تمل ناڈوا سمبلی میں نیٹ امتحان سے مستقل چھوٹ کیلئے بل منظور ایس ڈی پی آئی نے کیا خیر مقدم

42

تمل ناڈوا سمبلی میں نیٹ امتحان سے مستقل چھوٹ کیلئے بل منظور ایس ڈی پی آئی نے کیا خیر مقدم
چنئی۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے ریاستی صدر نیلائی مبارک نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں تمل ناڈو اسمبلی میں نیٹ امتحان سے ریاست کو مستقل چھوٹ دینے کے مطالبے کے ساتھ بل پیش کئے جانے کا خیر مقدم کیا ہے۔ نیلائی مبارک نے مزید کہا ہے کہ تمل ناڈو کے اریالور کی طالبہ انیتا سے لیکر سیلم کے طالب علم دھنوش تک گزشتہ چار سالوں میں ریاست میں 14طلباء کی موت کی وجہ بنا اور غریب دیہی علاقے اور سرکاری اسکولوں کے طلبہ کی میڈیکل تعلیم کا خواب چکنا چور کرنے والا نیٹ داخلہ امتحان کے خلاف تمل ناڈو اسمبلی میں بل پاس کیا جانا تمل ناڈو حکومت کا مستحسن اقدام ہے۔ نیٹ سے چھوٹ کیلئے بل لانے اور منظور کرنے پر نیلائی مبارک نے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن کا شکریہ ادا کیا ہے۔ جب سے نیٹ امتحان متعارف ہوا تب سے تمل ناڈو میں غریب دیہی سرکاری اسکولوں کے طلباء کیلئے طبی تعلیم ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ اسی طرح ریاستی نصاب میں اعلی نمبر حاصل کرنے والے تمل ناڈو کے طلباء مرکزی حکومت کے سی بی ایس سی نصاب کے تحت منعقد کی جانے والی نیٹ امتحان کی وجہ سے ذہبی طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ میڈیکل تعلیم کو صرف امیر طبقے کیلئے قابل رسائی بنانے اور اس کارپوریٹائز کرنے کے چال کے ساتھ نیٹ کو متعارف کیا گیا ہے۔ نیٹ کے ذریعے میعار کے نام پر مالدار طبقہ زیادہ فیس ادا کرکے انفرادی تربیت حاصل کرکے نیٹ کا امتحان لکھتے ہیں اور متمول میڈیکل کالجوں میں داخلہ لیتے ہیں۔ جبکہ غریب طلبہ کو میڈیل تعلیم حاصل کرنے کیلئے نااہل قراردے دیا جاتا ہے۔ اس میں بھی مرکزی حکومت کے کارپوریٹ مفادات شامل ہیں اور اس میں غریبوں کی فلاح و بہبودی بالکل نہیں ہے۔ ملک کی تعلیم کو بہتر بنانا تعلیمی ڈھانچے کے میعار کو بہتر بنانے سے ہی ممکن ہے نہ کہ نیٹ داخلہ امتحان مسلط کرکے ملک کی تعلیمی میعار بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ ملک کے مختلف ریاستوں میں NEETامتحان سے غریب طلبہ کا میڈیکل تعلیم کا خواب چکنا چورہوا ہے۔زمینی حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ NEETامتحان سے ایک ایسی صورتحال پید ا ہوئی ہے جہاں صرف امیر طبقے کے طالب علم جنیں کئی لاکھ کی لاگت سے نجی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس میں شمولیت کا موقع ملتا ہے صر ف وہی طبی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کی تصدیق حکومت تمل ناڈو کی جانب سے ریٹائرڈ جج اے کے راجن کی سربراہی میں ایک پینل کی رپورٹ سے ہوتی ہے جس میں غریب اور دیہی طلباء پر نیٹ کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ جج اے کے راجن نے کہا ہے کہ طبی تعلیم کیلئے نیٹ کا داخلہ امتحان جانبدرانہ نظام نہیں ہے۔ نیٹ امتحان نے سماجی اور معاشی طور پر پسماندہ طبقے کے طلباء کی امیدوں اور خوابوں کو چکنا چور کردیا ہے۔ جج راجن کے پینل نے اپنے رپورٹ میں کہا ہے کہ نیٹ کا امتحان درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے خلاف ہے۔ اسی تناظر میں جسٹس اے کے راجن کے پینل کی رپورٹ کی بنیاد پر تمل ناڈو حکومت نے تمل ناڈو قانون ساز اسمبلی میں تمل ناڈو کو نیٹ امتحان سے مستشنی قراردینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک بل منظور کیا ہے۔ نیٹ سے چھوٹ کے بل کے ساتھ حکومت تمل ناڈو کو نیٹ کے حوالے سے سپریم کورٹ میں زیر التوا کیس کو تیز کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئے اور نیٹ کے خلاف فیصلہ مانگنا چاہئے۔ ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر نیلائی مبارک نے تمل ناڈو حکومت پر زور دیکر کہا ہے کہ وہ وفاقی فلسفے کی بنیادپر تعلیم کے ریاستی حقوق میں مرکزی حکومت کی مداخلت کو روکنے اور تعلیم کو کارپوریٹائز کرنے کی کوشش کے خلاف دوسرے ریاستوں کو متحد کرکے نیٹ امتحان سے مستقل چھوٹ حاصل کرے۔