بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتتنگ نظری معاشرتی ترقی کے لئے سدباب

تنگ نظری معاشرتی ترقی کے لئے سدباب

تنگ نظری معاشرتی ترقی کے لیے سدباب

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی

( مضمون نگار اے ایم یو سے پوسٹ ڈاکٹریٹ ہیں)

zafardarik85@gmail.com

موجودہ عہد کو کئی اعتبار سے انفرادیت حاصل ہے ان میں نمایاں کردار جدید ایجادات و انکشافات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کا ہے ۔ در اصل آ ج کی جدید تحقیقات اور علمی ایجادات نے جہاں معاشروں اور قوموں کو ترقی و کامرانی سے ہمکنار کیا ہے وہیں اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ خاص طور پر اطلاعاتی ٹیکنالوجی کا منفی اثر بھی مرتب ہوا ہے۔ ان دونوں پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ جدید علوم وفنون اور نئی تحقیقات و تخلیقات یا اکتسابات واکتشافات کی اپنی الگ اہمیت اور وقعت ہوتی ہے اور جو ادارے یا افراد اس طرح کی خدمات انجام دیتے ہیں ان کی بھی قدرو منزلت کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ ایسے معاشرے ان معاشروں کے لیے مشعل راہ کا کام کرتے ہیں جن کے اندر تجزیہ وتحلیل اور منطقی انداز میں سوچنے،غور وفکر کرنے یا اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی استعداد نہیں ہوتی ہے۔ یاد رکھیے معاشرے میں متوازن سوچ، تنقیدی اور معروضی انداز کا پیدا ہونا نہایت ضروری ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آ ج ہمارے اندر سے علمی و فکری اور تحقیقی و نظریاتی کردار کا فقدان ہے اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے اداروں، تنظیموں اور جماعتوں میں اب تحقیقی اور صالح تنقیدی مزاج کی اہمیت وافادیت کو نہ صرف نظر انداز کیا جارہاہے بلکہ اس فکر سے متصف افراد کو برا سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی فرد کسی سے منطقی طور پر سوال کرلیتا ہے تو اس پر بزرگوں اور اسلاف واکابرین کی توہین کا الزام عائد کردیا جاتا ہے یہی نہیں بلکہ اس کے خلاف اس طرح کا ماحول تیار کیا جاتا ہے کہ عوام یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ یہ دائرہ اسلام سے خارج ہوگیا۔ اس سوچ اور نظریہ نے مسلم کمیونٹی میں علمی و تحقیقی کام کے فروغ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ آ ج ہم اور ہمارے معاشرے کے بااثر افراد یا مذہبی رہنما یہ الزام لگاتے ہیں کہ ہمارے ساتھ حکومتوں نے تعلیمی میدان میں امتیازی سلوک کیا ہے، یہ بات بھی درست ہوسکتی ہےلیکن اس بات سے کبھی بھی پہلو تہی نہیں کی جاسکتی ہے کہ ہماری تنگ نظری نے بھی علمی سوتوں کو پھوٹنے سے روکا ہے۔ ہم آ ج بھی تیار نہیں ہیں کہ کوئی ہماری روایتی باتوں کے خلاف کسی قسم کا سوال کرے۔ آ ج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی مسلم کمیونٹی میں ایسے بیشتر افراد موجود ہیں۔ اگر ہمیں معاشرے میں انقلابی روح پھونکنی ہے تو پھر اپنی سوچ، فکر نظریہ اور رجحان کو بدلنے کے ساتھ ساتھ وسعت ظرفی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ، نیز تنگ نظری کے حصار سے بھی باہر آ نا ہوگا۔ مسلمانوں کے تعلیمی میدان میں پسماندہ ہونے کی ایک دوسری اہم وجہ یہ بھی کہ آ ج ہم اپنے معاشرے اور سماج کے اہل علم حضرات کی صلاحیتوں کی قدر و قیمت کرنا تو کجا ان کی خدمات اور صلاحیتوں کا اعتراف تک نہیں کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس منفی سوچ کی جانب ہمارا معاشرہ بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ بیماری افراد تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ہمارے اداروں، جماعتوں اور تنظیموں میں بھی کافی حدتک پائی جاتی ہے۔ ہم جانتے،سمجھتے اور دیکھتے ہیں کہ فلاں شخص یا فلاں ادارہ غیر معمولی مثبت کار کردگی کا مظاہرہ کررہا ہے اس کے باجود بھی ہماری زبان سے اس کے تئیں تحمیدی کلمات ادا نہیں ہوسکتے ہیں۔ اس میں کہیں مسلک وفکر رکاوٹ بنتی ہے، کہیں برادری اور ذات پات سدباب نظر آتا ہے اور کہیں علاقائیت کا اثر دکھائی دیتا ہے ۔ وجہ کوئی بھی ہو اس کے منفی اثرات صرف اسی ادارہ، جماعت یا فرد پر مرتب نہیں ہوتے ہیں بلکہ پوری کمیونٹی اس سے متاثر ہورہی ہے اور ہوتی ہے ۔ آ خر ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ہماری حوصلہ افزائی اور توسع کا مظاہرہ کرنے سے ملکی و قومی سطح پر نہایت مفید اثرات ث ہونگے ، اسی طرح اس جانب بھی سوچنا ہوگا کہ کسی ادارے، فرد اور جماعت کی اچھی کارکردگی سے فائدہ صرف متعلقہ چیزوں تک ہی محدود نہیں رہتا ہے بلکہ اس سے ملک وقوم کا بھی نام روشن ہوتا ہے۔ تنگ نظری کا شکار صرف عام آدمی نہیں ہے بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو اس میں ملوث وہ افراد زیادہ ہیں جو آ ج کے دانشور کہلائے جاتے ہیں۔ باتیں بڑی بڑی اور اجتماعیت ومرکزیت کی کرتے ہیں مگر جب بات ان کی ذات پر آ تی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ انسانیت اور قوم کے یہی سب سے بڑے دشمن ہیں۔ آ ج معاشرے میں تنگ نظری کی جڑیں جس قدر بھی مضبوط ہوئی ہیں ان کو انہی نام نہاد قوتوں نے فروغ دیا ہے جو معاشرے میں عوام پر اپنا اثرورسوخ رکھتے ہیں ۔

اسی طرح مسلم معاشرے میں تعلیم وتحقیق کا فقدان اس لیے بھی ہے کہ ہم روایتی طرز یا چلن کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔ خواہ وہ روایتی یا مسلکی طرز عمل اسلامی تعلیمات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو،ایسی بہت ساری باتیں آ ئے دن ہمارے معاشرے میں سامنے آ تی رہتی ہیں۔ا ایسی باتیں عام طور پر مذہبی اور دینی اداروں میں زیادہ پائی جاتی ہیں، وہ مذہبی اور دینی ادارے خانقاہوں کی شکل میں بھی ہوسکتے ہیں اور مسلکی نمائندگی کے مراکز مدارس کی شکل میں بھی موجود ہیں ۔ یہاں سے جو تنگ نظری اور کوتاہ فہمی کا درس دیا جاتاہے وہ بڑا بھیانک اور خطرناک ہوتا ہے ،کیونکہ ان کا اثر سماج کے اکثر حصہ پر ہوتا ہے اور جس مسلک کا مدرسہ یا خانقاہ کا نمائندہ جو بات کہتا ہے اس کو عوام دین سمجھ کر قبول کرتی ہے۔ آ ج یہ بات کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ ہمارے مدارس اور خانقاہوں کو اسلام کی ترویج و اشاعت کا کام انجام دینا چاہئے تھا مگر افسوس آ ج وہ اپنے اپنے وضع کردہ مسلکوں کے اصول و ضوابط کی ترویج کو اسلام کا نام دے رہے ہیں۔ اسی کے نتیجے میں معاشرے میں بد امنی اور باہمی انتشار خوب پھیل رہا ہے، اس کی نظیریں بھی ہمارے سامنے آ تی رہتی ہیں۔ اس لیے یہاں کے لوگوں کا تحقیقی اور فکری مزاج پیدا ہونا بہت ضروری ہے۔ جب اس طرح کے اداروں سے تعمیری اور فکری پیغام جائے گا تو اس کا بڑا اثر ہوگا۔

یاد رکھئے تنگ نظری کا طریقہ اور راستہ کوئی بھی ہو اس کو کسی بھی طرح انجام دیا جائے لیکن اس کے اثرات ہمیشہ مایوس کن اور متنفرانہ ہی ہوتے ہیں۔

اس سے جہاں علمی و تحقیقی راستے مقفل ہوتے ہیں وہیں اس کا اثر نفرت و عداوت کے فروغ میں بھی بہت زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ آ ج ہم اس کا مظاہرہ ہندوستان جیسے تکثیری سماج میں کررہے ہیں ۔ نفرتیں اور دوریوں نے بڑی تیزی سے ہمارے معاشرے کو لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ ان تمام احوال کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہےکہ تنگ نظری بری چیز ہے یہ جس شکل وصورت میں پائی جاتی ہے اور جہاں بھی پائی جائے وہیں اس کا اثر نقصان دہ ہوتا ہے۔ اس لیے بڑے پیمانے پر نوجوانوں کی صلاحیتوں کا اعتراف کرنا ہوگا خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب ومشرب سے ہو ، روایتی باتوں پر قدغن لگانا بھی ضروری ہے جب ہم ہماری فکر اور مزاج میں بختگی آ جائے گی تو یقیناً اس سے تعلیم وتدریس اور تحقیق وتنقید کے باب وا ہون گے۔

آ خر میں یہ بات کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آ ج کا دور ہم سے جن چیزوں کا تقاضا کررہا ہے ہمیں ان سے آ نکھیں نہیں موندنی ہیں بلکہ اپنے آ پ کو ان کے مطابق تیار کرنا ہوگا اگر ہمارے اداروں، خانقاہوں اور جماعتوں سے اس فکر سے وابستہ افراد پیدا ہونگے تو یقیناً وہ سماج میں اچھا اثر ڈال سکیں گے۔ تنگ نظری کے تمام طریقوں اور راستوں کا قلع قمع ہوسکے گا ۔ معاشرے میں پھر علم و فن اور تحقیق وتنقید کا شاندار مظاہرہ دیکھنے کو ملے گا اس کے نتیجہ میں قومی ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہم کا بھی فروغ ہوسکے گا کیونکہ آ ج کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ معاشرے میں تنگ نظری کا خاتمہ ہو قوموں، معاشروں اور تہذیبوں کے باہمی رشتے خوشگوار ہوں انسانی حقوق اور سماجی فلاح و بہبود کا بول بالا ہو سکے اور یہ تمام قدریں اسی وقت وجود میں آ سکتی ہیں جب کہ ہم اپنے اندر توسع اور کشادہ ظرفی جیسی پاکیزہ صفات کو مستحکم کریں اور اس کے خلاف جو بھی عمل ہے اس کو پورے طور پر ختم کرسکیں۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے