ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتتحریک خلافت اور مولاناابوالمحاسن سجاد رحمۃ اللہ علیہ

تحریک خلافت اور مولاناابوالمحاسن سجاد رحمۃ اللہ علیہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تحریک خلافت ( ۱۹۱۸ء تا ۱۹۲۴ء)اور مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ

(ولادت ۱۲۹۹ھ مطابق۱۸۸۰۔وفات ۱۳۵۹ھ مطابق۱۹۴۰ء)

 از: مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی٭

خلافت کی حقیقت اور اس کی شرعی حیثیت:

خلافت کے لفظی معنی نیابت کے ہیں ؛یعنی کسی کا نائب ہونا ۔اصطلاح َشریعت میں خلافت اُس اقتدارِ عمومی کا نام ہے، جو معاشر ے میں اقامت دین کا اہتمام کرے ،امن وامان کا بندوبست کرے ،لوگوں کو انصاف فراہم کرے،احکام ِاسلام کے نفاذ کی ذمہ داری قبول کرے اور فریضہ جہاد کی ادائیگی کا اہتمام کرے ۔بالفاظ ِدیگر وہ مسلم حکم راں’’ خلیفہ‘‘ کہلاتا ہے، جو مسلمانوں کی اجتماعی یا ریاستی وحکومتی امور جناب نبی کریم ﷺ کی نیابت کرتے ہوئے سر انجام دیتا ہے۔

اللہ تعالی نے انسان کو روئے زمین پر اپنا خلیفہ بنایا، تاکہ وہ اللہ تعالی کے احکام اور اس کے نظامِ عدل کو دنیا میں نافذ کرے اور فتنہ وفساد کا خاتمہ کرکے ایسی مامون فضا اور راحت بخش ماحول قائم کرے ،جس میں بندگانِ خداآزادی اور اطمینان کے ساتھ اپنے خالق و مالک کی عبادت کرسکیں۔ ایسے نظام کو خلافت یاامارت اور اس نظام کے سربراہ کو خلیفہ یا’’ امیر‘‘ کہا جاتا ہے ۔

قرآن کریم نے ’’خلافت ‘‘کا لفظ سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کے لیے استعمال فرمایا ہے۔  اللہ تعالی نے فرشتوں سے فرمایا : انّی جَاعِل فِی الأرضِ خَلِیفَۃ ۔(البقرۃ۳۰ ) کہ میںروئے زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ اس کائنات ارضی کا نظام اللہ تعالی نے نسل انسانی کے سپر دفرمایا ہے اور وہ اس نظام کو چلانے میں اللہ تعالی کا نائب ہے ۔مشہور نبی حضرت داؤد علیہ السلام کے لیے بھی اللہ تعالی نے خلیفہ کا لفظ استعمال فرمایا ہے : یا داؤدُ انّی جَاعِلُکَ فِی الارضِ خَلِیفَۃ۔۔۔۔۔(ص آیت ۲۶)یعنی اے داؤد ہم نے تم کو روئے زمین میں خلیفہ بنایا ؛پس لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کیا کرو اورنفسانی خواہش کی پیروی مت کرنا ،ورنہ وہ تمہیںاللہ کے راستے سے بھٹکادے گی۔

خلاصہ یہ ہے کہ نسل انسانی اس دنیا میں آزاد اور خود مختار نہیں ہے بلکہ نائب اور خلیفہ ہے؛ جو اپنے دائرہ کار اور اختیارات میں متعین کردہ حدود اوراُس آسمانی ہدایات کاپابند ہے، جو حضرات انبیاء کرام کے ذریعے سے نازل ہوئیں اور جو ’’دین ‘‘کی صورت میں حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوکر نبی آخر الزماںحضرت محمد ﷺپر مکمل ہوگئی ۔اسلام کا شرعی قانون یہ ہے کہ ہرزمانے میں مسلمانوں کا ایک خلیفہ وامیر ہونا چاہیے، جو شریعت کے اجراء ونفاذ اور تحفظِ مسلمین کی پوری قدرت رکھتا ہو،نیزدشمنوں سے مقابلہ کے لیے پوری طرح طاقت ور ہو۔ (الاحکام السلطانیہ  ص ۲۲۔)جناب نبی کریم ﷺ نے اپنے متعدد ارشادات میں خلیفہ اور امیر کے بارے میںہدایت فرمائی ہے ۔ صحیح بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں خلافت کے سسٹم کو اس طرح بیان فرمایا کہ:’’ بنو اسرائیل میں نبوت کے ساتھ سیاسی قیادت بھی انبیاء کرامؑ کے ہاتھ میں تھی، جب ان میں سے کسی نبی ؑکا وصال ہوجاتا، تو دوسرے نبی ان کی جگہ لے لیتے تھے؛ لیکن چوں کہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اس لیے میری جگہ میرے خلفاء ہوں گے ۔(صحیح بخاری رقم ۳۴۵۵۔صحیح مسلم۱۸۴۲)

یہی وجہ ہے کہ حضرات فقہاء کرام نے’’ خلافت ‘‘کے قیام کو واجب قرار دیا ہے ۔علامہ ابن حجر مکی ؒنے اپنی کتاب ’’الصواعق المحرقۃ‘‘ میں اسے ’’اہم الواجبات ‘‘فرمایا ہے۔ یعنی وہ تمام واجبات میں سے اہم واجب ہے؛ حضرات صحابہ کرامؓ کے نزدیک یہ واجب اس قدر اہمیت رکھتا تھاکہ انھوں نے اس کو رسول اللہ ﷺ کی تجہیز وتکفین سے بھی مقدم سمجھا ۔رسول کریمﷺ کے وصال کے بعد امت کا سب سے پہلا اجماع اسی خلافت کے مسئلہ پر ہوا تھا ۔پہلے خلیفہ کا انتخاب ہوا ،پھر آں حضرت ؐ کی تجہیز وتکفین ہوئی ۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اپنی شاہکار تصنیف’’ ازالۃ الخفاء‘‘ میں خلافت کو قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے فرض کفایہ قرار دیا ہے۔ یعنی دنیا بھر میں اگر کسی بھی حصہ میں خلافت کا نظام موجود نہ ہو تو دنیا بھر کے مسلمان گنہہ گار قرار پائیں ۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ :جو شخص اس حالت میں مرگیا کہ اس کی گرد ن میں بیعت نہیں ،تو ووہ جاہلیت کی موت مرا ۔(مجمع الزوائد ۵؍۶۱۸)

حضرتِ دہلوی ؒیہاں بیعت سے خلافت کی بیعت مراد لیتے ہیں اور اسے ہر مسلمان کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں ۔قرآن کریم کے بہت سے احکام کے نفاذ کا حکومت کے قیام پر موقوف ہونا، اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ ایک ایسی حکومت موجود ہو، جو قرآن وسنت کے احکام کے نفاذ کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہو ،اس لیے کہ جو چیز کسی فرض کی ادائیگی کے لیے ضروری ہو، وہ خود بھی فرض ہوجاتا ہے ۔مسلم معاشرہ میں ارکانِ اسلام کا قیام ،جہاد کا اہتمام ،نظام قضا کا قیام ،امن عامہ کی استواری اور علوم اسلامیہ کا احیاء سب فرائض ہیں اور ان فرائض کی ادائیگی خلافت کے قیام کے بغیر ممکن نہیں ؛اس لیے خلافت کا قیام بھی مذکورہ بالا مقاصد کے لیے اسی طرح فرض ہے، جس طرح نماز کے لیے وضوء فرض ہے ۔

خلافت کی سیاسی اہمیت :

خلافت اگر چہ ایک شرعی حکم ہے؛ لیکن اس کے دنیوی فوائد بھی بے شمار ہیں ۔سیاسی نقطہ نظر سے بھی اس کے بڑے فوائد ہیں ۔اس لفظ میں اللہ تعالی نے ایک دبدبہ رکھا ہے جو عام طور پر دشمنوں کے دلوں پر آخری حد تک قائم رہتا ہے ۔اس کی سیاسی اہمیت کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے، جسے حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ کے حوالہ سے بیان کیا جاتا ۔’’جن دنوں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ  تحریک ریشمی رومال چلانے کے الزام میں مالٹا میں قید تھے ،ان کے ساتھ ان کے شاگرد حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ بھی قید تھے۔ اتفاق سے ایک انگریز افسر بھی کسی جرم میں وہاں سزا کاٹ رہا تھا ۔یہ وہ زمانہ تھا جب کہ ترکی کی خلافت عثمانیہ تقریبا چھ سو سالوں تک عالم اسلام کی بے نظیر قیادت وحکمرانی کے بعد اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی ۔برطانیہ ،فرانس ،اور اٹلی سمیت پورا یورپ اس خلافت کے خاتمہ کے لیے سازشوں میں مصروف تھا ۔ایک روز ملاقات میں حضرت مدنیؒ نے اس انگریز فوجی افسر سے پوچھا کہ آپ لوگ ایک کم زور ،جان بلب ،برائے نام سی حکومت کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہیں؟ آخر آپ لوگوں کو خلافت عثمانیہ سے کیا خطرہ ہے ؟ اس نے جواب میں کہاکہ جناب! بات اتنی آسان نہیں ہے؛ جتنی آپ کہہ رہے ہیں ۔یہ درست ہے کہ خلافت عثمانیہ اس وقت ایک کمزور سی حکومت ہے، جس کی شان وشوکت اور رعب ودبدبہ قصہ پارینہ ہوچکاہے ؛لیکن ایک قوت اس کے پاس اب بھی موجود ہے اور وہ’’ خلافت‘‘ کا لفظ ہے اور’’ امیر المومنین‘‘ کی اصطلاح ہے ۔کیوں کہ خلیفہ کے لفظ میں آج بھی اتنی طاقت ہے کہ اگر خلیفہ کی طرف سے دنیا کے کسی خطہ میں کسی کافر قوم کے خلاف جہاد کا اعلان ہوجائے ؛تو دنیا بھر کے مسلم نوجوانوں میں ہلچل مچ جاتی ہے اور ایک جذباتی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ۔ہم اس قوت سے خائف ہیں اور اسے ختم کرنا چاہتے ہیں ‘‘۔ (ماہنامہ الشریعۃ ،گوجرانوالہ، بابت اپریل ۱۹۹۶ء )

مذکورہ سطور سے یہ بات واضح ہوگئی کہ خلافت اسلامی دبدبہ اور شان وشوکت کی علامت ہے؛  خلافت گویا اسلام کی روح اور مذہب کی بنیاد ہے ۔اسی لیے خلافت کا مسئلہ شروع ہی سے عالم اسلام کا اہم مسئلہ بنا رہاہے۔خلافت کا قیام اور اس کی بقاء کو مسلمانوں نے ہمیشہ اپنا مذہبی فریضہ جانا ۔جب ہلاکو نے بغداد پر حملہ کیا ،تو علامہ ابن تیمیہؒ اپنے عبادتی اور تصنیفی گوشہ سے باہر آکر شمشیر بدست اس کی حفاظت کے لیے میدان جہاد میں کود پڑے ۔علامہ ابن کثیرؒ اس قلیل مدت میں جب طوفان ِہلاکو کے بعد کچھ دنوں کوئی خلیفہ نہیں تھا ، نہایت رنج کے ساتھ ہر سال کے شروع میں یہ تحریرکیا کرتے تھے کہ افسوس اس وقت عالم اسلام کا کوئی خلیفہ نہیں ہے ۔

دنیا کی بہترین خلافت: دنیا کی بہترین خلافت جو سو فیصد نبوی بنیاد اور طریقہ رسولؐ پر قائم تھی ؛وہ خلافت راشدہ تھی ،خلافت راشدہ کا دور تیس سال تک چلا۔بعد میں ان کڑی شرائط کے حامل افراد موجود نہیں رہے ۔اس لیے خلافت راشدہ کے بعداس کی جگہ خلافت عامہ کا دور شروع ہوا ۔جن پر خلافت راشدہ کا اطلاق نہیں ہوتا ۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ خلافتیں غیر اسلامی تھیں ؛بلکہ یہ خلافتیں بھی اسلامی تھیں؛ جنھیں علماے امت نے ہر دور میں تسلیم کیا ،ان خلافتوں میں قابل ذکر، خلافت بنو امیہ (۹۰سال) خلافت عباسیہ (۷۵۰ء ۱۲۵۸ء تقریبا۵۰۰سال) اور خلافت؍سلطنت سلجوقیہ(۱۰۷۷۔۱۳۰۷ء) اور خلافت عثمانیہ  (از ۱۲۸۲ء تا ۱۹۲۴ء )ہیں ۔خلافت راشدہ کا دار الحکومت مدینہ منورہ اور کچھ عرصہ کے لیے کوفہ تھا۔ بنو امیہ کا دار الخلافۃ دمشق رہا، بنو عباس نے بغداد کو اپنا دار الخلافۃ بنایا اور بنو عثمان کا دارالخلافہ قسطنطنیہ کی فتح کے بعد اسی شہرمیں ۱۹۲۴ء تک قائم رہا ۔

ترکی کی خلافت عثمانیہ اور صلیبی طاقتوں کی سازشیں :

اخیر کی صدیوں میں خلافت اسلامیہ کا منصب ترکی کے سلاطین عثمانیہ کو حاصل رہا اور عام طور پر مسلمانا ن عالم نے انھیں کو اپنا خلیفہ اور امیر سمجھا اور ان کی اطاعت واعانت کو اپنا فرض جانا۔ چوں کہ حرمین شریفیں ،بیت المقدس ،آثار قدیمہ بغداد ،نجف اشرف ،کربلائے مُعلّاوغیرہ تمام مقامات مقدسہ کی حفاظت ونگہداشت اور اس کا نظم وانتظام بھی ترکی کے عثمانی خلفاء کے سپر د تھا، جو خلیفہ وحکم راں ہونے کے باوجود اپنے کو ’’خادم الحرمین الشریفین‘‘ کہتے تھے ۔خلافت ِعثمانیہ اسلامی تاریخ کی چوتھی بڑی خلافت تھی ۔اس میں تقریبا ۶۴۲سال (از ۱۲۸۲ء تا ۱۹۲۴ء ) کل ۳۷ حکم راں مسند آرائے سلطنت ہوئے ۔جن میں شروع کے آٹھ حکم راں صرف سلطان تھے، انھیں خلافت کا روحانی منصب حاصل نہ تھا ۔نو ویں حکم راں سلطان سلیم اول سے لے کر چھتیسویں حکم راں سلطان وحید الدین محمد سادس تک تیس حضرات سلطان بھی تھے اور خلیفہ بھی تھے ۔کیوں کہ خلافت عباسیہ کے آخری حکم راں نے سلطان سلیم کو منصب واعزاز خلافت کی سپردگی کے ساتھ وہ تبرکات نبویہؐ  بھی بطور سند ویادگار دے دیے تھے، جو کہ خلفائے بنو عباسؓ کے پاس نسل در نسل چلے آرہے تھے ۔یکم نومبر ۱۹۲۲ء کو جب مصطفی کمال پاشا نے مغربی طاقتوں کے اشارے پر ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے ذریعہ سلطنت عثمانیہ کے خاتمہ کی قرار دادمنظور کرکے خلیفہ اسلام محمد وحیدالدین ششم کے اٹلی کی طرف ملک بدری کے احکام جاری کردیے، تو اس نامبارک دن سلطنت عثمانیہ کاخاتمہ ہوگیا ۔اس کے بعد عبد المجید آفندی کو آخری عثمانی خلیفہ بنایا گیا؛ مگر ۳مارچ ۱۹۲۴ء ترکی کی قومی اسمبلی نے اپنے اسلام دشمن آقاؤں (فری میسن )کے حکم پر اسلامی خلافت کے خاتمہ کا قرارداد بھی منظور کرلیا۔ اس طرح آخری خلیفہ عبد المجید کے پہلے سوئزر لینڈ پھر فرانس جلا وطنی کے ساتھ ہی خلافت عثمانیہ کے سقوط کا المناک سانحہ پیش آگیا ۔(ترک ناداں سے ترک داناں تک، از:مفتی ابو لبابہ شاہ منصور ص ۲۸۰)

خلافت عثمانیہ سے مسلمانوں کا جذباتی لگاؤ: خلافت عثمانیہ سے مسلمانوں کو جذباتی لگاؤ تھا اس کے علاوہ عالمی طور پر نئے سیاسی منظر نامہ اور نئی عالمی قطب بندی کے پس ِمنظر میں مسلمانوں کے دلوں میں یہ بات پیوست ہوگئی تھی کہ ترکی کی بقاء اسلام کی بقاء کی علامت ہے اگر خدانخواستہ خلافت اسلامیہ کا ٹمٹماتا ہوا چراغ بھی گل ہوگیا، تو مسلمانوں کی کوئی عزت اورقدر ومنزلت دنیا میں باقی نہیں رہے گی اور مسلمان دنیاکے صحرائے ریگ زار میں ایک گم کردہ راہ کارواں کی شکل اختیار کرلیں گے ۔

برطانیہ مسلمانوں کو نیست ونابود کرنے میں سب سے آگے تھا ۔ اس نے مسلمانوں کا شیرازہ منتشر کرنے کا پورا سامان کرلیا تھا ،مصر پر انگریز کا آہنی پنجہ گڑا ہوا تھا ۔ایران، روس اور برطانیہ کا غلام ہوچکا تھا، مراقش پر فرانس قابض تھا، ترکی طرابلس المغرب (تریپولی )کا صوبہ افریقہ میں کھوچکا تھا ۔ترکی ایک مرد بیمار کی طرح اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا ۔ترکی اور کل یورپ کی پانچ سو سال کی جنگ سب کے نظروں کے سامنے تھی ۔جنگ طرابلس اور جنگ بلقان میں مسلمانان ہند نے جو جوش اور ولولہ اور ایثار وقربانی کا مظاہرہ کیا وہ پکار پکار کرکہ رہاتھا کہ خلافت کا زوال مسلمانوں کے برداشت سے باہر ہے ۔ جنگ طرابلس کے موقع پر علامہ اقبال نے ایک نقلابی نظم کہہ ڈالی ۔ جس کا ایک مصرع تھاـ۔۔ــ جھلکتی ہے تیری امت کی آبرو اس میں ۔۔۔طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں

اسی طرح اس شعر کو بھی بڑی شہرت ملی جو اس موقع کے لیے کہا گیا تھا آج تک زبان زد خاص وعام ہے ۔

اگر عثمانیوں پر کو ہ غم ٹوٹا تو کیا ٹوٹا  ۔  کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا ۔

دوسری طرف صورت حال یہ تھی کہ صلیبی طاقتیں استعماریت کے ذریعہ لوٹ گھسوٹ اور مسلمانوں کو نیست ونابود کرنے میں مصروف تھی ۔انگریزوں کی اسلام دشمنی دن بدن آشکا راا ہوتی جارہی تھی ۔۱۹۱۴ء سے قبل ہی انگریز نے مسلمانوں کا کا شیرازہ منتشر کرکے اس کو نیست ونابود کرنے کا پورا منصوبہ بنالیا تھا ۔پھر جب جنگ عظیم (۱۹۱۴ء تا ۱۹۱۸ء )کے ذریعہ خلافت اسلامیہ کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کی تیاری ہونے لگی اور جنگ عظیم میں ترکی کی شکست کے بعد برطانیہ نے خلافت کے حوالہ سے مسلمانوں سے جو وعدہ کیا تھا، اس سے مکرنے لگا۔ اس صورت حال نے عوام وخواص ہر طبقہ میں اضطراب پیدا کردیا ۔ہرطرف مایوسی کی کیفیت چھانے لگی۔ ہندوستانی مسلمان ترکی کے معاملہ کو تحفظ اسلام اور تحفظ خلافت مرکزیہ کا مسئلہ سمجھ کر اسے اپنی قومی زندگی کا مسئلہ سمجھتے تھے  ۔ برطانیہ کی طرف سے خلافت عثمانیہ کی اس توہین وتذلیل پر رد عمل کے طور پر ہندوستان میں ہرطرف زبانی وتحریری آہ وفغاں پھر اس پر اَشک سوئی کا سماں بندھ گیا ۔لیکن مسلماں سرگرداں تھے انھیں راہ عمل کی تلاش تھی اور راہ عمل وحی الہی کی طرح ایک دم سے نازل نہیں ہوتی بلکہ بہت ٹھوکریں کھانے کے بعد نصیب ہوتی ہے ۔

اس وقت کے حالات کی بھر پورعکاسی کرتے ہوئے حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ رقم طراز ہیں :

’’مسلمانوںکو اندرونِ ہند کی سیاست سے کچھ زیادہ دلچسپی نہ تھی، ان کی دل چسپی کا اصل مرکز بیرونی سیاست میں خلافت عثمانیہ تھی، جس سے مسلمان دنیا میں اپنی ملی عزت واحترام کو وابستہ سمجھتے تھے اور جس کا سلطان، حرمین محترمین کا خادم اور اسلامی مقاماتِ مقدسہ کا محافظ تھا ۔حوادث واتفاقات ایسے پیش آئے کہ ۱۹۰۸ ء میں خلافت عثمانیہ میں انقلاب پیش آیا ۔نوجوان ترکوں کی خفیہ تدبیریں کامیاب ہوئیں اور انور بے وغیرہ نے قسطنطنیہ پر قبضہ کرکے دستوری حکومت کا اعلان کردیا اور یہی وہ وقت تھا جب یورپ کی سلطنتوں نے مل کر یہ چاہا کہ ترکی حکومت کے حصے بخرے کرلیں۔ اس کے مطابق چند ہی روز بعد اٹلی نے دولت عثمانیہ کے آخری افریقی مقبوضہ طرابلس الغرب (تریپولی ) پر حملہ کردیا اس حملے نے سارے دنیائے اسلام میں آگ لگا دی ۔خصوصیت کے ساتھ ہندوستان کے مسلمانوں نے بڑے جوش وخروش کے ساتھ اس میں حصہ لیا ۔اور شبلی اور اقبال جیسے شعراء باکمال نے اپنے ترانوں کے سے مسلمانوں کو گرمایا ۔اقبال کا یہ شعر اب بھی زمانے کو یا د ہوگا ۔جھلکتی ہے تیری امت کی آبرو اس میں ۔طرابلس کے شہیدوں کا لہو ہے اس میں ۔ابھی وہ یہ صدمہ بھولے بھی نہ تھے کہ ۱۹۱۰ء میں بلقان کی ریاستوں نے یورپ کی سلطنتوں کی شہ پاکر ایک ساتھ مل کر دولت عثمانیہ کے یورپی حصوں میں بغاوت کردی اور جنگ بلقان کا آغاز ہو۔ یہ جنگ کے شعلے اگر چہ یورپ میں اٹھ رہے تھے؛ مگر ہندوستان کے مسلمانوں کا جوش وخروش دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ جنگ ہندوستان میں لڑی جارہی تھی ۔چند سال بعد یہ جنگ اس طرح ختم ہوئی کہ ترکوں کے ہاتھ سے یورپ کا بڑا حصہ نکل گیا ۔اس کے چار سال بعد ۱۹۱۴ ء میں خود یورپ کی سلطنتوں میں جنگ شروع ہوگئی ۔روس جرمنی اور اسٹریا ایک طرف اور انگلینڈ فرانس اور اٹلی دوسری طرف ۔اس جنگ کے چند ماہ بعد ٹرکی نے نومبر ۱۹۱۴ء میں جرمنی کے ساتھ ہوکر اتحادیوں کے خلاف اعلان جنگ کردیا ۔اس وقت انگریزی حکومت نے ایک طرف اپنی مسلمان رعایا کی تسکین خاطر یہ اعلان کیا کہ اسلام کے مقدس مقامات حملہ سے محفوظ رہیں گے ۔دوسری طرف انھوں نے اس جنگ کے جیتنے کے لیے عجیب وغریب سازش کی۔ انھوں نے ترکوں سے عربوں کو الگ کرنے کے لیے شریف حسین امیر مکہ کو اپنے ساتھ ملاکر اور ایک عرب شہنشاہی کا خواب دکھاکر، جو بحر احمر سے لے کر بحر روم تک محیط ہوگی؛ ترکی حکومت سے بغاوت کا اعلان کرادیا اور اس لالچ میں عربوں کو ترکوں سے لڑانے کے لیے عراق وشام اورحجاز کے میدانوں میں کھڑا کردیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عراق اور شام اور فلسطین اور حجاز دولت عثمانیہ سے الگ ہوکر اتحادیوں کے قبضے میں چلے گئے ۔ان ممالک اسلامیہ کا احترام جو روزِ اول سے مسلمانوں میں تھا ،اس کے لحا سے ان کے دل کو سخت چوٹ لگی ۔دوسری طرف انگریز جرمن کے یہودیوں کو فلسطین کی نذر پیش کرکے سارے یورپ کے یہودیوں کو اپنے ساتھ ملارہے تھے اور آخر یہودیوں نے جرمن کے خلا ف سازش کرکے اس کو تباہ کرڈالا اور اس کے بدلہ میں فلسطین کے یہودی قومی وطن بنائے جانے کا اعلان انگریزی حکومت سے کرایا ۔ہندوستان کے مسلمان اس صورت حال کو انگریزوں کے اس صریح اعلان کے خلاف سمجھتے تھے ،جس کے ذریعہ انھوں نے مسلمانوں سے ان کے مقدس مقامات کے محفوظ رہنے کا وعدہ کیا تھا ۔اس صورت حال سے ساری دنیائے اسلام میں زلزلہ برپا تھا ۔‘‘(برید فرنگ ۔ص ۱۳۔مطبوعہ مجلس تحقیق ونشریات لکھنؤ)

لیکن ان سیاہ بادلوں میں امید کی کرن بھی تھی ؛مصلحین امت جن زیادہ تر روشن خیال علماء تھے ؛برابر حالات کو سدھارنے کے لیے آواز لگا رہے تھے، ان میں ایک نمایاں نام سید جمال الدین افغانیؒ (۱۸۳۸ء۔۱۸۹۷ء)کا ہے، اس صاحبِ بصیرت نے قبل سے ہی حالات کو بھانپ کر افغانستان سے لے کر مصر تک ایران عرب اور ترکی تمام بلاد مسلمین کو روند ڈالا، ان کا پیغام اتحاد اسلام کا تھا جسے ’’پان اسلام ازم ‘‘کا نام دے کر انگریزوں نے بدنام کیا ۔اتحاد کا منشا صرف یہ تھا کہ اسلامی سلاطین اپنے اندر اصلاح پیدا کریں اور قرآن کے قانون پر عمل پیرا ہوں، جن ملکوں میں اسلامی حکومت نہیں ہے، وہاں مسلمان حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ روشن خیالی سے اپنے کو دین کا متبع بنائیں اور آزادی حاصل کریں اور سب مل کر ایک ’’مرکزی خلافت اسلامیہ‘‘  قائم کریں ۔ تاکہ یورپ کے دست بر د سے محفوظ رہ سکیں اور جو خطرہ بلاد اسلامیہ اور اسلامی مقدسات کو لاحق ہیں وہ دور ہوسکیں۔

یہی تعلیم ہندوستان کے مجاہد اعظم اور صاحب فراست شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ کی تھی جو ہندوستان کے اول درجہ کے قائد تھے جنھوں نے تمام بلاد اسلامیہ میں اصلاح ا ورحصول قوت وشوکت کا ایک زبردست کام جاری کر رکھا تھا۔بقول مولا ناابو الحسن علی ندویؒ :شیخ الہندؒ انگریزی حکومت اور اقتدار کے سخت ترین مخالف تھے۔ سلطان ٹیپو(۱۷۵۰ء ۔۱۷۹۹) کے بعد انگریزوں کا ایسا دشمن اور مخالف دیکھنے مین نہیں آیا ۔۱۹۱۲ء جنگ بلقان کے زمانے میں شیخ الہند دار العلوم دیوبند کے طلبہ کے سامنے روزانہ جہاد سے متعلق احادیث کا درس دیا کرتے تھے، جس سے طلبہ میں ایک عظیم جوش پیدا ہوا اور ایک بڑی تعداد جہاد کے لیے آمادہ ہوگئی۔ حضرت شیخ الہند نے مسلمانوں کو ذلت وخواری اور پستی ونکبت سے نکالنے اور انگریزوں کے تسلط سے بر صغیر ہندوستان بلکہ پورے عالم اسلام کو نکالنے کی اپنے شاگردوں کے ساتھ جو تحریک چلائی تھی وہ ’’تحریک ریشمی رومال‘‘ کہلاتی ہے ، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہندوستان سے لے کر افغانستان ،روس ،ترکی اور جزائر عرب کا ایک خفیہ جنگی اتحاد قائم کیا جائے اور اس راستے سے انگریز امپائر کو شکشت دی جائے ۔لیکن اپنوں کی غداری اور بعض حکمرانوں کے نفاق کی وجہ سے تحریک کی بعض دستاویزات قبل از وقت انگریز گورنمنٹ کے ہاتھ لگ گئیں؛جس کی وجہ  سے یہ تحریک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکی اور اس تحریک کے قائد حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن اور ان کے شاگرد رشیدشیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ۱۹۱۷ء میں مکہ مکرمہ سے گرفتار کرلیے گئے اور انھیں بحیرہ روم کے جزیرہ مالٹا میں قید کردیا گیا ۔اگر یہ تحریک کامیاب ہوجاتی تو خود انگریز کے بقول : فرنگی کو سمندر بھی پناہ نہیں دیتا ‘‘۔

اس پر آشوب دور میںکچھ بزرگوں نے اپنے بیان اورتحریر کے ذریعہ اس صورت حال پر تنقید کی مثلا مولانابوالکلام آزادؒ ،مولانا محمد علی جوہرؒ مولانا شوکت علیؒ ؛توانھیں انگریز حکمرانوں کی طرف سے جیل میں ڈال دیا گیا ۔اور زبانوں پر تالے ڈال دیے گئے ۔اس پورے مرحلہ میں میں ہندوستان میں ایک جمود کی اور ناامیدی کی فضا مسلط تھی ۔

    مولانا ابوالکلام آزاد اپنی خود نوشت سوانح حیات ’’انڈیا ونس فریڈم ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں :

’’ الہلال کی اس کامیابی سے حکومت بھی پریشان ہوگئی ۔پریس ایکٹ کے تحت اس نے دوہزار روپے کی ضمانت طلب کی اور سوچا کہ اس سے الہلال کا لب ولہجہ دبایا جاسکے گا ۔اس طرح کی چھیڑ خانیوں سے میں نے اپنے حوصلے پست نہیں ہونے دیے ۔جلد ہی حکومت نے زر ضمانت ضبط کرلیا اور دس ہزار کی ایک نئی زر ضمانت طلب کی ۔یہ اقدام بھی جلد ہی بے اثر ثابت ہوا ۔اسی دوران ۱۹۱۴ء کی جنگ بھڑک اٹھی تھی اور ۱۹۱۵ء میں الہلال پریس ضبط کرلیا گیا ۔پانچ مہینے بعد میں نے البلاغ کے نام سے ایک نیا پریس شروع کیا اور اسی نام کا اخبار شروع کیا ۔حکومت اب یہ محسوس کرنے لگی تھی کہ صرف پریس ایکٹ کے ذریعہ وہ میری سرگرمیوں کو روک نہیں سکتی ۔چنانچہ اس نے ڈیفینس آف انڈیا ریگولیشنز کا سہارا لیا اور ۱۹۱۶ء میں مجھے کلکتہ سے شہر بدر کردیا۔ پنجاب ،دہلی ،یوپی اور بمبی کی حکومتیں اسی ریگولیشن کے تحت اپنے صوبوں میں میرے داخلے پر پابندی لگاچکی تھیں ،صرف ایک جگہ جہاں میں جاسکتا تھا ،بہار تھی ۔سو میں رانچی چلا گیا ۔مزید چھ مہینوں بعد مجھے رانچی میں نظر بند کردیا گیا اور ۳۱؍دسمبر ۱۹۱۹ء تک حراست میں رہا پہلی جنوری ۱۹۲۰ء کو مجھے بعض دوسرے قیدیوں اور نظر بندوں کے ساتھ شاہ انگلستان کے اعلامیہ کے تحت رہائی دی گئی۔‘‘(آزادی ہند ترجمہ انڈیا ونس فریڈم ،مطبوعہ لاہور )

شب تاریک میں قندیل رہبانی مولانا سجادؒ : ایسے حوصلہ شکن حالات میں ’’مردے از غیب بیروں آمد‘‘ کے مصداق حضرت مولانا ابوالمحاسن سجاد ؒ  کو اللہ تعالی نے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے برپا کیا ۔یقینا وہ اش شعر کا مصداق تھے:

                   گماں آباد ہستی میں مرد مسلماں کا                       بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی

مولاناکی ولادت سنہ ۱۲۹۹ھ مطابق ۱۸۸۰ء میںپنہسہ ضلع نالندہ میںہوئی  ۔حصول علم کے مراحل سے سنہ ۱۹۰۳ء میں فارغ  ہوئے اور ۳؍جون ۱۹۰۵ء کو اپ کے سر پر دستار فضیلت سجائی گئی ۔۱۲۹۹ء مطابق ۱۹۱۱ء میں مدرسہ انوارالعلوم گیا قائم کیا ۔اور عمر کی ساٹھ بہاریں دیکھ کر ۱۷ شوال ۱۳۵۹ھ مطابق ۱۸نومبر ۱۹۴۰ء میں وفات پاگئے ۔آپ کی پوری زندگی نشیب وفراز اور جہد مسلسل سے عبارت ہے ۔ اللہ تعالی نے آپ کو حساس قلب ونظر اور فکر رساعطا فرمایا تھا ۔جس کے نتیجے میں آپ مستقل حالات حاضرہ کا تجزیہ کرتے تھے اور حالات پر کڑھنے کے ساتھ صورت حال کو بدلنے کے لیے تدابیر تیار کیاکرتے تھے ۔الہ آباد اور پھر گیا میں تدریس کے زمانے آپ نے امت مسلمہ کی زبوں حالی کا بھر پور مشاہدہ۔ آ پ کے ایک شاگرد واجد علی خاں تھے انگریزی کے ماہر وہ روزانہ انگریزی اخبارات سے اہم عالمی خبریں روزانہ مولانا سجاد کو سنایا کرتے تھے ۔جس میں عالم اسلام کی زبوں حالی ،اندررون ملک افتراق وانتشار ودیگر تشویش ناک خبریں بھی ہوتی تھیں ۔جس سے مولانا سجاد ؒکا دل ودماغ بری طرح متاثر ہوتا تھا۔ اس صورت حال کی ترجمانی کرتے ہوئے  امیر شریعت حضرت مولا نا سیدمنت اللہ رحمانیؒ فرماتے ہیں :

’’اسی تاثر نے مولانا کے غور وفکر کے موضوع کو بدلا ۔وہ دماغ جو اب تک برابر مختلف علوم وفنون کی باریکیوں پر صرف ہوا کرتا تھا اور وہ فکر جو اب تک مشکل سے مشکل مسائل کی گتھیاں سلجھانے میں کام آیا کرتی تھی وہ مسلمانوں اور ہندوستان کے دیگر اہم مسائل تک بھی پہنچنے لگی اور درس وتدریس کے ساتھ دوسرے مسائل میں بھی غور وفکر ہونے لگا ۔ایک مصلح ِقوم کی تمام خوبیاں پہلے سے موجود تھیں ،ایسے دل ودماغ کے لیے مدرسہ کی چہار دیواری کافی نہیں ہوسکتی تھی، اسے وسعت کی ضرورت تھی ۔جب دوسرے مسائل سامنے آگئے تو وسعت مل گئی پہلے مولانا کے سامنے مدرسہ مدرسین ،طلباء یا اس کے ہمدرد لواحقین تھے، اب ان کی نگاہ کے سامنے دنیا میں بسنے والا ہر ایک مسلمان اور ہندوستان میں رہنے والا ہر ایک انسان تھا ۔پہلے ان کے دماغ کی خوراک مروجہ علمی گھر تھے۔ اب دنیائے اسلام میں عموما اور ہندوستان میں خصوصا روزانہ پیدا ہونے والے نئے نئے معاملات تھے۔ بس اب کیا تھا مولانا نے وہ چیز پالی جس کی ضرورت تھی ضرورت ہی نہیں ،جس کے لیے پیدا کیے گئے تھے، چند ہی روز کے غور وفکر کے بعد دماغ نے فیصلہ کیا اور صحیح فیصلہ کیا کہ درس وتدریس سے بھی زیادہ اہم ملک اور دین کے دوسرے کام ہیں ۔(حیات سجاد ص ۱۷،۱۸)

     حضر ت مولانا سید سلیمان ندویؒ یاد رفتگاں میں تحریر فرماتے ہیں ۔

’’مولانا سجاد مدرسہ انوار العلوم کا جلسہ سال بہ سال کیا کرتے تھے اور اس میں علماء کو بلاتے تھے اور ان سے تقریریں کراتے تھے، میرا خیال ہے کہ اکثر علماء سے ان کی ملاقاتوں کا آغاز، انھیں جلسوں سے ہو،ا مجھے بھی ایک دودفعہ ان جلسوں میں حاضری کا اتفاق ہوا ۔۔ان کو سیاسیات کا ذوق جنگ عظیم میں ترکی کی شکست اور ممالک ِاسلامیہ کی پراگندگی سے ہوا ۔وہ اس وقت الہ آباد میں تھے، ان کے ایک انگریزی داں شاگرد ان سے عربی پڑھنے آتے تھے ،وہ اپنے ساتھ اردو اور انگریزی اخبارات لاتے تھے اور مولانا کو پڑھ کر سناتے تھے، یہ آگ روز بروز بھڑکتی چلی گئی ،مولانا ابوالکلام آزاد کے’’ الہلال‘‘ کی تحریک نے بنگال کے قرب کے سبب بہار پر پورا اثرڈالا تھا اور بہت سے علماء نے ان کی تحریک پر لبیک کہا ،ان میں مولانا سجاد کا نام بھی لیا جاسکتا ہے ۔رانچی کی اسیری کے زمانے میں مولانا ابوالکلام آزادؒ نے ہم خیال وکار فرماعلماء کی تلاش وتفتیش کا کام ایک مخلص کے سپر دکیا ؛انھوں نے جن علماء کا نشان دیا؛ ان میں ایک مولانا سجاد بھی تھے، جو اس وقت مدرسہ انوار العلوم گیا کی مسند درس پر تھے ۔۱۹۱۹ ء میں تحریک خلافت کی ترقی کے ساتھ ساتھ مولانا کا ذوق سیاست بھی بڑھتا گیا ۔۱۹۲۰ ء میں مولانا عبد الباری فرنگی محلی کی تحریک اور مسیح الملک حکیم اجمل خاں کی تائید سے جب جمعیۃ العلماء دہلی کی بنیاد پڑی، تو موصوف اس کے لبیک کہنے والوں میں سب سے اول تھے اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان کے کتنے رفیق سفر تھک تھک کر اپنی جگہ بیٹھ رہے؛ مگر انھیں کی ایک ہستی تھی جو آخر تک جمعیۃ کے ساتھ لگی رہی؛ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ انھیں کی روح تھی، جو اس کے قالب میں جلوہ گر ہوتی رہی ۔بہار میں امارت شرعیہ کا قیام ان کی سب سے بڑی کرامت تھی زمین شور میں سنبل پیدا کرنا اور بنجر علاقہ میں لہلہاتی کھیتی کھڑی کر لینا ہر ایک کا کام نہیں ۔۱۹۱۸ ء میں ’’معارف ‘‘میں اس تحریک کو اٹھایا گیا اور اصلاحات کے سلسلہ میں اس کو پیش کیا گیا، پھر ۱۹۲۰ میں یورپ سے واپسی کے بعد چاہا کہ اس کو تمام ہندوستان کا مسئلہ بنایا جائے؛ مگر اس عہد کے جدید تعلیم یافتہ علم برداروں نے اس کو کسی طرح بھی چلنے نہیں دیا ؛مگر بہار میں مولانا سجادؒ کی قوت عمل نے اس کو وجود کا قالب بخش دیا ۔

ان کا وجود گو سارے ملک کے لیے پیام رحمت تھا؛ مگر حقیقت یہ ہے کہ صوبہ بہار کی تنہا دولت وہی تھے، اس صوبہ میں جو کچھ تبلیغی ،تنظیمی ،سیاسی ومذہبی تحریکات کی چہل پہل تھی، وہ کل انھیں کی ذات سے تھی، وہی یہ چراغ تھا، جس سے یہ سارا گھر روشن تھا ۔وہ وطن کی جان اور بہار کی روح تھے۔ وہ کیا مرے کہ بہار مرگیا۔مرثیہ ہے ایک کا اور نوحہ ساری قو م کا۔جمعیۃ العلماء کے اجلاس کلکتہ کے خطبہ میں میرے قلم سے ان کی نسبت یہ الفاظ نکلے تھے، جو پہلے مدح تھی اور اب مرثیہ ہے :

۱۳۴۳ھ کے اجلاس خاص مراد آباد کے موقع پر بھی مجھے یہ عزت عطا ہوئی تھی مگر عین وقت پر وفد جدہ کی شرکت نے انکار پر مجبور کیا اور میں خوش ہوں کہ اس کی بدولت ایک خاموش ہستی بولی اور ایک بے زبان نے زبان کے جوہر دکھائے اور ایک ہمہ تن سوز وگدازنے کاغذ کے صفحوں پر اپنے دل کے ٹکرے بکھیر دیے ۔یہ بھی مولانا کی قوت جاذبہ تھی جو مختلف الخیال علماء اور مختلف الرائے سیاسی رہنماؤں اور قومی کارکنوں کو ایک ساتھ ایک پلیٹ فارم پر جمع کیے اور ایک شیرازہ میں باندھے ہوئی تھی ۔‘‘

                                                        (یاد رفتگاں ص ۲۱۹۔۲۲۰،مطبوعہ ادارہ تحقیقات ونشریات اسلام لکھنؤ)

مولانا سجادؒ کی سیاسی مہارت :اللہ تعالی نے مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد کو بے پناہ علمی وعملی صلاحیتوں سے نوازا تھا؛ لیکن سیاسی مہارت وہ صفت تھی؛ جس میں آپ پورے ملک میں طاق تھے ۔اس صفت کا استعمال بھی آپ نے ملت اسلامیہ کی فلاح وبہبود کے لیے بھر پور انداز میں کیا ۔اور اسی سیاسی بصیرت اور اصابت رائے کے ذریعہ آپ نے تحریک ِخلافت، جمعیۃ علماء ،امارت شرعیہ اور مسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی کی کامیاب قیادت فرمائی ۔ آپ کے اکثر معاصرین اور تلامذہ اس حوالہ سے رطب اللسان نظر آتے ہیں ۔

اس زمانے کے مشہورصاحب قلم محقق عالم دین حضرت علامہ مناظر احسن گیلا نیؒ فرماتے تھے : ’’ان کے علمی رسوخ سیاسی شعور اور دینی اخلاص کے جو تجربات تھے، وہ مجھے حیرت میں ڈالتے تھے، حالاںکہ حق تعالی نے اپنے فضل وکرم سے علم دین کی بڑی بڑی شخصیوں تک پہنچنے کا موقع عطا فرمایا؛ لیکن ان تینون شعبوں کی جامعیت اور وہ بھی اس پیمانے پر اپنے جاننے والوں میں سے کسی کے اندر نہیں پایا ‘‘۔

                                                                                      (نقیب ،مولانا سجاد نمبر ص ۹۷)

سینیر لیڈراور وزیر جناب سید محمود(۱)کی شہادت ہے’’ : مولانا سجاد عام علما کی طرح محض ایک صاحب درس عالم نہیں تھے ،تدبر اور ملکی مسئلوں کی گرفت میں وہ کسی بڑے سے بڑے سیاسی مدبر سے کم نہیں تھے اور تو اور، خالص قانونی اور دستوری موشگافیوں میں بھی ان کا دماغ اس طرح کام کرتا تھا جیسے کسی معمولی فقہی مسئلہ کو سلجھانے میں ۔وہ ہندوستان کی جنگ آزادی کے پر جو ش سپاہی اور جرنل تھے؛ لیکن ساتھ ساتھ اسلامی حقوق نہیں؛ بلکہ پورے اسلامی نظام معیشت اور اسلامی قانون کے نفاذ کے بھی سر گرم داعی تھے اور اسی کے لیے وہ پچیس سال سے کچھ اوپر شب وروز سر گر م عمل رہے، امارت شرعیہ ،جمعیۃ علماء اور دوسری تحریکیں سب اسی مقصد کے حصول کا ذریعہ تھیں ؛مجھے وقف میں ذاتی طور پر اس کاتجربہ ہے۔ بعض دفعات میں جہاں الجھاؤ پیدا ہوا اور سلیکٹ کمیٹی کے سرکاری وغیر سر کاری ممبران ہار مان چکے تھے۔ مولانا کے قانونی دماغ نے مسئلہ کو سمجھنے اور سلجھانے میں کوئی دقت والجھن محسوس نہیں کی اور جہاں کوئی تجویز یا ترمیم کی پیچیدگیاں پیش کی گئیں ان کے ناخن تدبیر نے الجھی ہوئی گتھیاں فورا سلجھادیں۔‘‘ (محاسن سجاد ۶۱)

 اسلامی علوم کے عظیم اسکالر علامہ سید سلیمان ندویؒ مولاناا ابوالمحاسن محمد سجاد ؒکے بارے فرماتے ہیں :

’’ان کا علم کتابی نہ تھا بلکہ آفاقی بھی تھا ،معاملات کو خوب سمجھتے تھے ان کو بارہا بڑے معاملات اور مقدمات میں ثالث بنتے ہوئے دیکھا اور تعجب ہوا کہ وہ کیوں کر فریقین کو اپنے پر راضی کرلیتے تھے اور اسی لیے لوگ اپنے بڑے بڑے کام بے تکلف ان کے سپر د کرتے ہیں ۔کیوںکہ ان کے پاس اللہ تعالی کا بڑا عطیہ فکر رسا اور رائے صائب تھے مسائل وحوادث میں ان کی نظر بہت دور تک پہنچ جاتی تھی ،حریف کی چالوں کی تہہ تک پہنچ جاتی تھی باوجود تواضع وخاکساری کے اپنی رائے پر پوری قوت کے ساتھ جمے رہتے تھے۔اور ہٹ اور ضد کی وجہ سے نہیں بلکہ دلائل کی قوت اور مصالح کی طاقت  سے وہ دوسروں کومنوانے میں کامیاب ہوجاتے تھے ۔‘‘ (یادرفتگاں ص ۲۱۷)

مشہور مصنف مولانا منظور نعمانی تحریر فرماتے ہیں :’’میں ان کو دور حاضر میں کم از کم طبقہ علماء میں اسلامی سیاست کا اعلی ماہر سمجھنے لگا ،میں صاف کہتاہوں کہ پھر اس کے بعدسے آج تک اس باب میں حلقہ علماء میں کسی کی بھی عظمت وجلات کا اس درجہ قائل نہیں ہوسکا ۔واللہ العظیم اگر میرے بس میں ہوتا تو میں سیاسی کام کرنے والے کم از کم نوجوان علماء کے لیے تو فرض قرار دیتا کہ وہ پہلے کچھ دنوں حضرت مرحوم کی زیر نگرانی ٹریننگ حاصل کریں ۔‘‘(حیات سجاد ص ۱۳۱)

جمعیۃ علماء کے پہلے ناظم اعلی حضرت مولانا احمد سعید دہلویؒ تحریر فرماتے ہیں :

’’بعض موقع پر میں نے اور انھوں نے (مولانا سجاد)ایک ماہ سے زائد سفر کیا اور مجھے ان کی ہم رکابی کا شرف حاصل رہا، اس بیس سالہ زندگی میں بارہا ان سے مختلف مسائل پر گفتگو ہوئی فقہ حدیث قرآن تینوں چیزوں میں میں نے ان کی نظر کو وسیع اورعلم کو مستحضر پایا۔‘‘ (حیات سجاد ص ۹۱)

مشہور اسلامی مصنف مولانا مسعود عالم ندویؒ لکھتے ہیں: ’’اور حقیقت میں یہی یونیٹی بورڈ کے جلسے تھے جہاں مولانا کے سیاسی تدبر کا لوہا موافق اور مخالف سب ماننے پر مجبور ہوئے ۔یوں کہنے کو جمعیت کی پوری مجلس انتظامی موجود تھی ،بورڈ میں اس کے نمائندے بھی موجود تھے ۔پر’’ دماغ ‘‘ ایک تھااور سب جسم محض کی حیثیت رکھتے تھے ۔‘‘(محاسن سجاد ص ۸۴)

  آپ کے ایک سخت سیاسی مخالف جناب راغب احسن صدر مسلم لیگ کلکتہ لکھتے ہیں :

’’یہ مولانا سجاد کی عظمت کی دلیل ہے کہ وہ ایک غریب جھونپڑے میں پیدا ہوئے، عربی مدسوں میں چٹائیوں پر تعلیم پائی؛ لیکن ایک ایسی سیاسی پارٹی کے بانی ہوئے جس میں ہزار عیب سہی؛ لیکن جس نے دینی امور میں ایک امیر شریعت کی تابعداری کی بیعت کی تھی اور جس کے نمائندے ان کی کار پردازی کی بدولت بہار کے اولین وزارت عظمی پر فائز ہوئے ،حالاں کہ خود بانی جماعت مولانا سجادؒ  جھونپڑے میں پیدا ہوئے اور اسی میں فوت ہوئے ۔‘‘(محاسن سجاد ص ۱۳۱)

’’مولانا سجاد جدید اسلامی ہند کے صف اول کے رجال دین وسیاست میں ممتاز مقام رکھتے تھے، وہ ان چند واقعی ترین سیاسیین میں تھے، جن کو تحریک خلافت نے پردہ گمنامی سے ابھار کر ہندوستانی سیاست کے صف اول میں کھڑا کیا تھا؛ پھر وہ تحریک خلافت کے رہنماؤں میں اپنی اصابت رائے ،سیاست دانی ،معاملہ فہمی ،نکتہ رسی ،ذہانت ،عملی صلاحیت ،تنظیمی طاقت ،کار دانی، کار پردازی ،عزم واستقلال کے ساتھ ایک نصب العین کے لیے مسلسل یکسوئی سے محنت کرنے کی قابلیت ،حالات وضرورت کے مطابق زمانہ کے ساتھ چلنے اور ساتھ دینے کی اہلیت کے لیے ممتاز تھے ۔مولانا سجاد علمائے ہند میں نہ صرف سب سے زیادہ سیاست حاضرہ کے ماہر تھے ؛بلکہ سب سے بڑے عملی سیاست کار بھی تھے‘‘ ۔(محاسن سجاد ص ۱۲۲)

انجمن علماء بہار کا قیام، تحریک خلافت وجمعیۃکی تمہید :

حضرت مولانا سجاد علوم اسلامیہ کی روشنی تاریخ اسلام کے تجزیہ اور خدادا بصیرت سے مسلمانوں کے باہمی اختلاف وانتشار کو مسلمانوں کے عالم گیر زوال کا سبب سمجھتے تھے اور قیام خلافت وامارت کو ہندوستان ہی نہیں؛ بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے لازم اور شرعی ضرورت خیالا کرتے تھے؛ مگر اس راہ میں ان کے باہمی اختلاف اور گروہی ومسلکی جھگڑے سب سے بڑی رکاوٹ تھے ۔وہ پوری امت کی شیرازہ بندی کلمہ طیبہ کی بنیاد پر کرنا چاہتے تھے ؛لیکن اس کے لیے علماء کرام کا اتحاد لازمی تھا ۔علماء ہی در اصل قوم وملت کے قائد ورہنما ہیں اگر وہ باہم متحد ہوجائیں، تو لازما تمام مسلمان متحد ہوجائیں گے ۔

چنانچہ اس عظیم کام کے لیے دور دراز کا سفر کیا ،ہر مکتب فکر کے نامور علماء وقائدین کے پاس گئے، انھیں اتحاد ویکجہتی کا قرآنی پیغام یادد لایا۔ انتشار وافتراق نے ملت کو جو نقصان پہنچاہے اس کی تاریخ بیان کی ۔احادیث میں مذکورہ وعیدوں کا تذکرہ کیا اور پوری درد مندی کے ساتھ ان تما م کو جوڑتے رہے ،بالآخر یہ تحریک کارگر ہوئی اور ۱۹۱۷ء میں انجمن علماء بہار کا قیام عمل میں آیا۔مقصد یہ تھا کہ پورے بہار میں بھی اسی انداز کی تنظیم قائم ہو ۔

حضرت مولانا سجاد خود اپنے ایک مکتوب میں اس پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں :’’جس طرح انجمن علمائے بہار سرزمین ہند پر پہلی جمعیۃ تھی ،جو یہاں قائم کی گئی۔لیکن اس کے بعد مرکزی جمعیت علمائے ہند بھی قائم ہوئی ،اور مختلف صوبوں میں جمعیۃ علماء قائم ہوتی گئی اسی طرح بہت ممکن ہے، صوبہ بہار میں امارت شرعیہ اور امیر کے انتخاب کے بعد دوسرے صوبوں میں بھی یہ کام چل پڑے اور جس طرح جمعیۃ علماء ے بہار کے بعد جمعیۃ علماء ہند قائم ہوئی اس طرح امیر الہند بھی بعد میں منتخب ہوجائے ۔‘‘((تاریخ امارت ص۷۱)

اسی حوالہ سے مولانا عبد الصمد رحمانی ؒسابق نائب امیر شریعت تحریر فرماتے ہیں :

’’ مولانا نے مدرسہ انوار العلوم گیا کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ۳۰؍ صفر ۱۳۳۶ھ؍۱۷ء میں پورے صوبہ کے علماء کو دعوت دی اور ان کی بڑی تعداد کو جمع کرکے انجمن علماء بہار کے نام سے ایک متحدہ تنظیم قائم کی اور بہار کے علماء مشائخ اور ارباب حل وعقد کی اجتماعی شیرازہ بندی کرکے انھیں ایک مر کزی نقطہ اور ایک متحدہ پلیٹ فارم پر جمع کیا اس انجمن کا مختصر لفظوں میں دو بڑا مقصد تھا ۔ایک دعوت اسلامیہ اور دوسرے حفاظت حقوق ملیہ۔‘‘ (تاریخ امارت ص ۴۳)

پھر انجمن کے قیام کے سات ماہ بعد انجمن کا پہلاباضابطہ اجلاس ۵؍۶؍ شوال ۱۳۳۶ ھ؍۱۹۱۷ء کو مدرسہ عزیزیہ بہار شریف میں منعقد ہوا ۔اس سلسلہ میں مولانا عبد الصمد رحمانی تحریر فرماتے ہیں ۔

’’بالآخر مولا نا کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہوا کہ مولانا علماء کو ایک جگہ مجتمع کرنے میں ایک راہ پر لگانے ،نئے ڈھب ،نئے طریقے اختیار کرنے میں ،ماحول کے مقتضیات اور مواقع واحوال کی نامساعدت کے ساتھ کام کو بڑھانے اور اس کی اہمیت وافادیت کو منوانے میں کامیاب ہوگئے اور اسی سال شوال کے مہینے میں علماء کی جمعیۃ کا پہلا اجلاس بہار شریف میں کیا جس میں صوبہ کے پچاس علماء شریک ہوئے جس میں صوفیا اور مقتدر حضرات بھی تھے ۔‘‘(تاریخ امارت ص ۴۶)

سچ ہے :’’قلندر ہر چہ گوید دیدہ گوید‘‘ ۔کے مصداق حضرت نے جو فرمایا تھا، وہ بالکل سچ ثابت ہوا اور الحمد للہ اب بہار میں امیر شریعت کے علاوہ پورے ہندوستان میںامت مسلمہ کو’’امیر الہند‘‘ کی سرپرستی حاصل ہے ،حضرت مولانا سجاد کا یہ مقولہ کافی شہرت رکھتا ہے کہ ’’انگریزوں کو جو کچھ کرنا ہوتا ہے، تیس سال پہلے ہی اس کا پلان تیار کرتے ہیں ؛اس لیے ہم لوگوں کو تیس سال آگے کے مسائل سامنے رکھ کر اقدام کرنا چاہیے‘‘ ۔یقینا اپنے اس مقولہ کے مطابق آپ نے جو اقدام کیا بعد کے حالات نے اس کو درست ثابت کردکھایا ۔

اس پہلے اجلاس میں جو اہم تجاویزمنظور ہوئیں، ان میں طبقہ علماء کو اپنے فرائض منصبی،خصوصا امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے فریضے کو بلا خوف لومۃِ لائم ادا کرنے ،انجمن علمائے بہار کے مقاصد کی تکمیل کے لیے ایک قومی  بیت المال کے قیام، اوقاف کی اصلاح ،اضحیہ بقر جو شعار اسلام اور سنت نبوی ہے، اسے حسبِ دستور جاری رکھنے اور مخالفین اسلام کے دباؤ سے اسے ترک کی مصالحت کے باطل ہونے اور شیخ الہندؒ اسیر مالٹا ،مولانا ابوالکلام آزاد ،مولانا شوکت علی اور مولانا محمد علی جوہر ودیگر نظر بندان اسلام کی نظر بندی پر احتجاج وغیرہ شامل ہیں ۔(حضرت مولانا محمد سجاد حیات وخدمات ص ۹۷،۹۸)

انجمن علماء بہار کے اس پہلے باضابطہ اجلاس میں اس امر پر شدید احتجاج کیا گیا کہ حق گوئی اور خلافت اسلامیہ مرکزیہ کے تحفظ کے لیے زبان وقلم کو حرکت میں لانے کے جرم میں ہندوستان کے اکثر بڑے ملی قائدین خاص طور پر شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ،مولانا ابوالکلام آزادؒ ،مولانا محمد علی جوہرؒ ،مولانا شوکت ؒکو کو گرفتار کرکے جیل کی سلاخوں میںڈال دیا گیا۔اور ان تمام حضرات کی کی رہائی کا انگریز گورنمنٹ سے مطالبہ کیا گیا ۔ایسے حالات میں جب کہ زبانون پر تالے ڈال دیے گئے تھے اور قلم پر پہرے بٹھادیئے گئے تھے، ہر شخص جاسوسوں کے نرغے میں تھا ،ایسے میں یہ ایک مضبوط اور متحدہ اجتماعی آواز تھی، جو ان قائدین ملت کی حمایت میں اور ان کی رہائی کے لیے مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد کی قیادت میں بلند ہوئی ۔اجتماعی آواز انفرادی آواز سے بدرجہا مضبوط ہوتی ہے ۔الحمد للہ اس کے دورس اور مثبت اثرات مرتب ہوئے ۔ایک نامور مبصر تحریر فرماتے ہیں :شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ ،شیخ لاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ،مولانا ا ابوالکلام آزادؒ اور علی بردران جیسے قائدین حریت ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ کے تحت اسیری کے دن کاٹ رہے تھے ۔ان کی رہائی کے لیے کوئی تحریک تو کیا چلتی اور اس کے خلاف کوئی آواز تو کیا اٹھتی، لوگ خداوندان فرنگ کے خوف سے ان کے نام لینے سے بھی خائف رہتے تھے ۔اس وقت اسی بہار کے سپوت ابوالمحاسن محمد سجاد نے ’’انجمن علماء بہار‘‘ قائم کرکے ان جنگ آزادی کے قائدین کی رہائی کے لیے آواز بلند کی ۔

انجمن علماء بہار کے پاس شدہ تجاویز کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی تحریر فرماتے ہیں : ’’ان تجاویز کی روشنی میں کوئی بھی صاحب انصاف فیصلہ کرسکتا ہے کہ اس جمعیۃ نے اس وقت کے دشوار گذار اور مایوس کن حالات میں میدان عمل سے کھینچے اور ان فتنوں سے کٹے علماء کو میدان عمل میں لاکر جد وجہد کرنے اور ان کے سرد وگرم سے نمٹنے ہر آمادہ کرنے میں کیا رول ادا کیا ۔‘‘ (نقیب ،مولانا سجاد نمبر ۵۹)

اس سلسلہ میں حضرت مولانا سجاد کے شاگرد مولانا عبد الحکیمؒ صاحب تحریر فرماتے ہیں : مولانا نے بھی عجیب دل ودماغ پایا تھا مدرسہ میں پڑھاتے بھی تھے ،مدرسہ کی نگرانی اور اس کانظم بھی کرتے تھے پھر وقتی سیاست اور مسلمانوں کی زبوں حالی ،آپس کے نفاق وشقاق اور علماء کی نفرت وانتشار اور لامرکزیت کو گہری نظر سے دیکھتے تھے ۔اور ان کی اصلاح کی تڑپ بھی دل میں رکھتے تھے ۔اور چاہتے تھے کہ کسی طرح عوام اور علماء کی بھی اصلاح ہوجائے اور یہ اپنے فرائض سمجھنے لگیں ۔۔یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ مولانا نے چند علماء کے مشورہ سے بہار میں ۱۳۳۵ھ میں جمعیت علماء صوبہ بہار قائم کیا اور بہت جلداس کو ترقی اور افادیت کے مرتبہ تک پہنچایا ،صوبہ کے مختلف شہروں میں اس کے عظیم الشان پیمانے پر اجلاس ہوتے رہے ۔بہت غور وخوض کے بعد امارت شرعیہ کی اسکیم آپ کے ذہن میں آئی ۔اس سلسلہ میں مولانا نے مولانا ابوالکلام آزاد سے رانچی ملاقات کی اور اس سلسلہ میں باہمی تبادلہ خیال اور مشورہ ہوا ۔مولانا عبد الباری فرنگی محلی اور دیگر سر بر آوردہ علماء سے بھی ملے اور رائے عامہ کو تیار کیا (محاسن سجاد ص ۲۱)

مولانا اصغر حسین سابق پرنسپل مدرسہ شمس الہدی پٹنہ تحریر فرماتے ہیں : ’’آخر جمعیۃ علماء بہار کی تاسیس کا عزم ہوا۔ شوال ۱۳۳۶ھ میں مدرسہ عزیزیہ بہار شریف میں جلسہ طلب کیا گیا۔ مدعو علماء اور عوام کے اس جلسہ میں جمعیۃ علماء بہار کی بنیا د رکھی گئی۔ شاہ سلیمان پھلواروی بھی اس میں شریک تھے ۔پھر دوسرے سال پھلواری شریف میں بڑے پیمانے پر اس کا  اجلاس ہوا ۔مولانا آزاد سبحانی کو مدعو کیا گیا تھا ۔انھوں نے اپنی زبردست تقریر اور سحر بیانی سے سامعین میں جوش وولولہ کی روح پھونک دی ۔امسال (انتقال کے سال ) حضرت نائب امیر شریعت کو جمعیت علمائے ہند کا ناظم اعلی مقرر کیا گیا تھا اگر چہ آپ کی ذات اس عہدہ سے پیشتر بھی جمعیت کے لیے روح رواں تھی؛ لیکن جب کہ ارکان جمعیت کے اصرار سے اس عہدہ نظامت کی باگ ہاتھ میں لی تو ایک جدید اسکیم کے تحت نئے اسلوب سے جمعیت کو چلانے کا کام شروع کردیا تھا۔‘‘(محاسن سجاد ۴۳)

ہندوستان میں تحریک خلافت کا قیام :  مسلمانوں کے دیگر گوں ملکی وعالمی حالات نے مولانا سجاد کے دل میں یہ بات ڈالی کہ اس وقت مسلمانوں کی رہنمائی اور عملی اعتبار سے قوت پہنچانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، اس کے لیے سب سے ضروری امر یہ ہے آپس کے انتشار واختلاف کو دور کیا جائے اور امت مسلمہ خاص طور پر اس کے علماء کو اتحاد واتفاق کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے ۔اور ملکی اور بین الاقوامی مسائل میں ایک پلیٹ فارم سے مسلمانوںکے مفاد کی آواز بلند کی جائے، خاص طور پر ترکی کی خلافت عثمانیہ کے تحفظ دفاع کے لیے ہندوستان میںایک پلیٹ فارم قائم کرکے بھر پور کوشش کی جائے  ۔ترکی کی خلافت عثمانیہ کی بحالی کے لیے باضابطہ منظم اور مربوط تحریک چھیڑنے کا خیال سب سے پہلے جن حضرات کے ذہن میں آیا ان میں ایک ممتاز نام مفکر اعظم حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد بانی امارت شرعیہ کا ہے ۔مسلمانوں کا ایک امیر اور خلیفہ ہو اور مسلمان ان کی ماتحتی میں شرعی زندگی گذاریں ؛یہ خواہش مولانا سجاد کے دل ودماغ میں ہمیشہ موجزن رہی ۔پھر جب خلافت کے بچے کھچے نام اور اس کے باقی ماندہ آثار کو بھی مٹا دینے کی سازش ہونے لگی اور ترکی کی حمایت کی آواز اٹھانے والے قائدین کو اندھا دھن گرفتار کیا جانے لگا مولانا سجاد کے دل ودماغ پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ،تو آپ کے اندر عملی اقدامات اور مؤثر کوشش کرنے کا جذبہ پیداکیا ۔

اس سلسلہ میں آپ نے اس وقت کی ملی وقومی سرگرمیوں کا روحانی مرکز لکھنؤکے مشہورخانوادہ فرنگی محل کے باوقار روحانی ہستی جید عالم دین اور مدبر رہنما مولانا عبد الباری فرنگی محلیؒ سے تبادلہ خیال کیا اور اور بحالی خلافت کے لیے ایک باضابطہ کمیٹی قائم کرکے مؤثر اور مربوط تحریک چلانے کا مشورہ دیا ۔یہ بھی قابل ذکر ہے کہ انھیں ایام میں جناب مشیر حسن قدوائی (۱)بیرسٹر ایٹ لاء (متوفی ۱۹۳۷ھ) نے بھی مولانا عبد الباری فرنگی محلی کو خط لکھ کر یہ گذارش کی کہ اگر ہندوستان میں خلافت کمیٹی کے نام سے کوئی انجمن قائم کی جائے اور اس کے ذریعہ وسیع پیمانے پر بر طانیہ کے الغائے خلافت یعنی خلافت عثمانیہ کو کالعدم قرار دینے کے رویہ پر احتجاج کیا جائے تو حکومت برطانیہ کے متاثر ہونے کی امید ہے ۔مولاناعبد الباری چوں کہ اس طرح کی کوشش سے پہلے سے جڑے تھے اور انھوں نے ۱۹۱۲ء ہی سے انجمن خدام کعبہ کے نام سے حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ایک کمیٹی بنارکھی تھی، اس لیے مولانافرنگی محلی نے حضرت ابوالمحاسن محمد سجاد کے مشور کو قبول کیا اور باضابظہ خلافت کمیٹی قائم کرنے کے لیے تیار ہوگئے ۔

علامہ سید سلیمان ندوی تحریر فرماتے ہیں:

’’لیکن اللہ تعالی نے اس وقت ہندوستان کے مسلمانوں کو چند بہادر ،درد مند حساس ہیرو عنایت کیے تھے جو اپنی جان پر کھیل کر کھڑے ہوئے اور انھوں نے مجلس خلافت کے نام سے مرکزی مجلس بمبی میں قائم کی، جس کی شاخیں سارے ہندوستان میں قائم کی گئیں ۔اس مجلس کی تنظیمی قوت اتنی زبردست تھی کہ سارا ہندوستان اس کی ایک آواز پر اٹھتا اور بیٹھتا تھا پورے ملک میں جس قدر نوجوان کارکن تھے ،سب اس کے جھنڈے کے نیچے جمع تھے، ہر طرف اس کی امداد کے لیے روپے برس رہے تھے اور قوتیں یکجا ہورہی تھیں؛ عوام علماء اور تعلیم یافتہ سب اس تحریک میں یکساں شریک تھے ،مولاناعبد الباری فرنگی محلیؒ سب سے پیش تھے۔ ان کے علاوہ علمائے دیوبند ،علمائے بدایوں ،علمائے ندوہ ،علمائے بہار اور دیگر علماء سب شریک تھے ۔اور اس زور وقوت سے چلارہے تھے کہ اس کے دہانے حکومت کی ساری تدبیریں بیکار ہورہی تھیں اور دنیائے اسلام کی نظریں اس وقت ہندوستان کے مسلمانوں اور ان کی جمعیۃ خلافت پر لگی ہوئی تھیں اور اس وقت مسلمانوں کو اپنی متحدہ قوت کا اندازہ ہورہاتھا ۔‘‘(برید فرنگ ۔ص ۱۳۔مطبوعی مجلس تحقیق ونشریات لکھنؤ)

علامہ ندوی کی تحریر میں جن علماء بہار کا تذکرہ ہے ۔یقینا ان کے سرخیل حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد تھے ۔

خلافت کمیٹی کب اور کیسے قائم ہوئی ؟

خلافت کمیٹی کی قیام کب ہوا اور کیسے ہوا؟ اس سلسلہ میں قاضی عدیل عباسیؒ  تحریر فرماتے ہیں:

’’خلافت ترکی کے معاملہ میں قانون کے اندر جد وجہد کا مرکز تھا  فرنگی محل ۔مولانا عبد الباری کی فراست نے بادلوں کے محیط ہونے سے پہلے بارش کا اندازہ کرلیا اور خدام کعبہ کی بنیاد رکھی جس نے ملت اسلامیہ ہند کے ہر فرد میں ایک ولولہ تازہ اور خلافت اسلامیہ اور اماکن مقدسہ سے ایک عظیم محبت وعقیدت کا جذبہ پیدا کیا بعدہ تحریک خلافت کے زمانے میں فرنگی محل مرکز رہا مولانا محمد علی مولانا عبد الباری کے مرید تھے اور وہیں سے ان کو اور شوکت علی کو ’’مولانا ‘‘ کا اعزازی خطاب عطا ہوا تھا ۔چنانچہ وہ واقعی مولانا ہوگئے ۔بہر حال ۲۰ مارچ ۱۹۱۹ء کو باضابطہ طور پر بمبی میں خلافت کمیٹی کا قیام عمل میں آیا بمبی کے لوگوں نے اس تحریک کی بھر پور معاونت کی اور اس کے اخراجات کا بوجھ اٹھانے کی ذمہ داری لی ۔‘‘

خلافت کمیٹی کب اور کیسے قائم ہوئی ؟اس کا سراغ لگانے اور محقق طور پر جاننے کی میں نے بڑی کوشش کی؛ لیکن مجھے تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ میں کامیاب نہیں ہو ا۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آل انڈیا مسلم کانفرنس ۱۸دسمبر ۱۹۱۹ کو منعقد ہوئی تھی وہی کانفرنس خلافت کمیٹی میں تبدیل ہوگئی ۔یہ صحیح نہیں معلوم ہوتا۔ کیوں کہ اس کانفرنس میں ایک تجویز خلافت کمیٹی کے شکریہ کی منظور ہوئی ۔قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا عبد الباری نے خلافت کمیٹی قائم کی اور پھر وہ بمبی منتقل ہوگئی کیوں کہ وہاں کے لوگوں نے اس کا بوجھ اٹھانے کی ذمہ داری لی ۔اس کی تائید حیات سلیمان کے ص ۱۷۵ کے ذیلی حاشیہ سے ہوتی ہے۔‘‘

پھر قاضی عدیل عباسی حاشیہ میں لکھتے ہیں:’’ میں نے اس امر کی تحقیقات میں بہت وقت صرف کیا کہ کوئی دستاویزی شہادت اس بات کی مل جائے کہ خلافت کمیٹی کب اور کہاں اور کس کی تحریک پر قائم ہوئی مگر افسوس مجھے اس میں ناکامی ہوئی ۔‘‘(تحریک خلافت ص ۳۹)

کس کی تحریک پر قائم ہوئی ۔اس حوالہ سے قاضی عدیل عباسی نے اگرچہ عدم علم کا اعتراف کیا ہے؛ لیکن مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد کا نام بھی انھوں نے خلافت کے قائدین میں درج فرمایا ہے ۔مولانا سجاد کی جو بیچینی تھی اور جس طرح ملت کے اتحاد یگانگت خاص طور پر تحریک خلافت کے لیے آپ سر گرم عمل رہتے تھے،اور جس طرح آپ نے ۱۹۱۷ء میں انجمن علماء بہار قائم کرکے خلافت اسلامیہ مرکزیہ کے تحفظ کی آواز بلند کرنے والے قائدین کی گرفتاری پر احتجاج کیا تھا اور ان کی رہائی کا مطالبہ انگریز گورنمنٹ سے کیا تھا ۔اس کی بنیاد پر آپ کے سوانح نگا ر آپ کو اس تحریک کا محرک اور فکری بانیوںمیںسے قرار دیتے ہیں ۔

   حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی تحریر فرماتے ہیں :

اس خلافت کمیٹی کے مؤسسین میں مولاناابوالمحاسن محمد سجاد بھی تھے ۔مولانا سجاد نے اس بارے میں مولانا عبد الباری فرنگی محلی سے تبادلہ خیال کیا اور ان ہی دونوں بزرگوں کی تحریک پر مولانا محمد علی جوہر ،مفتی کفایت اللہ ،مولانا شوکت علی حکیم اجمل خاں اور بعض دیگر علماء وقائدین کی مشاورت سے بمبی میں خلافت کمیٹی کی بنیاد پڑی ؛مگر اس پوری تحریک کو قوت بخشنے والا جو دماغ تھا وہ در اصل یہی مستعد اور شہرت وناموری سے دور شخصیت تھی یعنی مفکر اعظم مولانا امحمد سجاد کی ۔‘‘(نقیب مولانا سجاد نمبر ص ۶۰)

تحریک خلافت کی ہمہ گیری : تحریک خلافت کا یہ پہلو بھی خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہے یہ محض بحالی خلافت کی ایک تحریک ہی ثابت نہیں ہوئی ؛بلکہ اس سے ہمارے ملک میں آزادی کامل کی بنیاد پڑی،اور ہندو مسلم اتحاد کا بیج بویا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب ہندوستان برطانیہ کی رعایا ہونے پر فخر کرنے کی ذلت سے نکلااور ملک کے ہرباشندے نے خوداداری اور خود اعتمادی کی فضا میں اپنے کو ہندوستانی کہنے پر شرم نہ کرنا دریافت کرلیا۔ تحریک خلافت ایک مشعل تھی، جس نے ہندوستان کے ضمیر کو روشن کیا اور اس اجالے میں اپنے آپ کودیکھا اور پالیا ۔یہ صحیح ہے کہ ایک زمانے میں تحریک خلافت کے روح رواں مہاتما گاندھی تھے؛ لیکن اسی طرح یہ بھی صحیح ہے کہ تحریک خلافت نے گاندھی جی کو شناخت عطا کی اور اس کے ذریعہ ہندوستان کے ہندو مسلم کو متحد کرنے اور اسے آزادی کامل کی جانب گامزن کرنے کا مواد فراہم کیا۔تحریک خلافت ہی کے زمانے میں جمعیۃ علماء ہند کا قیام عمل میں آیا جس کے روشن خیال علماء نے آخر وقت تک کا ملک کی آزادی کے لیے دار ورسن کو دعوت دی اور مسلم لیگ کا تا دم آخر مقابلہ کرکے تقسیم پر کبھی راضی نہیں ہوئے۔

تحریک خلافت کے پس منظر کو بیان کرتے ہوئے قاضی عدیل عباسی تحریر فرماتے ہیں :     ’’ جس وقت تحریک خلافت کا آغاز ہوا مسلمانوں میں بہترین دل ودماغ رکھنے والے دانشور موجود تھے مثلا مولانا ابوالکلام آزاد ،شیخ الہند مولانا محمد حسن ،مفتی کفایت اللہ ،مولانا ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری ،مولانا حسین احمد مدنی، مولانا (ابوالمحاسن ) محمد سجاد بہاری، مولاناعبد الباری فرنگی محلی ،سید سلیمان ندوی ،مولانا اعبد الماجد بدایونی ،مولانا سید محمد فاخر الہ آبادی ،مولانا احمد سعید مولانا آزاد سبحانی ،مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی ،مشیر حسن قدوائی حکیم اجمل خاں ڈاکٹر مختار انصاری ،مولانا حسرت موہانی ،مولانا محمد علی ،مولانا شوکت علی ،مسٹر مظہر الحق اور ظفر علی خاں ۔یہ وہ لوگ تھے جو تحریر وتقریر ،علم وفن ،فکر صالح اور تحقیق کے علاوہ میدان عمل کے بھی مجاہد تھے ان میں انشا پرداز بھی تھے اور شاعربھی ،علوم دینیہ کے مجتہد اور محقق بھی اور علوم دنیا اور علوم مغرب کے شناسا اور امام بھی ۔یہ تمام اکابر ملت اس سرفروشانہ جد وجہد میں پورے انہماک اور بے جگری سے شریک ہوگئے اور تحریک خلافت تحریک آزادی ہند میں تبدیل ہوگئی ۔ (حوالہ سابق)

آل انڈیا مسلم کانفرنس منعقدہ لکھنؤ ۔

بہر حال بمبیٔ میں خلافت کمیٹی کے قیام کے بعد طے کیا گیا کہ خلافت کے تعلق سے بڑے پیمانے ایک اجلاس لکھنوء میں بلایا جائے جس کے ذریعہ حکومت برطانیہ اور حکومت ہند کے سربراہوں کو ہندوستانی مسلمانوں کے جذبات سے آگاہ کیا جائے تاکہ لندن میں جو صلح کانفرنس کمیٹی تین بڑے ممالک : امریکہ ،برطانیہ اور فرانس پر مشتمل کام کررہی ہے اس پر اثر پڑے اور مسلمانوں کے جذبات سے ہم آہنگ فیصلہ ہو ۔چنانچہ خلافت کے سلسلہ کا ایک عظیم الشان جلسہ آل انڈیا مسلم کانفرنس کے نام سے ۱۸ستمبر۱۹۱۹ء کو لکھنؤ میں طلب کیا گیا ۔جس میں ہندوستان کے گوشہ گوشہ سے ہر طبقہ کے علماء وزعماء شریک ہوئے کہا جاتا ہے مجمع بہت زیادہ تھا اور کوئی طبقہ خیال ایسا نہیں تھا جس کے نمائندے شریک نہ ہوئے ہوں ۔

کانفرنس کا پہلا ریزولیشن خلافت عظمی کے اقتدار کو بر قرار رکھنے کی بابت مولانا سید فاخر الہ آبادیؒ نے پیش کیا اور مولوی سید حسن آرزو ؒ(پٹنہ )نے اس کی تائید کی ۔دوسرا ریزولیشن جس میں ترکی کے بڑے علاقوں عراق ،عرب ،فلسطین ،شام ،آرمینیا وغیرہ کو ترکی کی سلطنت سے علحدہ کرکے غیر مسلم حکم راں طاقتوں کے ماتحت رکھنے وپر ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا تھا اور جزیرۃ العرب کو غیر اسلامی اثرات سے پاک رکھنے پر زور دیا گیا تھا ،جسے مولاناثناء اللہ امرتسری نے پیش کیا ور شیخ عبد اللہ وکیل علی گڈھ نے اس کی تائید کی ۔اسی طرح ایک ریزولیشن سمرنا سے یونانیوں کو نکالنے اور ان کے مظالم پر مولانا سید سلیمان ندویؒ نے ایک رقت انگیز تقریر میں پیش کیا۔ جس نے مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو مستحضر کردیا ۔ایک ریزولیشن میں بمبی کی خلافت کمیٹی کے کام پر اظہار پسندیدگی کیا گیا اور اس کی شاخیں صوبوں اور مختلف مقامات پر قائم کرنے کی ضرورت جتائی گئی ۔اس کانفرنس میں کل سات ریزولیشن پاس کیے گئے تھے جن میں سے ہر ایک کا تعلق خلافت کی بحالی سے تھا اس لیے آل انڈیا مسلم کانفرنس کو خلافت کانفرنس کہا جانے لگا ۔

اس موقع پر حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ بھی قائدانہ طور پر شریک تھے اور ہر محاذپر پیش پیش تھے ۔آپ کی شرکت اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل تھی کہ آپ تحریک خلافت کے فکری بانیوں میں سے تھے ۔لکھنؤ کے اس سفر میں بہار کے مشہور عالم اورخلافت عظمی کی برقراری کے ریزولیشن کی تائید میں تقریر کرنے والے مولانا سید شاہ حسن آرزو بھی شریک تھے ۔ان کا بیان ہے :

’’اس سفر میں مولانا سجاد ؒکی معیت کا شرف حاصل ہوا میں نے پہلی ملاقات ہی میں اس دبلے پتلے نحیف عالم دین سے مل کر یہ محسوس کیا کہ اس کے جسم کے اندر گوشت کا لوتھڑا نہیں ؛بلکہ دہکتی آگ کا شعلہ ہے ۔اس کی نظر کی گہرائی ،اس کے دماغ کی بلندی ،ارتقائے ملک کے لیے صاف اور سیدھا نظام عمل اپنے اندر مخفی رکھے ہوئے ہے ۔لکھنؤ کی وہ صحبت یقینا ایک تاریخی صحبت تھی ۔مخصوص مسلمانوں کا یک پھرچھا مجمع تھا اور کم از کم میری زندگی کا ایک تاریخی دن تھا ۔مضامین کی مخصوص صحبت میں پتہ چلا کہ مولانا سجاد کی ذہنی پہنچ کیا ہے ۔اور سیاسی معلومات میں وہ کس درجہ ماہر ہیں‘‘ ۔(حیات سجاد ص ۱۰۰)

 علاقائی خلافت کمیٹیوںکا قیام :بمبیٔ میں خلافت کمیٹی کے قیام کے بعد سب سے پہلے جو خلافت کمیٹی قائم ہوئی تھی ۔وہ گیا کی خلافت کمیٹی تھی ۔بمبیٔ سے لوٹنے کے بعد مولانا محمد سجاد نے گیا میںدوسری اور پھلاری شریف میں تیسری خلافت کمیٹی قائم کی ۔ اور ایک عظیم الشان خلافت کانفرنس شہر گیا میں اپر یل ۱۹۱۹ء کو منعقد کروایا ۔اس اجلاس میں خلافت کمیٹی کے مرکزی قائد مولانا شوکت علی ودیگراکابر نے شرکت کی ‘‘(فریڈم مومنٹ ان بہار ص ۲۹۹ بحوالہ تحریک آزادی میں علماء بہار کا حصہ ۔)

جناب تقی رحیم رقم طراز ہیں :کہ اسی مہینے اپریل میں مسٹر مظہر الحق ،ڈاکٹرمحمود وغیرہ کی دعوت پر مولانا شوکت علی نے بہار کا دورہ کیا اور مختلف جلسوں میں لوگوں سے عدم تعاون کی اپیل کرتے ہوئے قربانی دینے اور سرکاری نوکری چھوڑدینے کے لیے تیار رہنے کو کہا ۔یہ کہنے کی حاجت نہیں کہ مونگیر میں عام جلسہ کا انتظام شاہ زبیر نے اور گیا میں مولانا سجادؒ نے کرایا تھا ۔اس وقت تک کانگریس نے نہ تو عدم تعاون کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ کیا تھا اور نہ اس کا کوئی پروگرام پوری طرح طے ہوا تھا ۔(تحریک آزادی میں علماء بہار کا حصہ ۔مطبوعہ خدابخش لائبریری پٹنہ ص ۱۸۷)ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں :ویسے مولانا شاہ محی الدینؒ کے مذہبی اثرات اور مولانا سجادؒ ،مولانا ابراہیمؒ دربھنگہ ،مولانا خدابخش مظفر پور اور مولانا عبد الحکیم گیا کی لگن اور مستعدی کی وجہ سے بہار میں علماء ہر جگہ سر گرم ہوگئے تھے ۔گیا ضلع کی سیاسی زندگی پر اس وقت خواجہ محمد نور ،مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد چھائے ہوئے تھے ،ان کے ساتھ قاضی احمد حسین اور مولوی عبد الحکیم ،شاہ عمیر بھی بہت سر گرم تھے

(حوالہ بالا)

تحریک خلافت کے سلسلہ میںمولانا سجاد کی سرگرمیوں کے حوالہ سے آپ کے سوانح نگار جناب مولانا حافظ عبد الحکیم صاحب سابق مہتمم مدرسہ انوار العلوم گیا لکھتے ہیں :

’’بارہ برس تک مولانا انوار العلوم میں درس دیتے رہے اور اس درمیان میںسیاست حاضرہ کا مطالعہ بھی فرماتے رہے ۔ چنانچہ تحریک خلافت کے زمانے میںسیاست میں داخل ہوئے اور آپ کی سیاسی زندگی کاآ غاز ہوا، اس کے بعد ہندوستان بالخصوص بہار میں کوئی تحریک ایسی نہیں تھی جس میں آپ شریک نہ ہوئے ہوں اور عملی حصہ نہ لیا ہو؛بلکہ کامیاب نہ بنایا ہو اور کامیاب بنانے کی کوشش نہ کی ہو؛ لیکن انوار العلوم کے بعد سب سے اہم اور نمایاں کام گیا میں خلافت کمیٹی کی تاسیس تھی۔ مولانا نے قاضی احمد حسین وغیرہ کی معانت سے گیا میں خلافت کمیٹی کی بنیاد رکھی ،جو صوبہ بہار کی پہلی خلافت کمیٹی تھی ۔اور ہزاروں ہزار روپیہ ٹرکی کو بھجوایا ۔اور خوب چندہ ہوا۔ مجھے یاد ہے کہ غالبا یوم انقرہ کے سلسلہ میں ایک چھوٹے سے محلہ سے ڈیڑھ سو روپیہ وصول کرکے دفتر میں داخل کیا تھا ۔‘‘(محاسن سجاد ص ۲۰)

اس کے بعد آپ نے بہار کے مرکز کی طرف رخ کیا اور یہاں پٹنہ کے قریب روحانی مرکز پھلواری شریف میں خلافت کمیٹی قائم کیاخلافت کمیٹی کا دوسرا علاقائی اجلاس مولانا سجاد صاحب کی تحریک اور سعی سے پھلواری شریف میں منعقد ہوا ۔جس کی صدارت حضرت شاہ محی الدین قادریؒ امیر شریعت ثانی نے فرمائی ۔

آل انڈیا مسلم کانفرنس منعقدہ لکھنو کے پاس شدہ تجاویز میںسے ساتویں تجویز میںخلافت کمیٹی بمبئی کے کام پر اظہار اطمینان کیا گیا ۔اور اس کی شاخیں صوبوں اور مختلف مقامات پر قائم کرنے پر زور دیا گیاتھا ۔چنانچہ اس تجویز کو بھی عملی جامہ پہنانے میں مولانا سجادؒ نے سبقت کیااور آپ کی تحریک پر صوبہ بہار کے دوسرے مقامات پر بھی تحریک خلافت کی علاقائی کمیٹیاں قائم کی گئیں ۔اس کے بعد ۱۹۲۲ء میں گیا میں ایک اعلی سطحی خلافت کانفرنس جمعیۃ علماء کانفرنس اور کانگریس کے اجتماع کے ساتھ منعقد ہوئی ۔

سابق نائب امیر شریعت مولانا عبد الصمد رحمانی تحریر فرماتے ہیں :انجمن علماء بہار کے اجلاس کے بعد مولانا محمد سجاد صاحب نے ہندوستان کا دورہ کیا ،علماء ومشائخ سے ملے ۔مولانا عبد الباری فرنگی محلی (متوفی ۱۳۴۴ھ مطابق۱۹۲۶ء)سے خصوصی ملاقات کی اور ان کے سامنے اپنے خیالات اور عزائم تفصیل کے ساتھ رکھے ۔اور ان کے اثر رسوخ کو سلیقہ سے استعمال کیا اور نتیجہ کے طور پر بس ایک سال بعد خلافت کمیٹٹی ‘‘اور جمعیۃ علماء ہند کا قیام عمل میں آیا۔چنانچہ وہ دو ابتدائی بنیادی مجلسیں جن میں یہ دو نوں جماعتیں بنائی گئیں ۔ان میں مولانا سجاد شریک نظر آتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی دوسری خلافت کمیٹی  مولانامحمد سجاد ہی کے ہاتھوں گیا میں اور تیسری خلافت کمیٹی پھلواری شریف میں قائم ہوئی ۔حقیقت یہ ہے کہ مولانا علیہ الرحمۃ کا دو رہ اور اکابر علماء سے ملاقاتیں بہت کامیاب اور مؤثر ثابت ہوئیں ۔(امارت شرعیہ ۔دینی جد وجہد کا روشن باب ۔ص ۵۶)

اس سلسہ میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی تحریر فرماتے ہیں کہ : اس کے بعد برابر مولا نا اس تحریک کے دل ودماغ بنے رہے ۔ مولانا کی یہی صلاحیت تھی کہ ۱۹۲۲ء میں گیا میں ہونے والی آل انڈیا خلافت وجمعیۃ کانفرنس کے اجلاس کے موقع پر اپنے عصر کے جید عالم مولانا ابو بر کا ت عبد الرؤف دانا پوری صدر مجلس استقبالیہ نے بر سر عام مولانا کے متعلق یہ اعتراف کیا کہ اگر ابھی آزاد ملک ہو،تو اس کا گورنر جنرل مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد کو بنایا جاتا اور مولانا حبیب الرحمان عثمانی مہتمم داار العلوم دیوبند نے اس کی تائید فرمائی ۔اس کے بعد بھی مولانا بہار میں مختلف مقامات پرخلافت جلسے کراتے رہے اور مالی معاونت کے سلسلہ میں کوشاں رہے ۔(نقیب مولانا سجاد نمبر ص ۶۰)

گیا خلافت کانفرنس کی منظر کشی ،ایک مشاہد کی زبانی :

گیاکی خلافت کانفرنس کئی لحاظ سے ممتاز کانفرنس تھی۔ آپ کے سخت سیاسی مخالف جناب راغب احسن مرحوم صدر مسلم لیگ کلکتہ گیا میں منعقد ہونے والے اس خلافت کانفرنس میںبنفس نفیس موجود تھے،وہ اس کی شاندار منظر کشی کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’حضرت مولانا محمد سجاد کو پہلی دفعہ اور یہ آخری دفعہ بھی تھا کہ میں نے گیا کانگریس ۱۹۲۲ء کے موقع پر جمعیۃ علمائے ہند کے عظیم الشان پنڈا ل میں میں دیکھا تھا ۔گیا کانگریس کا اجلاس مسٹر سی آر داس آنجہانی ہورہا تھا ،سوراج پارٹی کی بنیاد پنڈت موتی لال نہرو ،داس اور حکیم اجمل خاں مل کر ڈال رہے تھے ۔گیا میں اس موقع پر آل انڈیا خلافت کانفرنس اور جمعیۃ علمائے ہند کی سالانہ کانفرنسیں بھی ہورہی تھیں۔ دسمبر کا مہینہ تھا، کڑاکے کا جاڑا پڑ رہا تھا ۔کانگریس ،خلافت اور جمعیۃ کے پنڈال دریائے پھلگو کے کنارے شہر کے باہر ریت کے ٹیلوں اور خوبصورت پہاڑوں کے دامن میں قائم تھے ۔کانگریس اس وقت بھی سرمایہ دار ہندؤں کی مجلس تھی، اس کا پنڈال ہندو طرز تعمیر کا نمونہ تھا ۔صدر گیٹ ،اس کے دروازے اور اس کے ستون بدھسٹ طرز تعمیر کے مطابق بنائے گئے تھے اس کا ظاہر اور باطن کاملا ہندو تھا ۔ اس کی تعمیر پر ہزاروں ہزار روپیہ خرچ کیا گیا تھا ۔اس کے بالکل برعکس جمعیۃ علمائے ہند کا پنڈال اسلامی سادگی نفاست اور جدت اور انڈور سارا سینیک indo.saracenic) ) عربی ہندی طرز تعمیر کی کی رعنائیوں کا آئینہ دار تھا ۔اس کے عالی شا ن صدر پھاٹک اور داخل و خارج ہونے کے دروازوں پر عربی حروف میں معنی خیز آیات قراآنی درج تھے ۔مسلمانوں کے علاوہ ہزاروں لاکھوں ہندو روزانہ جمعیۃ علماء کے پنڈال آکر دیکھتے اور تعریف کرتے تھے ؛جو کلمہ سب کی زبان پر عام تھا کہ باوجود سادہ اور کم خرچ ہونے کے جمعیۃ کا پنڈال کانگریس کے پنڈال سے ہزار درجہ زیادہ آرام دہ زیادہ روشن وفراخ اورزیادہ حسین وجمیل اور زیادہ عالی شان زیادہ پرشکوہ تھا اور یہ سب کچھ مولانا سجاد کی اعلی تعمیر ی صلاحیت کا نتیجہ تھا ۔مجھے معلوم تھا کہ مولانا نے یہ سارا انتظام انتہائی بے سر وسامانی ،بے مائیگی اور پریشانی کے عالم میں اور قلیل ترین وقت یعنی صرف چند دنوں کے اندر کیا تھا ۔گیا کی جمعیۃ علماء کانفرنس اور خلافت کانفرنس کے اصل روح رواں،دماغ، مدبر اور مرکزی شخصیت مولانا سجاد کی ذات تھی۔ مولانا سجاد ؒنے چند گنے ہوئے دنوںمیں جمعیۃ اور خلافت کانفرنس کے متعلق جملہ انتظامات باوجود غربت وافلاس اور بے سر وسامانی کے اتنے اعلی پیمانے اور بہترین؛ بلکہ نادر ترین اندازپر کیا ۔کہ ہندو مسلم اکابر کی نگاہیں بے اختیار مولانا پر مرکوز ہورہی تھیں اور سب کی زبانیں اس حقیقت کے اعتراف میں ہم آواز تھیں کہ گیا کانگریس نے ملک کی ایک نادر اور حیرت انگیز تنظیمی طاقت کا انکشاف کیا ہے ۔مولانا حکیم ابوالبرکات عبد الرؤف صاحب قادری دانا پوری جمعیۃ علمائے ہند کی مجلس استقبالیہ کے صدر تھے ۔آپ نے مولانا سجاد کی انتظامی صلاحیت کا اعتراف کرتے ہوئے کھلے عام اجلاس میں فرمایا تھا:

 ’’مولانا سجاد نے مسلمانوں کی عظیم الشان تنظیمی اور سیاسی کار دانی کا جو ثبوت دیا ہے وہ اس درجہ بلند ہے کہ سوراج ملنے کے بعد مولانا کو ہندوستان کا گورنر اور گورنر جنرل بنانا موزوں ہوگا کیوں کہ وہ ایک نئے ہندوستان کے نئے خیالات واصول کے مطابق تعمیر کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں ۔‘‘

حضرت مولانا حبیب الرحمان عثمانی نائب مہتمم دار العلوم دیوبند صدر اجلاس نے جو خود بھی بہت بڑے منتظم بزرگ تھے اس خراج تحسین کی تائید فرمائی تھی ۔ اس اجلاس گیا کے موقع پر مجھے مولانا مرحوم کی تقریر سننے کا پہلا موقع ملا تھا اور یہ محسوس ہوا تھا کہ وہ صاحب بیان نہیں؛ بلکہ صاحب عمل بزرگ تھے ۔مولا نا سجاد نہ صرف ایک بڑی تنظیمی صلاحیت رکھنے والے بزرگ تھے بلکہ جدید خیالات وافکار رکھنے والے ایک معمار اور خلاق بھی تھے ۔وہ صرف منتظم اور مدبر نہیں تھے بلکہ مفکر ،مجتہد اور آرٹسٹ بھی تھے ۔گیا کی مجلس مجالاس اور اس کے متعلقہ انتظامات ان کی اعلی قوت تخیل اور اعلی تخلیق کی مخلوقات فکر وعمل تھے ۔اجلاس گیا کے موقع پر ہر چیز اور ہر انتظام پر مولانا سجاد کی تخلیقی شخصیت اور اجتہادی آرٹ کا چھاپ صاف نمایا ں تھا  (محاسن سجادص ۱۰۵)

خلافت کانفرنس گیا کی تجاویز : خلافت کانفرنس اور جمعیۃ علماء کے جس اجلاس کا تذکرہ راغب احسن مرحوم نے کیا ،یہ اجلاس دسمبر ۱۹۲۲ء کو گیا میں زیر صدارت مولانا حبیب الرحمن عثمانی مہتمم دار لعلوم دیوبند منعقد ہوا ،جس میں خطبہ صدار ت پیش کرتے ہوئے انھوں نے فرمایا تھا : حضرات علماء !آپ کی بروقت مستعدی سے جمعیۃ علماء کا وجود تو قائم ہوگیا جس کی سخت ضرورت تھی، اگر آپ ایسا نہ کرتے تو در حقیقت ایک بڑے اور اہم فرض سے غفلت کا الزام آپ پر آتا ۔لیکن یہ سمجھ لیجیے کہ آپ کی ذمہ داریاں بنسبت سابق بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں ۔اس کے بعد فرمایا کہ علماء ومشائخ کرام بہار کا مسلمانوں پر بھاری احسان ہے کہ انھوں نے اپنے صوبہ میں امارت شرعیہ قائم کرکے ایک سڑک تیار کردی ہے ،ہم ان حضرات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ دوسرے صوبوں کے علماء بھی جلد از جلد صوبہ بہار کی تقلید کریں گے (امارت شرعیہ دینی جد وجہد کا روشن باب ص ۶۰)

ایسی حالت میں کہ مسلمان ایک غیر مسلم طاقت کے زیر حکومت ہیں اور اور ان کو اپنے معاملات میں آزادی حاصل نہیں ہے ضروری ہے کہ مسلمان اپنے لیے والی اور امیر مقرر کریں دارلقضاء قائم کرکے قضاۃ اور مفتیان کرام کا تقرر کریں جمعیۃ علماء میں یہ تجویز منظور ہوچکی ہے ۔(خطبہ صدارت جمعیۃ علمائے ہند گیا )

مولانا محمدسجاد کی شخصی زندگی میں تحریک خلافت نے زبردست انقلاب پیدا کیا تھا ،مسلمانوں میں معاشرتی اصلاح کے زبردست حامی ہونے کا  ثبوت وہ پہلے ہی اپنے ایک ایسے اقدام سے دے چکے تھے جس نے گیا کی مسلم شوشل سیاست میں بھونچال ڈال دیا تھا ۔ (محاسن سجاد ص ۱۰۵)

مولانا سجاد کے صاحبزادے حسن سجادؒ کی گرفتاری :

تحریک خلافت کی متحرک اور سرگرم قیادت میں مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد تنہا نہیں تھے؛ بلکہ آپ کے جواں سال صاحبزادے جناب مولانا حسن سجاد بھی آپ کے دست وباز و بنے ہوئے تھے ۔ وہ اپنے والد کے ساتھ یا انکی نیابت میں بہار کے مختلف خطوں کا دورہ کرتے تھے اور پرجوش تقریر یں کیا کرتے تھے ۔چنانچہ اسی انداز کا ایک جلسہ پٹنہ ضلع کے باڑھ سب ڈویزن میں منعقد ہوا۔جس میں مولانا احمد سجاد نے انتہائی ولولہ خیز تقریر کی ۔۔ان کی تقریروں سے ایوان باطل میں زلزلہ برپا ہوگیا ۔اور بالآخر سی آئی ڈی کی رپورٹ پر انھیں گرفتار کرلیا اور چھ مہینے کی سزا بھی ہوئی۔ اس سلسلہ میںآپ کے شاگردمولانا عبد الحکیم صاحب یوں لکھتے ہیں :’’مولانا سجاد کے نو عمر مگر پر جوش صاحبزادے حسن سجاد مرحوم تحریک خلافت کے سلسلہ میںکے سلسلہ میں باڑھ میں ایک تقریر کے جرم میں اسیر فرنگ ہوئے اور غالبا چھ مہینے کی سزا ہوئی ۔(محاسن سجاد ص ۹۱؍۱۹۲)مطبوعہ الہلال ؓبک ایجنسی پٹنہ ؍کتب خانہ عزیزیہ دہلی )

بیٹے کو بستر مرگ پر چھوڑ کر حضرت سجادؒ ملی ضرورت سے سفرمیں : یہی وہ صاحب زادے تھے ۔جن کے بارے میں علامہ سید سلیمان ندوی ؒنے لکھا کہ :ان کا بڑا لڑکا جو پڑھ لکھ کر فاضل اور گھر کا کام سنبھالنے کے قابل ہوا ،عین اس وقت کہ اس کے نکاح میںچند روز باقی تھے ،باپ نے اس کی دائمی جدائی کا داغ اٹھا یا ۔اور یہ سننے کے قابل ہے کہ وہ لڑکا ۔۔۔مرض الموت میں تھا کہ مسلمانوں کی ایک ضرورت ایسی سامنے آئی کہ کہ باپ بیمار بیتے کو چھوڑ کر سفر پر روانہ ہوگیا ۔واپس آیا تو جوان بیٹا دم توڑ رہا تھا۔ (یاد رفتگاں ص ۲۲۰)

محاسن سجاد کے مرتب مولانا مسعود عالم ندویؒ رقم طراز ہیں : اچھی طرح یاد نہیں کہ چھوٹے مولانا (مولانا سجاد ) کی خدمت میں پہلی بار کب نیاز حاصل ہوا ،تحریک خلافت کے ہنگامہ خیز دنوں میں راقم ایک انگریزی اسکول کا طالب علم تھا والد ماجد مقامی خلافت کمیٹی اور جمعیۃ علماء کے خاص کارکن تھے ،اسکول چھوڑ کر مدرسہ آنا پڑا ۔والد ماجد کے پاس آئے دن جمعیۃ العلماء اور خلافت کمیٹی کی گشتی چٹھیاں آتی رہتی تھیں خیال آتا ہے کہ سب سے پہلے انھیں مراسلہ میں ’’ابوالمحاسن محمد سجاد کان اللہ لہ ‘‘نظر سے گذرا، انھیں دنوں میں روداد انجمن علماء بہار (۱۹۱۷) کہیں پڑی ہوئی ملی، بے سمجھے بوجھے پڑھ لیا، مولانا سجاد کا نام پہلے پہل اسی روداد سے مرتسم ہوا ۔‘‘(محاسن سجاد)

 جناب سید مجتبی لکھتے ہیں :میں نے حضرت مولانا سجاد کو۲۰۔۱۹۲۱ء کو عدم تعاون اور خلافت کے جلسوں میں بمقام بانکی پور( پٹنہ ) دیکھا ۔۔۔۔تحریک خلافت کے انھیں جلسوں میں حضرت مولانا کو پہلی بار بانکی پور پٹنہ میں سیاسی پلیٹ فارم پر مہاتما گاندھی ،مولانا محمد علی جوہر اور مولانا ابوالکلام آزاد کے دوش بدوش نظر آئے ۔۔حضرت مولاناسجاد کا نام اس سے قبل تحریک خلافت کے ہنگاموں میں مشہور ِعالم ہوچکا تھا ؛لیکن اس وقت تک مولانا ایک مدرس اور عالم تھے ۔اب ۲۰ء میں کی تحریک عدم تعاون نے مولانا کو خلاص سیاسی رہبر بنادیا ۔             (محاسن سجاد )

خلافت کمیٹی کی اثر آفرینی : ان خلافت کمیٹیوں نے مسلمانوں میں صحیح شعور وآگہی پیدا کرنے اور ان کی باہمی تنظیم میں جو کارہائے نمایا انجام دیئے وہ تاریخ کا روشن باب ہے ۔اس شعور وآگہی کے دورس اثرات ریاست بہار کی سیاسی صورت حال پر مرتب ہوئے ۔چنانچہ جب مسلمانوں کی سیاسی حصہ داری اور تحفظ مسلمین کے نقطہ نظر سے مولانا سجاد نے مسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی قائم کی۔ تو اس نے جو نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اس کے پیچھے تحریک خلافت کے پلیٹ فارم سے انجام دی جانے والی مولانا سجادؒ کی کوششوں کا بھی دخل تھا ۔چنانچہ مسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی کی کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے آپ کے ایک سووانح نگا تحریر فرماتے ہیں : گرچہ مسلمانان بہار سیاسی بے عملی کا شکار ہوکر کانگریس سے بد دل ہوچکے تھے۔ پھر بھی وہ دوسرے صوبہ کے مسلمانوں کی طرح کانگریس مخالف لہروں میں نہیں بہ پائے ،جس کی خاص وجہ یہ تھی کہ یہاں مسلم لیگ کی کوئی ٹھوس تنظیم نہیں تھی ۔جب مرکزی اسمبلی کے لیے چناؤ کا فیصلہ ہوگیا، تو یوپی اور بہار کے مسلم رہنماؤں نے انتخاب میں حصہ لینے کے لیے پرانے ’’خلافتی ‘‘لیگی اور جمعیۃ علمائی رہنماؤں کی مدد سے مسلم یونیٹی بورڈ قائم کرکے محبان وطن اور آزاد ی ہند کے خواہاں مسلمانوں کوالیکشن لڑنے کے لیے کھڑا کیا ۔ امارت شرعیہ نے جہاں ’’خلافت تحریک‘‘ میں شریک ہوکر مسلمانان بہار پر اپنی گرفت مضبوط کرلی تھی ؛ وہیں مسلم لیگ اس تحریک کی مخالفت کرکے مسلمانان بہار کو صدمہ پہنچاچکی تھی ۔اس لیے مسلمان مسٹر جناح اور مسلم لیگ دونوں سے بد ظن تھے ۔(مولانا محمد سجاد حیات وخدمات ۲۵۸)

تحریک خلافت کا ثمرہ ’’جمعیۃ علماء ہند‘‘

۲۳نومبر ۱۹۱۹ء کو خلافت کمیٹی کا پہلا اجلاس دلی میں ہوا تھا۔ آل انڈیا مسلم کانفرنس لکھنو کے بعد برطانوی وزیر اعظم مسٹر لائیڈ جارج نے لارڈ میر کی دعوت میں ایک دل خراش تقریر کی جس سے اندازہ ہوگیا کہ برطانوی وزیر اعظم اپنے اور اپنی حکومت کے وعدوں سے انحراف کرنے والے ہیں ۔اس تقریر نے مسلمانوں میں بہت جوش بھر دیا اس کے بعد فورا ۲۳؍نومبر ۱۹۱۹ء کو خلافت کانفرنس کا ایک اجلاس بڑی دھوم دھا م سے دلی میں شیر بنگال جناب فضل الحق کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر اتنا ہجوم خلائق تھا کہ چاندنی چوک اور جامع کی راہ دوگھنٹے میں طے ہوئی اس اجلاس میں صرف خلافت کمیٹی کے قائم مقام شریک کیے گئے جو تما م صوبوں سے آئے تھے ۔ اس اجلاس میں مہاتما گاندھی کو انکی عظمت کی وجہ اور دیگر کچھ غیر مسلم قائدوں کو بھی پہلی بارجلسہ میںشریک کیا گیا تھا اس طرح یہ اجلاس ہندو مسلم اتحاد کے لیے سنگ میل ثابت ہوا اور تحریک خلافت آگے چل کر تحریک آزادی میں بدل گئی ۔مہا تما گاندھی بھی اس اجلاس میں شریک ہوئے اور ان کے خیر مقدم کا خاص اہتمام کیا گیا (تحریک خلافت ص ۱۰۳)

اس خلافت کمیٹی کے آل انڈیا اجلاس میں بہار کے صوبائی ذمہ دار کی حیثیت سے بھی مولانا ابولمحاسن محمد سجاد نے قائدانہ شرکت کی تھی ۔۔اس خلافت کانفرنس میں بعض علماء نے (جن میں سر فہرست مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد )مشورہ کیا کہ باہمی افتراق  وانتشار سے ملت اسلامیہ کو بے پناہ نقصان ہورہاہے ؛لہذا یہ وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے کہ ہندوستان کے علماء کی ایک ملک گیر تنظیم ہو۔سارے حضرات نے اس سے اتفاق کیااور علماء کی ایک مختصر اور مخصوص جماعت کا’’ خفیہ اجتماع‘‘ دہلی کے ایک مشہور بزرگ سید حسن رسول نماؒ کی درگاہ پر مولانا عبد الباری فرنگی محلیؒ کی صدارت میں ہوا ۔مولانا سجاد نے بھی اس جلسہ میں ایک مختصر تقریر فرمائی ،اس تقریر کا ایک ایک لفظ مولانا سجاد جذبات ایمانی اور غیرت دینی کا ترجمان تھا۔حاضرین کی تعداد اگرچہ بیس سے زیادہ نہیں تھی؛ لیکن کوئی دل ایسا نہ تھا جس نے اثر قبول نہ کیا ہو۔اس جلسے میں ہر مکتب فکر اور طبقہ خیال کے ممتاز علماء نے شرکت کی اور یہ عہد کیا کہ : ’’ ہم سب دہلی کے مشہور ومقدس بزرگ کے مزار کے سامنے اللہ کو حاضر وناظر جان کر یہ عہد کرتے ہیں کہ مشترکہ قومی وملی مسائل میں ہم سب آپس میں متحد ومتفق رہیںگے ۔اور فروعی واختلافی مسائل کی وجہ سے اپنے درمیان کوئی اختلاف پیدا ہونے نہیں دیں گے اور گورنمنٹ کی طرف سے جو سختی اور تشدد ہوگا اس کو صبر ورضا کے ساتھ برداشت کریں گے ۔اس طرح خلافت مرکزیہ کے تحفظ لیے شاید اول بار وہ علماء جو فروعی مسائل کی وجہ سے آپس میں اس قدر دور ہوگئے تھے کہ بعض اوقات ایک دوسرے کی تکفیر سے بھی نہیں چوکتے تھے ۔آج مولانا ابوالمحاسن سجاد اور مولانا عبد الباری فرنگی محلی جیسے مخلص علماء کی کوششوں سے ایک دل اور ایک جان ہوکر پوری قوت سے میدان عمل تیار کرنے کے یے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے تھے۔

مولانا حفیظ الرحمن واصف ؒتاریخ جمعیۃ علماء پر ایک تاریخی تبصرہ  ص ۴۴پر تحریر کرتے ہیں :’’نومبر ۱۹۱۹ء میں خلافت کانفرنس کی تقریب سے تمام اقطاع ہند کے علماء کی ایک مقتدر جماعت جمع ہوگئی ۔خلافت کانفرنس کے اجلاسوں سے فراغت کے بعد تمام علماء موجودین نے ایک جلسہ منعقد کیا ،جس میں صرف حضرات علماء ہی شریک تھے مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری صاحب کی تحریک اور مولانا منیر الزماں صاحب اور دیگر حاضرین کی تائید میں جناب فاضل علامہ حضرت مولانا عبد الباری صاحب اس جلسہ کے صدر قرار پائے اور کاروائی شروع ہوئی، تمام حاضرین جلسہ نے بالاتفاق طے کرلیا کہ علماء کی ایک جمعیۃ قائم کی جائے اور اس کانام جمعیۃ علماء ہند رکھا جائے اور اس کے حلقہ کو تمام ہندوستان کے لیے وسیع کیا جائے ۔چنانچہ تمام حاضرین نے اسی وقت جمعیۃ کی رکنیت منظور کرلی اور جمعیۃ علماء ہند قائم ہوگئی ۔مولانا مفتی کفایت اللہ اس جمعیۃ کے عارضی صدر اور مولانا احمد سعید ناظم منتخب کیے گئے ۔‘‘(تحریک خلافت از قاضی عباسی )

مولانا ابو المحاسن محمد سجاد نے اس میں قائدانہ شرکت کی اور ایک اثر انگیز تقریر بھی کی ۔جمعیۃ العلماء کے پہلے ناظم عمومی سحبان الہند مولانا احمد سعید دہلویؒ مولانا سجادؒکی اس تقریر کے حوالہ سے تحریر فرماتے ہیں : اس تقریر کا ایک ایک لفظ مولانا کے جذبات ایمانی کا ترجمان تھا ۔کوئی آنکھ اور کوئی دل ایسا نہ تھا جس نے اثر قبول نہ کیا ہو یہ مجلس اگر چہ دو گھنٹے سے زیادہ کی نہ تھی ایک گھنٹہ بحث ومباحثہ میں اور ایک گھنٹہ عہد وپیمان میں صرف ہوا لیکن اس جلسہ کا یہ اثر تھا کہ جمعیۃ علماء قائم ہوئی ۔(حیات سجاد ص ۸۹،۹۰)

حضرت شاہ محی الدین امیر ژشریعت ثانی فرماتے ہیں : جمعیۃ علماء ہند کے لیے ہندوستان کے اکثر صوبوں میں سفر کرکے علماء میں اس کی تبلیغ کی اور لوگوں کو آمادہ کیا لیکن عمل کی طرف پہلا قدم مولانا محمد سجاد کا تھا ۔(حیات سجاد ص ۸۶)

  بقول قاضی عدیل عباسی مرحوم :’’اس دور ابتلاء میں ہر طبقہ خیال کے علماء ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے تھے ۔مثلا دیوبندی فکر کے مفتی کفایت اللہ ،مولانا احمد سعید ،اہل حدیث طبقہ کے مولانا ثناء اللہ امرتسری ،مولانا عبد الحکیم گیاوی ،مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی اور مولانا سید محمد داؤد غزنوی، بریلوی جماعت کے سید محمد فاخر الہ آبادی ،مولانا عبد الماجد بدایونی ۔معتدل طبقہ کے اور شمالی ہند کے قدیم ترین مرکز سے تعلق رکھنے والے مولانا عبد الباری فرنگی محلی اور مولانا سلامت اللہ فرنگی محلی ،مولانا آزاد سبحانیؒ علامہ سید سلیمان ندویؒ اور مولانا ابو المحاسن محمد سجاد بہاریؒ الغرض ہندوستان کے اکابر علماء سالہا سال کے اختلافات اور گروہ بندیوں کو نظر انداز کرکے تحریک خلافت میں شانہ بشانہ کام کررہے تھے ۔‘‘(تحریک خلافت)

اس سے صاف طور پر نمایا ں ہے کہ تمام علمائے اسلام متحد ومتفق ہوکر خلافت کانفرنسوں میں شریک ہوتے تھے اور ہر طرح امداد بھی فرماتے تھے ۔جن حضرات نے رکنیت قبول کی وہ ایسے اساطین تھے جن میں سے ایک ایک کے لاکھوں پیرو تھے ۔مولانا ثناء اللہ امرتسری اور مولانا سید محمد داؤد غزنوی نے امرتسر میں پہلے جلسہ کی دعوت دی ۔چنانچہ جمعیۃ علماء ہند کا پہلا اجلاس عام امرتسر میں خلافت کانفرنس کے ساتھ۲۸؍ دسمبر ۱۹۱۹ء میں زیر صدارت مولانا عبدالباری فرنگی محلی منعقد ہوا ۔یہ اجلاس بہت ہی کامیاب رہا ۔حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد جمعیۃ علماء اور خلافت کانفرنس کے اجلاس میں شریک ہوئے اور مدلل اور زوردار انداز میں مجمع سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے خلافت ،ہندوستانی سیاست اور امارت شرعیہ فی الہند کے سلسلہ میں اپنے خیالات کا اعادہ کیا ۔اسی اجلاس میں مولانا سجاد کی تحریک پر شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کی فی الفور رہائی سے متعلق قرار داد منظور کی گئی ۔اس سے قبل مولانا سجاد انجمن علماء بہار کے اجلاس منعقدہ ۱۹۱۷ء میں بھی حضرت شیخ الہند ،شیخ مدنی ،مولانا محمد علی جوہر ،مولانا شوکت علی مولانا آزاد ودیگر اسیران اسلام کی رہائی کی تجویز منظور کرواچکے تھے ۔اسی طرح تحریک خلافت کے ایک قائد علامہ سید سلیمان ندوی وفد خلافت میں شاہ انگلستان کے سامنے حضرت شیخ الہند کی رہائی کی آواز بلند کرچکے تھے ۔(تحریک خلافت ،برید فرنگ )

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے