جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراتجامعہ اشاعت العلوم سمستی پورمیں یوم جمہوریہ کےموقع پر پرچم کشائی کی...

جامعہ اشاعت العلوم سمستی پورمیں یوم جمہوریہ کےموقع پر پرچم کشائی کی تقریب

پریس ریلیز/سمستی پور
   جامعہ اشاعت العلوم سمستی پور ،کرھوا،برھیتا،وایا کلیا نپور،سمستی پور ،بہار میں ہر سال کی طرح اس سال بھی یوم جمہوریہ کے موقع پر تقریب کا انعقاد کیاگیااسلئے کہہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں دو دن انتہائ اہمیت کے حامل ہیں ،ایک ١٥,اگست جس میں ملک انگریزوں کی غلامی سےآزادہوا، دوسرا ٢٦, جنوری جس میں ملک جمہوری ہوا، یعنی اپنےملک میں اپنےلوگوں پراپنا قانون لاگو ہوا، آزاد ہندوستان کا اپنا دستور بنانے کیلئےڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکرکی صدارت میں ٢٩, اگست ١٩٤٧ کو سات رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جسکوملک کاموجودہ دستور مرتب کرنےمیں ٢,سال ١١,ماہ اور١٨, دن لگے، دستور ساز اسمبلی کےمختلف اجلاس میں اس نئےدستور کی ہرایک شق پر کھلی بحث ہوئ، پھر ٢٦, نومبر ١٩٤٩, کواسے قبول کر لیا گیا، اور ٢٤,جنوری ١٩٥٠ کوایک مختصراجلاس میں تمام ارکان نےنئےدستور پردستخط کردیا، صرف مولانا حسرت علی موہانی نے اس دستور کو غیر جمہوری بتایا، ٢٦,جنوری ١٩٥٠ کو اس نئے قانون کولاگو کرکے پہلا”یوم جمہوریہ” منایا گیا،اس طرح ہرسال ٢٦,جنوری "یوم جمہوریہ ” کے طور پرپورے جوش وخروش کے ساتھ منایاجانےلگا۔
اس تقریب میں جامعہ کے طلبہ اساتذہ کرام اور مہمانان عظام کی موجودگی میں جامعہ ھٰذا کے نائب ناظم جناب ماسٹر محمدامتیاز صاحب کے ہاتھوں پر چم کشائی کا عمل انجام پایا پھر جامعہ ھٰذا کے مایہ ناز طالب علم محمد فیضان ولد محمد پرویز ،اور محمد عبداللہ ولد محمد ابونصر نے ترانۂ ہند پیش کیا اورمحمد ارمان ولد ضیاء الحسن نے تقریر سے لوگوں کے معلومات میں اضافہ کیا۔
 اس موقع پر پروگرام کو زینت بخشنے میں جامعہ ہذا کے ناظم قاری ممتاز احمد جامعی، نائب ناظم ماسٹر محمد امتیاز صاحب،صدر مدرس مولانا محبوب عالم صاحب قاسمی،استاذ جامعہ حافظ محمد گلزار صاحب ، مہمانان مکرم جناب سمیع احمد عرف لڈو صاحب اور حافظ محمد معصوم صاحب پیش پیش رہے اور اخیر میں ناظم جامعہ قاری ممتاز احمد جامعی صاحب نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے