جمعہ, 30, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتتوکل علی اللہ اور اس کے ثمرات

توکل علی اللہ اور اس کے ثمرات

🖊️محمد اطہر حبیب

توکل کے معنی اعتماد اور بھروسہ کرنا، یہ درحقیقت دل کی حالتوں میں سے ایک حالت ہے اورخالق کی وحدانیت و مہربانی پر ایمان لانے کا ثمرہ ہے یعنی اللہ کی وحدانیت، اس کی قدرت، اور فضل و حکمت پر کامل یقین ہونا چاہئے_
ایک خوبصورت واقعہ ہماری نظر سے گذرا،میں نے چاہاکہ آپ حضرات کے روبرو پیش کیا جائے تاکہ ہماری زندگی میں بھی ایک تبدیلی آئے اور ہم لوگ اللہ پر توکل کرنے والے بن جائیں_
واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ:_
ایک آدمی شادی کے بعد بیوی کو لے کر اپنے گھر لوٹ رہا تھا،راستے میں دریا عبور کرنا پڑتا تھا ۔ آدمی نے ایک کشتی کا انتظام کیا اور وہ دونوں دریا عبور کرنے لگے ۔کشتی بیچ دریا پہنچی ہی تھی کہ دریا میں طوفان آگیا ۔اس صورتحال میں بیوی کا خوف سے برا حال ہوگیا ۔لیکن آدمی ایسے اطمینان سے بیٹھا رہا جیسے کچھ نہیں ہو رہا ہے ۔یہ دیکھ کر بیوی کو حیرت ہوئی وہ غصے سے چلا اٹھی ۔آپ کو نظر نہیں آرہا ہے ۔طوفان کشتی کو ڈبونے لگا ہے۔ ہماری موت سر پر ہے اور آپ اطمینان سے بیٹھے ہیں ۔یہ سنتے ہی خاوند نے اپنی تلوار میان سے نکالی اور بیوی کے شہ رگ پر رکھ دی۔بیوی ہنس پڑی اور بولی یہ کیسا مذاق ہے؟
خاوند نے پوچھا کیا آپ ابھی موت سے خوفزدہ نہیں ہو رہی ہیں؟کیا آپ کو نہیں لگ رہا کہ میں آپ کا گلا کاٹ دوں گا؟یہ سن کر بیوی بولی مجھے آپ پر اور آپ کی محبت پر اعتماد ہے ۔مجھے پتا ہے آپ مجھ سے بے انتہا محبت کرتے ہیں اور یہ تلوار آپ کے ہاتھ میں ہے تو مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔
یہ سن کر خاوند بولا جیسے آپ کو میری محبت پر اعتماد ہے ۔ویسے ہی مجھے اللہ کی محبت پر یقین ہے اور یہ طوفان بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔وہ چاہے تو اسے روک لے چاہے تو ہماری کشتی ڈبو کر ہمیں بچا لے_
یاد رکھو!اللہ جو بھی فیصلہ کرے گا وہ ہمارے حق میں بہتر ہی کرے گا_
اس واقعہ سے ہمیں یہی سبق ملتا ہےکہ توکل اللہ پرہی ہونا چاہیے،اللہ اپنے چاہنے والوں پر مہربان رہتا ہے اوراپنے چاہنے والوں کو کبھی نامراد نہیں کرتا ۔
اسی طرح اللہ تعالی نے سورہ انفال میں مومن کی تیسری نشانی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا_
توکل کرنے والے اپنے رب پر توکل کرتے ہیں ۔تو کل ایمان کی بہت بڑی صفت ہے ،توکل علی اللہ یعنی خدا پراعتماد اور بھروسہ رکھنے سے آرام و سکون کے ساتھ ہی ساتھ انسان کے اندر تھکنے اور ہارنے کا احساس بھی مٹ جاتا ہے_اسی لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو شخص خدا وند عالم پرتوکل اور بھروسہ کرتا ہے وہ نہ غمگین ہوتا ہے اورنہ ہی اسے تھکن کا احساس ہوتاہے_
ایک بات قابل غور ہے کہ خدا پر توکل اور بھروسہ رکھنے سے انسان کے اندر فکر کی قوت بڑھ جاتی ہے اور ایک خاص قسم کی بصیرت آجاتی ہے کیونکہ خدا پر اعتماد اور بھروسہ سبب بنتا ہے کہ انسان مشکلات سے نہیں گھبراتا اور صحیح فیصلہ کرنے کی اس کی توانائیاں محفوظ رہتی ہیں اور مشکلات کے لئے نزدیک ترین راہ حل پالیتاہے_
حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک روایت میں فرماتے ہیں: کہ جو شخص خداوند قدوس پر اعتماد اور بھروسہ کرتاہے شکوک اور شبہات کی تاریکیاں اس پر واضح و روشن ہوجاتی ہیں اور اس کے لئے کامیابی کےاسباب فراہم ہوجاتے ہیں اور پریشانیوں سے نجات حاصل کرلیتا ہے_
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہوئے سنا : اگر تم اللہ پر اسی طرح توکل کرو جیسا کہ اس پر توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں اس طرح روزی دے گا جیسے وہ پرندوں کو روزی دیتا ہے وہ صبح بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو شکم سیر ہوکر واپس لوٹتے ہیں_
توکل کا مطلب ہے کہ تمام اسباب ظاہری پر ہی نہ ہو بلکہ ان کے ساتھ اعتماد اور اللہ پر کامل یقین ہو کیوں کے اللہ کی مشیت کے بغیر اسباب بھی کچھ نہیں کرتے_
اللہ سے دعاء کریں کہ اللہ ہمیں کامل ایمان والا بنائے اور توکل کرنے والا بنائے_آمین

متعلم :جامعہ اسلامیہ دارالعلوم وقف دیونبد
Darul Uloom Waqf Deoband

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے