ہومزبان وادبتَرسُوگے، یاد رکھنا

تَرسُوگے، یاد رکھنا

جشن و ہماہمی میں فکرِ معاد رکھنا
قول وعمل میں تھوڑا بھی نا تضاد رکھنا
یہ کیا غضب ہے تم نے شیوہ بنا لیا ہے
اپنی خوشامدانہ فطرت سے شاد رکھنا
مٹی کُرید کر تم ڈھادو جو شوق ہے، پھر
میرے وجود کو تم ترسوگے، یاد رکھنا

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے