؤں کو صرف گھریلو اندھن میں جھلسنا ہوتا ہے ۔

جب شادی کی تاریخ طے پائی تھی اس روز میں بہت روئی تھی۔کتنے سارے خواب میری آنکھوں میں مر چکے تھے ۔یونیورسٹی میں پڑھنے کا خواب میں نے شرو ع سے دیکھا تھا ۔لکچرار بننے کا خواب بنا تھا۔۔۔۔۔۔۔سب خواب بکھر گئے تھے ۔میں اداس دل لیکر سسرال آگئی ۔عمران جیسا شوہر پاکر میں بہت خوش تھی ۔لیکن میری خوشی زیادہ دن تک قائم نہیں رہ سکی ۔عمران دیکھنے میں جتنا اسمارٹ تھا اندر سے اول درجے کا کا ہل تھا ۔اسکی نوکری ایک ہارڈ ویئر دکان میں لگی ہوئی تھی مگر اس کی کاہلی کے با عث اسے وہاں سے نکال دیا گیا تھا ۔چھوٹی نند سے معلوم ہوا کہ وہ ایسا ہی کرتا ہے ۔شرو ع کے دنوں میں جب عمران مجھ سے ہر وقت لگا رہتا ۔۔۔۔۔۔میٹھی میٹھی باتیں کرتا تو مجھے بہت اچّھا لگتا تھا ۔گو کہ وہ مجھ سے بے پناہ محبّت کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔مگر جب پیٹ کی آگ نہ بجھے تو خالی پیٹ میں محبّت بہت بری لگتی ہے ۔

ایک روز میں نے اس کا ٹفن تیار کر دیا اور اس سے کہا کہ فیکٹری چلا جاۓ ۔پچھلے دو دنوں سے وہ ایک فیکٹری میں کام کر رہا تھا ۔

“جانم آج میں نے چھٹی کر لی ہے “۔اس نے ٹفن میرے ہاتھ سے لیکر چار پائی پر رکھ دی ۔

“تم نے یہ کیا ،کیا ۔۔۔۔۔؟ اتنی مشکل سے تو یہ نوکری یم لی تھی میں ایک دم بھڑک اٹھی ۔

“میرا دل نہیں لگتا کام میں “۔وہ آرام سے چار پائی پر سو گیا ۔

“چار پائی توڑنے میں خوب دل لگتا ہے ،مجھ سے رہا نہ گیا ۔پہلی بار میں نے اس سے تیز آواز میں بات کی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھا دیا ۔

“میرا من میں جو کروں ،تم کون ہوتی ہو بولنے والی “۔اس نے غصے میں چلّا کر کہا ۔

میں کیا کہتی چپ چاپ با ورچی خانے میں چلی گئی ۔وہاں ساسو اما ں بھی شرو ع ہو گئیں ۔

“ارے اپنے میاں کو سمجھا ئو کہ کام پر جایا کرے ۔ ایک شوہر تجھ سے نہیں سنبھل رہا ۔۔۔۔۔سوچا تھا کہ گھر میں بہو آئے گی تو سنبھال لے گی ،مگر تو کسی کام کی نہیں ۔۔۔۔ ۔۔۔دونوں کو بس بیٹھے بیٹھے روٹی چاہئے”۔اما ں نے اپنا سارا غصّہ مجھ پر نکالا ۔

متوسط طبقے کی عورت کا یہی المیہ ہے کہ شوہر غلطی کرے مگر مجرم بیوی کو ٹھرا یا جاتا ہے ۔

“اب جا بھی تجھے دیکھ کر میرا دماغ خراب ہو وے ہے ۔۔۔۔۔پہلے تو ایک کھانے والا تھا اب دو دو کو کون کھیلا وے گا “۔میں روٹی اور سبزی لئے بیٹھی تھی مگر ایک بھی نوالہ میرے حلق سے نیچے نہیں اترا۔۔۔۔ہم عورتیں کتنی بے مول ہوتی ہیں جس کے ساتھ چاہا باندھ دیا ۔۔۔۔عزت تو ہوتی ہی نہیں ہر جگہ ڈانٹ ڈپٹ پھٹکار ہی سننے کو ملتا ہے ۔میرے ساتھ اتنی ر عایت تھی کہ عمران یا سسرال والے کبھی مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھا تے تھے ۔عمران کی وجہ کر گھر میں ہر وقت کھنچ کھنچ ہوتی رہتی۔گھر میں میری کوئی عزت نہیں تھی ۔سارا دن کولہو کے بیل کی طرح کام کرتی ساس، سسر ،دیور اور نند سے ہر وقت مجھے ہی طنعے سننے پڑ تے ۔شادی کے بعد میرا کوئی بھی شوق سنگھار پورا نہیں ہوا تھا۔دو رو پیئے کی کلپ تک کبھی عمران نے لا کر نہیں دیا تھا ۔میرے بال ہمیشہ منھ پر جھولتے رہتے۔چوںنکہ میرے بال گھنگھر یالے تھے ۔میرے بکھر ے بال دیکھ کر ایک روز میری نند نے مجھے اپنی استعمال شدہ پرانی کلپ نکال کر دی ۔

“یہ لو بھابھی آپ کے بال بکھر ے رہتے ہیں اچّھے نہیں لگتے”۔اس نے اپنی پرانی کلپ جس کے پینٹ تک اجڑے ہوئے تھے مجھے دئے ۔میری آنکھوں کے نین کٹورے میں بے بسی کے آنسوں تیر نے لگے ۔میں نے رخ موڑ کر اسے اپنے آنچل میں جذب کر لیا ۔

“ارے آج تو تم بہت اچّھی لگ رہی ہو ۔یہ ظالم لٹ جو تمہاری پیشانی پر جھولتی رہتی تھی ،مجھے بالکل اچّھی نہیں لگتی تھی ۔عمران نے میرے کلپ لگے بالوں کی تعر یف کی مگر مجھے ذرا بھی خوشی نہیں ہوئی ۔۔۔۔ اگر وہ مجھے ایک جوڑا سستی سی کلپ لاکر دیتا تو میں خوشی سے پھولے نہیں سما تی ۔

اماں کے بہت بلانے پر جب میں مائیکے جانے کے لئے تیار ہوئی تو میرے پاس ڈھنگ کا کوئی جوڑا نہیں تھا جو میں زیب تن کر لیتی ۔میں نے وہی پرانی لال پرینٹڈ پھولدار ساڑی نکالی جو شادی کے پا لٹ میں اما ں نے بکسے میں دیا تھا مگر اب وہ نیچے سے سکڑ چکی تھی۔میں نے استر ی گرم کیا اور بڑی محنت کے بعد وہ پہننے کے لائق ہوئی ۔چپپل نکالا تو اس کے بیلٹ ٹوٹے ہوئے تھے ۔میرے پاس ایک جوڑی چپپل بھی نہیں تھی ۔اس سے بڑا دکھ اور کیا ہو سکتا ہے کہ جوان جہان شوہر کے رہتے ہوئے میں ایک بھیکاری کی سی زندگی گزار رہی تھی ۔نند نے اپنی سینڈ ل نکال کر دی جو وہ اسکول پہن کر جاتی تھی ۔میں تیار ہو کر باہر نکل آئ ۔عمران میرا انتظار کر رہے تھے ۔مجھے دیکھتے ہوئے کہنے لگے ۔۔۔۔” نازیہ سینڈ ل تم پر بہت سوٹ کر رہا ہے “۔

“خاک سوٹ کر رہا ہے ،میں نے غصّے سے انہیں گھو را ۔انہوں نے میرا غصّہ نظر انداز کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔یہ سینڈ ل روشنی سے تم نے لی ہے ۔”

“حد ہوتی ہے بے غیرتی کی “۔میں احتجاج کئے بنا نہیں رہ سکی۔ ”

روشنی کے لئے ابا لاتے ہی رہتے ہیں۔۔۔ اس سے لے لینے میں کیا حرج ہے ۔

وہ اب بھی بعض نہیں آیا تھا، مانگے کی پہنا کر شرم نہیں آتی آپ کو ۔۔۔۔۔جوان ہیں صحت مند ہیں کما کر پہنا ئیں ۔۔۔۔میری بات سن کر بھڑک اٹھے ۔

“تمہارا سارا شوق تو پورا ہو رہا ہے ۔۔۔ ۔۔کس چیز کی کمی ہے ۔کیا کبھی میں نے تمہیں بھوکا رکھا ہے اور ابّا کس دن کے لئے ہیں ۔

افف انکی ذہنیت کتنی چھوٹی تھی ۔۔۔۔۔میں اندر ہی اندر رونے لگی ۔وہ بدلنے والے نہیں تھے ۔۔۔۔۔میں نے بہت کوشش کی تھی ۔بہت سمجھایا تھا کہ وہ کوئی کام کریں مگر وہ اول درجے کے کاہل کے کاہل ہی رہے ۔

میں مائیکے آئ تو میری سہیلیا ں مجھ سے ملنے آگئیں وہ سب بہت خوش تھیں ۔صائمہ میری سب سے عزیز سہیلی تھی ۔وہ ایک پرا ئیوٹ اسکول میں ٹیچر تھی ۔میں نے اس سے اپنے لئے بات کی تو وہ کہنے لگی ۔

“دیکھو ناز اسکول میں کم سے کم گر یجویٹ کو لیتے ہیں اور تم تو انٹر پاس بھی نہیں ہو ۔لوگ صلاحیت نہیں ڈگری دیکھتے ہیں “۔

“تم کوشش تو کرو صائمہ “۔میں نے منت و خوشامد ی بھرے لہجے میں کہا ۔

“مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے میری پیاری دوست ۔۔۔۔لگ بھگ سارے اسکول اچّھے اسکول کی پہلی شرط یہی ہے ۔ہمارے اسکول میں زیادہ تر ایم اے۔ بی ایڈ ٹیچر ہیں ۔تم کوئی دوسرا راستہ سوچو ۔

“میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ہے تم ہی بتاؤ ۔”مستقل ذہنی تناو میں رہنے کی وجہ سے میرے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی ختم ہو گئی تھی ۔

“تم گھریلو کام مثلا ًسلائی کڑھائی وغیرہ بھی تو کر

سکتی ہو ۔تم نے اس کی ٹریننگ اسکول میں لی بھی تھی ۔۔۔۔صائمہ نے ایک نئی تجو یز رکھی ۔

صائمہ کو میں نے اپنے حالات بتا دئے تھے ۔یوں بھی کب تک میری حالت اس سے چھپی رہتی ۔میری پھٹی اوڑھنی کبھی نہ کبھی ضرور چغلی کھا لیتی ۔

اپنے حالات کو سنبھالنے کے لئے میں نے لوگوں کے کپڑے سینے شرو ع کر دئے ۔آج اسی سے دس ہزار روپے آ جاتے ہیں ۔بس کسی طرح سے اس مسلسل جد و جہد کرتی زندگی کی گاڑی کھینچ رہی ہوں ۔سوچتی ہوں اما ں ابّا نے اگر آگے پڑھا یا ہوتا تو میں بھی صائمہ کی طرح کسی اسکول کی ٹیچر ہوتی ۔پھر مجھے یوں مشقت نہیں کرنی پڑتی ۔میری دو بیٹیاں ہیں میں اسے خوب پڑھاوں گی تاکہ وہ اپنی اس مسلسل جد و جہد زندگی کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہو جائیں۔!!