تعلیمی انقلاب کے بغیر قوم کی ترقی ناممکن: مفتی وصی احمد قاسمی

91

تعلیمی انقلاب کے بغیر قوم کی ترقی ناممکن: مفتی وصی احمد قاسمی
تعلیم کسی بھی قوم اور معاشرہ کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہوا کرتی ہے،جس پر ایک صالح معاشرہ اور سوسائٹی کی بنیاد رکھی جاتی ہے،تعلیم کو اگر قوموں کے بیچ سے نکال دیا جائے تو وہ قومیں زیادہ دنوں تک باقی نہیں رہ سکتیں، آج کے اس دور میں تعلیم ہی وہ واحد ہتھیار ہے جس میں دین و دنیا کی ترقی کا راز مضمر ہے، عصر حاضر میں جدید علوم ضروری ہیں ہی اس کے ساتھ ساتھ دینی علوم کی اہمیت ان سے کہیں بڑھ کر ہے،ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے نائب قاضی شریعت مولانا و مفتی وصی احمد قاسمی نے4/فروری 2021 بروز جمعرات”ہفتہ برائے ترغیب تعلیم و تحفظ اردو” کے مشاورتی اجلاس منعقدہ ہوٹل ایور گرین ارریہ میں علماء،ائمہ و دانشوران سے خطاب کرتے ہوئے کیا،مفتی صاحب نے مزید فرمایا کہ موجودہ حالات میں اگر اپنی آنے والی نسلوں کو دین و ایمان پر باقی رکھنا ہے تو ان کو دینی تعلیم سے واقف کرانا اور اردو کی تعلیم سے آراستہ کرنا بے حد ضروری ہے وگرنہ آنے والے وقتوں میں مزیدچیلیزاورمصائب ومشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لئے ابھی سے اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر کیجئے۔
مفکر اسلام حضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی مدظلہ نے اپنی بالغ نظری و فراست ایمانی سے آنے والے خطرات کو محسوس کر لیا اور امارت شرعیہ کے بینر تلے بنیادی دینی تعلیم کو عام کرنے،معیاری عصری تعلیمی اداروں کے قیام کے ساتھ تحفظ اردو کے لئے بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ میں ریاست گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا۔چنانچہ امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم جناب مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے امیر شریعت کے انہیں عزم و حوصلوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے یکم فروری 2021 سے اس تحریک کا آغاز کیا۔قاضی شریعت دارالقضاء امارت شرعیہ ارریہ مفتی محمد عتیق اللہ رحمانی نے امارت شرعیہ کی صدسالہ خدمات کا تعارف کراتے ہوئے ترغیب تعلیم و فروغ اردو کے حوالےسے امارت شرعیہ کی کوششوں کاتذکرہ فرمایا۔جبکہ اجلاس سے ماسٹر محسن صاحب،مولانا عبد المتین رحمانی صاحب، مفتی علیم الدین صاحب،مفتی انعام الباری،مولانا آفتاب صاحب،مفتی شمشیر صاحب،مولانا کامل صاحب،مولاناشاہد عادل قاسمی صاحب،مفتی نسیم صاحب،جناب عبدالغنی صاحب،پروفیسرعرفان صاحب،مولاناعبداللہ سالم قمر چترویدی صاحب،سید شمیم انورصاحب،الحاج نیرالزماں صاحب،پروفیسر اعلی مختورمجیب صاحب،مولاناطارق بن ثاقب صاحب اور دیگر ارباب علم و دانش نے نئی تعلیمی پالیسی پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئےامارت شرعیہ کے اس اقدام کو سراہااور حضرت امیر شریعت مد ظلہ کا شکریہ ادا کیا جن کی بیدار مغزی نے حالات کو پرکھ لیا اورآنے والی نسلوں کے دین و ایمان کی بقاء کے لیے مستقل طور پر اس تحریک کا آغاز فرمایا۔اس اجلاس میں ضلع ارریہ کے تمام بلاک کے نقباء،ونائبین،علماء،وائمہ مساجد کے علاوہ ضلع کے سینکڑوں باوقار دانشوران حضرات نے سرد موسم کے باوجود شرکت کی
FB IMG 1612461712493

جسمیں بطورِ خاص رکن شوری و عاملہ جناب الحاج اکرام الحق صاحب،مولانا سعید الرحمن صاحب،امتیاز انیس عرف لڈو،جناب قمر الہدی صاحب ماسٹر رئیس صاحب۔اجلاس کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے کارکنان مولانا امان اللہ قاسمی نائب قاضی شریعت دارالقضاء امارت شرعیہ ارریہ، مولانا محمدمنہاج عالم ندوی،مولانا مجاہد الاسلام قاسمی صاحب امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ نے اہم رول ادا کیا۔