ترقیاتی مرکز سمریاوں سنت کبیر نگر کے مجیدآباد واقع الحرا گلوبل اکیڈمی میں عالمی یوم اردو کی مناسبت سے ایک ادبی نشست کا انعقاد

53

ترقیاتی مرکز سمریاوں سنت کبیر نگر کے مجیدآباد واقع الحرا گلوبل اکیڈمی میں عالمی یوم اردو کی مناسبت سے ایک ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت بزرگ شاعر مولانا مجیب بستوی صاحب نے کی، اور نظامت کے فرائض محمد سلمان عارف ندوی نے انجام دئے۔ قاری محمد شفیق کی تلاوت سے مجلس کا آغاز ہوا، جب کہ نعت نبی کا نذرانہ مجیب بستوی صاحب نے پیش کیا۔ مولانا فضیل احمد ندوی مینیجر الحرا گلوبل اکیڈمی مجید آباد سمریاواں نے علامہ اقبال کی سوانح پر گفتگو کی۔ آپ نے کہا کہ علامہ اقبال 9 نومبر سن 1877 عیسوی میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں ہی پائی۔ اور میونخ یونیورسٹی سے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، علامہ اقبال نے نوعمری سے ہی شاعری کا آغاز کیا، آپ کی پہلی نظم نالہ یتیم ہے۔ آپ کی شاعری کے متعدد مجموعے ضرب کلیم، زبور عجم، بال جبریل، بانگ درا منظر عام پر آئے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے اقتصادیات کی پہلی کتاب علم الاقتصاد بھی تصنیف کی۔ آپ کی شاعری جہاں نوجوانوں کو مہمیز کرتی ہے، وہیں بچوں کو بھی اپنی جانب کھینچتی ہے۔ ہمدردی، پرندے کی فریاد، مکڑا اور مکھی، بچے کی دعا، پہاڑ اور گلہری وغیرہ نظمیں اس کی بہترین مثالیں ہیں ۔ آپ مسلمانوں کی موجودہ صورتحال پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے، دین اسلام سے آپ کا والہانہ لگاؤ تھا۔ آپ 12 اپریل سن 1938 عیسوی کو اس عالم فانی سے عالم جاودانی کی جانب کوچ فرما گئے۔
ظفیر علی کرخی نے کہا کہ ہمیں اُردو زبان کی ترویج و ترقی کے لئے کوششیں کرنی چاہئے، اردو اخبارات خرید کر پڑھنا چاہیے اور دوسروں کو بھی اس عمل پر ابھارنا چاہئے۔ انھوں نے خاص طور سے مولانا مجیب بستوی صاحب کو ان کی اردو زبان کے تعلق سے کی گئی خدمات پر مبارکباد دی اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی، ساتھ ہی محمد سلمان عارف ندوی کی اُردو زبان کے تئیں خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے مزید آگے بڑھنے کا مشورہ دیا۔
شاعر اسلام مجیب بستوی صاحب نے کہا کہ آج یوم اردو منانے کے لئے ہم اکٹھا ہوئے ہیں لیکن بات اسی پر ختم نہیں ہوجاتی بلکہ ہمیں اردو زبان کے فروغ کے لئے میدان میں آنا ہوگا، ہمیں فکر کرنی ہوگی کہ ہماری نئی نسل اردو سیکھے، آپ نے علامہ اقبال رح کی زندگی کے کچھ تابندہ نقوش پر بھی گفتگو فرمائی، ساتھ ہی اردو زبان پر اپنی طویل نظم بھی سنائی، کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
مشکل سے ہمیں تنویر آزادی ملی
کیا ہوا ہم کو نہیں کشمیر کی وادی ملی
مسکراہٹ قہقہے شادابیاں ہیں ہر طرف
پھر بھی ملک میں بے تابیاں ہیں ہر طرف
مادر ہندوستان کی مانگ میں سیندور ہے
دل سے غمہائے غلامی آج کوسوں دور ہے
گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے
شمع محفل گرمی سوز دل پروانہ ہے
محمد سلمان عارف ندوی نے اس موقع پر اُردو زبان پر تفصیلی کلام کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان کب پیدا ہوئی؟ کیونکر وجود میں آئی؟ کہاں پلی بڑھی؟ مولد کہاں ہے؟ ان سب سوالوں کے بارے میں مورخین کے یہاں بنیادی طور پر چار نظریات پائے جاتے ہیں۔ بعض محققین کا کہنا ہے کہ عرب سوداگر مالابار اور دکن میں بکثرت آتے جاتے تھے، اور مقامی آبادی سے تجارتی تعلقات رکھتے تھے۔ ہندوستانیوں سے تعلقات اور باہمی بول چال کے نتیجے میں دھیرے دھیرے ایک نئی زبان پنپنے لگی۔ یہی نئی زبان ترقی کرتے ہوئے ایک ایسے اسٹیج پر پہنچی جہاں اسے اردو زبان کا نام دیا گیا۔ علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی رائے ہے کہ سندھ پر جب مسلم فاتحین کا قبضہ ہوا، تو انھیں حکومتی انتظام و انصرام بحسن و خوبی چلانے کے لئے کسی زبان کی ضرورت محسوس ہوئی، یہیں ایک نئی زبان کا جنم ہوتا ہے جو مختلف مراحل سے گزر کر اردو زبان کا نام پاتی ہے۔ جبکہ بعض ماہرین لسانیات کا ماننا ہے کہ اردو زبان کی جائے پیدائش پنجاب ہے۔ محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری نے جب ہندوستان کے بعض حصوں پر اپنی حکومت قائم کی، تو انہیں بھی رعایا کے ساتھ گفت و شنید کرنے نیز حکومتی معاملات کو انجام دینے کے لیے کسی ایسی زبان کی ضرورت محسوس ہوئی جو رابطہ کی زبان کا کردار ادا کر سکے، یوں ایک زبان کا وجود ہوا جسے آگے چل کر اردو زبان کہا گیا۔ چوتھا نظریہ ان مؤرخین کا ہے جو یہ مانتے ہیں کہ جب دہلی میں مغلوں کی باضابطہ سلطنت قائم ہوئی تو رعایا اور حکومتی عملہ کے درمیان کیونکر معاملات انجام پذیر ہوں؟ گفتگو کیسے ہو؟ اسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایک نئی زبان کی تشکیل عمل میں آئی۔ جسے آگے چل کر اردو کے نام سے موسوم کیا گیا۔ لیکن ہم جب ان سبھی نظریات اور آراء کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ عرب اور ہند کے مابین رابطوں اور تعلقات کے نتیجے میں دکن میں ایک زبان نے جنم لیا، جس نے سندھ میں اپنے بال و پر کھولے، پنجاب میں پلی بڑھی، دہلی میں آکر اس نے حسن و شباب کی چوکھٹ پر قدم رکھا، اور لکھنؤ میں آکر تہذیب و نفاست سے آراستہ و پیراستہ ہوئی۔ واضح رہے کہ اردو زبان کو آغاز میں ہندوی، ہندوستانی، ریختہ کہا گیا۔ آگے چل کر قلعہ معلّٰی اور اردوئے معلی کے نام سے پکارا گیا۔ جو دھیرے دھیرے مختصر ہوکر فقط اردو رہ گیا۔ مختلف زبانوں کی طرح اردو ادب بھی دو قسموں پر منقسم ہے، نثر اور نظم۔ نثر کا آغاز ابتدا ہی میں ہو جاتا ہے۔ تاریخ فرشتہ جو ہندوستانی تاریخ کی اہم دستاویز ہے کے مطابق اُردو زبان کو فروغ دینے اور مقبول بنانے میں صوفیائے کرام کا اہم کردار ہے۔ خواجہ بندہ نواز گیسو دراز رح اس کی معروف تصنیف معراج العاشقین وہ پہلی کتاب مانی جاتی ہے جو اردو زبان میں وجود میں آئی۔ اسی طرح مرغوب القلوب مصنفہ میراں جی شمس العشاق، کلمۃ الحقائق مصنفہ برہان الدین جانم، گنج مخفی مصنفہ امین الدین اعلی وغیرہ ابتدائی دور کی تخلیقات ہیں۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ بعض مصنفین نے اپنی کتابوں میں استعمال کی گئی زبان کو گوجری اور ہندی کہا ہے۔ لیکن آگے چل کر یہ واضح ہوجاتا ہے کہ یہی وہ بنیادی دیواریں تھیں جن پر اردو زبان کا عظیم الشان قلعہ معلّٰی تعمیر ہوا۔ حالانکہ کچھ محققین کا ماننا ہے کہ اردو نثر کی پہلی کتابیں ملا وجہی کی سب رس اور فضلی کی کربل کتھا ہیں۔ واضح رہے کہ ملا وجہی شاعر بھی تھا جس نے اپنی شاہکار مثنوی قطب مشتری کے ذریعے اردو ادب میں شہرت دوام حاصل کی۔ آگے چل کر بے شمار مصنفین نے اردو نثر کو فروغ دیا، اور سہل اسلوب رائج کیا۔ نو طرز مرصع مصنفہ میر محمد حسین عطا خان تحسین، نو آئین ہندی مصنفہ مہر چند کھتری مہر، عجائب القصص مصنفہ شاہ عالم ثانی، جذب عشق مصنفہ شاہ حسین حقیقت، ترجمہ مہر وماہ مصنفہ حیدر بخش حیدری وغیرہ تصنیفات اسی روایت کو آگے بڑھاتی ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر معروف تخلیق کاروں میں منشی پریم چند، سعادت حسن منٹو، قرۃالعین حیدر، کرشن چندر، عصمت چغتائی، میر امن، نہال چند لاہوری، خلیل علی خان اشک، مولانا محمد حسین آزاد، انشاء اللہ خاں انشاء، میر بہادر علی حسین، میر شیر علی افسوس، مرزا علی لطف، مظہر علی خان ولا، کاظم علی، بینی نارائن جہاں، اکرم علی، للو لال کوی، مرزا جان طیش، امام بخش صہبائی، آغا امانت علی، سرسید احمد خان، خواجہ حسن نظامی، ثوبان فاروقی، پنڈت روپ چندر جوشی، غلام عباس، وزیر آغا، بیگم اختر ریاض الدین، نسیم حجازی، مشتاق احمد یوسفی، احمد ندیم قاسمی، صادق حسین سردھنوی، مرزا امان علی خاں، عنایت اللہ التمش، نذیر احمد، علامہ شبلی، راشدالخیری، عبد الحلیم شرر، رتن ناتھ سرشار، مولانا ابوالکلام آزاد، مولوی عبدالحق، سجاد حیدر یلدرم، نیاز فتح پوری، قاضی عبدالستار، رشید احمد صدیقی، فرحت اللہ، علامہ سید سلیمان ندوی، محمد ولی رازی، صادق علی بستوی قاسمی کے اسماء گرامی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ رہی بات اردو شاعری کی تو اردو شاعری کا پہلا شاعر امیر خسرو رح کو مانا جاتا ہے، حالانکہ ان سے پہلے ایک اردو شاعر مسعود سعد لاہوری کا تذکرہ ملتا ہے لیکن ان کا کوئی کلام اب دستیاب نہیں، اُردو شاعری کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر قلی قطب شاہ ہے، لیکن جس نے اردو غزل کو وسعت دی، اور متعدد مضامین و خیالات کو اردو غزل میں سمویا وہ ولی دکنی ہے۔ پھر مظہر جان جاناں، ملّا وجہی، غواصی، مرزا محمد رفیع سودا، میر تقی میر، خواجہ میر درد، بہادر شاہ ظفر، دیا شنکر کنول نسیم، ناسخ، مرزا غالب، حیدر علی آتش، ابراہیم ذوق، الطاف حسین حالی، برج نارائن چکبست، اکبر الٰہ آبادی، تلوک چند محروم، جوش ملیح آبادی، رام پرساد بسمل، نظیر اکبر آبادی، جگر مراد آبادی، پنڈت ہری چند اختر، مجنوں گورکھپوری، پروین شاکر، شبلی نعمانی، سلامت علی دبیر، جگن ناتھ آزاد، کلیم عاجز، جون ایلیا، جیؔ سی بوسال، حبیب جالب، منور رانا، مجیب بستوی، راحت اندوری، مسعود حساس وغیرہ بے شمار شعرا نے اردو شاعری کو پروان چڑھایا اور آج تک اردو زبان کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔
اردو ہے جس کا نام سبھی جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

اس موقع پر نوشاد احمد ندوی، محمد ہارون، محفوظ الرحمٰن، محمد آصف وغیرہ خاص طور پر موجود تھے۔