ثنا خان اور زائرہ وسیم…تمہاری جرأت کو سلام

69

تحریر: حافظ میر ابراھیم سلفی طالب علم بارہمولہ کشمیر

کوئی پیماں نہیں باندھا تھا لیکن

تِری باتوں میں خوشبو تھی وفا کی

عجب سی اک تڑپ تھی میرے دل میں

تری آنکھوں میں شوخی تھی حیا کی

 

ایمان کی ساٹھ سے زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک اہم ترین شاخ ہے.اللہ تعالیٰ نے انسان کواشرف المخلوقات بناکر فطری خوبیوں سے مالامال کیا ہے ان خوبیوں میں سے ایک خوبی شرم وحیا ہے۔ شرعی نقطہٴ نظرسے شرم وحیا اس صفت کا نام ہے جس کی وجہ سے انسان قبیح اور ناپسندیدہ کاموں سے پرہیز کرتاہے اور انہیں ترک کرتا ہے.حیاء کی وجہ سے انسان کے قول و فعل میں حسن و جمال پیدا ہوتا ہے لہٰذا باحیاء انسان مخلوق کی نظر میں بھی پرکشش بن جاتا ہے اور پروردگار عالم کے ہاں بھی مقبول ہوتا ہے.اسمائے حسنی کی معرفت عبادت الہی کی کنجی ہے انہی اسمائے حسنی میں سے ایک “الحيي” یعنی بہت زیادہ حیا کرنے والا بھی ہے، حیا اللہ تعالی کی صفت ہے، اس کا ذکر کتاب و سنت میں موجود ہے، حیا تمام تر اخلاقی اقدار کا سرچشمہ ہے، حیا انسان کو برائی سے روکتی ہے اور اچھے کاموں کی ترغیب دلاتی ہے.حیا خواتین کا فطری زیور اور زینت ہے، اسی لیے سیدہ عائشہ اور دیگر صحابیات حیا کی پیکر تھیں، بلکہ اہل جاہلیت بھی حیا پر قائم دائم تھے.

گزشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا,پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر مشہور ومعروف bollywood actress ثنا خان کی فلم انڈسٹری (film industry) کو الوداع کہنے کی خبریں گشت کررہی ہیں.واقعی ثنا خان کا اٹھایا ہوا قدم قابل تعریف و قابل فخر ہے.امت مسلمہ کی بیٹیوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ کس طرح شہرت اور دولت کی دنیا کو لات مار کر ایک مسلمان بہن اسلام کے چھاؤں میں آگئی. جو افراد دین مبین سے بے خبر ہیں وہ اس عظیم خبر کا مذاق ہی اڑائیں گے لیکن جو اصحاب علم و معرفت کی نعمت سے سرفراز ہیں وہ جانتے ہیں کہ ثنا خان کے اس مبارک قدم نے سیدہ آسیہ و سیدہ سمیہ کی یاد تازہ کردی.دولت اور شہرت کا نشہ ہر نشے پر غالب آتا ہے.آج کے اس پرفتن اور پرآشوب دور میں اہل ایمان اپنے ایمان کو بچانا ناممکن تصور کرتے ہیں ,مال و دولت جمع کرنے کی دوڑ دھوپ رواں اور دواں ہے ,دولت کے نشے میں پوری دنیامدہوش ہے.طلب شہرت و طلب منزلت ہر فرد کا مقصد بنا ہوا ہے.لوگ اپنا دین ,اپنا ایمان قلیل دولت کے عوض بیچتے ہوئے نظر آرہے ہیں.حلال و حرام کا امتیاز نہ رہا, جائز و ناجائز راستوں کا لحاظ نہ رہا ,صالحات و سیئات کی معرفت ختم ہوگئی.خواہشات نفس کی پیروری کا دور دورہ ہے,ہوس پرستی کا بازار سجا ہوا ہے,دنیا کی زینت نے ابن آدم کو اندھا کردیا ہے.اب ایسی صورتحال میں ہماری اس بہن کا اٹھایا ہوا قدم سلام کا حقدار ہے.نبوی تعلیمات میں یہ بات پہلے ہی بتلائی گئی تھی کہ صبح کا مومن شام کا کافر ہوگا اور شام کا مومن صبح کا کافر ہوگا.اہل دنیا کی راتیں لغویات,منشیات,منکرات,محرمات میں گزریں گی.شرام و کباب کی محفلیں سجی ہونگی,ہوس پرستی کا انجمن گرم ہورہا ہوگا .فتنوں کا نزول رات کے اندھیرے اور موسلا دھار بارش کی مانند ہوگا.اہل علم و اہل فہم حالات و واقعات کا مطالعہ رکھتے ہیں کہ کس طرح گلی گلی گھر گھر میں فحاشی,عریانی,شہوات کی محفلیں رواں دواں ہے

عصمت فروشی ,عفت فروشی اور بدکاری کے اڑوں میں ہماری بہنوں کی عزتوں کو لوٹا جارہا ہے.اب ایسے نازک موقع پر ثنا خان کا اٹھایا ہوا قدم جرأت ایمان کی عمدہ مثال ہے.

 

دوستو! عصر حاضر میں لوگ نبوی تعلیمات و شرعی احکامات کا طنز کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں.غرباء کی جماعت غربت کے سائے میں چھپے ہوئے ہیں.مغربی تہذیب کی پیروی قابل تحسین تصور کیا جاتا ہے.پاک اور طیب معاشرے کی فکر کسی کو نہیں.باطل پوری کوشش میں ہے کہ ملت اسلامیہ کے نوجوانو کو دین رحمت سے محروم کردیں لیکن جب جب ملت محمدیہ کے وارثوں نے ایسے ایمان خیز اقدام اٹھائے,باطل کے ایوانوں میں زلزلہ برپا ہوگیا.تبھی تو آپ دیکھیں گے کہ کس طرح بعض جہلا ,کم علم ,کم فہم ثنا خان کو نشانہ بناکر دین مبین پر حملہ آور ہیں.لیکن اسلام اور اہل اسلام کا مذاق اڑانے والے شاید کائنات کے اس اصول سے بے خبر ہیں کہ———-

 

جتنا یہ دباؤ گے اتنا ہی یہ ابھرے گا.

 

ماتم تو تب کرتے ہیں جب اسلام کے نام لیوا اغیار کی مذموم چالوں میں پھنس کر دین الہی کے خلاف استعمال ہوتے ہیں.پہلی بات تو یہ کہ جو بندہ رب کو راضی کرنے نکلے ,مخلوق کی ناراضگی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی.اور جو خالق کو ناراض کرکے مخلوق کی رضامندی طلب کرے ,پوری کائنات اسے کوئی نفع نہیں پہنچا سکتی.ہم حسن ظن رکھتے ہیں کہ ثنا خان نے رب ذواجلال کی رضا حاصل کرنے کے خاطر ہی یہ فیصلہ کیا ہوگا.دوسری بات ہمارے لئے صحابہ کرام و صحابیات,تابعین عظام و تابعات ,ائمہ کرام و صالحات بحیثیت اسوہ حسنہ ہے اور ان ہی کی اطباع میں فوز الکبیر پوشیدہ ہے.سلف و صالحین کے نقش قدم پر چل کر ثنا خان نے ایک نئی تحریک شروع کی اور اسلاف کی یاد تازہ کردی.تیسری بات چونکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہمارے لئے کافی و شافی ہیں ,انہیں کی روشنی میں اہل ایمان جسم واحد کی مانند ہیں ,لہذا ثنا خان کا دفاع کرنا ,اسکی عزت کی حفاظت کرنا ہم پر فرض عین ہے.چوتھی بات سوشل میڈیا کے ذریعہ ہم اپنی اس بہن کو حوصلہ ,ہمت ,ثابت قدمی کی ترغیب بھی دے سکتے ہیں.

 

میرے غیور دوستو! گناہگار کتنا بھی بڑا کیوں نہ ہو,اللہ کی رحمت غالب آہی جاتی ہے .کسی مسلمان کی تذلیل,تحقیر,تکفیر نہ کریں ,اپنی زبان و قلم کو رفق و لین سے بھر دیں.رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح اپنے عدو کو امان دیتے تھے ,سیرت طیبہ و فرامین نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی احسن طریقے سے اتباع کرکے ہم پر لازم آتا ہے کہ جس طرح زائرہ وسیم (zaira waseem) کو ملت کے قبول کیا تھا,جنہوں نے 2015 میں فلم انڈسٹری میں قدم رکھا تھا اور قلیل وقت میں اس شعبے میں بلند مقام حاصل کیا تھا ,لیکن اللہ کے اذن سے 30 جون 2019 میں ہی انہوں نے فکر آخرت کی خاطر اس دنیا سے علیحدگی اختیار کرلی, اسی طرح ثنا خان (Sana khan) کے لئے بھی اپنے دل کو پاک کرلیں جنہوں نے 2005 میں اس دنیا میں قدم رکھا لیکن اللہ کے توفیق سے اپنے پندرہ سالہ مشغولیت کو اللہ کی خاطر الوداع کہہ دیا.اللہ کی رحمت کافی وسیع ہے ,ہدایت و مغرفت کا اختیار فقط اللہ عزوجل کے اختیار میں ہے.لہذا کسی کے ماضی کو دلیل بنا کر فتوی بازی کرنے سے اجتناب کرلیں.یہاں یہ بات بھی واضح کرلوں کہ ہم نہ کسی کو جنتی کہہ سکتے ہیں اور نہ کسی کو دوزخی.یہ قانون ہمارے پاس نہیں.میرا رحیم و کریم رب تو اعلان کررہا ہے مغفرت کا اس خاتوں کے لئے جس کی پوری زندگی معصیت میں گزری تھی ,لیکن پیاسے کتے کو پانی پلا کر رحمت الہی کی حقدار بن گئی.کسی پر حکم لگانے سے پہلے شریعت کا علم حاصل کرلیں.اپنے ذہن کو وسیع بنائیں,اپنے اندر حلم و بردباری پیدا کریں.آج فتنہ ارتداد عام ہوچکا ہے ,فحاشی ,عریانی کو شائشتہ پن تصور کیا جاتا ہے …ہمارا معاشرہ گناہوں کی آگ میں جل رہا ہے.ثنا خان کوئی معمولی اداکارہ نہ تھی…….گھر بیٹھے دعوی ایمان کرنا تو آسان ہے پر میدان میں اتر کر اعلان فتح کرنا کار درد والا معاملہ .آج وہ کون سا گناہ ہے جو ہمارے سماج میں موجود نہیں.شرک و بدعات,رسومات و خرافات,سود و رشوت ,حرام و ناجائز دولت ,منشیات کا کاروبار, دھوکہ بازی ,جھوٹ ,خیانت ,عصمت فروشی ,قتل و قطع تعلقی وغیرہ.ان سماجی بیماریوں کے علاج کی فکر کسی کو نہیں.لیکن جب بھی کوئی بندہ رجوع الی اللہ کی صدا بلند کرتا ہے ,ہمارے قلم و ہماری زبان اسکے خلاف استعمال ہوتی ہے.ہمیں یہ روش تبدیل کرنی ہوگی.وگرنہ ہمارے اپنے چمن جل کر راخ ہوجائیں گے.

 

میری باعزت بہنو! زائرہ وسیم اور ثنا خان کے فیصلے نے ثابت کردیا کہ اپنے جسم کو زینت بناکر پیش کرنا کوئی کامیابی نہیں بلکہ بے حیائی و بے شرمی ہے.تمہارا حجاب انمول ہے,تمہارا پردہ قیمتی ہے ,تمہاری شرم و حیا سب سے عظیم دولت ہے.کامیابی کی راہ اگر غلط ہو تو انجام ذلت و رسوائی ہی ہوتی ہے.نہ دولت میں سکون ہے اور نہ ہی شہرت میں اطمنان ,حقیقی سکون تو میرے رب کی ذکر میں ہے ,حقیقی اطمنان نماز و قرآن میں ہے.اصلی فتح آخرت کی فتح ہے ,اصلی کامیابی دارالقرار کی کامیابی ہے.زائرہ وسیم ,ثنا خان و دیگر بہنوں نے سماج کو یہ پیغام دیا کہ دنیا کی عزت عارضی اور وقتی ہے ,یہ دنیا ہی عزت فقط دھوکہ و مثل سراب ہے ,حقیقی عزت تو میدان محشر کی عزت ہے .یہ خوبصورتی,یہ حسن و جمال رہنے والا نہیں,یہ حسین چہرہ ,یہ چمکتے بال اپنی چمک کھو دینے والے ہیں ,قبر کی مٹی ہمارے اس تن کو بوسیدہ بنا دے گی.کس حسن پرتکبر ہے ؟ کس جمال پر غرور؟ سیدنا یوسف علیہ السلام کی خوبصورتی تو سنی ہوگی لیکن اب وہ بھی برزخ کے لمحات گزار رہے ہیں.حسن تو جنت کا حسن ہے ,لیکن ہم دور باگے جارہے ہیں.اللہ کا قرآن پکار پکار کر تمہیں ندا دے رہا ہے کہ تم کس طرف بھٹکتے جارہے ہو.آج جب بھی زائرہ وسیم (zaira waseem) کا ٹویٹر (twitter) دیکھتا ہوں تو اسلاف کے اقوال ,ابن قیم و ابن جوزی کے فرامین ملتے ہیں.عرب علماء کے فتاوی دیکھنے کو ملتے ہیں.قرآنی آیات و احادیث صحیحہ کا ذخیرہ ملتا ہے .میرے رب کا فرمان حق ہے کہ ہدایت طلبگاروں کو ملتی ہے .امام حرم نے کہا تھا کہ “حیا کا ماخذ حیات ہے تو جس قدر دل میں حیات ہو گی اسی مقدار میں حیا بھی ہو گی، تو جس قدر انسانی دل با حیات ہو گا تو انسانی دل بھی اتنا ہی با حیا ہو گا۔”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حیاداری کا یہ عالم تھا کہ اپنے حجرے میں عمر رضی اللہ عنہ کی تدفین کے بعد ان سے شرم کرتی تھیں، چنانچہ آپ کہتی ہیں: ” میں اپنے اس گھر میں داخل ہو جاتی تھی جہاں آپ ﷺ اور میرے والد مدفون ہیں ، میں وہاں حجاب بھی اتار لیتی تھی اور یہ کہتی کہ میرے خاوند اور والد ہی مدفون ہیں! لیکن جب عمر ان کے ساتھ دفن ہو گئے تو اللہ کی قسم میں جب بھی داخل ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ سے حیا کرتے ہوئے مکمل لباس کے ساتھ داخل ہوتی ہوں”.(مسند احمد) علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ “حیا قلبی حیات کا جوہر ہے، حیا ہمہ قسم کی بھلائی کا سرچشمہ ہے، اگر حیا ختم ہو جائے تو پھر بہتری کی کوئی رمق باقی نہیں رہتی”

 

لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں

روح بھی ہوتی ہے اس میں یہ کہاں سوچتے ہیں

 

میری باعزت بہنو! اپنے کردار کی حفاظت کرلو,اپنی عفت کا داغدار نہ بنانا ,تم آج جس حجاب و پردے کو بوجھ سمجھ رہی ہو ,درحقیقت وہ تمہارے لئے آب حیات ہے ,وہ تمہارے لئے حفاظت کی ڈھال ہے .تمہارا وجود اتنا سستا نہیں کہ کوئی بھی تمہارا حسن دیکھ لین ,,تم میرے نبی کی امت میں شامل ہو,تم ابن تیمیہ و ابن سیرین کی روحانی بیٹی ہو ,تم علامہ شہید رحمہ اللہ کی لخت جگر ہو.تم محترم ہو,تم باعزت ہو,تم اعلی منصب پر فائز ہو ..اپنے منصب کی حفاظت کرنا,اپنے کردار کو سلامت رکھنا.تم اس دین کی وارثہ ہو.آج liberalism اور الحاد سے متاثر ہوکر تم ان مبارک تعلیمات کا انکار کررہی ہو جس تعلیم نے تمہیں حیات جاوداں سے نوازا تھا.آج ہر روز خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ پانچ سالہ,دس سالہ,پندرہ سالہ بچی کے ساتھ جنسی استحصال کیا گیا.واللہ العظیم ! دولت و شہرے کا حرص دے کر ان کا اصل نشانہ تمہارا جسم ہے ….بچالو خود کو.تم جس عریانی کی دلدادہ بنی ہوئی ہو ,اسی عریانی کا جنازہ زائرہ اور ثنا نے اپنے حوصلے اور اپنے ایمان سے نکالا…..ملت کی بہنو ! اب تو سدھر جاؤ ,اب تو سنبھل جاؤ.اترپردیش (uttar pradesh) کا واقعہ تو یاد ہوگا ,کٹھوا( kathua) کا سانحہ تو یاد ہوگا.افسوس تو یہ ہے کہ اب ملکی سطح پر کامیاب ترین کھلاڑی ایم ایس دھونی (M.S.Dhoni) کی نور نظر کو دھمکایا جارہا ہے.بیٹی آخر بیٹی ہی ہوتی ہے چاہے کسی مذبب کی کیوں نہ ہو.بتلانا یہ چاہتا ہوں کہ اس ملک میں تمہاری آبرو محفوظ نہیں….کسی کی میٹھی باتوں میں نہ آنا ,کسی کے دھوکہ میں نہ آنا …..یہاں ہر راہ پر درندوں اور وحشی جانوروں کا راج نافض ہے………اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ ملت کی بیٹیوں کی حفاظت فرمائے….آمین یا رب العالمین.