تحفظ اردو زبان اور امارت شرعیہ: شاہد عادل قاسمی

65

ارریہ
اُردو بولتے ہیں لشکر کو ،مگر اس لشکر سے خود ہمارا آج کیسا رشتہِ ہے، احتساب کی ضرورت ہے، امارت شرعیہ پٹنہ اس لشکر کی گرتی تصویر کو بھانپ کر آج تقریبآ تین ماہ سے بہار اڈیشہ اورجھارکھنڈ میں کیا خدمات انجام دے رہی ہے تقریبآ ہر ذی شعور سمجھ سکتا ہے،کچھ لوگوں نے ہم جیسے ناکارہ سے بڑی بیزاری سے امارت کی اس مہم کے اغراض ومقاصد اور فوائدپر عجب فلسفیانہ گفتگو کی، کسی نے توانسانیت کی ساری حدیں ہی توڑ دی اور لفظ “لولی”پوپ تک کا طعنہ جڑدیا ،جائزنقد اور طنز تو سہنا اچھی بات ہے مگر تنقیص اور بہتان کا جواب تو معقول دینا ہی چاہیے، میں نے اسی فارمولے پر عمل کرتے ہوئے محترم سے لب کشائی کی گستاخی کر لی،میرے تسلیمی اور تنکیری جوابات بھی اس کے دماغ کی گندگی کو دور نہ کرسکے اور وہ بھی اتنا متشدد ہوں گے مجھے اس کا علم قطعاَ نہیں تھا،دکنی اردوسے کون کون سی اردو کی فرضی کہانی سنائے میں اپنی کم علمی پر سردھنتا رہا، کاش ان لن طرانیوں سے کبھی میری ملاقات تو ہوتی؟کسی پنے میں ایسی تاریخ ملی اور نہ ایسے معلومات؟
ان کی لسان درازی مجھے ہمت دے گئی،سامنے سمندر کی گہرائی بڑی جلد میری کھوپڑی میں سماگئی اور میں نے طبیعت سے ایک کنکر اچھال دیا،کنکر کی غوطہ خوری سے مجھے ایک نئی سکت ملی اور میں نے امارت کی داغ بیل کی سچّائی تاریخ بتا دی،بات بات میں نعم نعم اور جی جی کی رفاقت تو رہی مگر امارت کی حالیہ قیادت پر وہی تنگ نظری اور بدظنی والی گفتگوجسے میں قرطاس وقلم کے حوالے نہیں کرسکتا،حضرت امیر شریعت مفکر اسلام مولانا ولی رحمانی حفظہ اللہ ہی نہیں بلکہ اس خانوادہ کی ملک عزیز پر کتنے احسانات ہیں، اس کو تاریخ چاہ کر بھی کبھی فراموش نہیں کر سکتی ہے، پھر ہما شما کی کیا بساط؟
اردو کی یومیہ زبوں حالی ہم آپ بخوبی دیکھ رہے ہیں، لاکھوں انسان اُردو کی روزی بوٹی کھا رہے ہیں، ہزاروں تنظیمیں تحفظ اُردو کے قصیدے پڑھ رہی ہیں،سینکڑوں انجمنیں اُردو کی بقاء کے لئے حکومتوں سے موٹی رقوم حاصل کررہی ہیں مگر اُردو کی اس گرتی تصویر پر کسی کو رونا نہیں آیا ،اگر کسی کے آنکھ میں آنسو آبھی گئے تو وہ فقط مگرمچھ کے ہی نکلے ،
امارت نے بروقت اس پیار اور حکومت والی زبان کی گراوٹ کو محسوس کیا،ریاستوں کے ہر ہر ضلعوں کے ہر ہر بلاک میں تحفظ اُردو کے لئے ایک مشن چلایا اور آج بھی یہ تحریک جھارکھنڈ میں چل رہی ہے،امارت کی یہ تحریک حکومت کی امداد سے نہیں بلکہ خود امارت کے فنڈ سے چل رہی ہے، یہ یقینا امیر شریعت کی دوررس اور مستقبل شناس ہونے کی جیتی جاگتی تصویر ہے،اردو زبان جہاں محبت،پریم اور شیریں سخن ہے وہیں اس زبان میں ہماری تہذیب،ثقافت اور کلچرل بھی شامل ہے، ہمارے دین کے اکثروبیشتر ابواب اسی زبان کی گرفت میں ہے ،ان تمام امور کی بقا اور تحفّظ کیلئے امارت کا یہ قدم کتنا سراہنی ہے سوچا جاسکتا ہے، اس زبان کی بقاء کیلئے امارت کا ایک ایک فرد کتنا کوشاں ہے، آپ اس پروگرام کی ترتیب سے سمجھ سکتے ہیں،امارت شرعیہ کے مرکزی احاطہ میں ہر ہر ضلع سے مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کوبلا بلاکر امیر شریعت کی صدارت میں اس کی بقاء کیلئے نشستیں کرنا کس جانب اشارہ کر رہا ہے ایک دل دردمند سمجھ سکتاہے،اس کے باوجود اگر کوئی طعن و تشنیع کرے یا ہفوات بکے تو میں کیا کروں ؟ میں بھی تو ایک انسان ہوں کوئی بزاخفش تو نہیں؟
اُردو زبان ایک خاندان کے مانند ہے،خاندان میں باپ، دادا ،بیٹا،بیٹی، چچا،پوتا سبھی ہوا کرتے ہیں بعینہ اُردو کا خاندان بھی لمبا ہے تلفظ،املا،نقل نویسی،خطاطی،وغیرہ یہ سبھی اُردو کے خانوادہ ہیں،ایک مثالی خاندان بننے کیلئے جہاں ضروری ہے کہ اہل خاندان کے تمام صفات بہتر اور عمدہ ہوں،خاندان کا ہر فرد باسلیقه اور مہذب ہو ، اسی طرح ایک اردو کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارا تلفظ،لہجہ،املا،نقل نویسی اور خطاطی بھی خوب صورت اور حسین ہو، کئی شاعروں کو دیکھا گیا ہے کہ “دیوناگری “میں شاعری کرتے ہیں، کئی کا تلفظ اتنا بھونڈا کہ اپنا نام اور تخلص تک کو سہی ادا نہیں کرپاتےاور انھیں زبانوں سے جب تحفظ اُردو کی بات نکلے تو اسے کیا نام دیا جائے؟کیا یہ اُردو کے ساتھ ظلم نہیں ہے؟
یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ زبان سے بھلے آپ کو سرکاری مراعات اور وظائف مل جائے، مگر زبان زندہ بھی رہ جائے یہ کہ نہیں سکتے ،زبان کی زندگی ہمارا آپ کا گھر اور سماج ہے، ہم اس میں کتنا چوکس ہیں ،محاسبہ کریں تو زبان کی عمر لمبی ہوسکتی ہے،ہم اس زبان کی ترویج و اشاعت میں کتنے متحرک اور فعال ہیں، کبھی ٹھنڈے دماغ سے سوچیں تو اس انحطاط اور زوال کے ذمه داربھی ہم خود ہی نکلیں گے،اس زبان کی آبیاری ہم اپنے اداروں میں کرتے ہیں اور نہ اپنے گھروں میں البتہ چکاچوند دنیا سے اس کی بقاء کی امید سنجوئے ضرور بیٹھے ہیں، بھلا ایسے میں کیونکر اس کی بقاء یا عروج ہو؟سرکار ضرور اس زبان کوملک کی دوسری زبان تسلیم کرچکی ہے، مگر ہم اسے کتنا تسلیم کئے ہیں کبھی دل پر ہاتھ رکھ کر تو سوچئے!
اُردو زبان کا جنازہ آج ویسے ہی نکل رہا ہےجیسے کسی زمانے میں فارسی کا نکلا،نصف صدی پہلے ہندوپاک میں فارسی زبان کے جانکار اور ماہرین بےشمار تھے، بلا تفریق مذہب و ملت فارسی زبان پڑھا، لکھااور بولاکرتےتھے ،مگر آج المیہ یہ ہے کہ پانچ فیصد بھی اس زبان کے ماہرین موجود نہیں،
موجودہ حالات بھی اُردو کے لیے سازگارنہیں دکھتے، بلکہ بہت تیزی سے اس زبان پر مغربیت مسلط ہوتی نظر آرہی ہے،وجہ اپنی احساس کمتری ہی سب سے بڑی ہے،اس زبان کی اقبالیت پر ہم خود مذبذب ہیں،دیگر زبانوں پر ہم اور ہماری نسلیں جو محنت کررہی ہیں ہم اُردو کی محنت پر اتنا سنجیدہ نہیں ہیں ،بلکہ اس ماڈرن دنیا نے تو اُردو سے بیزار ہی کردیا ہے،اُردو زبان کی حقارت ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہے،ہندی میڈیم،انگلش میڈیم تو ضرور سنتے ہیں مگر اُردو میڈیم کے لیے کان ترس گئے ہیں،
امارت شرعیہ نے جس عزم اور حوصلہ سے اُردو کی بقاء اور تحفظ کے لیے قدم بڑھایا ہے ہم پزور ان کی تعریف کرتے ہیں، بلکہ کھلے لفظوں میں ہم اس تحریک کے سمرتھک ہیں،اس تحریک کی توسیع کے لیے بھر پور حمایت کرتے ہیں، امیر شریعت نے ملک اور ملت کی فکر اور درد کو بخوبی محسوس کیا ہے،مستقبل کے خدشات اور آنے والے حالات کا جائزہ لیکر اس تحریک کی بنیاد پڑی ہے ،ضروت ہے کہ ہم اس کا حصہ بنیں، بنا وجہ قال وقیل،بدظنی اور بدگمانی سے بچیں اور اردو کی تحفظ و ترویج میں وقت دیں تاکہ اس پیاری زبان کی زندگی خوب سے خوب لمبی ہو