تفرد اور انفرادیت ۔تحریر :خورشید انور ندوی

76

تحریر :خورشید انور ندوی
17 جولائی 2021
تفرد اور انفرادیت..
تفرد ایک حوصلہ ہے، اعتماد ہے اور عموماً تحقیق ودرک کا نتیجہ ہوتا ہے.. انفرادیت ایک بڑا معیار ہے جو شخصیت کو امتیاز عطا کرتا ہے.. ایک خصوصی پہچان دیتا ہے اور بھیڑ میں کسی چہرے کو ایک بڑی شناخت دیتا ہے.. لیکن تفرد اگر عادت اور ہابی بن جائے اور انفرادیت پسندی ایک ذہنی چاٹ اور لت بن جائے تو شخص اور شخصیت دونوں کو بےنشان کرجاتے ہیں.. محققین کے گروہ کے لئے “تفرد” عدم قبولیت کا دوسرا نام ہوتا تھا، لیکن “منفرد رائے” بھی احترام اور علمی متانت کے ساتھ دیکھی جاتی تھی.. بے شمار کلامی فقہی اور تفسیری آراء کو “تفرد” کا درجہ حاصل ہے لیکن صاحب رائے کو مطعون نہیں کیا گیا، ہاں رائے قبولیت عام حاصل نہیں کرسکی.. واعظین اور دینی مصلحين کا تفرد کبھی اعتبار حاصل نہ کرسکا اور تنقیدوں کی زد میں آتا رہا ہے.. اس کی وجہ واعظانہ تفرد کی ہلاکت خیزی ہے.. اہل تحقیق، اصحاب رائے یعنی علماء ومحققین ہوا کرتے ہیں.. مخاطب عوام الناس نہیں اصحاب علم ہوا کرتے ہیں،جہاں ذہنی ضرر کا احتمال نہیں ہوتا، جب کہ واعظوں کی دنیا عوام ہوتے ہیں، جو ہر نئی بات پر جھوم اٹھتے ہیں، کنہ کلام تک رسائی ان کے بس کی بات نہیں ہوتی.. مسلمات یا مسلمات نما کے خلاف ان کی ذہنی تحریک کا محرک محض ندرت، نکتہ آفرینی یا انوکھاپن ہوتا ہے.. میرا خیال ہے کہ دینی مفاہیم کی ترسیل میں بیجا “تفرد” نامعقول ہو نہ ہو بے نتیجہ اور بے مقصد ضرور ہے..
کسی دوست نے ایک ویڈیو بھیجا اور باصرار طلب کیا کہ کچھ وضاحت کی جائے.. میں عموماً” لایعنیات” سے احتراز کرتا ہوں اور تقریریں تو میں بڑے بڑے مقررین کی نہیں سنتا.. اور جن کی گھنٹے گھنٹے بھر کبھی سنا آج تک خود کو کوستا ہوں اور جن کی سنا ان سے ہمیشہ کے لئے بدگمان ہوگیا.. یہی حال طولانی سجع دار دعاؤں کا ہے.. اس سے بے مصرف اور بے روح کوئی انسانی کلام نہیں ہوسکتا.. بہر حال ویڈیو میں ایک صحابی اور دوسرے صحابی کا موازنہ تھا.. اور بلاوجہ وجیہ.. جس کا کوئی دینی فائدہ نہیں اور نہ کوئی علمی وجہ… سوائے اس “تفرد” پسندی کی چاٹ کے.. ایک صحابی، رائے مشورہ اور خیرخواہی میں کسی دوسرے صحابی کا محتاج ہو تو، پہلے اور دوسرے کے درمیان وجہ فضیلت ایک عام امتی کے لئے کیا ہوسکتی ہے؟ .. ایک امتی کی حیثیت سے، میرے لئے محتاج اور محتاج الیہ میں کیا فرق ہے؟ پھر محتاج اور محتاج الیہ کا زمرہ قائم کرکے ایک نئی وجہ فضیلت دریافت کرنے کے لئے فکری بدعت کی کیا ضرورت ہے؟ ایک عام معیار فضیلت پہلے سے قرآن نے قائم کررکھا ہے.. “إن اکرمکم عند اللہ اتقاکم”.. پھر صحابہ کرام کے درمیان.. ہجرت، سبقت فی الاسلام، شرکت بدر اور بیعت تحت الشجرۃ جیسے متداول معیار پہلے سے قائم تھے تو اس نامسعود اصطلاح جدید کے اجتہاد کی کیا آن پڑی؟ مجھے تو یہ “تفرد عقیم” کے شوق بے برکت کے سوا کچھ نہیں دکھتا.. گہر بننے والا قطرہ نیساں بھی سمندر کی آغوش میں ہی بنتا ہے.. یہ بھی فطرت کا ایک برتاؤ ہے..