ہومبریکنگ نیوزتعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا ۔ شمشیر عالم...

تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا ۔ شمشیر عالم مظاہری دربھنگوی

تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا ۔

شمشیر عالم مظاہری دربھنگوی
امام جامع مسجد شاہ میاں روہوا ویشالی بہار
اس خدا کے لیے حمد ہے جس نے اسلام کو غالب رکھا جس نے اپنے نبی ﷺ کو غلبہ دیا جس نے اپنے پسندیدہ دین کا ہمیں پابند بنایا جس نے اپنی مہربانیوں سے ہمیں پالا پوسا جس نے جسم و جان کے ساتھ ہمیں ایمان بھی دیا جس نے ہمیں حدیث کے ساتھ قرآن بھی دیا اے سب کچھ دینے والے اے ہر ایک کے کام آنے والے اے پروا پچھوا چلانے والے اے مردوں کو زندہ کرنے والے اے نیست کوہست کرنے والے اے دکھ درد کے دور کرنے والے اے ناامیدوں کو کامیاب کرنے والے اے درد مند دل کی سننے والے اے سارے جہاں کے پالنے والے اے بگڑی کے بنانے والے اے بیماری کے بعد تندرستی عطا کرنے والے اے ہمیں راحت و آرام پہنچانے والے اے ہماری نمک حرامیوں کو دیکھتے ہوئے ہماری روزیاں جاری رکھنے والے اے رحیم و غفور اے مالک و شکور تو سچا تیرا رسول سچا تیرا کلام سچا
روئے زمین کے درختوں کی قلمیں بناکر اور روۓ زمین کے پانیوں کی روشنائی گھول کر بھی اگر رب العالمین معبودِ برحق کی حمدوثنا لکھی جائے تو قلمیں گھس جائیں گی سیاہیاں ختم ہو جائیں گی لیکن رب کے پیارے اور نہ ختم ہونے والے اوصاف کبھی ختم نہ ہوں گے دنیا کی عمر کے برابر بھی اگر کوئی شخص خدا کی ان گنت اور بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہے تو ناممکن ہر ہر سانس پر رب کی تسبیح وتکبیر پڑھتا ر ہے مگر اس کی پاکیزگی اور بڑائی کے مقابلہ میں پھر بھی کچھ نہیں ہواؤں میں اڑنے والے پرند سوراخوں میں رہنے والے جانور گردن جھکائے چلنے والے چوپا ۓ زمین پر رینگنے والے کیڑے گھنے جنگلوں میں بادشاہت کرنے والے درندے سربفلک پہاڑوں کی چوٹیاں بچھی ہوئی اور پھیلی ہوئی زمین روانی سے بہتے ہوئے دریا موجیں مارنے والے سمندر خاموش درخت با ادب فرشتے ناری اور ترابی مخلوق زناٹے بھرتی ہوئی طاقت دار ہوا اونچا اور جھکا ہوا آسمان چمکتے ہوئے ستارے اور سورج چاند کائنات کا ایک ایک ذرہ جس کی تعریفوں کے بیان میں مشغول ہے وہ ذات اقدس الہ العالمین اللہ وحدہ لاشریک لہ کی ہی ہے سب اسی کے محتاج اور وہ سب سے بے نیاز سب اس کا دیا کھانے والے اور اس کا ہاتھ تکنے والے کسی ایک کو نتھنا پھڑ کانے کی ایک سانس لینے کی بلکہ منہ پر سے مکھی اڑانے کی طاقت بھی نہیں اس کی عظمت کے سامنے سب دبکے ہوئے اس کے دبدبے کے سامنے سب دست بستہ کونسا دل ہے جس کی اس کی ذات سے امیدیں بندھی ہوئی نہ ہوں کونسا دل ہے جو اس کے خوف سے خالی ہو سب کا مالک سب کا رازق وہی عزت و ذلت کا دھنی امیری غریبی پر قادر سارے ملک کا تنہا مالک مارنے اور جلانے والا تندرست اور بیمار کرنے والا بھوک کے وقت نرم و گرم غذا دینے والا پیاس کے وقت سرد و خنک پانی دینے والا سوتے ہوؤں کی حفاظت کرنے والا وہی ہے جس کا علم محیطِ کل جس کی قدرت ہر چھوٹے بڑے پر جس کی سمع و بصر ادراک سے دور جو پانی کو پتھر کر دینے پر جو آگ کو باغ کر دینے پر جو دشمن کو دوست کر دینے پر جو رحمت کو زحمت کر دینے پر قادر ہے وہ وہی ہے جس کی سلطنت آسمان و زمین پر ہے جس کا حکم ہر شئے پر ہے جس کا کوئی ارادہ مراد سے جدا نہیں جس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں جس کا کوئی فرمان بدلتا نہیں جس کا نہ کوئی وزیر ہے نہ مشیر جس کا نہ کوئی ضد ہے جس کا نہ کوئی شریک نہ ساجھی جس کی نہ اولاد نہ ماں باپ جس کی نہ قوم نہ برادری جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا پھولوں میں خوشبو اس کی دی ہوئی منظروں میں دلفریبی اس کی رکھی ہوئی چہروں میں خوبصورتی اس کی پیدا کی ہوئی میاں بیوی میں اولاد اور ماں باپ میں محبت اس کی عطا فرمائی ہوئی پھلوں میں ذائقہ اس کا دیا ہوا پتیوں میں رنگ اس کا بھرا ہوا دریاؤں میں روانی اس نے دی سورج چاند میں روشنی اس نے دی زبان کو بولنے کی آنکھوں کو دیکھنے کی کانوں کو سننے کی دل کو سمجھنے کی ہاتھوں کو پکڑنے کی پاؤں کو چلنے کی معدے کو ہضم کرنے کی طاقت اسی نے دی ہے وہ بے شمار نعمتیں ہمیں دے چکا لیکن اس کے خزانے ویسے ہی بھرپور ہیں جیسے ان نعمتوں کے دینے سے پہلے تھے ہم ان گنت نعمتیں اس سے لے چکے لیکن ہماری محتاجی ویسی ہی ہے جیسی ان نعمتوں کے ملنے سے پہلے تھی نہ کبھی اس کی بے نیازی ختم ہو نہ کبھی ہماری محتاجی ختم ہو سب کی سننے والا گنہگاروں پر بھی شفقت رکھنے والا کسی کو اپنے در سے محروم نہ پھیرنے والا گرے پڑوں کو سہارا دینے والا ضعیفوں اور عاجزوں کی فریاد رسی کرنے والا مصیبتوں میں کام آنے والا بے موسم پھل دینے والا بڑھاپے میں اولاد دینے والا مردوں کو زندہ کر دینے والا دور و نزدیک کی سننے والا وہی ہے وہ کون ہے جو تم پر تم سے زیادہ مہربان ہے وہ کون ہے جس نے ماں کے پیٹ میں تمہاری پرورش کی وہ کون ہے جس نے دنیا میں آنے سے پہلے تمہاری خوراک ماں کے سینے میں جمع کر دی وہ کون ہے جس نے آنکھ ناک کان اور زبان تمہیں دی وہ کون ہے جو تمہیں کھلاتا پلاتا ہے سلاتا جگاتا ہے بیوی بچے دوست احباب کس نے دئیے آسمان سے پانی اتارنا زمین سے اناج ا گانا کس کے ہاتھ ہے اسی کے جس کا عرش آسمانوں پر ہے جس کا حکم ہر جگہ ہے جس کی سلطنت چپے چپے پر ہے اسی کا نام اللہ وہی رحمن ہے وہی رحیم ہے وہی رب العالمین ہے وہی عبادتوں کے لائق ہے بہت سے کام ہیں جو عام لوگوں پر مشکل ہوتے ہیں بہت سے کام ہیں جو خواص کے بس کے بھی نہیں ہوتے لیکن ایسا کوئی کام نہیں جو خدا پر مشکل ہو جو اس کے بس کا نہ ہو چھ دن میں آسمان و زمین اور کل کائنات رچادی پھر بھی نہ تھکا نہ سستایا پھر قادر ہے کہ جب چاہے انہیں فنا کر دے اور پھر قادر ہے کہ جب چاہے پیدا کردے وہی ہے جس نے اپنے نبی حضرت موسی کو ان کے زبردست دشمن فرعون کی گودیوں میں پلوایا وہی ہے جس نے حضرت ابراہیم جیسے اپنے خلیل کو کافروں کے ہاتھوں آگ میں ڈلوایا اور پھر ایک رونگٹے پر بھی آنچ نہ آنے دی وہی ہے جس نے بنی اسرائیل جیسی مغلوب قوم کو طاقتور اور قوی بنا دیا ان کے بادشاہ کو مع اس کے لاؤ لشکر کے چشم زدن میں غرق دریا کردیا جسے وہ عزت دے اسے کوئی ذلت نہیں دے سکتا جس سے وہ چھین لے اسے کوئی عطا نہیں کر سکتا ہمارا حمد الہی کرنا آفتاب کو چراغ دکھانا ہے ہماری ثناخوانی گونگوں کی گویائی ہے ہمارا درود بھیجنا اپنا ہی نفع سوچنا ہے ہمارا سلام پڑھنا اپنا فرض ادا کرنا ہے جس کی حمد و ثنا میں بے حد و بے شمار مخلوق مشغول ہوں جس کے گن گانے میں رہتی دنیا تک پاک فرشتے مصروف ہوں بھلا اسے ہم سے عاصیوں کی کج مج زبان سے حمد کی ادائیگی کی کیا پرواہ
الہی تیرا شکر ہے کہ تو نے ہمیں مسلمان بنایا موحد بنایا انسان بنایا متبع سنت بنا یا الہی جو کسر اور کمی ہم میں ہے اسے بھی تو پوری کردے تیری قسم اگر تیری دستگیری نہ ہوتی تو راہ راست پر کہاں ہوتے نہ جانیں کن کن پتھروں کے آگے سر پٹختے اور نہ جانیں کس کس سے مدد طلب کرتے پھرتے اور یوں ہی جہنم کے ایندھن بن کر ھاویه میں ٹھس جاتے ہم اس زبردست نعمت پر جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے آنکھوں دیکھتے ہیں کہ آنکھ کان دل زبان عقل و حواس رکھتے ہوئے کوئی بتوں کو پوج رہا ہے کوئی صلیب کے سامنے ماتھا رگڑ رہا ہے کوئی قبروں کی پتھروں کی عبادت کر رہا ہے ہم تیرے شکر گزار ہیں اور بہت شکر گزار ہیں کہ تو نے ہمیں اپنی عبادت نصیب فرمائی
الٰہی ہمارے ہر کام میں تو رہنمائی فرما قلت سے ذلت سے بری سمجھ سے بدراہ سے حماقت سے رذالت سے تو ہمیں بچا سیدھا راستہ دکھا ہر کام کا انجام نیک کر بھلے لوگوں کی راہ ہمیں بھی چلا انبیاء مطیع نیکوں کا ساتھی بھلوں کا رفیق بنا اپنی نعمت اپنی رحمت عطا فرما اے مالک الملک خدا بدیوں سے برائیوں سے خطاؤں سے گناہوں سے بری راہ سے بد ساتھیوں سے برے ارادوں سے ناپاکیوں سے گندگیوں سے واہی خیالات سے برے سنگھاتیوں سے شرک و بدعت سے گناہوں اور نفاق سے کفر اور تکبر سے اپنے غضب و قہر سے گمراہی اور بدنظمی سے برے انجام سے اور نا فہمی سے کج خلقی سے اور بد کلامی سے کمینہ پن اور سفلہ پن سے ہمیں بچا اپنی حفاظت نصیب فرما ہمیں وہ توفیق دے جس سے تیری رضامندی حاصل ہو ہمیں ان کاموں سے بچا جو تیری ناراضگی کا موجب بنیں الٰہی دین دنیا میں ہمیں سرسبز خوش و خرم رکھ دونوں جہان سنوار دے اپنی محبت میں سرشار اپنے نبی ﷺ کی حدیثوں کا تابعدار رکھ ۔ آمین یارب العالمین
تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا ، کیسی زمیں بنائی کیا آسماں بنایا

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے