جمعہ, 30, ستمبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراتتحفظ علماء اور تحفظ مدارس پررابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہارکی آن لائن...

تحفظ علماء اور تحفظ مدارس پررابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہارکی آن لائن مشاورتی نششت اختتام پذیر

تحفظ علماء اور تحفظ مدارس پررابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہارکی آن لائن مشاورتی نششت اختتام پذیر
آن لائن تعلیمی نظام کو جاری رکھنے کاہدف،رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہارکے ضلعی صدورونظماء کی شرکت

(پریس ریلیز)

لاک ڈاؤن کے باجود تعلیمی نظام کو جاری رکھنے، تحفظ علماءاورتحفظ مدارس پرغوروفکرکرنے کے لئے آج مورخہ 9جنوری2022،بروزاتوار،بوقت نوبجے تا گیارہ بجے دن،کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند کی شاخ رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہارکے زیراہتمام آن لائن مشاورتی نشست منعقد ہوئی، جس میں رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہارکے صدرمحترم جناب مولانامرغوب الرحمن صاحب قاسمی،معاون مہتمم جامعہ مدنیہ سبل پور،پٹنہ،اس کے ریاستی جنرل سکریٹری مفتی خالدانورپورنوی،جمعیۃ علماء بہارکے صدرمحترم جناب مفتی جاوید اقبال صاحب قاسمی،رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہارکے نائبین صدرمیں سے جناب مولاناقاری شہرت صاحب قاسمی،جناب مفتی محفوظ الرحمن صاحب سیوان، ریاست بہارمیں موجود اضلاع کے صدور ونظماء، بالخصوص قاری مسلم ایاز مظاہری، مولانامظفرآفاق قاسمی جہاں آباد،مفتی منصور صاحب قاسمی،مفتی فیضان سرور صاحب، کٹیہار،مفتی شمس توحید صاحب پورنیہ،مفتی مناظرنعمانی صاحب کشن گنج،مفتی عبدالوارث صاحب،مفتی انعام الباری صاحب، مولاناارشد کبیرخاقان صاحب مظاہری، مولاناشاہدانور صاحب قاسمی،رحمانی ،ارریہ،قاری سرفراز صاحب کھگڑیا،مولاناصابرنظامی صاحب بیگوسرائے،مولاناامان اللہ صاحب سپول،مولاناشاہدانورصاحب قاسمی بانکا،قاری ممتاز صاحب سمستی پور،مولاناشمشیر صاحب نوادہ ودیگر رابطہ مدارس اسلامیہ عبیہ بہار کے ضلعی ذمہ داران وعہدیداران شریک ہوئے،اجلاس کی صدارت جناب مولانامرغوب الرحمن صاحب قاسمی صدررابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار نے فرمائی ، قرآن کریم کی تلاوت سے پروگرام کا آغاز ہوا،اجلاس کی نظامت کرتے مفتی خالدانورپورنوی نے میٹنگ کے ایجنڈوں پر بات چیت شروع کی،اور اجلاس کے اغراض ومقاصد سے واقف کرایا،صدر اجلاس سمیت،تمام حاضرین نے اس بات کی تائیدکی کہ ہرحالت میں تعلیمی نظام کو جاری رکھنے اور تحفظ علماء اور تحفظ مدارس پر غوروفکرہوناچاہئے۔واضح رہے کہ اس وقت کروناوائرس کی تیسری لہر کااعلان کردیاگیاہے،جس کے پیش نظر مدارس اسلامیہ کے تعلیمی نظام کو آف لائن موقوف کردیاگیاہے،اور تعطیل عام کردی گئی ہے،ایسے میں اگرتعلیم حاصل کررہے بچوں کو آزاد گھروں میں چھوڑد یاجائے،تو گذشتہ لاک ڈاؤن کی طرح ان میں سے اکثر بچے تعلیم سے اپنارشتہ موڑ لیں گے،اس میٹنگ میں باتفاق رائے سب نےیہ ہدف لیاکہ وہ ہرحالت تعلیمی نظام کو جاری رکھنے پر غوروفکرکریں گے،اس کے لئے آن لائن تعلیمی نظام کو ایک بہترشکل قراردیاگیا۔اس اجلاس میں اس بات پر بھی غوروفکرکیاگیاکہ ایسی صورت حال میں علماء کرام کا تحفظ کس طرح ہوگا ؟ علماء کے تحفظ کے بغیرظاہرہے مدرسے جو دین کے مضبوط قلعے ہیں،ان کاتحفظ ممکن نظرنہیں آتاہے،میٹنگ میں موجود تمام علماء کرام نے اس پر بات زور دیاکہ تحفظ علماء اورتحفظ مدارس کی جتنی بھی شکلیں ممکن ہیں،اس کو کرنے میں وہ بخالت سے کام نہیں لیں گے،اجلاس میں موجود علماء کرام نے عوام وخواص سے بھی اپیل کی کہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھیں،اور اس بات کو جان لیں کہ یہ مدرسے دین واسلام کی حفاظت کا بہترین ذریعہ ہیں،جس طرح انسانی زندگی کی بقا کے لئے خوراک انتہائی ضروری ہے،اس کے بغیر انسانی صحت کو بحال وبرقرار رکھناممکن نہیں ہے،ٹھیک اسی طرح اسلامی تعلیم،اور اس کی تہذیب وثقافت کی حفاظت کے لئے یہ مدرسے مضبوط قلعہ کی مانند ہیں،یہ دینی مدرسے کس طرح باقی رہیں گے؟اس کے تحفظ کی کیاشکل ہوگی؟اس کے لئے سوچنا،اور غوروفکرکرنا،اور اس کی بہترشکلوں پر غورکرنا ہم سب کا دینی اور ایمانی فریضہ ہے۔علماء کرام نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ مصیبت کی اس گھڑی میں اساتذہ کی چھٹی نہیں کرائیں گے،بلکہ ان کے تعاون سے عوام وخواص کے پاس جائیں گے اور انہیں بتائیں گےکہ مدرسوں کے تحفظ کے لئے علماء کرام اور مدرسوں میں پڑھانےوالے اساتذہ کرام کاتحفظ بھی ضروری ہے،جناب قاری مسلم ایاز صاحب مظاہری کی رقت آمیز دعاء پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے