ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتجام پے جام پیا اور مسلمان رہے!

جام پے جام پیا اور مسلمان رہے!

رشحات قلم: ارشد کبیر خاقان مظاہری؛سکریٹری: تنظیم فلاح ملت(رجسٹرڈ)
مدرسہ نور المعارف، مولانا علی میاں نگر، دیا گنج، ضلع ارریہ بہار

دنیا کے تمام مذاہب کاایک ایسا مشترکہ باب جس پر کسی کا کوئی اختلاف نہیں، وہ ”اخلاق“ہے، قوم خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہو”اخلاق“اس کی زندگی کی بقاء اور فلاح و بہبود کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، معاشرہ اصلاح پذیر ہو تو اس سے با صلاحیت اورصحت مند قوم وجود میں آتی ہے،اگر بگاڑ کا شکار ہو تو اس کا فساد اور مضر اثرات قوم کو گھن کی طرح کھا کر تباہ و برباد کردیتے ہیں، عمدہ اوصاف ہی وہ کردارہیں جس کی قوت پر کسی قوم کے وجود، استحکام و بقا کا انحصار ہوتا ہے،دنیا میں ترقی حاصل کرنے والی قوم ہمیشہ اچھے اخلاق کی مالک ہوتی ہے جبکہ برے اخلاق والی قوم زوال پذیر ہوجاتی ہے،وہ معاشرہ کبھی مہذب نہیں بن سکتا جس میں اخلاق ناپید ہوں،اس معاشرہ میں اخوت و باہمی بھائی چارہ،مساوات و اجتماعی رواداری کبھی پروان نہیں چڑھ سکتی، جس معاشرے میں جھوٹ اور بددیانتی عام ہوجائے وہاں کبھی امن و سکون نہیں ہوسکتا۔ جس ماحول یا معاشرہ میں اخلاقیات کوئی قیمت نہ رکھتی ہوں اور جہاں شرم و حیاء کی بجائے اخلاقی باختگی اور حیا سوزی کو منتہائے مقصود سمجھا جاتا ہو اُس قوم اور معاشرہ کا صفحہ ہستی سے مٹ جانا یقینی ہوجاتا ہے خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم۔

اخلاقیات ہی انسان کو جانوروں سے ممتاز کرنے والی واحد شئے ہے،اخلاق کے بغیر انسانوں کی جماعت حیوانوں کا ریوڑ کہلائے گی،انسان کے تمام معاملات اس وقت تک ٹھیک چلتے ہیں جب تک عقلی قوت اس کے اخلاقی رویہ کے ماتحت کام کرتی ہے،اس کے برخلاف جب اس کے کالے،سفلی اور گھناؤنے جذبے اس پر غلبہ پا لیتے ہیں تو یہ نہ صرف اخلاقی وجود سے ملنے والی روحانی توانائی سے اسے محروم کر دیتے ہیں بلکہ اس کی عقلی استعداد کو بھی آخر کار کند کر دیتے ہیں،انسان کی اخلاقی حس اسے اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ کر تی ہے،یہ نہ ہو تو نتیجے میں معاشرہ درندگی کا روپ دھار کرانسان نما درندوں کا منظر پیش کرنے لگتا ہے اور یہ سب اخلاقی بے حسی کا نتیجہ ہوتا ہے۔اخلاقی حس جب تک لوگوں میں باقی رہتی ہے وہ اپنے فرائض کو خوش دلی اور ذمہ داری سے پورا کرتے ہیں اور جب یہ حس مردہ اور وحشی ہوجائے تو پورے معاشرے کو مردہ اور وحشی بنا دیتی ہے،پھر وہ لوگوں کی محنت اور کوششوں کو بھول کر قابض ہونا اور حقوق کو خونی درندے کی طرح کھانے لگتا ہے،نتیجتاََ ایسے معاشرے میں ظلم و فساد عام ہو جاتا ہے۔حیوانی حس کا وجود صرف چھیننا اوردوسروں کے سرمایہ پر قبضہ کرنا جانتا ہے مگر دینا نہیں،چاہے اس اخلاقی بے حسی کی وجہ دوسروں کی موت کی قیمت پر ہی کیوں نہ ہو، بد قسمتی سے یہ صورت حال ہمارے معاشرے کے ہر طبقہ میں جنم لے چکی ہے۔

اجتماعی زندی کا اصل حسن رواداری،احسان،اخوت،ایثار، حسن معاملات اور قربانی سے جنم لیتا ہے، مسلمان کی پہچان ہی اخلاق سے ہے۔ اگر اخلاق نہیں تو مسلمان نہیں۔یہ ہو نہیں سکتاکہ ایک مسلمان ایمان کا تو دعویٰ کرے مگر اخلاقیات سے عاری ہو۔ہمارے پیارے نبی کریم کائنات میں اخلاقیات کاسب سے اعلیٰ نمونہ ہیں جس پر اللہ جل شانہ کی کتاب ِ لاریب مہرتصدیق ثبت کر رہی ہے۔ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ (القلم4)۔ ”بے شک آپ بڑے عظیم اخلاق کے مالک ہیں۔“ایسا کیوں نہ ہوکہ آپ مکارم اخلاق کے اعلیٰ معارج کی تعلیم و تربیت اور درستگی کے لیے مبعوث فرمائے گئے۔جیسا کہ خودآپ مالک ِ خلق عظیم فرماتے ہیں اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ ”میں اعلیٰ اخلاقی شرافتوں کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں۔“(حاکم، مستدرک)۔ یعنی میں اعلیٰ اخلاق کی تمام قدروں کو عملی صورت میں اپنا کر، اپنے اوپر نافذ کر کے تمہارے سامنے رکھنے اور ان کو اسوہ حسنہ بنا کر پیش کرنے کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زند گی پیکر ِ اخلاق تھی، آپ کا اخلاق قرآن کے احکام و ارشادات کا آ ئینہ تھا، قرآن کا کوئی خلق ایسا نہیں ہے جس کو آپ نے اپنی عملی زندگی میں نہ سمو لیا ہو۔اسی لیے قرآن کریم میں اللہ عزوجل نے ہمیں نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الاحزاب21)۔ ”بے شک تمہارے لیے اخلاق کے اعلیٰ معارج کی تکمیل کرنے کیلئے رسول اللہ کی پیروی کرنے میں بہترین نمونہ ہے۔“ تعلیمات اسلامی کا لب لباب اخلاق کو سنوارنا اور نکھارنا ہے جس کی تائید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی سے ہوتی ہے اَکْمَلُ الْمُوْمِنِیْنَ اِیْمَانًا اَحْسَنُہُمْ خُلُقًا (ابوداؤد۔4686)”مسلمانوں میں کامل ترین ایمان اس شخص کا ہے جس کے اخلاق سب سے بہترین ہوں“۔

حسن اخلاق کیا ہیں؟:
اخلاق کی ترتیب دیتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اخلاق یہ ہیں کہ کوئی تمہیں گالی دے تو تم جواب میں اس کو دعا دو،یعنی گالی کا جواب گالی سے نہ دو بلکہ دعا اور اچھے الفاظ سے دو۔ جو تمہیں برا کہے تم اس کو اچھا کہو، جو تمہاری بد خوئی کرے تم اس کی تعریف اور اچھائی بیان کرو، جو تم پر زیادتی کرے تم اسے معاف کر دو۔“صِلْ مَنْ قَطَعَکَ وَاَعْطِ مَنْ حَرَمَکَ وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَکَ (مسند احمد (16999 ہمارے لئے اخلاق کی ترتیب کا سب سے اعلیٰ نمونہ یہ ہی ہے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان فرمودہ اس ترتیب پر اگرہمارا معاشرہ عمل کرلے تو معاشرہ سے تمام اخلاقی خرابیاں خود بخود ختم ہو جائینگی اور معاشرہ امن، اخوت، بھائی چارہ کا گہوارہ بن جائے گا۔

حسن اَخلاق کی ایک پہلو کے اعتبار سے تعریف:
اچھائی اور خوبصورتی کو”حسن“ کہتے ہیں، ”اَخلاق“ جمع ہے ”خلق“ کی جس کا معنی ”رویہ، برتاؤ، عادت“ کے ہیں۔یعنی لوگوں کے ساتھ اچھے رویے، اچھے برتاؤاور اچھی عادات کو حسن اَخلاق کہتے ہیں۔امام غزالی رَحمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہِ فرماتے ہیں:”اگر نفس میں ایسی کیفیت موجود ہو کہ اس کی وجہ سے ادا ہو نے والے اچھے افعال شرعی اور عقلی طور پر پسندیدہ ہوں تو اسے حسن اخلاق کہتے ہیں اور اگر نا پسندیدہ افعال سرزد ہوں تو اسے بد اخلاقی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

حسن اخلاق سے مراد؟:
حسن خلق سے مراد نیک خوئی اور اچھی خصلت ہے۔ مسلمان کے لئے عمدہ اور حسین اخلاق کا مالک ہونا بہت ضروری ہے۔ اخلاق حسنہ میں عفو و درگزر، صبر و تحمل، قناعت و توکل، خوش خلقی و مہمان نوازی، توضع و انکساری، خلوص و محبت، جیسے اوصاف قابل ذکر ہیں۔ حُسن خلق کی بڑی علامت یہ ہے کہ جب کسی پر غصہ آئے اور اسے سزا دینا چاہے تو نفس کو ہدایت کرے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:وَالْکَاظِمِینَ الْغَیْظَ وَالْعَافِینَ عَنِ النَّاسِ(آل عمران، 3: 134)”اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے (ان کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں“۔

حسن اَخلاق میں شامل نیک اعمال:
حسن اَخلاق کا مفہوم حقیقت میں بڑاوسیع ہے، اس میں کئی نیک اعمال شامل ہیں چند اعمال یہ ہیں: حرام سے بچنا، حلال حاصل کرنا، اہل وعیال پر خرچ میں کشادگی کرنا، پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنا، مشقتوں کو برداشت کرنا، برائی سے خودکود کو بچانا اور دوسروں کو منع کرنا،بھلائی کا حکم دینا، حقوق العباد کی ادائیگی کرنا، لوگوں میں صلح کروانا، قطع تعلق کرنے والے سے صلہ رحمی کرنا،معافی کو اختیار کرنا،محروم کرنے والے کو عطا کرنا،ظلم کرنے والے کو معاف کردینا،خندہ پیشانی سے ملاقات کرنا، غصہ پی جانا،غصے کے وقت خود پر قابو پالینا، بردباری،نرم مزاجی سے کام لینا،کسی کو تکلیف نہ دینا، عفو ودرگزر سے کام لینا، ظالم کو اس کے ظلم سے روکنا اور مظلوم کی مدد کرنا، کسی کی پریشانی دور کرنا،لاوارث بچوں کی تربیت کرنا، کمزوروں کی کفالت کرنا، بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت کرنا، علماء کا ادب کرنا، مسلمانوں کو کھانا کھلانا، لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملنا، مسلمان بھائی کے لیے مسکرانا اور خیر خواہی کرنا، جاہلوں سے اعراض کرنا،دعائے مغفرت کرنا۔وغیرہ وغیرہ۔

حُسن اخلاق: ایمانِ کامل کی علامت:
اخلاق کی معمولی قسم یہ ہے کہ آدمی کا اخلاق جوابی اخلاق ہو کہ جو مجھ سے جیساکرے گا،میں اس کے ساتھ ویسا کروں گا۔ یعنی: جو شخص اس کے ساتھ برائی کرے وہ بھی اس کے لیے برا بن جائے، جو شخص اس سے کٹے، وہ بھی اس سے کٹ جائے، یہ اخلاق کی عام قسم ہے۔ اس کے مقابلے میں اعلیٰ اخلاق یہ ہے کہ انسان دوسرے کے رویے کی پرواہ کئے بغیر اپنا رویہ متعین کرے۔اس کا اخلاق اصولی ہو،نہ کہ جوابی، خواہ معاملہ موافق کے ساتھ ہو یا مخالف کے ساتھ، وہ جوڑنے والا ہو،حتیٰ کہ اس کے ساتھ بھی جو اس سے براسلوک کرے، حتیٰ کہ اس سے بھی جو اس پر ظلم کرتا ہو۔اگر انسان کی طبیعت اور عادت اچھی ہوگی تو کہا جائے گا اُس کے اخلاق اچھے ہیں اور اِسی کی تعلیم ہمارے پیارے نبی کریمﷺ نے دی ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اولیائے کرام جو کہ اتباعِ رسول ﷺکا عظیم پیکر ہیں۔اُنہوں نے سنتوں پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزاری اورروحانی زندگی کے ابتدائی زمانے میں نبی کریمﷺ کے اقوال پر عمل کیا اور روحانی زندگی کے درمیانی زمانے میں نبی کریمﷺ کے اعمال کی اقتداء کی، نتیجتاً اُن میں نبی کریم ﷺکے اخلاق جھلکنے لگے اور اُن کی شخصیت کو منور کرتے رہے۔ارشادِ باری ہے:تم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ احسان اوراخلاق کامعاملہ کرو، اس اخلاقی درس کو ہرگز نہ بھولو،ہر جگہ اورہروقت اسے یاد رکھو“۔ایک حدیث نبوی ؐ کے مطابق مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا شخص وہ ہے جو اچھے اخلاق کا مالک ہو اور سب سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہترین ہو۔

اخلاق و عادات کی اصلاح اُسی وقت ممکن ہے، جب تزکیہ نفس یعنی صفائی کی جائے اور نفس کا تزکیہ اُسی وقت ممکن ہے جب شریعت کی قیادت کو دل وجان سے تسلیم کیا جائے۔نبی رحمت ﷺ کی سیرت مبارکہ کے مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہے کہ نبی کریمﷺ کے اخلاق عالیہ کی نظیر پوری کائنات میں نہیں مل سکتی۔ آپﷺ کے اخلاق کا یہ عالم تھا کہ کبھی کسی سائل کو انکار نہ فرمایا، آپﷺ سب سے زیادہ سخاوت فرماتے، کوئی درہم و دینار نہ رکھتے، سب تقسیم فرمادیتے، اگر رقم بچ جاتی اور کوئی ایسا نہ ملتا جسے رقم دے سکیں تو اُس وقت تک گھر جاکر آرام نہ فرماتے جب تک وہ تقسیم نہ فرمادیتے جو کچھ ہوتا سب اللہ کی راہ میں خرچ کردیتے، کپڑوں میں پیوند لگالیتے، گھر والوں کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتے۔ آپ ﷺ نے اپنے ارشادات میں اخلاق حسنہ کو نہایت اہمیت دی ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگتا ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! دین کیا ہے؟ فرمایا: اچھا خلق۔ آپ ﷺ سے سوال ہوا: کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ فرمایا: اچھا خلق۔نیز فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جنت میں صرف اچھے خلق والا ہی داخل ہو گا۔مسند احمد کی ایک روایت میں تو آپ ﷺ نے ایمان کی تعریف بھی اچھے اخلاق سے کی۔ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا۔ ایمان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نرمی اور صبر۔اسامہ بن شریک ؓ سے روایت ہے آنحضور ﷺنے ارشادفرمایا:اللہ کا (سب سے)پسندیدہ بندہ وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں گے۔(طبرانی)۔حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ روایت کرتے ہیں۔رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ محبوب شخص وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔(صحیح بخاری)حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں۔ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:اچھے اخلاق جنت کے اعمال ہیں۔(طبرانی)۔حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: اچھے اخلاق اللہ کی طرف سے ہیں، اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے،اسے اچھے اخلاق سے نوازتا ہے۔ (طبرانی)۔

حسن اخلاق کی نعمت سے مالا مال شخص دنیا میں بھی کامیاب ہوتا ہے اور آخرت میں بھی سرخرو ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺکی محبت کا لازوال انعام بھی پاتا ہے۔ نبی کریمﷺ فرماتے ہیں: تم میں سے مجھے سب سے اچھا وہ لگتا ہے جس کے اخلاق بہت اچھے ہوں، صرف یہی نہیں حسن اخلاق سے متصف خوش نصیب کو سرکارﷺ کی قربت بھی نصیب ہوگی۔ چناں چہ جامع ترمذی میں روایت ہے،نبی کریمﷺ فرماتے ہیں: تم میں سے مجھے وہ شخص زیادہ محبوب ہے اور قیامت کے دن وہ ہی میری مجلس کے زیادہ قریب ہوگا جس کے اخلاق بہترین ہوں گے۔ حسن اخلاق ایمان کے کمال اوربہترین انسان ہونے کی بھی دلیل ہے۔حضرت عبداللہ بن مبارکؒ نے حسن اخلاق کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: تین چیزوں کا نام اخلاق ہے:ملاقات کے وقت دوست ہویا دشمن، اپنا ہو یا پرایا، ہر ایک سے کشادہ روئی،خندہ پیشانی اور خوش دلی سے پیش آنا۔بخشش اور سخاوت کرنا۔ایذا رسانی سے باز رہے۔(مشکوٰۃ شریف)۔

آج کے ہمارے اس خزاں رسیدہ معاشرہ میں اخلاقیات، تہذیب و تمدن اور تربیت و تادیب کے آثار ہی نہیں پائے جاتے جس کی وجہ نبی کریم کے اخلاق حسنہ سے دوری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم قوموں میں رسواء اور زوال پذیر ہو رہے ہیں اور بگاڑ کا گھن ہمیں دیمک کی طرح کھا رہا ہے۔ وہ دین جس کی حقیقی پہچان اخلاقیات کا عظیم باب تھا اور جس کی تکمیل کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کیے گئے تھے وہ دین جس نے معاملات کو اصل دین قرار دیا تھا، آج اسی دین کے ماننے والے اخلاقیات اور معاملات میں اس پستی تک گر چکے ہیں کہ عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہے، جیل خانہ جات میں جگہ تنگ پڑرہی ہے، جگہ جگہ لڑائی جھگڑا، گالی گلوچ، ظلم و زیادتی، فساد، حسد، حق تلفی اور مفاد پرستی عام ہے۔ منشیا ت کے بازار، ہوس کے اڈے، شراب خانے، جوا، چوری، ڈاکہ زنی، قتل وغارت گری،زنا کاری، رشوت خوری، سود و حرام خوری، دھوکہ دہی، بددیانتی، جھوٹ، دوغلے پن، حرص، لالچ، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی آخر وہ کون سا اخلاقی مرض اور بیماری ہے جو ہم میں نہیں۔ خود غرضی اور بد عنوانی و کرپشن کا ایسا کونسا طریقہ ہے جو ہم نے ایجاد نہیں کیا؟ دھوکہ دہی اور مفاد پرستی کی ایسی کونسی قسم ہے جو ہمارے یہاں زوروں پر نہیں؟ عصبیت اور انسان دشمنی کے ایسے کونسے مظاہر ہیں جو ہمارے اسلامی معاشرہ میں دیکھنے کو نہیں ملتے؟ مگر پھر بھی ہم مسلمان کہلوانے میں ذرا شرم محسوس نہیں کرتے۔آج دنیا میں اسلام بدنام ہے اور اس کا حقیقی چہرہ مسخ ہو چکا ہے، یہ کسی اور نے نہیں خود ہم نے کیاہے۔آج دنیا اس پر طنزو تنقید اوربھبتیاں کسنے لگی ہے، آج دنیا کے ہر کونے سے انگلی ہمارے عظمت والے دین پر اٹھتی ہے، صرف ہمارے اوصاف کی وجہ سے دنیا اسے بدخلقی، ناانصافی، ظلم و زیادتی کا دین تصور کرتی ہے۔ صحیح و اکمل دین کی دنیا میں ذلت و رسوائی کا سبب ہم ہیں، ہمارے سیاہ اوصاف ہیں، ہمارے غلیظ اخلاق ہیں، ہمارے گندے اطوارہیں کیونکہ ہم خود اس کا حقیقی چہرہ مسخ کر کے اور اس کا حلیہ بگاڑ کر دنیا کو دکھا رہے ہیں۔مجھے یہاں ایک ہندو شاعر کی اسلام پر طنز و تنقید یاد آرہی ہے، ہندو شاعر لکھتا ہے:
جام پے جام پیا اور مسلمان رہے،جس نے پالا پیمبر کو وہ رہا کافر۔
یہی دین ہے تو اس دین سے توبہ ماتھور،شک پیمبر پہ کیا اور مسلمان رہے۔

ہمارے اخلاقی رویہ ہی کی عکاسی شاعر نے اپنے انداز میں کی ہے، ہم میں ایسے لوگ موجود ہیں جو گمراہی کی غلاظت کی انتہا کو پہنچ کر ضلالت کی تمام حدیں پار کر چکے ہیں مگر ہم ان کو مسلمان کہتے ہیں۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اخلاقی بگاڑ آج ہماری زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہو چکا ہے۔ معاملہ معاملات کا ہو یا عبادات کا،تعلیم و تربیت، امانت،دیانت،صدق،ایفائے عہد،فرض شناسی،حقوق و فرائض اور ان جیسی دیگر اعلیٰ اقدار کا ہم میں فقدان ہے۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے