ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراتجامعہ رحمانی مونگیر کے مبلغ مولانا شہاب الدین صاحب کاانتقال

جامعہ رحمانی مونگیر کے مبلغ مولانا شہاب الدین صاحب کاانتقال

جامعہ رحمانی کے مبلغ حضرت مولانا شہاب الدین صاحب کا انتقال

ان کی پچاس سالہ خدمات کو برسوں یاد رکھا جائے گا: حضرت امیر شریعت

مونگیر ۲۲/دسمبر 2021ء

جامعہ رحمانی کے عظیم مبلغ جناب مولانا شہاب الدین کوثری اللہ کو پیارے ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون، وہ تقریباً چھیاسی سال کے تھے، ان کی تدفین ان کے آبائی گاؤں ولی پور سپول میں ہوئی، جامعہ رحمانی مونگیر سے سرپرست محترم امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل صاحب رحمانی کی ہدایت پر حضرت مولانا مفتی عثمان صاحب قاسمی کی قیادت میں علماء کا وفد ان کے جنازہ میں شریک ہؤا۔ان کے جنازہ کی نماز حضرت مولانا مفتی محمد عثمان صاحب قاسمی استاذ حدیث جامعہ رحمانی نے پڑھائی۔

ان کے انتقال پر خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشیں امیر شریعت مفکرملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل صاحب رحمانی نے گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے، انہوں نے پسماندگان سے صبر جمیل کی تلقین کی، اور ان کے لیے دعا مغفرت بھی کی، انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ مولانا نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے دین کی خدمت کی، جامعہ رحمانی سے جڑے رہے، اور لوگوں تک دین کا پیغام پہونچایا، اور خانقاہ رحمانی کی دینی تحریک سے لوگوں کو جوڑا، وہ جامعہ رحمانی کے تربیت یافتہ تھے، والد بزرگوار حضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی رحمۃ اللہ علیہ اور دادا رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے معتقدین میں سے تھے، حضرت رحمانی نے کہا کہ ان کی گرانقدر خدمت کو برسوں یاد رکھا جائے گا، جامعہ رحمانی کے لیے ان کا انتقال ناقابل تلافی نقصان ہے، انہوں نے کہا کہ دادا حضرت مولانا منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی تحریک پر مدرسہ رحیمیہ گاڑھا سے وہ مونگیر آئے تھے، پچاس سال میں انہوں نے جامعہ رحمانی اور خانقاہ رحمانی کا پیغام ملک کے کونے کونے تک پہونچایا، کشمیر بھی گئے، وہاں میر واعظ کے وہ مہمان ہوتے تھے۔

جامعہ رحمانی میں ان کے انتقال کی خبر سے غم کی لہر دوڑ گئی، طلبہ واساتذہ نے ان کے لیے اہتمام کے ساتھ تلاوت ومغفرت کی دعاء کی۔

                مرسل

          محمد عارف رحمانی

         جامعہ رحمانی مونگیر

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے