جب قوموں میں بد عملی، ، غفلت، بے راہ روی اجتماعی طور پر گھر کر جائے تو تباہی و بربادی اس کا مقدر بن جاتی ہے: محمد حسان ندوی

50

جب قوموں میں بد عملی، ، غفلت، بے راہ روی اجتماعی طور پر گھر کر جائے تو تباہی و بربادی اس کا مقدر بن جاتی ہے:
محمد حسان ندوی

دھن گھٹا ( سنت کبیر نگر )
(رپورٹ عقیل احمد خان)
انسان یقینا ہر دور میں کوشش کی ہے کہ اس کی اجتماعی معاشرتی زندگی مستحکم رہے۔ جب حیاتِ انسانی کے ارتقا پر نظر ڈالیں تو ہمیں اِس کا رخ اجتماعیت کی طرف ہی نظر آتا ہے۔ تاریخ انسانی نے مختلف معاشرے تشکیل دیئے اور گردشِ زمانہ نے مختلف معاشروں کو پیوند خاک بھی کیا جب وہ اجتماعی طور پر فطرت کے خلاف چلیں ، جب وہ قانون قدرت کو توڑ کر اس کی نافرمان و گستاخ بن جائیں،اور خدا کے متعین کردہ اصولوں سے انحراف کیا،بنی نوع انسانی کو انفرادی بد عملی کی سزا دنیا میں نہیں ملتی اس کا حساب کتاب آخرت میں ہے مگر جب قومیں اجتماعی طور پر بدعمل ہو جائیں تو اس کی سزاء دنیا ہی میں مل جایا کرتی ہے۔ جب قوموں میں بد عملی، بد خلقی، غفلت، بے راہ روی اجتماعی طور پر گھر کر جاتی ہے تو تباہی و بربادی اس کا مقدر بن جاتی ہے،
مذکورہ بالا خیالات کا اظہار مولانا محمد حسان ندوی ناظم مدرسہ عربیہ مصباح العلوم مہولی نے نمائندہ سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا،مولانا نے کہا کہ تاریخ نے ایسے کئی مناظر دیکھے بھی ہیں۔ قرآن کریم نے بھی مختلف قوموں کی تباہی کا ذِکر کیا ہے جن میں اخلاقی خرابیاں اجتماعی طور پر گھر کر گئی تھیں،
” کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کردیا جنہیں ہم نے زمین میں ایسا مضبوط و پائیدار اقتدار دیا تھا کہ ایسا اقتدار تمہیں بھی نہیں دیا اور ہم نے ان پر لگا تار برسنے والی بارش بھیجی اور ہم نے ان (کے مکانات و محلّات) کے نیچے سے نہریں بہائیں پھر (اتنی پرعیش و عشرت والی زندگی دینے کے باوجود) ہم نے ان کے گناہوں کے باعث انہیں ہلاک کردیا اور ان کے بعد ہم نے دوسری امتوں کو پیدا کیا(الانعام 6)۔
اور بیشک ہم نے تم سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کر دیا جب انہوں نے ظلم کیا، اور ان کے رسول ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایمان لاتے ہی نہ تھے، اسی طرح ہم مجرم قوم کو ان کے عمل کی سزا دیتے ہیں )
پس کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جو ظالم تھیں ہم نے انہیں تباہ کر دیا تو وہ اپنی چھتوں سمیت گری پڑی ہیں اور کئی ایک بیکار کنویں اور کتنے ہی مضبوط محل ویران پڑے ہیں۔ کیا انہوں نے کبھی زمین میں گھوم پھر کر نہیں دیکھا کہ اُن کے دل اِن باتوں کو سمجھنے والے ہوتے یا کانوں سے ہی ان کی باتیں سن لیتے، بات یہ ہے کہ صرف ان کی آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوئیں( یعنی یہ لوگ اپنی آنکھوں سے تاریخ پر نظر دوڑا کر عبرت حاصل نہیں کرتے کہ ان سے پہلو تہی کا کیا انجام ہوا ہم سے غافل ہونے کے سبب بلکہ ان کے دل بھی اندھے ہو چکے ہیں جو سینوں میں پڑے ہیں( مردہ حالت میں جنہیں کوئی سوجھ بوجھ نہیں)(الحج46,45)۔
ہم تاریخ پر نظر دوڑاتے ہیں تو اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ بحیثیت مجموعی انسان کی معاشرتی زندگی میں بگاڑ غالب رہا اور اصلاح کے بہت کم آثار دیکھنے کو ملتے ہیں ،اسی مجموعی بگاڑ کے نتیجہ میں قومیں زوال پذیر ہوئیں اور اپنے انجام کو پہنچیں،
جب ہم قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ قدرت قوموں کے عروج وزوال اور تباہی و بربادی کے قوانین کے اطلاق میں قوموں کے درمیان فرق نہیں کرتی، جو قوانین یہود و نصاریٰ کیلئے ہیں وہی امتِ مسلمہ کیلئے ہیں، جو اصول اہل باطل کیلئے ہیں وہی اہل حق کیلئے ہیں، جو ضابطے اہل کفر کیلئے ہیں وہی اہل ایمان کیلئے ہیں۔ قرآن کریم میں بیان کردہ قوانین اٹل ہیں جن میں تبدیلی نہیں ہوا کرتی ہے۔ان کو ’’سنۃ اللہ ‘‘ کہا گیا ہے۔
سُنَّۃَ اللّٰہِ فِیْ الَّذِیْنَ خَلَوا مِنْ قَبْلُ، وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا۔
یہی اللہ کی سنت ، اللہ کا قانون، اللہ کا اصول و ضابطہ اور طور طریقہ رہا ہے،ان لوگوں میں جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور یہی تمہارے لیے ہیں تم اللہ کے قانون و ضابطے میں کوئی تبدیلی ہرگز نہیں پاؤ گے۔

قرآن کا پیمانہ ہمارے سامنے ہے اس سے ہم خود کو پرکھ سکتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے؟ اس وقت ملت اسلامیہ کئی بڑے بڑے فتنوں اور صدموں میں گھری ہے۔ ہر بڑا فتنہ چاہے وہ ملکی سطح پر ہو یا عالمی سطح پر ، فلسطین اور کشمیر کا، این آر سی سی اے اے ،یہ سب امتِ مسلمہ کوبیدار کرنے، آزمائش، اورانھیں خوابِ غفلت سے جگانے کیلئے رونما ہورہے ہیں کہ یہ سب دیکھ کے ان کا خون ان کا سویا ضمیر جاگتا ہے یا نہیں، ان کی مری ہوئی غیرت جاگتی ہے یا نہیں ،
اللہ تعالیٰ اور رسول سے محبت کا ذریعہ ، ذکر ، شکر ، فکر اور دینی عبادات ہماری مدد کا ذریعہ ہے، مگر شاید ہم ان سب آزمائشوں میں بری طرح ناکام ہو رہے ہیں، ہماری مردہ غیرت نہیں جاگی، ہمارے سوئے ضمیر بیدار نہیں ہوئے۔ فلسطین و کشمیر ، برما میں مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے، قوم کی آنکھیں نہیں کھل رہی ہے،
مگر افسوس ہم نے دشمن کی للکار پر کان نہیں دھرے۔ہم 313تھے تو زمانے کی کایا پلٹ دی، آج ہم کروڑوں میں ہیں مگر کوئی حیثیت نہیں رکھتے، مگر ہماری پوری ملت اسلامیہ کے وجود کی مٹی اس سے بھی گئی گزری ہے، بالکل بے جان ہے کہ کوئی دید ہ ور پیدا نہیں کر پا رہی جو سائبان بن کر امت پر سایہ فگن ہو،حیف صد حیف اتنے مصائب اور مشکلات کے آجانے کے باوجود ہماری قوم ہوش کے ناخن نہیں لے پارہی ہے،اب اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ ہمارے قائدین جو ہمارے رہبر بنتے ہیں ہر معاملات میں لیکن جب کوئی اہم مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو ہمارے قائدین قاعدین کا روپ اختیار کرلیتے ہیں،اور ان کی خاموشی کو دشمن اپنی دلیل بناتا ہے, اس لئے مجموعی طور پر ہم سب کو بیدار مغزی کے ساتھ مخالفین کے ہر معاملے اور ان کی ہر سازش کو سمجھنا ہوگا اور وقت رہتے ہی اس کا تدارک کرنا ہوگا ورنہ یہ قوم مزید پست ہمت بزدل اور کمزور ہوجائے گی،