جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالات’’تن ‘‘ کے ساتھ ’’من‘‘ بھی صاف رکھیے

’’تن ‘‘ کے ساتھ ’’من‘‘ بھی صاف رکھیے

’’تن ‘‘ کے ساتھ ’’من‘‘ بھی صاف رکھیے
مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
حفظان صحت کے اصولوں میں جسم ،مکان ماحول کپڑے وغیرہ کی صفائی اورجسمانی ورزش پرزوردیاجاتاہے یقینا انسانی زندگی میں صفائی اورورزش کی اپنی اہمیت ہے،جسم کو صحت مندرکھنے کے لیے ان کی ضرورت بھی ہے ، لیکن دل ودماغ کی صحت اوردرست سمت ورخ پرکام کرنے کے لئے ’’من کی صفائی‘‘ ضروری ہے ،جس طرح ہمارے موبائل میں کچرابھرجاتاہے اور’’جونک ‘‘ہمارے سافٹ ویر کی صلاحیت کوکمزورکردیتے ہیں، جس کی وجہ سے کبھی کبھی یہ موبائل خطرناک حد تک جاپہونچتاہے ۔اسی طرح ہمارے دل ودماغ میں مختلف واقعات حالات،حوادثات اورغیرضروری باتوں کااسٹورہوتاہے، یہ ہمارے دل ودماغ کومتاثرکرتے ہیں ان کے جمع ہونے کی وجہ سے ہمارے اعضاء وجوارح بھی اسی اندازمیں عمل کرنے لگتے ہیں ،بعض باتیں خارج میں نہیں ہوتیں ، لیکن چوںکہ ہمارے دل ودماغ میں جوکچرابھراہواہے وہ اس کاحصہ بن چکا ہوتا ہے ؛اس لیے خارج ہیں وہ ہمیں مجسم نظرآنے لگتاہے جس طرح آئینے میں شیر کوشیر اورگیدڑ کوگیدڑ نظرآتاہے اسی طرح اگر ’’من ‘‘صاف نہ ہوتوسماجی ، خانگی اورملی زندگی تک متاثرہوجاتی ہے اس کانقصان خود اس ’’گندے من‘‘والی ذات کوتوپہونچتاہی ہے، اس کے دوررس اثرات سماج پر بھی پڑتے ہیں، اقبال نے بہت واضح لفظوں میں تن اور من کے فرق کوواضح کیاہے۔ کہتے ہیں کہ
من کی دنیامن کی دنیاسوزومستی جذب وشوق
تن کی دنیاتن کی دنیا سود و سودا مکر وفن
شریعت اسلامیہ میں جسم کی صفائی کے ساتھ روحانی کثافت کودور کرنے پر بھی خاصی توجہ دی گئی ہے ، کینہ کدورت ،بغض وعداوت، بدگمانی وبدمزاجی سے ہمارا’’من ‘‘بیمار ہوجاتاہے ،اس لئے ان چیزوں سے بچنے اوراس سے دل ودماغ کوپاک رکھنے کی ضرورت بتائی گئی ہے، کیونکہ جس قوم یا انسان میں روحانی بیماری پیدا ہوجاتی ہے،وہاں محبت کاگذرنہیں پاتا، جس دل میں کینہ وکدورت نے جگہ بنالیاہواورجوانتقام کی آگ میں سلگ رہا ہو، دل کے ایسے بنجر زمین پر محبت کی فصل نہیں لہلہاسکتی ،انسانی تعلقات کوسب سے زیادہ نقصان پہونچانے والی چیز کینہ ہے ،دل میں دشمنی ،نفرت اورغصہ کوروکے رکھناکینہ کہلاتاہے ۔
اور بعض روایتوں میں آتا ہے کہ کینہ رکھنے والا جنت کی خوشبو سے بھی محروم رہے گا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے صحابی کے لیے جنتی ہونے کا اعلان کیا، جو فرائض وواجبات کی ادائیگی کے ساتھ سوتے وقت اپنے دل کو لوگوں کی طرف سے کینہ کدورت سے پاک کرکے سویا کرتا تھا۔
ہم اپنی زندگی کاتجزیہ کریں تومعلوم ہوگاکہ ہم دوقسم کی دنیامیں زندگی گذارتے ہیں ،ایک ہماری داخلی دنیاہے اورایک خارجی دنیااس دنیا کوحالات ،لوگ، جسمانی صحت وغیرہ ہماری خارجی دنیاہے، اس پر ہماری توجہ ہروقت مرکوز رہتی ہے اورہم اسے دیکھتے ہی رہتے ہیں، مفسرین نے ’’عالم کبیر‘‘کہا ہے؛ لیکن اس سے الگ ایک داخلی دنیاہے ،جسے مفسرین اوراہل علم نے ’’عالم صغیر‘‘ سے تعبیر کیاہے،ہمیں اس پرخصوصی توجہ اوردھیان دینے کی ضرورت ہے ،ہماری فکر، ہمارے احساسات، ہمارے خیالادت وجذبات ،یادیں یہ سب ہماری داخلی دنیاکاحصہ ہیں،ان میں ماضی کی باتیں بھی ہیں، ساری باتوں کویادداشت سے نکالناممکن نہیں ہوتا، لیکن ہمیں تجزیہ کرناچاہے کہ کون سی بات فضول (جونک) ہے اورکون سی بات کار آمد،کس کوفضول (جونک)سمجھ کر نکال باہر کرناہے اورکس کواپنی داخلی دنیاکاحصہ بناناہے ، یہ تمیز آجائے توزندگی میں دوسروں سے شکایتیں کم ہونگی اوردل ودماغ روحانی بیمار ی سے پاک ہوجائے گا،باتوں کوپکڑکررکھنے سے ہماری داخلی دنیاکی بیٹری ڈسچارج ہوتی ہے اوربیٹری ڈسچارج ہوجانے کے بعد جس طرح موبائل کام کرنابندکردیتاہے ،ویسے ہی دماغ کی بیٹری ڈسچارج ہونے لگے توکام کرنے کی صلاحیت دھیرے دھیرے کم ہوتی ہے اورپھر ختم ہوجاتی ہے ،صلاحیت کمزورہویاختم ہوجائے توجھنجھلاہٹ پیداہوتی ہے، انسان ٹینشن میں آجاتاہے اورغلط فیصلے لینے لگتاہے ، یہ غلط فیصلے اس کی داخلی دنیاکوبرباد کردیتے ہیں اور خارجی دنیامیں وہ لوگوں کونفرت کامحورومرکزبن جاتاہے،ہمیں یہ بات اچھی طرح یادرکھنی چاہئے کہ ہر آدمی کی الگ الگ صلاحیت ہوتی ہے ، ان صلاحیتوں کے استعمال کے مواقع جس قدرملیں گے ،خارجی دنیاکے ساتھ داخلی دنیابھی بنتی جائے گی اگر ہم صلاحیتوں کی شناخت نہیں کر پاتے توہمارے قریب خوشامدی قسم کے لوگ ہی گھیرابنائے رکھیں گے ، جس سے ہماری دل کی دنیاتواجڑے گی ہی، ہمارے کام کرنے کے طریقوں پر بھی سوالات اٹھیں گے ، اس لئے ’’من ‘‘کو صاف ستھرارکھناانتہائی ضروری ہے ،اگر’’من ‘‘نہیں صاف ہوگاتومثبت نفسیات اورسوچ نہیں بن پائے گی ،مثبت نفسیات یہ ہے کہ ہر کام کے روشن پہلوئوں پر دھیان دیاجائے؛ کیوں کہ اس طرح آپ خود بھی خوش رہیں گے اوردوسروں کوخوش رہنے کے مواقع فراہم کریں گے ، اس سے آپ کی داخلی اورخارجی دل کی دنیاآباد رہے گی آپ پُر سکون اورتنائوسے پاک زندگی گذارسکیں گے،اس کے لئے جس طرح جسم کوصاف ستھرااورتروتازہ رکھنے کے لئے صفائی اورورزش کی ضرورت ہوتی ہے، اس طرح ’’من ‘‘کی صفائی کے لئے بھی ٹریننگ کی ضرورت ہے ،’’تن ‘‘کی صفائی کے ساتھ ’’من ‘‘کوبھی صاف رکھئے ، یہ دنیاوآخرت دونوں کی کامیابی کے لئے انتہائی ضروری ہے، دیکھئے ،اقبال پھر یاد آگئے
من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں
تن کی دولت چھاؤں ہے آتا ہے دھن، جاتا ہے دھن
اسی لئے شریعت نے آنکھ پر پہرابٹھایااورخارجی دنیامیں کن چیزوں کونہیں دیکھناہے اس کی نشان دہی کی، اعضاء جوارح سے جوکام نہیں کرنا ہے، اس کوواضح کردیا، اگر آپ نے کسی کی اندرکی کمزوری کودیکھ لیا اور اس کی داخلی زندگی میں تانک جھانک کرنے لگے تودل ودماغ یعنی آپ کی داخلی دنیا اس سے متاثر ہوگی ، اوراس تأثرکے نتیجے میں دماغ میں کچڑابھر تاچلاجائے گا ، اوریہ کچراموقع دیکھتے ہی شعور؛ بلکہ تحت الشورتک سے نکل کرہماری خارجی دنیاکومتاثرکرے گا ، سماج میں پھیلی بُرائی بے راہ روی، آپسی چپقلس دوسرے سے انتقام لینے کاجذبہ یہ سب اسی بیماری کی وجہ سے پروان چڑھتاہے ،اسی لئے داخلی دنیاکی حفاظت کے لئے صوفیانے ’’مراقبۂ موت‘‘ پر زوردیاہے ، یعنی ایک وقت فارغ کرکے تنہائی میں موت کویاد کیاجائے اورسوچاجائے کہ جوکچھ عہدے، مناصب، عزت ،شہرت اوردولت ہم نے حاصل کی ہے وہ سب یہیں رہ جانے والی چیز ہے ،موت کاسفر خارجی دنیاسے خالی ہاتھ ہی ہواکرتاہے، مرنے کے بعد داخلی دنیامیں جوکچھ عمل کیاہے وہی کام آتے ہیں اورقدرت کے اس نظام کوبدلناکسی کے بس میں نہیں ہے۔ اقبال نے بڑی سچی اور پکی بات کہی ہے۔
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے، نہ ناری ہے

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے