جدید غزلوں کا ایک پیارا نام بشیر بدر!

118

از قلم :- شیبا کوثر ،(آ رہ ،بہار )انڈیا

اردو ادب کی دنیا میں ڈاکٹر بشیر بدر کی شخصیت  کسی تعا ر ف کی محتاج نہیں ہے ۔غزلوں کو نیا خون عطا کرنے میں وہ اپنے دور کے تمام شعراء کے پیشِ زد ہیں ۔اور یہی وہ صنفِ سخن ہے جس میں ان کی انفرادیت کی شان نمایاں طور پر نظر آتی ہے ساتھ ہی ساتھ بشیر بدر اپنے رنگ کے منفرد نقاد بھی ہیں اس طرح انکی شخصیت بڑی تہ دار ہے ۔سید محمّد بشیر ،بشیر بد ر کے نام سے مشہور ہیں ۔انکی پیدائش 15 فروری1935ء میں ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں ہوئی ۔ان کی آعلیٰ تعلیم علی گڑھ مسّلم یونیورسٹی میں ہوئی ۔انکی شریک حیات راحت بدر ہیں ۔ان کے دو فرزند ،نصرت بدر اور معصوم بدر اور اور ایک دختر ہیں ۔اپنی تعلیم اور ملازمت کے دوران میں علی گڑھ مسّلم یونیورسٹی میں مقیم رہے بعد میں میرٹھ میں مقیم رہے پھر دہلی ۔دہلی میں گھر آگ حادثہ کا شکار ہو جانے کی وجہ سے شہر بھو پال منتقل ہو گئے ۔فی الحال بھوپال میں ہی مقیم ہوں ۔
برسوں پہلے ڈاکٹر بشیر بدر نے کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نجانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے۔

بس یہ شعر بشیر بدر کی شناخت بن گیا،بلکہ بعض نقادوں کے خیال میں یہ شعر اپنے شاعر کے مقابلوں  میں دوچار گز آگے دکھائی دے گا۔
لیکن بشیر بدر کی تعارف کے لئے فقط ایک شعر کافی نہیں ہے بلکہ انہوں نے  “اکائی “اور “امیج” تک طو یل تخلیقی سفر طے کیا ہے ،چاہے وہ مشاعرے کا اسٹیج ہو یا رسالے کے  صفحات ہر جگہ انہوں نے سا معنی اور قارئین حضرات پر اپنے فنی شعور کی چھا پ  بیٹھائی ہے ۔بھلے سے بشیر بدر کی نگاہ میں “پانی کی قبر یں “ہیں جہاں ایک مخلوق مشا عرے میں پیدا ہوتی ہے اور مشاعرے میں مر جاتی ہے لیکن یہ حقیقت روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ مشاعرے اور رسالے ہزارہا زندہ دل مخلوق ان کے اشعار پر سر دھنونتی نظر آتی ہے ۔بقول مخمور سعیدی کے ____
“بشیر بدر کی غزلیں ذہنی آسو دگی اور تہذیبی فضا کی جیتی جاگتی روح کی تصویر پیش کرتی ہیں،ایسے ہلکے پھلکے لفظوں میں جو شکوہ سے دور لیکن سادگی کے حسن سے بہرہ ور ہیں ۔یہ غزلیں تازہ ہوا کے نرم جھونکے کی طرح ذہن کو چھوتی ہوئی دل میں اتر جاتی ہیں “۔
بشیر بدر کی مقبو لیت کی وجہ ان کی انفرادیت ہے ۔کلام میں سادگی اور شوخی ہے جو ذہن و دل کو متاثر کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔وہ معمولی سے الفاظ کو خوبصورت شعری پیکر میں ڈھال دیتے ہیں ۔
خدا ایسے احساس کا نام ہے
رہے سامنے اور دکھائی نہ دے
۔_______
محبّت ،عداوت،وفا بے رخی
کرائے کے گھر تھے بدلتے رہے
۔_________
اب کسے چاہیں کسے ڈھونڈھا کریں
وہ بھی آخر مل گیا اب کیا   کریں
۔۔___________
دل ،محبّت ،دین دنیا ،شا عری
ہر دریچے سے تجھے دیکھا کریں
۔۔____________
کانچ کے موتیوں کے،آنسو کے
سب کھلوںنے  غزل  میں ڈھلتے ہیں
۔___________
شام کے بعد بچوں سے میں کیسے ملوں
اب میرے پاس کوئی  کہانی  نہیں
۔______________
کچھ   تو  مجبوریاں رہی  ہوں گی
یوں  کوئی  بے وفا  نہیں  ہوتا
جی چاہتا ہے سچ  بولیں
کیا کریں ۔حوصلہ  نہیں  ہوتا
گفتگو  ان سے روز ہوتی ہے
مدّتوں  سامنا نہیں  ہوتا
۔___________
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
۔__________
بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا
جہاں دریا سمندر سے ملا دریا نہیں رہتا
۔________
نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی
بڑی آرزو    تھی   .  ملاقات   .  کی
۔_______
نئے دور کے نئے خواب ہیں نئے موسموں کے نئے گلاب ہیں
یہ محبّتوں کے چراغ ہیں  انہیں  نفرتوں کی  ہوا نہ دے
۔____________
کبھی پا کے  تجھ کو کھونا کبھی کھو کے  تجھ کو پانا
یہ جنم جنم کا رشتہ تیرے میرے درمیاں  ہے
۔_____________
اداس آنکھوں سے آنسو نہیں نکلتے ہیں
یہ موتیوں  کی طرح سیپوں  میں پلتے ہیں
۔____________
میرے سینے پر پھر خوشبو نے سر رکھ دیا
میری بانہوں میں پھولوں کی ڈالی رہی
۔___________
ڈاکٹر بشیر بدر کا پہلا شعری مجمو عہ” اکا ئی “(1949) میں طبع ہوا۔ اور اسی وقت سے بشیر بدر کی انفرادیت کا احساس بھی پختہ ہوا ۔
بقول عزیز اندور ی ____”انہوں نے بھر پور فکری انداز کو اپنا تے ہوئے لہجے کی بے تکلفی  کے ساتھ ہی  جدید علامت وں اور نئے نئے الفاظ کے استعمال سے نئی شعر ی معنو یت کو ابھا را ہے۔ان غزلوں کے بیشتر اشعار فکر و فن کے حسن سے مز ئین  ہیں ۔”
ان کے دوسرے غزلوں کا مجموعہ “ایمج “(1973 ) میں منظر عام پر آیا ۔جس کے بارے میں پروفیسر آل احمد سرو ر  رقم طراز ہیں ____”امیج” میں نیا احساس  نئی  تشبیہوں نئے استعارو ں ،نئی تصویروں اور نئے پیکر وں سے  کھیل رہا ہے اور یہ کھیل بھی معنی خیز ہے ۔یہاں جسم کی آنچ اور روح کی پیاس بھی ہے اور بدلتی ہوئی زندگی کے  جذبات اور  احساسات کے نئےمظا ہرے بھی “امیج”  ان کے کلام کی بنیادی خصوصیات کی بڑی اچّھی نمائندگی کرتا ہے ۔
حقیقت سرخ مچھلی جانتی ہے
سمندر کتنا بوڑھا دیوتا  ہے
۔________
آنسوں کبھی پلکوں پر تا دیر نہیں رکھتے
اڑ جاتے ہیں یہ پنچھی جب شاخ لچکتی ہے
۔________
شہرت کی بلندی بھی دو پل کا تماشہ ہے
جس شاخ پر بیٹھے ہوں ٹوٹ  بھی سکتی ہے
۔________
بشیر بدر کے دونوں شعر ی مجموعہ کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ بشیر بدر ناصر کاظمی کے بعد سب سے معتبر جدید غزلوں کے غزل گو شاعر ہیں ۔اسی لئے بیشتر جدید شعراء انکی شعری کی تقلید کر رہے ہیں ۔چنا نچہ شہر یار کا خیال ہےکہ نئی غزل پر  کسی عنوان سے گفتگو کی جائے ،بشیر بدر کا فکر ضرور آئے گا ۔ ان کا “اکا ئی “اور “امیج ” سے بالکل الگ لب و لہجہ مشاعرو ں میں نظر آتا ہے ۔جہاں وہ اپنے مخصوص ترنم اور انداز و بیاں سے سامیعن کا دل موہ لیتے ہیں ۔
اتنی ملتی ہے میری غزلوں سے صورت تیری
لوگ تجھ کو میرا محبوب سمجھتے ہونگے ۔
۔________
ابھی اسطرح نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں
میرا لفظ لفظ ہو آئینہ تجھے آئینہ میں اتار لوں
۔__________
وہ فراق ہو کہ وصال ہو تیری یاد مہکے گی ایکدن
وہ گلاب بن کر کھلے گا کیا جو چراغ بن کے جلا نہ ہو
۔__________
کبھی یوں بھی آ میری آنکھ میں کہ میری نظر کو خبر نہ ہو
مجھےایک رات نواز دے مگر اس کے بعد سحر نہ ہو
۔________
میری  داستان کا عروج تھا تیری نر م پلکوں کی چھاؤں
میرے ساتھ تھا تجھے جاگنا تیری آنکھ کیسے جھپک گئی
۔_______
تجھے بھول جانے کی کوشیش کبھی کامیاب نہ ہو سکیں
تیری یاد شاخ گلاب ہے جو ہوا چلی تو  لچک  گئی ۔
۔__________
الغرض بشیر بدر کی حیثیت مشاعرے سے لیکر رسالے تک مسلم ہے۔ وہ مشاعرں اور رسالوں میں یکساں مقبول نظر آتے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے تقریباً ہر شعر میں نئے انداز سے کچھ بات کہنے کی کوشش کی ہے ،چاہے اس کا تعلق جدید یت سے ہو چاہے انسان کے لافانی جذبات سے ۔جدید غزل میں ان کی حیثیت سنگ میل کی سی ہے ۔
لہذا عادل منصوری کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے یہ کہنا پڑتا ہے کہ جدید غزلوں کا سب سے پیارا نام بشیر بد ر ہے ۔!!
ختم شد )