تنظیم ابنائے ندوہ بہار کا قیام ندوی علماء وفضلاء کے نام۔ شاداب نور ندوی

89

تنطیم ابنائے ندوہ بہار کا ہر چہار جانب سے پرجوش خیر مقدم کا سلسلہ جاری ہے ۔ جب بھی کوئی تحریک و تنظیم وجود میں آتی ہے تو بڑے پیمانے پر مبارکباد اور پیغامات کا موصول ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن اس مرتبہ بذریعہ فون ہند و نیپال سے متواتر منفرد انداز میں حوصلہ بخش مبارک باد ملنے سے قوت و توانائی حاصل ہو رہی ہے اور اندازہ ہو رہا ہے کہ یہ روایتی نہیں ہے بلکہ ان کے دل کی گہرائیوں سے نکلے ہوئے جذبات اور عقیدت و محبت کے پھول ہیں۔ ان کا کہنا ہے مولانا طارق شفیق ندوی کنوینر تنظیم ابنائے ندوہ بہار ، دوران طالب علمی ہی سے طلبہ کی مشکلات کے حل کے لئے کوشاں رہتے تھے اور فراغت کے بعد امت کی ہمہ جہت ترقی کے لئے ان کی جدوجہد سے واقفیت ہے اور ان کی قائدانہ صلاحیت کا ایک زمانہ معترف ہے ، ہمیں امید ہے کہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوں گے اوراپنے رفقاء و احباب کے تعاون و خلوص سے تنطیم ابنائے ندوہ بہار کے پلیٹ فارم سے چند مثالی اور تاریخی کارنامہ ضرور انجام دیں گے ۔ مذکورہ باتیں پورنیہ کمشنری (سیمانچل) کے کنوینر مولانا شاداب نور ندوی نے کہیں اور انہوں نے تنطیم ابنائے ندوہ بہار کے قیام پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں تنظیموں کا جو اثر کم ہورہا ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ مقاصد پر دھیان نہیں دیتے ہیں اور کاز سے نہیں جوڑتے ہیں لیکن ہماری تنطیم کی اولین ترجیحات میں مقاصد پیش نظر رہے گا۔
مولانا ندوی نے کہا کہ تنطیم ابنائے ندوہ بہار فکری مقاصد کے ساتھ “الحكمة ضالة المؤمن حيث وجدها فهو أحق بها” و “خذماصفا ودع ماكدر” کے مسلک کے ساتھ رواں دواں رہے گی ۔ تنظیم کے ذمہ داروں نے مجھ پر بھروسہ کیا ہے ان شاءاللہ پورنیہ کمشنری میں ندوہ کا مشن اور فکر کو لے کر ایک طرف گنجینئہ فضل رحمانی بن کر صدائے اسلام بلند کرے گی تو دوسری طرف دانش کدہ شبلی کے ذوق سخن کو بھی عام کرے گی اور فکر بو الحسن کو گھر گھر پہنچائے گی ،
مولانا شاداب نور ندوی نے تنظیم ابنائے ندوہ بہار کے قیام کی خوشی میں کنوینر و جوائنٹ کنوینر و نو منتخب ذمہ داران کو مبارک باد پیش کیا ، اور شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم نے ہمیں ذمہ داری دے کر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے اس کو بحسن خوبی انجام دینے کا یقین بھی دلاتا ہوں