جامعہ سلفیہ شکراوہ کے سربراہ میوات کی معروف شخصیت حکیم اجمل خاں شکراوہ کا انتقال،ملی حلقوں میں غم کی لہر

57

نوائے ملت نیوز میوات
مبارک میواتی آلی میو

مدرسہ عین العلوم نوح کے مہتمم مفتی تعریف سلیم ندوی نے کہا حکیم اجمل خاں صاحب نہ صرف ایک، حکیم مورخ، تھے، بلکہ وہ سماجی کارکن سمیت وہ میواتی سماج کے ایک سنجیدہ اور بڑے دانشور انسان تھے، جماعت اہل حدیث کے وہ سرگرم ذمہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ، جہاں وہ میوات کے نامور اور معروف مشہور لوگوں میں شمار ہوتے تھے، وہیں جمعیتہ اہل حدیث کے لیے ان کی نمایاں خدمات اور کارکردگی ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی کئی درجن کتابوں کے مصنف بھی ہیں ،مدرسہ سعادت القرآن بڈیڈ کے مہتمم قاری محمد راشد بڈیڈوی، ہریانہ وقف بورڈ کے ویلفیئر آفیسر محمد مبارک مدنی، پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق ہنسی، مولانا حکیم الدین سنابلی ،زبیر فتح علیگ جھنڈا، عابد اسحاق جھنڈا، قاری سراج الدین ریاضی بھادس، میواتی تہذیب و ثقافت ومیوات لیٹیسٹ گروپ کے ممبران نے مولانا حکیم اجمل خان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے مبارک مدنی نے بتایا کہ مولانا حکیم اجمل خان صاحب جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ وشوری کے سابق مؤقر رکن رہے ہیں، مولانا ایک مصنف کے ساتھ ساتھ مشہور صحافی بھی تھے، وہ کئی مرتبہ ہریانہ وقف بورڈ کے ممبر بھی رہے ہیں مبارک مدنی نے بتایا کہ حکیم اجمل صاحب کو حالی اعزاز، اور میوات رتن اعزاز سے بھی نوازا جا چکا ہے، مبارک مدنی نے بتایا کہ حکیم صاحب کے پسماندگان میں تین صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں ہیں میوات کے سبھی اکابر نے انکے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے