ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتتوبہ؛اضطراب وبے چینی کامفید وموثر علاج_

توبہ؛اضطراب وبے چینی کامفید وموثر علاج_

،، توبہ،، اضطراب و بے چینی کا مفید و موثر علاج

       محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپ گڑھ

         ،،جامعہ ام القرى،، مکہ مکرمہ کے شعبئہ علم النفس (علم نفسیات / علم سیکالوجی) کے معاون استاد ڈاکٹر عبد المنان نے ،، توبہ،، اور اس کے نفسیاتی اثرات کے موضوع پر لکچر دیتے ہوئے توبہ کے معنی و مفہوم، اس کی حقیقت اور اس کے صحیح دینی تصور کی وضاحت کرتے ہوئے اور اس کے نفسیاتی پہلو کو نمایاں کرتے فرمایا تھا ۔

       ،، اسلامی شریعت میں توبہ کے معنی ہیں خدا سے ڈرتے ہوئے گناہوں سے اجتناب ،برائی کا احساس اور معصیت پر اظہار ندامت اور دوبارہ نہ کرنے کا عزم ۔ ڈاکٹر عبد المنان نے توبہ کے نفسیاتی پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے بیان کیا تھا کہ اعتراف گناہ سکون قلب کا موجب ہے ۔ کیوں کہ گناہوں کی وجہ سے دل کو بار اور احساس میں بے چینی پیدا ہو جاتی ہے اور توبہ دل کے بوجھ کو ہلکا کرتا ہے اور احساس میں سکون لاتا ہے ۔ توبہ کے اس کے علاوہ اور بھی بے شمار پہلو ہیں جن سے بندئہ مسلم از سر نو اپنی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے ،تزکئیہ نفس اور توجہ الی اللہ کے لئے امید کے دروازے کھل جاتے ہیں ۔ توبہ کی وجہ سے وہ دلی راحت محسوس کرتا ہے اور زندگی کے بارے میں نیک شگون رکھتا ہے ۔ در اصل یہ ایمان باللہ اور اتباع سنت کا لازمی نتیجہ ہے ۔ ( چراغ راہ ۲۸۱/ عربی اخبار المدینہ سے ماخوذ و مستفاد)

اس حقیقت اور سچائی کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ جب بندہ سچی اور خالص توبہ کرتا ہے اور اطاعت ربانی اور اتباع احکام الہی کو لازمئہ حیات بنا لیتا ہے، تو اس کا دل پر سکون اور نفس مطمئن ہو جاتا ہے اور اس گناہ کا احساس زائل ہو جاتا ہے جس سے اس کے دل میں بے چینی اور شخصیت میں اضطراب پیدا ہوا تھا ۔

       توبہ نفس کے اندر عذاب سے نجات اور اللہ کی جانب سے مغفرت و بخشش اور رضا سے بہرہ ور ہونے کی امید پیدا کرتی ہے ۔ اس لئے توبہ کے ذریعہ انسان احساس گناہ سے رہائی پاجاتا ہے ، جو قلق و اضطراب اور بہت سے نفسیاتی آلام و الجھنوں کا سبب بنتا ہے ۔ خلاصہ یہ کہ توبہ احساس گناہ سے پیدا ہونے والے قلق و اضطراب کا شافی وافی علاج ہے اور یہ بات مشہور ہے کہ قلق و اضطراب ہی نفسیاتی بیماری کی اساس ہے ۔

             آج ہم میں سے زیادہ تر لوگ پریشان، بے چین،بے سکون،بوجھل اور مضطرب و بے کل نظر آرہے ہیں ۔ اکثر لوگ بے سکون و بے کیف نظر آتے ہیں اور اپنی بے سکونی و بے کلی کا اظہار کرتے رہتے ہیں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم گناہوں کے بوجھ سے بوجھل ہیں اور صدق دل سے توبہ نہیں کرتے ، جس کو قرآن مجید نے توبئہ نصوح سے تعبیر کیا ہے ۔

     یہ حقیقت ہے کہ ایک گنہگار اور خدا کا نافرمان بندہ جب صدق دل سے توبہ کرتا ہے اور خدا کے سامنے روتا اور گڑگڑاتا ہے ۔ اپنے گناہوں پر نادم اور پشیماں ہوتا ہے اور اسی وقت اس گناہ کو چھوڑ دیتا ہے اور آئیندہ نہ کرنے کا عزم کر لیتا ہے اور دوسروں کے جو حقوق ان سے متعلق ہوتے ہیں، اس کو ادا کر دیتا ہے یا معاف کرا لیتا ہے ۔ تو بندہ کی اسی کیفیت اور حالت کو توبئہ نصوح کا درجہ حاصل ہوجاتا ہے ۔ اور جس کو توبہ کا یہ درجہ مل جاتا ہے تو اس پر فرحت و شادمانی اور مسرت و انبساط کی ایک خاص کیفیت طاری ہوجاتی ہے ۔ اس کا دل پرسکون و مطمئن ہوجاتا ہے ۔ اس پر ایک خاص سکون و اطمینان کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے ۔ یہ نسخہ آزمودہ ہے ۔ یہ الہی اور ربانی نسخہ ہے، اس نسخہ کو ہر شخص کو آزمانا چاہیے ۔

        علماء کرام توبہ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ” توبہ کرنے کا مطلب ہے، رجوع کرنا، لوٹنا، اور جھک جانا۔ اسی طرح ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف رجوع کرنا بھی توبہ ہے، اس کے لیے ضروری نہیں ہے کہ پہلی حالت بری ہی ہو، بلکہ اچھی حالت سے اس سے بہتر حالت کی طرف رجوع کرنا بھی توبہ ہے۔ یہ لفظ خدا کے لیے بھی آتا ہے۔ اس وقت اس کے معنی اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ خدا بندے پر مہربان اور اس سے راضی ہوگیا۔ اس نے بندہ کی توبہ قبول فرمالی، اس کی خطاوں کو معاف کردیا، اور اس کی طرف توجہ فرمائی۔ توبہ ایک بہترین اور پاکیزہ ترین اصطلاح ہے۔ اس میں انتہا درجہ کی شان پردہ داری بھی پائی جاتی ہے۔ بندہ جب گھناونے سے گھناونے فعل کو خدا سے ڈر کر ترک کردیتا ہے اور عزم کرتا ہے کہ وہ اس فعل کا اب ہر گز مرتکب نہ ہوگا، تو اس کے طرز عمل کو اعتراف جرم سے نہیں بلکہ توبہ سے تعبیر کرتے ہیں، گویا بندہ اپنے خدا کی طرف لوٹا اور اس کی طرف رجوع ہوا ہے، جو ایک بہترین وظیفہ حیات ہے۔ اس طرح بندے کی عیب پوشی کی جاتی ہے، اس کے مقبول بارگاہ ہونے کی خبر دی جاتی ہے اور اسے رسوائی سے بچا لیا جاتا ہے ” ۔(کلام نبوت، ۲/ ۱۵۶)

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے