بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتترتیب وترجیح کے ساتھ مطالعے سے بہتر طور سے باتیں سامنے آتی...

ترتیب وترجیح کے ساتھ مطالعے سے بہتر طور سے باتیں سامنے آتی ہیں، ہندو ازم، ہندوتو اور سماجی، سیاسی ،مذہبی روایات وافکار کے مطالعے سے باتوں کو بآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔

عبدالحمید نعمانی

ابتدائی ویدک دور میں زندگی اور رہن سہن میں سادگی، سہولت تھی، زیادہ پیچیدگی نہیں تھی، کرم کانڈ کی بھر مار اور پے چیدگیوں کا آغاز، برہمن کی شکل میں ویدوں کی شروحات سے ہوا، ویدک افکار و روایات پر خاصا لکھا گیا ہے، جواہر لعل نہرو کی کتاب تلاش ہند سے کچھ چیزیں سامنے آتی ہیں، ہندستانی فکر و فلسفہ کے حوالے سے خاص شناخت و مہارت کی بات نہیں کہی جا سکتی ہے، تاہم انہوں نے بہت کچھ تلاش کر کے سامنے لانے کا کام کیا ہے، اس سلسلے میں مہا پنڈت راہل سنسکرتیان کی درشن دگ درشن، رگ ویدک عہد اور دیگر کتب کا مطالعہ مفید ہے، ان کی چار جلدوں پر مشتمل” میری جیون یاترا ” سے بھی سماج کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، ڈاکٹر امبیڈکر نے بھی کئی مسائل کی نشاندہی کی ہے، اس سلسلے میں ایک اہم حوالہ ملک کے قومی شاعر اور ادیب و مصنف، رام دھاری سنگھ دنکر کی کتاب، سنسکرتی کے چار ادھیائے ہے، بہتر تو یہ ہے کہ اصل ما خذ کا مطالعہ کیا جائے، چاہے ترجمہ ہو، ان کا مختلف زبانوں میں خصوصا ہندی، انگریزی میں ترجمے دستیاب ہیں، اصل بات یہ ہے کہ بھارت کے تہذیب و تمدن کے ارتقاء کی تاریخ، دھرم اور اس کی مختلف اقسام و اشکال کے ظہور کی روایات کی تاریخ ہے، ہر دور میں مختلف حالات میں دھرم میں تبدیلی نظر آتی ہے، اسی حساب سے سماج پر اثرات اور چھاپ بھی ملتی ہے، اس کی طرف وویکا نند، گاندھی جی ،آچاریہ نریندر دیو، آچاریہ دیپانکر وغیرہم کی تحریروں میں اشارے کیے گئے ہیں، آچاریہ دیپانکر نے کوٹلیہ کالین بھارت میں لکھا ہے کہ نئے دھرموں کے ساتھ پرانے دھرموں کے کچھ مسلمات و مسائل کے سلسلے میں مسلسل کشمکش اور تال میل کی تاریخ ہی قدیم بھارت کی تاریخ کا بنیادی محور ہے، دھرموں کے ارتقاء کی شکل عموما اس قدر غیر محسوس ہوتی تھی کہ قدیم کے ہٹ جانے اور نئی صورت کے سامنے آنے جانے کے بڑے واقعات کا بھی سماج کو احساس نہیں ہوتا تھا اور بہت کم ایسے مواقع آتے تھے جب دھرم کی مختلف شکلوں میں جم کر اور کھلی کشمکش ہوتی تھی یا سماج کے مختلف حصے ایک دوسرے سے براہ راست متصادم ہوتے تھے، ہاں یہ بات ضرور نظر آتی ہے کہ بھارت میں طبقاتی کشمکش بھی مختلف دھرموں کی شکلوں میں سامنے آئی ہے، بھارت میں بنیادی طور سے چار دھرم اور مت نظر آتے ہیں، جن کا سماج پر چھاپ اور اثرات و نتائج بھی ہوئے ہیں، (1) ویدک دھرم، (2)برہمن دھرم(3)بودھ دھرم(4)برہمن دھرم کا عروج نو، ویدک عہد میں دھرم کی اصل شکل یگیہ نظر آتی ہے، اس کا مطلب مل کر کام کرنا، دیوتاؤں کو بھینٹ چڑھانا، ساتھ ساتھ کھانا پینا اور جشن، تقریبات کی ادائیگی، جشن اور تقریب میں اصل، جمع ہو کر اگنی کے چاروں طرف ،رقص، طواف، گیت، گان کے ساتھ اشیاء خوردنی اور سوم رس، (لذیذ مشروب ) کا ہوم کرنا اور اس کے بدلے میں دیوتاؤں سے صحت، لمبی عمر، وقت پر بارش، فصلوں کی اچھی پیدا واری کی امید اور دیوتاؤں کا خوش رہنا مانا جاتا تھا، سوامی دیانند اس کی کچھ الگ تعبیر وتشریح کرتے ہیں، وہ دیوتاؤں کو پرستش کے مقام پر رکھنے کے حق میں نہیں ہے، وہ قادر مطلق کو پرستش کا مستحق قرار دے کر سب کو خادم و ماتحت کے درجے میں رکھتے ہیں، اس کے لیے ستیارتھ پرکاش کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے، یہ اردو انگریزی، ہندی سب میں دستیاب ہے، آریا پرتی ندھی سبھا نے اسے شائع کیا ہے، ویدک عہد میں لوگ امیدوں سے بھرے، خوش نظر آتے ہیں، قدرتی مظاہر کی پر اسراریت میں ان کے لیے بڑی کشش ہے، وہ قدرت کی طرف سے ظہور پذیر ہر واقعے پر حیران ہو کر رشیوں سے سوال کرتے تھے اور رشی شعری اسلوب و زبان میں انھیں جواب دیتے تھے، ویدک عہد کی زندگی میں شدت پسندی اور کٹرتا نہیں کے برابر نظر آتی ہے، لوگ قدرتی و فطری ماحول میں زندگی گزارتے تھے، برہمن دھرم ،ویدک دھرم سے کئی باتوں میں الگ نظر آتا ہے، سماج مختلف طرح کی روایت پرستیوں میں مبتلا ہو گیا تھا، مراسم اور دیوتاؤں کی پرستش دھرم کی اصل بن گئی تھی ،اسی دور میں اونچ نیچ پر مبنی طبقاتی نظام رائج ہو کر باہمی تصادم کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور دھرم، عوام سے بہت حد دور ہر اشراف تک محدود ہو کر رہ گیا تھا منو سمرتی کا اسی زمانے میں بہت زیادہ اثر و غلبہ ہوا، اس نے مذہبی، سماجی اور سیاسی طور سے سماج کو ایک مخصوص رنگ اور طرز حیات کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کیا، اسے عوام کی اکثریت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھی، منو سمرتی کے مسلمات و فلسفہ کے خلاف آگے چل کر بغاوت پر آمادہ ہو گئی، یہ بغاوت گزرتے دنوں کے ساتھ بودھ مت کی تحریک میں متشکل ہو کر سامنے آئی، گوتم بودھ نے معروف معنی میں دھرم کے پرچار کے بجائے یہ نعرہ دیا کہ عوام کے مفاد کے لیے۔عوام کی راحت کے لیے دھرم کا پرچار کرو، اس تحریک کو تین چار سو برسوں میں پورے بھارت میں زبردست عروج ملا اور برہمن دھرم کو ہلا کر رکھ دیااور بری طرح ضعف کا شکار ہو گیا،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ برہمن دھرم بالکل ختم ہو گیا تھا، اس کے حامل لوگ اپنے فکر و عمل کو بچانے کے لیے سرگرم ہونے کے ساتھ اسے غالب کرنے کے لیے وقت کا انتظار کرتے رہے اور مختلف سطحوں پر بودھ مت کے خلاف سرگرم عمل رہے، یہ موقع موریہ سامراج میں مل گیا، اسے استحکام دینے کا کام وشنو گپت کوٹلیہ معروف بہ چانکیہ نے کیا تھا، ان کے اور گوتم بودھ کے درمیان کم از کم تین صدی کا فاصلہ ہے، برہمن دھرم کے عروج کا یہ سلسلہ اب تک جاری ہے، اگرچہ کئی تحریکیں چلتی رہی ہیں، (ہندستانی اشخاص و افکار الخ سے) ،

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے